|
ہارنے والی بڑی شخصیات گومگو کا شکار‘ کوئی پارٹی قبول کرنے کو تیار نہیں

24-02-08, 12:20 PM
ہارنے والی بڑی شخصیات گومگو کا شکار‘ کوئی پارٹی قبول کرنے کو تیار نہیں
اسلام آباد (طارق بٹ) 18 فروری کے الیکشن سے کئی سرگرم سیاسی رہنما راتوں رات سیاسی طور پر یتیم ہوگئے ہیں اور اب کوئی بھی بڑی پارٹی انہیں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ جیتنے والی جماعتوں جن میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی شامل ہیں‘ نے دوسری جماعتوں بالخصوص مسلم لیگ ق کے جیتنے والوں کو خوش آمدید کہنے میں تامل نہیں کیا لیکن ہارنے والوں کیلئے کوئی تکلف نہیں کیا۔ نئے سیاسی یتیموں میں نمایاں طور پر شیخ رشید احمد‘ اعجاز الحق‘ ہمایوں اختر‘ میاں محمد اظہر‘ وصی ظفر‘ اویس لغاری‘ راؤ سکندر اقبال‘ نصراللہ دریشک‘ چوہدری شہباز حسین‘ زبیدہ جلال‘ حبیب اللہ وڑائچ اور لیاقت جتوئی شامل ہیں۔ یہ فہرست طویل اور افسوسناک ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ان میں سے اکثر مسلم لیگ ق جہاں سیاسی رہنماؤں کا جھرمٹ ہے لیکن کارکنوں کی تعداد انتہائی کم ہے‘ خود کو مطمئن نہیں سمجھتے۔ اب وہ چکرا گئے ہیں کہ اپنی ہار کے بعد کیا کیا جائے۔ نئے زمینی حقائق میں خود کو ایڈجسٹ کرنے میں انہیں وقت لگے گا اور وہ کچھ سیاسی تعلق تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم یہ سب نجی طور پر تسلیم کرتے ہیں کہ صدر پرویز کی حمایت یافتہ مسلم لیگ ق کی وجہ سے جوکہ 18فروری کے انتخابات میں سب سے نیچے کھڑی ہے‘ وہ سیاسی طور پر یتیم ہوگئے ہیں۔ وہ صدر پرویز کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن اور معاملات پر کم ہوتے ہوئے کنٹرول کو بھی اپنی شکست کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ان ہارے ہوئے بڑے رہنماؤں کی اکثریت دلی طور پر مسلم لیگ ن میں شمولیت کی شدید خواہش مند ہے لیکن چونکہ ان میں سے اکثریت برسوں نواز شریف اور شہباز شریف پر مسلسل تنقید کرتے ہوئے بہت آگے تک چلے گئے تھے‘ اس لئے دونوں بھائی ان کو واپس لینا تو دور کی بات‘ ان کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کو اس وقت چھوڑا جب شریف برادران مشکل میں تھے اور اس شخص کے ساتھ جاملے جس نے دونوں بھائیوں کو اقتدار سے محروم کیا اور جلاوطن کئے رکھا۔ شریف برادران کے زخم مستقبل قریب میں بھرنے والے ہیں۔ مکمل جھنجھلاہٹ میں ان یتیموں میں سے ایک نے اپنی سیاسی پارٹی بنانے کا اعلان کیا ہے (یہ ایک محض نعرہ رہے گا)۔ اگرچہ وہ جانتے ہیں کہ یک شخصی سیاسی پارٹی کا کیا حال ہوتا ہے جس طرح اعجاز الحق‘ منظور وٹو اور ماضی میں ان جیسے دوسرے افراد نے بھی پارٹیاں بنائی تھیں۔ اس طبقے کے کچھ لوگ اپنی شکست کا الزام پی ایم ایل (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت پر دھرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کی ناقص تقسیم نے پی ایم ایل (ق) کی کچھ حلقوں میں کامیابی کے امکانات کو ختم کردیا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان کی پارٹی قومی سطح پر انتخابی مہم نہ چلاسکی۔ انتخابی سرگرمیاں زیادہ تر انفرادی سطح تک محدود تھیں۔ اگر بھرپور انتخابی مہم چلائی گئی ہوتی تو ان کے کھاتے میں ضرور کچھ ووٹوں کا اضافہ ہوتا۔ شکست کھانے والوں میں خورشید محمود قصوری بھی ٹکٹوں کی غلط تقسیم سے متاثرہ ہیں لیکن ان کی مسلم لیگ ن میں شمولیت کا امکان نہیں کیونکہ وہ شریف برادران کی موجودہ اور سابقہ پالیسیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ سردار حسن اختر موٴکل جوکہ پرویز الٰہی معتمد خاص ہیں کو قصوری کے حلقے میں آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا کردیا گیا۔ حامد ناصر چٹھہ جوکہ قومی نشست پر شکست کھا گئے لیکن صوبائی نشست پر جیت گئے‘ وہ بھی مسلم لیگ ن میں شمولیت کے خواہشمند نہیں ہیں کیونکہ ان کی شریف برادران سے سخت مخالفت ہے۔
__________________
http://voobuzz.com it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.
|
عبدالقدوس
Administrator
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|