ہال روڈ موبائل فون ٹھیک کرنے والے خواتین کے لئے عذاب بن گئے
ہال روڈ موبائل فون ٹھیک کرنے والے خواتین کے لئے عذاب بن گئے
ہال روڈ پر موبائل ٹھیک کرنے والوں اور رینگ ٹونز بھرنے والوں نے خواتین کا جینا محال کر دیا ان کے نمبر نکال کر اور فیملی یا فرنڈز کے ساتھ بنے ہوئے کلپ نکال کر ان کو تنگ کرنا شروع کر دیا ہے جس کے باعث اکثر گھروں میں لڑائی جگھڑے ہوتے ہیں، تاہم اس کا صدباب نہیں کیا جا سکا۔ بتایا گیا ہے کہ ہال روڈ پر دکانوں کے باہر فٹ پاتھوں وغیرہ پر سٹال لگانے والے نوجوانوں نے چوری کے موبائل کی خریدو فروخت کے علاوہ گھریلوں خواتین کو بھی تنگ کرنا شروع کر دیا ہے، اُوباش نوجوان میکینک کے پاس جو لڑکیاں یا خواتین موبائل ٹھیک کروانے آتیں ہیں اور موبائل ٹھیک ہونے کیلئے چھوڑ جاتیں ہیں یہ میکینک ان میں سے ان کا پرسنل ڈیٹا، کلپ، موبائل نمبرز، اور تصاویر چوری کر لیتے ہیں اور بعد میں ان کو فون کر کے یا ایس ایم ایس بھیج کر تنگ کرتے ہیں، اسی طرح رنگ ٹونز والوں نے بھی انتہا کر رکھی ہے کچھ روز قبل گڑھی شاہو کی ایک خاتون ہال روڈ پر اُسامہ سینٹر کے قریب لگے سٹال پر علی نامی دوکاندار کے پاس گئی جس نے اس کا نمبر اپنے پاس محفوظ کر لیا اور بعد میں اسے تنگ کرتا رہا جس کی وجہ سے اس کے اپنے گھر میں جگھڑا ہو گیا اسی طرح کئی گھروں میں ایسے معملات رونما ہوتے ہیں گھڑی شاہو کی خاتون نے اعلٰی احکام سے اپیل کی ہے کہ ایسے بےضمیر افراد کے خلاف فوری سخت کاروائی کرے۔
|