واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ہلاکتوں کا سبب بننے والی 3 کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج، مالکان گرفتار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 24-01-12, 03:17 AM   #1
ہلاکتوں کا سبب بننے والی 3 کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج، مالکان گرفتار
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 24-01-12, 03:17 AM

Name:  1-24-2012.JPG
Views: 39
Size:  187.7 KB


ہلاکتوں کا سبب بننے والی 3 کمپنیوں کے خلاف مقدمہ درج، مالکان گرفتار


 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 64
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (24-01-12), عبدالقدوس (24-01-12)
پرانا 24-01-12, 06:36 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 2,286
کمائي: 26,508
شکریہ: 8,476
1,586 مراسلہ میں 3,509 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جس دن کرپشن ختم ہو گئی اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوں گے ۔ ۔ ۔ یہ کرپشن کا ناسور ہی تو ہے جس کی وجہ سے انسانی جانوں کی قدرو قیمت ختم ہو کر رہ گئی ۔ ۔
نبیل خان آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے نبیل خان کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (25-01-12), راجہ اکرام (24-01-12)
پرانا 25-01-12, 04:20 PM   #3
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Lahore
مراسلات: 82
کمائي: 1,676
شکریہ: 95
24 مراسلہ میں 53 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

کیا یہ ڈرگ انسپکٹرز کی ذمہ داری نہ ہے کہ وہ دوائیوں کے معیار کو جانچیں و پرکھیں اور جعلی و غیر معیاری دوائیوں کو مارکیٹ میں نہ آنے دیں اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرین؟
تو ڈرگ انسپکٹر کیسے مدعی ہوئے؟

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

Last edited by iqbal jehangir; 25-01-12 at 04:23 PM. وجہ: typo and additions
iqbal jehangir آف لائن ہے   Reply With Quote
iqbal jehangir کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 26-01-12, 10:51 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مقام: Peshawar
مراسلات: 397
کمائي: 6,087
شکریہ: 133
139 مراسلہ میں 236 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نجاب میں سرکاری ہسپتال سے ملنے والی مفت ادویات سے اتنی بڑی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ ان ہلاکتوں کے ذمہ داروں کو کتنی اور کس نوعیت کی سزا ہوسکتی ہے۔

چند قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے جبکہ بعض ماہرین کی رائے کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف تین سو دو کی کارروائی نہیں جاسکتی ہے۔
متعلقہ عنوانات

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی دوائی کے استعمال سے ملک میں اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں اس لیے ڈرگ ایکٹ انیس سو چھہتر کےعلاوہ تعزیرات پاکستان کے تحت بھی کارروائی ہوسکتی ہے۔

ماہرین قانون کے مطابق کہ ڈرگ ایکٹ کے تحت جعلی ادویات کی تیاری کے الزام میں ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے اور جرم ثابت ہونے پر کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ دس برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

ادویات کے متعلق قوانین کے ماہر گوہر رفیق ایڈوکیٹ نے بتایا کہ ان ہلاکتوں پر ڈرگ ایکٹ کے علاوہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ تین سو اکیس کے تحت ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت کسی شحض کی قتل کی نیت نہ ہو لیکن اس کے باوجود کوئی ایسا غیر قانونی اقدام ہو جائے جس سے ہلاکتیں ہوں تو ایسا شخص اس قانون کی گرفت میں آ جائے گا۔

تاہم گوہر رفیق ایڈووکیٹ کے بقول تعزیرات پاکستان کی اس دفعہ کے تحت اگر کارروائی کی جائے تو صرف دیت ہی ادا کرنا ہوگی۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ آنے کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوسکے گا کہ کس جرم کے تحت کارروائی کی جاسکتی ہے کیونکہ اس رپورٹ میں اس بات تعین ہوگا کہ کیا دوائی جعلی تھی، غیر معیاری یا پھر اس میں کوئی خرابی تھی۔

ماہر قانون ٹیپو سلمان مخدوم کے مطابق جہاں ذمہ داروں کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے وہیں دیوانی عدالت یعنی سول کورٹ سے بھی رجوع کیا جاسکتا ہے۔

ٹیپو سلمان مخدوم کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کے لواحقین سول کورٹ میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرسکتے ہیں اور عدالت ان کی داد رسی کرتے ہوئے ان کو رقم دلوا سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کپمنی ایکٹ اور دیگر قوانین کے تحت دوائی بنانے والی کمپنوں کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ماہرین قانون اس نکتہ پر بٹے ہوئے ہیں کہ غیر معیاری دوائی کے استعمال سے ہونے والی ہلاکتوں پر ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جاسکتا ہے۔

چند ماہر قانون کہتے ہیں کہ ان ہلاکتوں پر قتل کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے اور بقول ان کے وزیر اعلیْ پنجاب شہباز شریف یہ مقدمہ درج کرا سکتا ہے

تاہم ماہر قانون گوہر رفیق اس سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ قتل کے الزام یعنی تین سو دو کے تحت کارروائی کے لیے کسی کو مارنے کی نیت ہونی چاہئے جبکہ اس معاملہ میں بظاہر ایسی کوئی نیت ظاہر نہیں ہوتی۔

ماہرین قانون کا کہنا ہے کہ ملک میں کئی ایسے قوانین ہیں جن کے تحت اس طرح واقعات میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں قانون کی گرفت میں لایا جاسکتا ہے۔
‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮قتل کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے یا نہیں؟‬
A Nawaz Khan آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
میری وحشتوں کو بڑھادیا ہے جدائیوں کے عزاب نے بنت حوا شعر و شاعری 2 26-11-11 01:37 PM
سردیوں کی راتوں میں سیپ شاعری اور مصوری 0 10-02-11 05:53 PM
عورتوں / لڑکیوں کا دماغ محمدعدنان گپ شپ 28 06-10-09 06:54 PM
شہریوں کی ہلاکتوں کا اعتراف وجدان خبریں 0 13-10-08 10:02 AM
بن مانس درختوں پر کیوں چڑھے محمدعدنان دیگر تحقیقات 1 20-05-08 12:05 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:34 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger