کراچی، پاکستان ریلوے کے چیئرمین شاہد حسین راجہ نے کہا ہے کہ ہم سے اب ٹرینیں نہیں چلتیں۔ بھارت کو ریلوے نے بچا رکھا ہے۔ پاکستان کو بھی ریلوے ہی بچا سکتی ہے۔ نجی شعبے کی شراکت ضروری ہے۔ ریلوے کیلئے ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے۔ 150 سالہ پرانا ادارہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث نقصانات کا شکار ہے۔ 12 ٹرینیں بند کردی ہیں تاہم مزید کوئی ٹرین بند نہیں کی جائے گی اور نہ ہی کسی ملازم کو فارغ کیا جائے گا۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار جمعرات کو مقامی ہوٹل میں وزارت خزانہ کے تحت پاکستان ریلوے کے انوسٹر فورم سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ فورم سے محکمہ خزانہ کے انفرااسٹرکچر پروجیکٹ اینڈ ڈیولپمنٹ فیسیلٹی کے چیف ایگزیکٹو عادل انور اور ریلوے کے جنرل منیجر آپریشنز اشفاق خٹک نے بھی خطاب کیا۔ چیئرمین ریلوے نے کہا کہ حکومت کا وعدہ ہے کہ ریلوے کو مستحکم کیا جائے گا جس کیلئے نجی شعبے کی شراکت حاصل کی جائے گی جبکہ نجی شعبہ کو قانونی تحفظ ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں کے دوران چالیس ٹرینیں بند کرنا پڑیں جو کسی سانحہ سے کم نہیں۔ بند کی جانے والی ریلوے لائنوں کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ کراچی اور لاہور کے ریلوے اسٹیشنوں پر شاپنگ مال تعمیر کئے جائیں گے جس کے بعد ملک کے دیگر شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں میں بھی اسی طرز کے شاپنگ مال تعمیر ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنوں اور تنصیبات کی حفاظت کیلئے سندھ اور پنجاب حکومت کے حکام سے رابطے کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد سے استنبول تک ایکو ٹرین خالی چل رہی ہے۔ تجارتی مقاصد کیلئے تاجر برادری اس ٹرین سے استفادہ کرے تو اسے رعایت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت 56 مسافر ٹرینوں کی ضرورت ہے تاہم اس وقت صرف 19 ٹرینیں چل رہی ہیں جبکہ سامان کی ترسیل کیلئے 19 ٹرینیں چل ہیں جبکہ ان ٹرینوں کی تعداد تین چار سے زیادہ نہیں۔ سانحہ بینظیر بھٹو شہید کے بعد ریلوے کے سگنل سسٹم کو پہنچنے والے نقصانات کو دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں جس کیلئے فنڈز موجود ہیں۔ ریلوے کے ذریعے جانے والے سامان کے تحفظ اور انشورنس کی فراہمی کو ممکن بنایا جائے گا۔
چیئرمین ریلوے نے کہا کہ پاکستان ریلوے کے 500 میں سے 250 انجن خراب پڑے ہیں جن کی درستگی اور مرمت کیلئے فاضل پرزہ جات نہیں ہیں۔ ایک انجن کی مرمت کیلئے 8 سے 9 کروڑ روپے درکار ہیں جس کیلئے نجی شعبے سے مالی معاونت حاصل کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم پر برا وقت ہے تاہم اس سے جلد نکل جائیں گے۔ قبل ازیں فورم سے خطاب کرتے ہوئے عادل انور نے کہا کہ صدر مملکت کی ہدایت کے تحت نجی شعبے سے شراکت داری کو اہمیت دی جارہی ہے۔ ریلوے کو مستحکم کرنے کیلئے طویل المدت منصوبے پر عمل کیا جائے گا جس کیلئے اسٹاک ایکس چینج میں ایک ہولڈنگ کمپنی قائم کی جائے گی۔ ریلوے کے ذریعے ایران، ترکی اور بعد ازاں یورپ تک تجارت کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت پنجاب اربن ٹرین سروس شروع کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ پاکستان میں سامان کی ترسیل میں سالانہ 5 فیصد اضافہ ہورہا ہے لیکن اس میں پاکستان ریلوے کے 15 فیصد حصے میں کوئی اضافہ نہیں ہورہا۔ ترکی کی یونین آف چیمبر اینڈ کامرس ایکس چینج کے ماہرین کا وفد 7 مارچ کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے گا۔
ہم سے اب ٹرینیں نہیں چلتیں، ریگولیٹری اتھارٹی بنانے کی ضرورت ہے،چیئرمین ریلوے