واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


ہندچین کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-09-09, 05:46 PM   #1
ہندچین کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی
Student Student آف لائن ہے 01-09-09, 05:46 PM

::: ہند۔چین کنٹرول لائن پر بڑھتی کشیدگی‌ :::

چین کے فوجی ہیلی کاپٹروں نے ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کے لداخ خطے میں حال میں ہندوستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔ ہندوستان کی فوج نے اپنے خطے میں چینی ہیلی کاپٹروں کی پرواز کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے اس معاملے کو چینی فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی فلیگ میٹنگ میں اٹھایا گیا تھا۔
لیہ سکٹر میں ہند چین حقیقی کنٹرول لائن پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ معاملہ جون کے اواخر میں پیش آیا ہے لیکن ہندوستان کی خبر رساں ایجیسنیوں نے اس کی خبر پیر کے روز دی۔ اطلاعات کے مطابق حقیقی کنٹرول لائن پر تریگ چوٹی کے نزدیک چینی ہیلی کاپٹر ہندوستانی فضا میں پانچ منٹ تک پرواز کرتے رہے اور انہوں نے ڈبہ بند کھانے کی چیزیں بھی زمین پر گرائیں۔
لیہ سکٹر میں ہند چین حقیقی کنٹرول لائن پر فضائی حدود کی خلاف ورزی کا یہ معاملہ جون کے اواخر میں پیش آیا ہے لیکن ہندوستان کی خبر رساں ایجیسنیوں نے اس کی خبر اکتیس اگست کو دی۔
بری فوج کے سربراہ جنرل دیپک کپور نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہو ئے کہا ’اس طرح کی صورتحال اکثر سمت کے تعین میں غلطی سے بھی پیدا ہو جا تی ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اس خلاف ورزی کا جواز پیش کر رہا ہوں۔ اس معاملے کو چین کے فوجی حکام کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں اٹھایا گیا تھا ۔‘
معمول کی طرح چین نے اس معاملے پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق چین کی طرف سے صرف اگست کے مہینے میں حقیقی کنٹرول لائن کی کم از کم چھبیس بار خلاف ورزی ہوئی ہے۔ جولائی کے مہینے میں بھی چینی گشتی فوج کی ٹکڑیاں متعدد بار ہندوستانی علاقے میں داخل ہوئیں اور ہندوستانی فوجیوں کے کیروسن پٹرول اور دیگر ساز وسامان اٹھا لے گئیں ۔
چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعہ کئی عشروں پرانا ہے۔ چین ہندوستان کی ریاستوں سکم، اروناجل پردیش اور لداخ خطے میں کئی ہزار مربع کلومیٹر زمین پر دعوے کرتا رہا ہے۔ ہندوستان کا بھی بعض علاقون پر دعوی ہے جو چین کے قبضے میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر ایک عرصے سے بات چیت ہو رہی ہے لیکن بظاہر اس بات چیت میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔
ہندوستانی فوج کا کہنا ہے کہ متعدد مقامات پر حقیقی کنٹرول لائن کے بارے میں دونوں ملکوں کی پوزیشن میں فرق ہے جس کے سبب اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں۔ لیکن دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر محض کنٹرول لائن پر کنفیوژن سے یہ صورتحال پیدا ہو رہی ہے تو پھر اس طرح کی غلطی ہندوستان کی طرف سے کیون نہیں ہو رہی ہے۔ بعض اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ چین کی طرف سے خلاف ورزیوں میں گزشتہ برس کے مقابلے پچاس فی صد تک کا اضافہ ہوا ہے ۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ چین ہندوستان سے اپنے سرحدی تنازعے میں اب اپنا فوجی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
گزشتہ ہفتے شمال مشرقی ریاست سکم سے ہند۔چین سرحد پر چینی فوجیوں کی طوف سے گولہ باری کی اطلاعات آئی تھیں۔ یہ گولہ باری دو روز تک جاری رہی۔ چند ہفتےقبل چین کے ایک نیم سرکاری تحقیقی ادارے کی ویب سائٹ پر ایک مضمون شا‏ئع ہوا تھا جس میں تجزیہ نگار نے ’ہندوستان کو بیس سے زیادہ ٹکڑوں میں توڑنے‘ کی تجویز پیش کی تھی۔ تجزیہ کار نے چینی حکومت پر زور دیا تھا کہ وہ ملک کے اندر مختلف علیحدگی پسند گروپوں کی مدد کرے۔
دلجسپ بات یہ ہے کہ اس کی وضاحت چین کے بجائے ہنودستان کی وزارت خارجہ کی طرف سے آئی اور یہ کہاگیا کہ ’یہ چین کا سرکاری موقف نہیں ہے بلکہ یہ ایک تجزیہ کار کا انفرادی خیال ہے۔‘ چین معمول کی طرح اس بار بھی خاموش رہا۔
چین اور ہندوستان کے درمیان سرحدی تنازعہ کئی عشروں پرانا ہے۔ چین ہندوستان کی ریاستوں سکم، اروناجل پردیش اور لداخ خطے میں کئی ہزار مربع کلومیٹر زمین پر دعوے کرتا رہا ہے۔ ہندوستان کا بھی بعض علاقون پر دعوی ہے جو چین کے قبضے میں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعے پر ایک عرصے سے بات چیت ہو رہی ہے لیکن بظاہر اس بات چیت میں کو ئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ چند مہینے قبل چین نے ہندوستان کی صدر مملکت پرتبھا پاٹل کے اروناچل پردیش کے دورے کی مخالفت کی تھی۔ چین نے عالمی بینک کی ایک امدادی پروجکٹ کی بھی مخالفت کی تھی جس میں امدادی فنڈ کی رقم اروناچل پردیش کے ایک پروجکٹ پر صرف کی جاتی ۔
سلامتی کے امور کے ماہر سی راجہ موہن کہتے ہیں کہ دلائی لامہ اور ان کی سرگرمیاں چین کے لیے مسلسل سر درد بنی رہی ہیں اور ہندوستان کی طرف سے ان کی حمایت سے تعلقات میں تلخی آئی ہے۔ لیکن وہ کہتے ہیں ’چین ایک بڑی اقتصادی قوت ہے اور تعلقات اس حد تک کشیدہ نہیں ہو سکتے کہ کسی فوجی ٹکراؤ کا سبب بن جائیں ۔‘
پیر کو سبکدوش ہونے والے بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سریش مہتہ نے چند ہفتے قبل ہندوستان کی حکومت کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا ’چین اقتصادی طور پر طاقتور ہونے کے ساتھ ساتھ سرحدوں کے معاملے مین ہندوستان پر اپنا دباؤ بڑھاتا جائےگا‘۔انہوں نے کہ یہ بھی کہا تھا کہ فوجی اعتبار سے ہندوستان چین سے بہت پیچھے ہے اور یہ فی الوقت اس کا مقابلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ایڈمرل مہتہ نے کہا ’دفاعی اعتبار سے ہماری پوری توجہ پاکستان پر رہی ہے لیکن اب ہمیں پاکستان کے بجائے چین پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔‘
دفاعی اعتبار سے ہماری پوری توجہ پاکستان پر رہی ہے لیکن اب ہمیں پاکستان کے بجائے چین پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ( ایڈمیرل مہتہ
گزشتہ ہفتے نئی دلی میں ہندوستان کے سفیروں اور سینیر سفارتکاروں کی میٹنگ میں بھی چین کے بڑھتے ہو ئے دباؤ اور اس کا سامنا کرنے کے پہلوؤں پرغور و خوض کیا گیا ہے ۔
گزشتہ مہینوں میں چین اپنے سرحدی دعووں پر کبھی مضمون، کبھی بیانات تو کبھی سرحدی خلاف ورزیوں کی شکل میں زور دیتا رہا ہے۔ ہندوستان کی حکومت ان واقعات کو زیادہ اجاگر نہ کر کے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ ہند۔ین تعلقات کے ضمن میں سب کچھ معمول پر ہے۔ لیکن ان واقعات سے ملک کے سیاسی اور سفارتی حلقوں میں واضح طور پر بے چینی کے آثار ہیں۔ ان بے چینیوں کو بھرت ورما جیسے دفاعی تجزیہ کاروں کے خیالات سے مزيد تقویت پہنچی ہے۔ دفاعی جریدے ’انڈین ڈیفنس ریویو‘ کے مدیر بھرت ورما نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ چین کو اپنی طاقت کے مظاہرے کے لیے ایک عسکری فتح کی ضرورت ہے اور ’وہ ایشیا پر اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے ہندوستان پر عنقریب حملہ کر سکتا ہے۔‘ ہندوستان کی حکومت اس طرح کے تصورات کو ابھی تک مسترد کرتی رہی ہے لیکن اب وہ بھی بدلتے ہو ئے جالات میں چین کے حوالے سے ایک طویل مدتی حکمت عملی وضع کرنے میں مصروف ہے ۔

شکریہ
شکیل اختر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
__________________

http://newsreportingroom.com/
http://mobileinfoandupdate.blogspot.com/

 
Student's Avatar
Student
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jul 2009
مراسلات: 308
شکریہ: 401
230 مراسلہ میں 538 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 97
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, کلومیٹر, کنٹرول, پاکستان, پسند, ویب, ڈاٹ, واقعات, مقابلہ, اردو, حال, خلاف, خبر, طاقتور, علیحدگی, علاقے, عالمی, عسکری, غلطی, صورتحال, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
بڑھتی ہوئی کمر ۔۔۔۔۔۔ بیماری کی علامت سائرہ علی فیشن اور بیوٹی ٹپس 1 01-01-12 02:29 AM
امریکہ کی بڑھتی ہوئی بدمعاشی زارا عمومی بحث 2 22-02-11 03:48 PM
اروندھتی رائے کا بیان shafresha خبریں 0 28-10-10 11:27 AM
کون بنے گا کروڑ پتی راجہ اکرام عمومی بحث 6 31-10-09 11:41 AM
کروڑپتی ابو عمار قہقہے ہی قہقے 2 12-05-08 01:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:38 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger