آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
ایبٹ آباد کے علاقے بلال ٹاؤن میں امریکی فوجی کارروائی کا نشانہ بننے والے مکان سے ملنے والے امریکی ہیلی کاپٹر کی باقیات کا پاکستان میں ابتدائی معائنہ مکمل کر لیا گیا ہے۔
پاکستانی دفاعی اداروں کے انجینئرز نے اس معائنے کے بعد تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس فوجی کارروائی میں مختلف قسم کے دو سے زیادہ ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا جو ٹیکنالوجی اور حجم کے اعتبار سے مختلف تھے۔
یاد رہے کہ اتوار کے روز ایبٹ آباد میں ہونے والے اس
امریکی آپریشن کے دوران ایک امریکی ہیلی کاپٹر گر گیا تھا جسے امریکی کمانڈوز کارروائی مکمل ہونے کے بعد بم دھماکے سے تباہ کر گئے تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بم دھماکے کے باعث یہ ہیلی کاپٹر مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا تھا اور اس کا وہ حصہ جس میں بعض آلات نصب تھے محفوظ رہا۔
ان ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اس کارروائی میں بعض چھوٹے اور بہت جدید ہیلی کاپٹرز استعمال کیے گئے تھے جن میں ایسے آلات نصب تھے جن کا ذکر عالمی ہوا بازی کی صنعت میں نہیں ملتا۔
ان میں مختلف قسم کے الیکٹرانک سگنلز کو مسخ کرنے والے آلات شامل ہیں جن میں نہ صرف ریڈار کے سگنلز بلکہ صوتی سگنلز کو بھی مسخ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اسی بنا پر ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ پاکستانی حدود میں یہ ہیلی کاپٹرز پاکستان کی سرحدوں اور حساس مقامات کی نگرانی کرنے والے ریڈارز کو دھوکہ دینے میں کامیاب رہے۔ اس کے علاوہ صوتی سگنلز کو مسخ کرنے کی صلاحیت کے باعث ان ہیلی کاپٹرز کی آواز بھی عام ہیلی کاپٹرز سے مختلف ہوتی ہے جس کے باعث ان ہیلی کاپٹرز کی رفتار اور سمت کو فوری طور پر سمجھنا بھی خاصا دشوار تھا۔
پاکستانی ماہرین نے یہ بھی خیال ظاہر کیا ہے کہ جدید صلاحیت کے حامل یہ ہیلی کاپٹرز پاکستان کی کسی بھی سرحد سے داخل ہو کر پاکستان کے اندر ایندھن بھرے بغیر بیرون ملک جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ان ماہرین کے مطابق جتنی دیر فوجی کارروائی جاری رہی (تقریباً پینتالیس منٹ) اس دوران ان ہیلی کاپٹرز میں کارروائی کے مقام پر ایندھن ڈالنا ممکن نہیں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ انہی ہیلی کاپٹرز یا شنوک جیسے بڑے ہیلی کاپٹر پر ایندھن لاد کر موقع پر ان ہیلی کاپٹرز میں ایندھن بھرنا تکنیکی طور پر ممکن نہیں ہے۔
ح