امریکہ کی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ یمن میں عدم استحکام اس خطے اور اقوامِ عالم کے لیے خطرناک ہے۔
واشنگٹن میں ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ یمنی حکومت کو ملک کو مستحکم کرنے کے لیے اقدمات کرنے ہوں گے ورنہ انہیں مغرب کی حمایت سے ہاتھ دھونا پڑیں گے۔
دوسری طرف امریکہ نے یمن میں اپنا سفارتخانہ منگل کے روز کھول دیا ہے۔ سفارتخانے کے حکام کا کہنا ہے کہ یمن حکومت نے یمن کے دارالحکومت کے شمال میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب آپریشن کیا ہے۔
اس کارروائی میں دو القاعدہ کے رکن ہلاک ہوئے تھے۔
اس سے قبل ہیلری کلنٹن نے کہا کہ جب حالات اجازت دیں گے تبھی صنعا میں واقع امریکی سفارتخانے کو دوبارہ کھولا جائے گا۔ خیال رہے کہ القاعدہ کے مقامی گروپوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے یمن میں اپنے سفارتخانے بند کردیے ہیں۔
یمن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یمنی حکومت قبائلی بغاوت اور خودمختاری کے حصول کی تحریک سے نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے اور وہ القاعدہ سے نمٹنا اس کی پہلی ترجیح نہیں۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ’وقت آ گیا ہے کہ بین الاقوامی برادری یمن پر واضح کر دے کہ حکومت کے لیے ہماری مستقل حمایت کے بدلے میں ہماری کچھ شرائط اور توقعات ہیں کہ وہ ایسے اقدامات اٹھائیں جن کی مدد سے یمن کے عوام اور اس خطے کے لیے امن و استحکام کی فراہمی کے امکانات روشن ہو سکیں‘۔
ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ’ ہم یمن میں ہونے والی لڑائی اور القاعدہ کے یمن کو اپنے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی کوششوں کے عالمی اثرات دیکھ رہے ہیں‘۔
خیال رہے کہ چند روز قبل صدر اوباما نے اپنے ہفتہ وار خطاب میں کہا تھا کہ یمن حکومت کے ساتھ تعاون بڑھنے کو انھوں نے اپنی ترجیح بنا لیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یمن کی سکیورٹی فورسز کو تربیت،اسلحہ اور خفیہ معلومات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹ سکیں۔
امریکہ نے یمن میں موجود القاعدہ سے منسلک تنظیم پر کرسمس کے روز ہالینڈ سے ڈیٹرائیٹ جانے والی ڈیلٹا ائیر لائن کی پرواز کو بم سے اڑانے کی سازش کا الزام بھی لگایا ہے جبکہ القاعدہ سے منسلک ایک گروہ نے گزشتہ ہفتے اپنی ویب سائٹ میں کہا تھا کہ پرواز میں دھماکے کی کوشش کرنے والے عمرفاروق عبدالمطلب نے ایک سال قبل یمن میں قیام کیا تھا اور اسی دوران اس نے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی تھی۔
ماخوذ از بی بی سی