|
ینظیر پرپہلے حملے میں بھی دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی

05-01-08, 08:28 AM
ینظیر پرپہلے حملے میں بھی دھماکے سے قبل فائرنگ ہوئی تھی
کراچی (جنگ نیوز) پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن بینظیربھٹو پر 18 اکتوبر کو کراچی میں ہونے والے بم حملے کے ایک عینی شاہد کے مطابق 18 اکتوبر کو بھی بینظیربھٹو کی گاڑی پر بم حملے سے پہلے فائرنگ ہوئی تھی۔ ان کایہ بھی کہناہے کہ بینظیربھٹو پر ہونے والا خودکش حملہ نہیں تھا بلکہ بم دھماکے سڑک پر کھڑی کار اور پولیس گاڑی میں ہوئے تھے۔ یہ عینی شاہد 45 سالہ عبدالغنی بلوچ ہیں جو 18 اکتوبر کو اس ٹریلر کے ڈرائیور تھے جس پر بینظیربھٹو سوار تھیں‘ اس ٹریلر کو خصوصی طورپر پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی نگرانی میں بھاری لاگت سے تیار کیاگیا تھا اوراس کی خاص بات یہ تھی کہ یہ بلٹ اور بلاسٹ پروف تھا یعنی اس پر گولی یا بم کا اثر نہیں ہوسکتا تھا‘ اسی بناء پر بینظیربھٹو اس حملے میں محفوظ رہی تھیں۔ عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں وہ بھی زخمی ہوگئے تھے اور اسپتال میں زیر علاج رہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیشہ ور ڈرائیور ہیں اوربینظیربھٹو کیلئے بنائے گئے ٹریلر کو چلانے کیلئے ان کا انتخاب پارٹی رہنماؤں نے کیا تھا۔ ان کے مطابق انہیں بتایا گیا تھا کہ انہیں 18 گھنٹوں تک ٹریلر چلانا پڑسکتا ہے اور وہ اس کیلئے پوری طرح تیار تھے۔ انہوں نے بتایا کہ بینظیربھٹو کے اس ٹریلر پر سوار ہونے سے قبل انہیں بتایا گیا تھا کہ پولیس کی دو دو موبائلیں ان کی گاڑی کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں چلیں گی اور اگر کہیں کوئی گڑبڑ ہوگی تو انہیں فوری طورپر آگاہ کردیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریلر میں بینظیربھٹو کیلئے ایک کمرہ بنایا گیا تھا اور ایک لفٹ بھی تیار کی گئی تھی تاکہ بینظیربھٹو اس کی مدد سے ٹریلر کی چھت پر آجاسکیں‘ جب جلوس ڈرگ روڈ پہنچا تو بینظیربھٹو صاحبہ لفٹ کی مدد سے نیچے کمرے میں چلی گئی تھیں ابھی (انہیں گاڑی کے اندر گئے) 15 منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ بم دھماکہ ہوا‘ شیشے ٹوٹے جو ہمیں یہاں (چہرے پر) لگے‘ ہمارے کان بند ہوگئے اور اس سے پہلے فائر ہوا‘ پہلے فائر آئے اس کے بعد دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد گاڑی کے ٹائر پھٹ گئے تھے اورہر طرف افراتفری تھی‘ ہم سے چلا نہیں جارہا تھا‘ پہلے دھماکے کے بعد میں زخمی حالت میں گاڑی سے اتر کرتھوڑی دور جاکر کھڑا ہوگیا اور چند سیکنڈ بعد دوسرا دھماکہ ہوگیا۔ عبدالغنی نے بتایا کہ دھماکوں کے بعد ان کی پارٹی کے ساتھیوں نے بینظیربھٹو کو گاڑی سے باہر نکالا اور بلاول ہاؤس پہنچایا۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکوں سے پہلے جائے واقعہ پر اسٹریٹ لائٹس بند تھیں اور جیسے ہی دوسرا دھماکہ ہوا تو لائٹس جل گئی تھیں۔ جب ا ن سے پوچھا گیا کہ کیا وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک خودکش حملہ تھا‘ انہوں نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے کہا کہ ’نہیں وہ خودکش حملہ نہیں تھا۔‘ اس سوال پر کہ وہ کس بنیاد پر یہ بات کہہ رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ’خودکش حملہ ہوتا تو کارساز کے پل سے بھی کوئی خودکش حملہ کرسکتا تھا کیونکہ ہماری گاڑی پل سے بالکل ٹچ کررہی تھی وہاں ایک کار کھڑی ہوئی تھی جس میں کوئی آدمی نہیں تھا‘ دھماکہ اس میں ہوا اور اس کے بعد پولیس موبائل میں ہوا۔ وہ سفید رنگ کی ایک کار تھی جسے جلوس میں شامل ہمارے لوگوں نے دھکا دیکر ہٹانے کی بھی کوشش کی لیکن جلوس میں اتنے لوگ تھے کہ وہ سب آگے آگئے تھے اس لئے اسے ہٹا نہیں سکے۔ دوسرا دھماکہ جب ہوا تو میں نے خود دیکھا کہ پولیس کی موبائل گاڑی اچھلی تھی اور اس میں آگ لگ گئی تھی۔ عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ پہلے دھماکے کے بعد وہ گاڑی اس لئے بھگاکر نہیں لے جاسکے کہ اس کے ٹائر پھٹ چکے تھے اور اس کے اطراف لوگوں کا ہجوم تھا۔
|
خرم شہزاد خرم
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
عمر: 30
مراسلات: 12,482
شکریہ: 7,484
3,660 مراسلہ میں 9,157 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|