|
یوم عاشور: ملک کے حساس شہروں میں موبائل سروس جام کرنے کا فیصلہ

17-12-10, 06:38 AM
اسلام آباد (آصف علی بھٹی) یوم عاشور کے موقع پر لاہور سمیت دیگر حساس شہروں میں موبائل سروس جام کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ رینجرز اور پولیس کے اضافی دستے بھی پہنچا دیئے گئے ہیں، اس کے علاوہ آٹھ ہیلی کاپٹر بھی صوبوں اور دارالحکومت اسلام آباد کو اضافی نگرانی کے لئے دیئے گئے ہیں۔ جیو نیوزکے نمائندے کو بتایا ہے کہ موبائل فون سروس معطل کرنےکی تجویز انٹیلی جنس اداروں نے دی، انٹیلی جنس اطلاعات میں کہا گیا ہے کہ لاہور، گوجرانوالہ اور ملتان کے شہروں کے علاوہ ان اضلاع میں بھی دہشت گردی کا خطرہ ہے، اس لئے حساس علاقوں میں نکلنے والے جلوسوں کے دوران موبائل فون کے سگنلز بند رکھے جائیں۔ وفاقی وزارت داخلہ نے پی ٹی اے کو یوم عاشور کے موقع پر حسّاس قرار دیئے جانے والے شہروں اور علاقوں میں نیٹ ورکنگ سسٹم کو جیم رکھا جائے، ذرائع نے خدشہ ظاہر کیاہے کہ راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان سمیت ڈیرہ اسماعیل خان اور صوبہ پختون خواہ کے کچھ علاقوں میں شدت پسندوں کی طرف سے کارروائی کاخطرہ موجود ہے۔ پی ٹی اے کے اعلیٰ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ علاقوں کی ایڈمنسٹریشن سے معلومات کے لئے رابطے جاری ہیں اور موبائل کمپنیوں کو احکامات جاری کردیئے گئے ہیں کہ وہ اپنے موبائل ٹاورزکے نظام کو عارضی طور پر معطل کرنے کے اقدامات شروع کردیں۔ ذرائع کا کہناہے کہ موبائل ٹاور سے کنٹویٹی سسٹم جیم کرنے میں 5 سے 6 گھنٹے درکار ہوتے ہیں، تاہم ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی حادثے کی صورت میں یہ اقدام کاونٹر پروڈکٹو ثابت ہوسکتا ہے۔ ذرائع نے بتایاکہ سرکاری سطح پر یہ پہلا موقع ہے کہ کسی بھی اہم عوامی اجتماع کے موقع پرموبائل فون نظام کو معطل کرنے کے لئے سرکاری احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ وزارت داخلہ کے حکام نے جیو نیوز کو بتایاکہ عاشورہ محرم کے جلوس کی نگرانی کے لئے وفاقی وزارت داخلہ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، صوبہ پنجاب، پختون خوا اورسندھ کو آٹھ ہیلی کاپٹرز فراہم کردیئے ہیں، جبکہ صوبوں کی درخواست پر رینجرز اور ایف سی کے دستے حساس مقامات پر پہنچ گئے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________
(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)
|
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,509
شکریہ: 1,551
2,978 مراسلہ میں 8,232 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|