واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


یہودی علماءکا فتویٰ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 01-09-10, 05:52 PM   #1
یہودی علماءکا فتویٰ
فیصل ناصر فیصل ناصر آف لائن ہے 01-09-10, 05:52 PM

چست کپڑے بند، خواتین سیاہ لباس سے پورا جسم ڈھانپیں

بیت المقدس ( مانیٹرنگ ڈیسک ) یورپی ممالک خاص طور پر عیسائی مذہب کے پیروکار ملکوں میں برقعے پر پابندی کیخلاف مسلمانوں کے پیچھے یہودیوں نے بھی لبیک کہا ہے اور خواتین پر چست لباس پر پابندی لگاکر پورا جسم ڈھانپنے والا کا لا لباس پہننے کی ہدائت کی ہے اور ایک فتوے میں واضح کیا ہے کہ پورے جسم کو ڈھانپنے والا کالا لباس تورات کی تعلیمات کے عین مطابق ہے ۔ یہودی علماءکی جانب سے یہ فتویٰ اس وقت جاری کیا گیا جب عیسائی مذہب کے پیروکار ممالک میں برقعے پر پابندی لگائی گئی ہے لیکن بدقسمتی سے ترکی جیسے بعض مسلمان ملک بھی ”آزاد خیالی“ کے نام پر عیسائیوں کے پیچھے پردے پر پابندی لگانے پر تلے ہوئے ہیں لیکن یہودی علماءکے اس فتوے نے ایسے ”آزاد خیال “مسلمانوں کیلئے ایک سوال کھڑا کردیا ہے ۔”العربیہ “ کے مطابق یہودیوں کے عبرانی اخبار ’معاریف ‘ میں شائع ہونے والے اس فتوے کے تحت یہودی علماءنے طہارت اور پاکیزگی کے لیے سیاہ برقعہ لازمی قراردیاہے اور کہا گیا ہے کہ صیہونی خواتین خود کو سر تا پا مکمل طور پر ڈھانپ کررکھیں۔ مقبوضہ بیت المقدس میں شدت پسند مذہبی یہودیوں کی جانب سے جاری اس فتویٰ میں القدس کی ’ہریڈیم سوسائٹی‘کی تمام یہودی خواتین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سروں پر بڑی چادریں اوڑھیں اور اپنے پورے جسم کو سر سے پاﺅں تک مکمل طور پر ڈھانپ کر رکھیں۔اخبار کے مطابق جسم کو مکمل طور پر ڈھانپنے کی پابندی یہودی خواتین میں پہلے بھی پائی جاتی ہے تاہم ایسی خواتین کی تعداد بہت تھوڑی ہے۔ تازہ فتویٰ یہودیوں کے جس حلقے کی جانب سے جاری ہوا ہے وہ بیت المقدس کی’ہریڈیم‘سوسائٹی میں نہ صرف اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں بلکہ ان کی پشت پرکئی بڑے یہودی مذہبی پیشوا بھی موجود ہیں۔خواتین کے مکمل پردے سے متعلق یہ اخبار لکھتا ہے کہ یہودیوں کی طرف سے خواتین کے مکمل جسم کو ڈھانپنے کا فتویٰ افغانستان میں طالبان دور کے مسلمان خواتین کے پردے کے مشابہ ہے۔اخبار مزید لکھتا ہے ، ’تازہ فتوے' کا مقصد خواتین کو ہر قسم کی اخلاقی آلودگیوں سے بچاتے ہوئے ان کی حرمت اورتقدس کو قائم کرنا ہے‘۔ فتوے میں مروجہ جدید دور کے ہر قسم کے لباس جس میں اسکرٹس اور تنگ شلوار قمیص شامل کے پہننے کی ممانعت کر دی گئی ہے اور صرف سیاہ رنگ کا ایسا لباس اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی جو پورے جسم کو مکمل طور پر ڈھانپ دے۔مقبوضہ بیت المقدس میں جگہ جگہ اس فتوے پر عمل درآمد اور اس کی تشہیر کے لیے پوسٹر لگائے گئے ہیں جن میں یہودی خواتین کو مکمل طور پر جسم کو ڈھانپنے والے سیاہ لباس اختیار کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔ نیز ریڈی میڈ گارمنٹس کا کاروبار کرنے والے تاجروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تنگ اور چھوٹے تیارشدہ کپڑوں کی فروخت بند کر دیں کیونکہ تنگ لباس تورات کی تعلیمات کے منافی ہے اور عذاب کا باعث بنے گا۔’معاریف ‘کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہودی فتوے کی ہدایت کے مطابق کپڑوں کی فروخت میں بے پروائی کرنے والے دکانداروں کو ’ہریڈیم‘کے انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے نہ صرف دھمکیوں کا سامنا ہے بلکہ فتوے کی خلاف ورزی کرنے وا لے کئی دکانداروں کی دکانوں پر حملے کر کے ان کی توڑ پھوڑ بھی کی گئی ہے۔اس فتوے پر مذہبی حلقوں کی اختلافی آراءبھی سامنے آئی ہے اور اخبار لکھتا ہے ، ’اگرچہ نئے فتوے کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے، تاہم یہودیوں کے تمام مذہبی اس فتوے کے حق میں نہیں۔ اختلاف کرنے والوں میں یہودی مذہبی جماعت شاش بھی شامل ہے‘۔ شاس کے سربراہ اور یہودیوں کےایک اہم روحانی پیشوا عوفادیا یوسف کے صاحبزادے الراف ابراھیم یوسف کہتے ہیں کہ ’ماضی میں یہودی مذہبی پیشواؤں کی کسی نسل یا گروہ نے ایسا انتہاءپسندی کا مظہر لباس اختیار کرنے تاکید نہیں کی اور نہ ہی یہودی خواتین میں ایسا لباس اختیار کرنے کی کوئی مشترکہ روایت رہی ہے۔ یہودی مذہبی پیشواؤں کی جانب سے خواتین کو خوبصورت لباس پہننے کی ترغیب دی ہے حتی کہ خواتین کے لیے ایام مخصوصہ میں بھی خوبصورت لباس اختیار کرنے کی تعلیم موجود ہے‘۔نہ صرف لباس بلکہ خواتین کی زندگی میں نجی مصروفیت کے حوالے سے بھی ان کیلئے موبائل فون کا استعمال ممنوع قراردیا گیا ہے ’معاریف‘ کے مطابق یہودی انتہا پسند حلقوں کی جانب سے صرف خواتین کے نئے لباس کی سختی سے تاکید نہیں بلکہ خواتین کے موبائل فون پر بات کرنے پر بھی پابندی لگائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آنے والے چند روز میں ’ہریڈیم‘ سوسائٹی کی خواتین پر پبلک مقامات اور بسوں میں سفر کے دوران موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔

روزنامہ پاکستان


7531_burqa-2.jpg

__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں

 
فیصل ناصر's Avatar
فیصل ناصر
Senior Member

تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 521
Reply With Quote
11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (02-09-10), shafresha (01-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), فرحان دانش (02-09-10), کنعان (02-09-10), پاکستانی (02-09-10), نورالدین (03-09-10), مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10), شمشاد احمد (01-09-10), غلام خان (02-09-10)
پرانا 01-09-10, 06:30 PM   #2
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,775
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ بھائی!!!!!!!!!!!!!
shafresha آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 01-09-10, 10:57 PM   #3
ذیلی ناظم
 
ھارون اعظم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 5,256
کمائي: 121,584
شکریہ: 15,097
4,239 مراسلہ میں 12,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
ھارون اعظم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

کہیں مسلمانوں اور عیسائیوں کو لڑانے کا نیا منصوبہ تو نہیں؟؟؟
ھارون اعظم آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے ھارون اعظم کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 01-09-10, 11:03 PM   #4
Senior Member
 
مرزا عامر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مذہب دنیا کا کوئی بھی ہو عریانی اور فحاشی کی ترغیب نہیں دیتا یہ الگ بات ہے کہ انسان اسے فراموش کر دیں۔ اور یہودی ، عیسائی اور مسلمان تو ویسے بھی کافی ہم آہنگ مذہب ہیں ۔ nuns کو دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حسہ نظر نہیں آتا۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
مرزا عامر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فیصل ناصر (01-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), احمد بلال (02-09-10), طاھر (01-09-10)
پرانا 01-09-10, 11:03 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مسلمان اور عیسائی اتنے بھولے کیوں بنے رہتے ہیں ہر وقت۔
شمشاد احمد آن لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10), طاھر (01-09-10)
پرانا 02-09-10, 09:39 AM   #6
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

واقعی تمام آسمانی مذاہب میں تو عورت کے تقدس،بے جا اختلاط سے پرہیز،شرم وحیا اور ادب آداب کی تعلیمات موجود ہیں۔ عریانی وفحاشی،لادینیت،سرمایہ داری اور مادہ پرستی کی پیداوارہے۔
"خدانخواستہ" اگر معاشروں میں شرم وحیا، پردہ اور مذہبی اقدار کا فروغ ہوجاتا ہے تو (جدید سرمایہ داروں کے نزدیک)بہت بڑا معاشی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں بھلا کیا کچھ متاثر ہوگا۔
1۔ میک اپ کے سامان کی تمام انڈسڑی۔(میک اپ کی ضرورت ہی نمائش اور ریاکاری کے لیے ہے)
2۔ سکن کیئر کے تمام شعبہ جات۔(کیونکہ پردے کے نتیجے میں جلد کے مسائل کم ہوجائیں گے۔)
3۔ملبوسات سے متعلقہ تمام شعبہ جات متاثر ہوں گے۔جوتے کپڑے اور دیگر سامان آرایش
4۔عورتوں کے سڑکوں پر کم نکلنے سے، ان کی وجہ سے نکلنے والے مردوں کے گھروں میں قیام سے معاشی بحران پیدا ہوگا۔ ٹرانسپورٹ،ہوٹل،تفریحات سے متعلقہ انڈسٹریز متاثر ہوں گی۔

تو بھائیو اب آپ چاہو بھی تو آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیاں،دوسرے ممالک جن کے تحت ہم ہیں،اپنے اور اپنی کمپنیوں کےمفادات کے تحفظ کے لیے اسلامی اقدار کے قریب بھی نہیں جانے دیں گے۔انھوں نے کثیر سرمائے سے ایسے دانش وروں کو اپنے حلقوں میں شامل کرلیا ہے،جو عوام کو اس طرف نہیں جانے دیں گے۔ یہ کام ان کے مارکیٹنگ کے اہداف کے اندر شامل ہوتا ہے۔
__________________
عابد
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), مرزا عامر (02-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 10:56 AM   #7
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,631
کمائي: 29,423
شکریہ: 7,140
2,967 مراسلہ میں 8,764 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چہرے کے پردے کا قرآن میں کوئی حکم نہیں۔ مسلمانوں میں یہ سب یہودیوں‌سے ہی آیا ہے۔ جب یہودی نئے نئے مسلمان ہوئے ۔ تو ہندوؤں کی طرح‌اپنی قدریں‌نہیں چھوڑیں۔

معاشرے میں عورتوں‌پر کام کاج کی پابندی، تعلیم حاصل کرنے کی پابندی اور کاروبار کی پابندی۔ غیر اسلامی شعائر ہیں۔ جن کی قران حکیم سے کوئی بنیاد نہیں ملتی۔

تعلیم ، کام کاج اور کاروبار کسی قسم کی بے حیائی نہیں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 11:36 AM   #8
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی
مرد اور عورت کا غیر ضروری اختلاط بہت سارے فتنوں کو جنم دیتا ہے۔اور ان فتنوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔
سورۃ یوسف دیکھیں:
ولَقَدْ هَمَّتْ بِهِ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ [١٢:٢٤]
اس سے ظاہر نہیں‌ہورہا کہ نبی بھی صرف اس لیے محفوظ رہا کہ اللہ نے اپنے نبی کوخصوصی طور پرمحفوظ رکھا۔ورنہ ذاتی اور انسانی حیثیت میں وہ بھی جذباتی لمحوں کا شکار ہوجاتا اگر اللہ کی نشانی نہ دیکھ لیتا۔
اس لیے بہتر نہیں ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہ ڈالیں جس سے ہم اپنے زور پرمحفوظ نہیں رہ سکتے۔
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 12:07 PM   #9
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,631
کمائي: 29,423
شکریہ: 7,140
2,967 مراسلہ میں 8,764 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بھائی گوندل سلام۔

آپ نے لفظ استعمال کیا اختلاط، اس کے معانی ہیں ملنا جلنا۔ پیوند کاری۔ جوڑ لگانا۔ یہ جنسی معانی میں‌ تو استعمال کیجئے لیکن بازار میں خرید و فروخت کے لئے لفظ ہے تجارت، تجارت اختلاط نہیں۔ کام کاج بھی اختلاط نہیں۔ تعلیم کا حصول بھی اختلاط نہیں۔

اختلاط کا لفظ ا ستعمال کرکے خواتیں کو تعلیم ، کام کاج اور کاروبار سے محروم کرنا۔ ایک بھیانک عمل ہے۔ آج افغانی عورتوں کے پاس کیا کیا چوائس ہے‌ ؟ جسم فروشی (‌اختلاط) اور بھیک مانگنا۔؟

معاشرے میں استحکام کے لئے خواتین کا تعلیم حاصل کرنا، کاروبار کرنا اور کام کاج کرنا۔ ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ اس کی مخالفت کیوں؟ یا مخالفت کی بنیاد کیا ہے؟

والسلام
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), نورالدین (03-09-10), مرزا عامر (02-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 12:26 PM   #10
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

فاروق بھائی
میرے الفاظ’’غیرضروری اختلاط‘‘ میں، جنسیت کاذکر تھا تو نہیں اور نہ ہی اسے ان معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، اس سے میری مراد تھی کہ کسی ضرورت یامجبوری کے علاوہ غیرمحرم عورتوں اور مردوں کا آزادانہ میل ملاپ۔ہاں البتہ اس غیرضروری میل ملاپ کا نتیجہ ضرورجنسیت کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ویسے جو آپ نے چہرے کے پردے کی بات کی ہے، تو ڈسٹ ماسک اگر کوئی شمالی علاقہ جات میں پہنے تو کیسا لگے گا۔ اور اگر لاہور یا کراچی میں پہنا جائے تو کیسا ہوگا۔قوانین بھی معاشرتی ضرورتوں کے لحاظ سے بنائے جاتے ہیں تو اب چہرے کے پردے کا قانون بنا لیتے ہیں۔کیا خیال ہے۔قرآن نے شراب کی خرابی کا ذکر کیا تھا اور اس سے دور رہنے کی ہدایت کی۔نبی کریم کے زمانے میں شرابی کو جوتے مارے جاتے تھے۔حضرت ابوبکر کے زمانے میں چالیس درے اور حضرت عمر کے زمانے میں انہیں ساٹھ درے کردیا گیا تھا۔کیوں؟
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 01:57 PM   #11
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,539
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نیا پراپیگنڈہ ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
shafresha (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 07:34 PM   #12
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

رضی بھائی کس چیز کا پروپیگنڈا ؟
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 02-09-10, 08:24 PM   #13
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,631
کمائي: 29,423
شکریہ: 7,140
2,967 مراسلہ میں 8,764 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چہرے کے پردے کا موضوع ہے ، یہی رہنے دیں۔

معاشرے میں‌کام کاج کی سہولت، کاروبار کی سہولت، تعلیم کے حصول کی سہولت، کسی قسم کا اختلاط نہیں، نہ ہی کسی قسم کا میل ملاپ ہے۔ البتہ کچھ لوگوں‌کی ذاتی خوہشات کی پیروی ہے کہ خوتیں پر پابندی لگائی جائے۔

Last edited by فاروق سرورخان; 02-09-10 at 08:33 PM.
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), گوندل (03-09-10)
پرانا 02-09-10, 10:09 PM   #14
Senior Member
 
sahj's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Apr 2009
مقام: karachi PAKISTAN
مراسلات: 2,517
کمائي: 55,993
شکریہ: 5,981
1,910 مراسلہ میں 5,631 بارشکریہ ادا کیا گیا
sahj کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
چہرے کے پردے کا قرآن میں کوئی حکم نہیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا
﴿033:059﴾

اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے


(یاد رہے قرآن کا سب سے زیادہ فہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے عطاء فرمایا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کا فہم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کو سکھایا )

تفسیر ابن کثیر

تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟

اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔ حضرت زہری سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بےخاوند کی ہوں؟ فرمایا دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے حضرت سفیان ثوری سے منقول ہے کہ ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔

چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لئے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔

سدی کا قول ہے کہ فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لئے یہ نشان ہوگیا کہ گھر گر ہست عورتوں اور لونڈیوں بانڈیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہلاسکے۔
پھر فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جو بےپردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالٰی تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا، پھر فرماتا ہے کہ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے ۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔


امید ھے بات سمجھ آچکی ھوگی۔

والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
sahj آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے sahj کا شکریہ ادا کیا
shafresha (02-09-10), کنعان (02-09-10), گوندل (03-09-10), مرزا عامر (03-09-10), مشال خان (03-09-10), احمد بلال (02-09-10)
پرانا 03-09-10, 07:52 AM   #15
Senior Member
 
گوندل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
چہرے کے پردے کا موضوع ہے ، یہی رہنے دیں۔

معاشرے میں‌کام کاج کی سہولت، کاروبار کی سہولت، تعلیم کے حصول کی سہولت، کسی قسم کا اختلاط نہیں، نہ ہی کسی قسم کا میل ملاپ ہے۔ البتہ کچھ لوگوں‌کی ذاتی خوہشات کی پیروی ہے کہ خوتیں پر پابندی لگائی جائے۔
فاروق بھائی
اگر یہ بات مان لی جائے کہ یہ کچھ لوگوں کی ذاتی خواہشات کی پیروی ہے تو عقل کاتقاضا یہ ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ اس چیز کا ان کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ وہ لوگ اس پابندی کو نافذ کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر خواتین چہرے کو ڈھانپ لیں تو ان بنیاد پرستوں کو کیا فائدہ اور ہم جیسے بے بنیادوں کو کیا نقصان ہوگا۔جب کہ دوسری طرف چہرے کا ڈھکا جانا کسی قسم کی معاشی ،تعلیمی ،سیاسی،معاشرتی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں کرتا۔ میں نے کافی لوگوں کی رائے ملاحظہ کی ہے ۔کوئی بھی خواتین کو حجاب کے ساتھ ان سرگرمیوں سے نہیں روکتا۔
پھر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ قانون اور چیز ہے اور اس کا نفاذ ایک مختلف چیز ہے۔فرض کریں اللہ کی کتاب میں ایک قانون ہے کہ چوری نہیں‌کرنا۔ اب اس قانون پر عمل درامد کے لیے بہت سارے قوانین کی ضرورت پڑے گی۔ضروری نہیں کہ سارا پراسیس کتا ب میں بیان ہو۔اب اس فعل یعنی چوری کوروکنے کے لیے بہت سے قوانین بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی انسان کے لیے چوری کی نوبت نہ آئے،وہ چوری کرنے کے ارادے سے باز رہے،اسے چوری کی کوئی معاشی،معاشرتی ضرورت نہ ہو۔ اس قسم کے افعال کے لیے سزائیں بھی بنائی جائیں گی جو ظاہر ہے کہ چوری کی سزا سے کم ہوں گی۔ اب اس پر آپ یہ تو نہ کہیں کہ چونکہ یہ سب قرآن میں بیان نہیں‌ہوا لہذا یہ نہیں‌ہوسکتا۔
گوندل آف لائن ہے   Reply With Quote
گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا
مشال خان (03-09-10)
جواب

Tags
color, com, php, ہے۔, فروخت, گئی, پاکستان, پسند, وقت, مکمل, موبائل, مقصد, مطابق, بے, خواتین, زندگی, سفر, طالبان, عیسائی, عیسائیوں, عائد, عذاب, صیہونی, صاحبزادے, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کتے پالنا حرام ہے ایرانی عالم کا فتویٰ جاویداسد خبریں 13 30-06-10 01:23 PM
حضرت فتویٰ دیجئے! عبداللہ آدم پاکستان میں دہشت گردی 12 28-02-10 08:40 PM
کیری لوگر بل کے مخالفین کے لئے ایک 'فتویٰ'!!! ھارون اعظم خبریں 0 03-11-09 08:58 PM
فتویٰ برائے فتویٰ!!! وجدان عمومی بحث 9 06-11-08 04:05 PM
خود کش حملہ حرام:فتویٰ تاخیر سے ابن جلال خبریں 0 17-10-08 06:07 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger