| خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 521
|
||||
| 11 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (02-09-10), shafresha (01-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), فرحان دانش (02-09-10), کنعان (02-09-10), پاکستانی (02-09-10), نورالدین (03-09-10), مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10), شمشاد احمد (01-09-10), غلام خان (02-09-10) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jun 2010
مقام: Finland
مراسلات: 4,644
کمائي: 84,734
شکریہ: 28,669
4,115 مراسلہ میں 13,069 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مذہب دنیا کا کوئی بھی ہو عریانی اور فحاشی کی ترغیب نہیں دیتا یہ الگ بات ہے کہ انسان اسے فراموش کر دیں۔ اور یہودی ، عیسائی اور مسلمان تو ویسے بھی کافی ہم آہنگ مذہب ہیں ۔ nuns کو دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ چہرے اور ہاتھوں کے علاوہ ان کے جسم کا کوئی حسہ نظر نہیں آتا۔
__________________
میں اک دن لَوٹ کے آوں گا
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے مرزا عامر کا شکریہ ادا کیا | shafresha (02-09-10), فیصل ناصر (01-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), احمد بلال (02-09-10), طاھر (01-09-10) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,688
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
مسلمان اور عیسائی اتنے بھولے کیوں بنے رہتے ہیں ہر وقت۔
|
|
|
|
| 5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا | shafresha (02-09-10), فاروق سرورخان (02-09-10), مرزا عامر (01-09-10), احمد بلال (02-09-10), طاھر (01-09-10) |
|
|
#6 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
واقعی تمام آسمانی مذاہب میں تو عورت کے تقدس،بے جا اختلاط سے پرہیز،شرم وحیا اور ادب آداب کی تعلیمات موجود ہیں۔ عریانی وفحاشی،لادینیت،سرمایہ داری اور مادہ پرستی کی پیداوارہے۔
"خدانخواستہ" اگر معاشروں میں شرم وحیا، پردہ اور مذہبی اقدار کا فروغ ہوجاتا ہے تو (جدید سرمایہ داروں کے نزدیک)بہت بڑا معاشی بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھلا کیا کچھ متاثر ہوگا۔ 1۔ میک اپ کے سامان کی تمام انڈسڑی۔(میک اپ کی ضرورت ہی نمائش اور ریاکاری کے لیے ہے) 2۔ سکن کیئر کے تمام شعبہ جات۔(کیونکہ پردے کے نتیجے میں جلد کے مسائل کم ہوجائیں گے۔) 3۔ملبوسات سے متعلقہ تمام شعبہ جات متاثر ہوں گے۔جوتے کپڑے اور دیگر سامان آرایش 4۔عورتوں کے سڑکوں پر کم نکلنے سے، ان کی وجہ سے نکلنے والے مردوں کے گھروں میں قیام سے معاشی بحران پیدا ہوگا۔ ٹرانسپورٹ،ہوٹل،تفریحات سے متعلقہ انڈسٹریز متاثر ہوں گی۔ تو بھائیو اب آپ چاہو بھی تو آپ کو ملٹی نیشنل کمپنیاں،دوسرے ممالک جن کے تحت ہم ہیں،اپنے اور اپنی کمپنیوں کےمفادات کے تحفظ کے لیے اسلامی اقدار کے قریب بھی نہیں جانے دیں گے۔انھوں نے کثیر سرمائے سے ایسے دانش وروں کو اپنے حلقوں میں شامل کرلیا ہے،جو عوام کو اس طرف نہیں جانے دیں گے۔ یہ کام ان کے مارکیٹنگ کے اہداف کے اندر شامل ہوتا ہے۔
__________________
عابد |
|
|
|
| 4 قاری/قارئین نے گوندل کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() |
چہرے کے پردے کا قرآن میں کوئی حکم نہیں۔ مسلمانوں میں یہ سب یہودیوںسے ہی آیا ہے۔ جب یہودی نئے نئے مسلمان ہوئے ۔ تو ہندوؤں کی طرحاپنی قدریںنہیں چھوڑیں۔
معاشرے میں عورتوںپر کام کاج کی پابندی، تعلیم حاصل کرنے کی پابندی اور کاروبار کی پابندی۔ غیر اسلامی شعائر ہیں۔ جن کی قران حکیم سے کوئی بنیاد نہیں ملتی۔ تعلیم ، کام کاج اور کاروبار کسی قسم کی بے حیائی نہیں۔
__________________
فاروق سرور خان ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف |
|
|
|
| فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (02-09-10) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی
مرد اور عورت کا غیر ضروری اختلاط بہت سارے فتنوں کو جنم دیتا ہے۔اور ان فتنوں سے کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ سورۃ یوسف دیکھیں: ولَقَدْ هَمَّتْ بِهِ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَىٰ بُرْهَانَ رَبِّهِ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ ۚ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ [١٢:٢٤] اس سے ظاہر نہیںہورہا کہ نبی بھی صرف اس لیے محفوظ رہا کہ اللہ نے اپنے نبی کوخصوصی طور پرمحفوظ رکھا۔ورنہ ذاتی اور انسانی حیثیت میں وہ بھی جذباتی لمحوں کا شکار ہوجاتا اگر اللہ کی نشانی نہ دیکھ لیتا۔ اس لیے بہتر نہیں ہے کہ ہم اپنے آپ کو اس آزمائش میں نہ ڈالیں جس سے ہم اپنے زور پرمحفوظ نہیں رہ سکتے۔ |
|
|
|
| گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا | shafresha (02-09-10) |
|
|
#9 |
|
Senior Member
![]() |
بھائی گوندل سلام۔
آپ نے لفظ استعمال کیا اختلاط، اس کے معانی ہیں ملنا جلنا۔ پیوند کاری۔ جوڑ لگانا۔ یہ جنسی معانی میں تو استعمال کیجئے لیکن بازار میں خرید و فروخت کے لئے لفظ ہے تجارت، تجارت اختلاط نہیں۔ کام کاج بھی اختلاط نہیں۔ تعلیم کا حصول بھی اختلاط نہیں۔ اختلاط کا لفظ ا ستعمال کرکے خواتیں کو تعلیم ، کام کاج اور کاروبار سے محروم کرنا۔ ایک بھیانک عمل ہے۔ آج افغانی عورتوں کے پاس کیا کیا چوائس ہے ؟ جسم فروشی (اختلاط) اور بھیک مانگنا۔؟ معاشرے میں استحکام کے لئے خواتین کا تعلیم حاصل کرنا، کاروبار کرنا اور کام کاج کرنا۔ ایک صحت مند معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ اس کی مخالفت کیوں؟ یا مخالفت کی بنیاد کیا ہے؟ والسلام |
|
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
فاروق بھائی
میرے الفاظ’’غیرضروری اختلاط‘‘ میں، جنسیت کاذکر تھا تو نہیں اور نہ ہی اسے ان معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے، اس سے میری مراد تھی کہ کسی ضرورت یامجبوری کے علاوہ غیرمحرم عورتوں اور مردوں کا آزادانہ میل ملاپ۔ہاں البتہ اس غیرضروری میل ملاپ کا نتیجہ ضرورجنسیت کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔ویسے جو آپ نے چہرے کے پردے کی بات کی ہے، تو ڈسٹ ماسک اگر کوئی شمالی علاقہ جات میں پہنے تو کیسا لگے گا۔ اور اگر لاہور یا کراچی میں پہنا جائے تو کیسا ہوگا۔قوانین بھی معاشرتی ضرورتوں کے لحاظ سے بنائے جاتے ہیں تو اب چہرے کے پردے کا قانون بنا لیتے ہیں۔کیا خیال ہے۔قرآن نے شراب کی خرابی کا ذکر کیا تھا اور اس سے دور رہنے کی ہدایت کی۔نبی کریم کے زمانے میں شرابی کو جوتے مارے جاتے تھے۔حضرت ابوبکر کے زمانے میں چالیس درے اور حضرت عمر کے زمانے میں انہیں ساٹھ درے کردیا گیا تھا۔کیوں؟ |
|
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
چہرے کے پردے کا موضوع ہے ، یہی رہنے دیں۔
معاشرے میںکام کاج کی سہولت، کاروبار کی سہولت، تعلیم کے حصول کی سہولت، کسی قسم کا اختلاط نہیں، نہ ہی کسی قسم کا میل ملاپ ہے۔ البتہ کچھ لوگوںکی ذاتی خوہشات کی پیروی ہے کہ خوتیں پر پابندی لگائی جائے۔ Last edited by فاروق سرورخان; 02-09-10 at 08:33 PM. |
|
|
|
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() |
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ۚ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ﴿033:059﴾ اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ (باہر نکلا کریں تو) اپنے (مونہوں) پر چادر لٹکا کر (گھونگھٹ نکال) لیا کریں یہ امر ان کے لئے موجب شناخت (وامتیاز) ہوگا تو کوئی انکو ایذا نہ دے گا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے (یاد رہے قرآن کا سب سے زیادہ فہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالٰی نے عطاء فرمایا تھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کا فہم اپنے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمٰعین کو سکھایا ) تفسیر ابن کثیر تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل کون؟ اللہ تعالٰی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تسلیما کو فرماتا ہے کہ آپ مومن عورتوں سے فرما دیں بالخصوص اپنی بیویوں اور صاحبزادیوں سے کیونکہ وہ تمام دنیا کی عورتوں سے بہتر و افضل ہیں کہ وہ اپنی چادریں قدریں لٹکالیا کریں تاکہ جاہلیت کی عورتوں سے ممتاز ہو جائیں اسی طرح لونڈیوں سے بھی آزاد عورتوں کی پہچان ہو جائے۔ جلباب اس چادر کو کہتے ہیں جو عورتیں اپنی دوپٹیاکے اوپر ڈالتی ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالٰی مسلمان عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ جب وہ اپنے کسی کام کاج کیلئے باہر نکلیں تو جو چادر وہ اوڑھتی ہیں اسے سر پر سے جھکا کر منہ ڈھک لیا کریں، صرف ایک آنکھ کھلی رکھیں۔ امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ کے سوال پر حضرت عبیدہ سلمانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا چہرہ اور سر ڈھانک کر اور بائیں آنکھ کھلی رکھ کر بتا دیا کہ یہ مطلب اس آیت کا ہے۔ حضرت عکرمہ رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اپنی چادر سے اپنا گلا تک ڈھانپ لے۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں اس آیت کے اترنے کے بعد انصار کی عورتیں جب نکلتی تھیں تو اس طرح لکی چھپی چلتی تھیں گویا ان کے سروں پر پرند ہیں سیاہ چادریں اپنے اوپر ڈال لیا کرتی تھیں۔ حضرت زہری سے سوال ہوا کہ کیا لونڈیاں بھی چادر اوڑھیں؟ خواہ خاوندوں والیاں ہوں یا بےخاوند کی ہوں؟ فرمایا دوپٹیا تو ضرور اوڑھیں اگر وہ خاوندوں والیاں ہوں اور چادر نہ اوڑھیں تاکہ ان میں اور آزاد عورتوں میں فرق رہے حضرت سفیان ثوری سے منقول ہے کہ ذمی کافروں کی عورتوں کی زینت کا دیکھنا صرف خوف زنا کی وجہ سے ممنوع ہے نہ کہ ان کی حرمت و عزت کی وجہ سے کیونکہ آیت میں مومنوں کی عورتوں کا ذکر ہے۔ چادر کا لٹکانا چونکہ علامت ہےآزاد پاک دامن عورتوں کی اس لئے یہ چادر کے لٹکانے سے پہچان لی جائیں گی کہ یہ نہ واہی عورتیں ہیں نہ لونڈیاں ہیں۔ سدی کا قول ہے کہ فاسق لوگ اندھیری راتوں میں راستے سے گزرنے والی عورتوں پر آوازے کستے تھے اس لئے یہ نشان ہوگیا کہ گھر گر ہست عورتوں اور لونڈیوں بانڈیوں وغیرہ میں تمیز ہو جائے اور ان پاک دامن عورتوں پر کوئی لب نہ ہلاسکے۔ پھر فرمایا کہ جاہلیت کے زمانے میں جو بےپردگی کی رسم تھی جب تم اللہ کے اس حکم کے عامل بن جاؤ گے تو اللہ تعالٰی تمام اگلی خطاؤں سے درگزر فرمالے گا اور تم پر مہر و کرم کرے گا، پھر فرماتا ہے کہ اگر منافق لوگ اور بدکار اور جھوٹی افواہیں دشمنوں کی چڑھائی وغیرہ کی اڑانے والے اب بھی باز نہ آئے اور حق کے طرفدار نہ ہوئے تو ہم اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تجھے ان پر غالب اور مسلط کردیں گے۔ پھر تو وہ مدینے میں ٹھہر ہی نہیں سکیں گے ۔ بہت جلد تباہ کردیے جائیں گے اور جو کچھ دن ان کے مدینے کی اقامت سے گزریں گے وہ بھی لعنت و پھٹکار میں ذلت اور مار میں گزریں گے۔ ہر طرف سے دھتکارے جائیں گے، راندہ درگاہ ہو جائیں گے، جہاں جائیں گے گرفتار کئے جائیں گے اور بری طرح قتل کئے جائیں گے۔ ایسے کفار و منافقین پر جبکہ وہ اپنی سرکشی سے باز نہ آئیں مسلمانوں کو غلبہ دینا ہماری قدیمی سنت ہے جس میں نہ کبھی تغیر و تبدل ہوا نہ اب ہو۔ امید ھے بات سمجھ آچکی ھوگی۔ والسلام
__________________
حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں سویا ہواتھا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ۔ میں نے دیکھا کہ ایک عورت ایک محل کے کنارے وضو کررہی ہے ۔ میں نے پوچھا یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے جواب دیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کا۔صحیح بخاری
|
|
|
|
|
|
#15 | |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Oct 2009
مقام: اسلامی جمہوریہ پاکستان
مراسلات: 469
کمائي: 16,102
شکریہ: 285
375 مراسلہ میں 1,185 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اقتباس:
اگر یہ بات مان لی جائے کہ یہ کچھ لوگوں کی ذاتی خواہشات کی پیروی ہے تو عقل کاتقاضا یہ ہے کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ اس چیز کا ان کو کیا فائدہ ہونے والا ہے۔ وہ لوگ اس پابندی کو نافذ کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر خواتین چہرے کو ڈھانپ لیں تو ان بنیاد پرستوں کو کیا فائدہ اور ہم جیسے بے بنیادوں کو کیا نقصان ہوگا۔جب کہ دوسری طرف چہرے کا ڈھکا جانا کسی قسم کی معاشی ،تعلیمی ،سیاسی،معاشرتی سرگرمیوں میں کوئی رکاوٹ بھی پیدا نہیں کرتا۔ میں نے کافی لوگوں کی رائے ملاحظہ کی ہے ۔کوئی بھی خواتین کو حجاب کے ساتھ ان سرگرمیوں سے نہیں روکتا۔ پھر ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں کہ قانون اور چیز ہے اور اس کا نفاذ ایک مختلف چیز ہے۔فرض کریں اللہ کی کتاب میں ایک قانون ہے کہ چوری نہیںکرنا۔ اب اس قانون پر عمل درامد کے لیے بہت سارے قوانین کی ضرورت پڑے گی۔ضروری نہیں کہ سارا پراسیس کتا ب میں بیان ہو۔اب اس فعل یعنی چوری کوروکنے کے لیے بہت سے قوانین بنانے کی ضرورت ہوگی تاکہ کسی انسان کے لیے چوری کی نوبت نہ آئے،وہ چوری کرنے کے ارادے سے باز رہے،اسے چوری کی کوئی معاشی،معاشرتی ضرورت نہ ہو۔ اس قسم کے افعال کے لیے سزائیں بھی بنائی جائیں گی جو ظاہر ہے کہ چوری کی سزا سے کم ہوں گی۔ اب اس پر آپ یہ تو نہ کہیں کہ چونکہ یہ سب قرآن میں بیان نہیںہوا لہذا یہ نہیںہوسکتا۔ |
|
|
|
|
| گوندل کا شکریہ ادا کیا گیا | مشال خان (03-09-10) |
![]() |
| Tags |
| color, com, php, ہے۔, فروخت, گئی, پاکستان, پسند, وقت, مکمل, موبائل, مقصد, مطابق, بے, خواتین, زندگی, سفر, طالبان, عیسائی, عیسائیوں, عائد, عذاب, صیہونی, صاحبزادے, صرف |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|
Similar Threads
|
||||
| موضوع | موضوع شروع کیا | فورم | جوابات | آخری مراسلہ |
| کتے پالنا حرام ہے ایرانی عالم کا فتویٰ | جاویداسد | خبریں | 13 | 30-06-10 01:23 PM |
| حضرت فتویٰ دیجئے! | عبداللہ آدم | پاکستان میں دہشت گردی | 12 | 28-02-10 08:40 PM |
| کیری لوگر بل کے مخالفین کے لئے ایک 'فتویٰ'!!! | ھارون اعظم | خبریں | 0 | 03-11-09 08:58 PM |
| فتویٰ برائے فتویٰ!!! | وجدان | عمومی بحث | 9 | 06-11-08 04:05 PM |
| خود کش حملہ حرام:فتویٰ تاخیر سے | ابن جلال | خبریں | 0 | 17-10-08 06:07 PM |