|
یہ وقت اتحاد و یکجہتی اور متاثرین کی مدد کا ہے سیاست کا نہیں

23-08-10, 08:06 PM
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ متاثرین کی مدد پر سیاست نہ چمکائی جائے۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے دنیا نے ہم پر بھرپور اعتماد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وقت اس ایشو پر سیاست چمکانے کا نہیں بلکہ اس وقت قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پوری دنیا میں ڈیمز موجود ہونے کے باوجود سیلاب آتے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ قومی نگران ڈیزاسٹر مینجمنٹ کونسل کے قیام کا مقصد وزیر اعظم ریلیف فنڈ اور فارن ایڈز کے شفاف اور منصفانہ استعمال کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صوبے مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف کی طرف سے کمیشن کے قیام کی تجویز کے حوالے سے فنڈز کو مرکز میں رکھنے کیخلاف تھے لہٰذا نواز شریف کی یہ تجویز قابل عمل نہ تھی۔
وزیر اعظم کا یہ کہنا درست ہے کہ متاثرین سیلاب کی مدد کیلئے بیرونی د نیا نے زبردست امداد کی ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا کہ اگر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی ' نواز شریف کے ساتھ ملاقات کے بعد میں عجلت میں کمیشن بنانے کا اعلان کرنے سے پہلے چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں لیتے۔ ایسے اعلانات اور آپس کے اختلافات کی وجہ سے دنیا پہلے ہی ہم پر اعتماد نہیں کرتی رہی سہی کسر ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے اس مشکل گھڑی میں بھی اختلافی اور سیاسی بیانات پوری کرتے ہیں۔محض فضائی دوروں اور تصویر کھنچوا لینے سے متاثرین سیلاب کے مسائل حل نہیں ہوسکتے۔
تاریخ شاہد ہے کہ قوموں پر بڑی سے بڑی آفات اور حادثات نازل ہوتے ہیں لیکن باوقار قومیں ان مشکل حالات کو اپنے لئے بوجھ تصور کرنے اور ان حادثات کی آڑ میں اپنے قومی وقار کا سودا کرکے ہاتھ پھیلانے کی بجائے یکجہتی اور اتحاد کے ذریعے ایک ایسا ماحول ترتیب دیتے ہیں کہ نئی طاقتور قوم بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرتے ہیں۔ مگر ہماری بدقسمتی کہ ہم اس نازک گھڑ ی میں بھی ذاتی مفادات اور سیاسی فوائد سمیٹ رہے ہیں اور متاثرین سیلاب مدد کیلئے پکار رہے ہیں ہم ان کی مدد کرنے کی بجائے آپس میں الجھے ہوئے ہیں اور حکمران روز میٹنگوں اور اجلاسوں میں مصروف ہیں ستم یہ کہ ان اجلاسوں اور میٹنگوں سے متاثرین اب تک کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچ سکا۔ متاثرین تاحال کسی مسیحا کے منتظر ہیں لیکن جنہیں مسیحا کا کردار ادا کرنا تھا وہ اس نازک اور مشکل گھڑی میں بھی مفادات سمیٹنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ستم یہ ہے کہ حکمران متاثرین کی فوری مدد کرنے اور اس مقصد کے لئے پہلے سے بنے ہوئے اداروں کو فعال کرنے کی بجائے نئے سے نئے ادارے بنانے میں مصروف ہیں کیا ہمارے حکمرانوں کے اس طرز عمل سے متاثرین سیلاب کے دکھوں کا مداوا ہوسکتا ہے؟ ہرگز نہیں اگر یہی وطیرہ رہا تو کوئی بعید نہیں کہ بقول میاں شہباز شریف مظفر گڑھ کے متاثرین لاہور پہنچے گے ہیں اور سکھر کے متاثرین کراچی پہنچے گے اور راستے میں جو کچھ بھی سامنے آئے گا اسے جلاکر راکھ کر دیں گے۔
جس قسم کی بڑی آفت کا سامنا ہم کر رہے ہیں اگر ہمارے حکمرانوں ' سیاستدانوں اور ذمہ داراداروں نے اس کا ادراک نہ کرتے ہوئے کمزوری کا مظاہرہ کیا تو حالات اس حد تک بگڑ سکتے ہیں کہ کسی حکمران اور طاقت کے بس میں نہیں ہوگا کہ ان حالات کو کنٹرول کرسکے۔ اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ پانی بہہ جانے کے بعد حالات سدھر جائیں گے تو یہ ان کی خام خیالی ہے کیونکہ سیلابی پانی ختم ہونے کے بعد ایک نیا بحران جنم لے گا وہ بحران سیلاب زدگان کو موذی بیماریوں سے بچانا اور ان کی خوراک اور رہائش کا فوری بندوبست کرنا ہے۔ اگر حکمران متاثرین سیلاب کی بحالی میں ناکام رہے تو وہ یہ جان لیں کہ اس سیلاب کے بعد ایک اور بڑا سیلاب آنے والا ہے جسے عوامی سیلاب کہتے ہیں کہ اس عوامی سیلاب کا مقابلہ کرنا حکمرانوں کے بس میں نہیں ہوگا۔ جہاں تک نواز شریف کی تجویز کی بات ہے تو ہم نہیں کہتے کہ حکومت نواز شریف کی ہر بات قبول کرے لیکن یہ ضرور کہتے ہیں کہ اچھی تجویز یا اچھی بات چاہے نواز شریف کہے یا کوئی اور ملک و قوم کا مفاد اسی میں ہے کہ اس پر عمل کیا جائے۔ یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ نے نواز شریف کی تجویز کو رد کر دیابظاہر دیکھا جائے تو نواز شریف کی اس اچھی تجویز کو رد کرنے کا جواز نہیں بنتا کیونکہ انہوںنے اس کمیشن میں جن باکردار اور دیانت دار شخصیات کے نام دیئے تھے وہ ایسی شخصیات ہیں جو اگر اس کمیشن میں شامل ہوتیں تو نہ خود قوم کا پیسہ ہڑپ کرتے اور نہ کسی کو کرنے دیتے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ کچھ لوگوں کو یہ صورتحال قبول نہیں اور اس مشکل گھڑی میں بھی اپنی تجوریوں کو بھرنے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ خدارا اس بڑی آفت سے نبرد آزما ہونے کیلئے ایک ہو جائیں اور تمام تر سیاسی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر ایک ایسی قوم ہونے کا ثبوت پیش کریں کہ جس پر پوری دنیا اعتماد کرسکے۔
__________________
جاویداسد
|
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|