واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم :::

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-12-07, 11:01 PM   #1
:::‌ محراب پور ٹرین حادثہ،ہلاکتیں سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ،ہزاروں مسافر ٹرینوں میں محصور،کھانا پانی ختم :::
ابو کاشان ابو کاشان آف لائن ہے 23-12-07, 11:01 PM

کراچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضلع نوشہرو فیروز میں محراب پور کے قریب کراچی ایکسپریس کے حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد سیکڑوں تک پہنچنے کا خدشہ ہے جبکہ حادثے کے بعد 30 سے زیادہ ٹرینیں کراچی اور لاہور کے درمیان مختلف سٹیشنوں پر کھڑی ہیں ان ٹرینوں میں موجود مسافروں کے پاس کھانے پینے کا سامان ختم ہوچکا ہے ۔ جس کی وجہ سے ٹرینوں میں موجود مسافروں خاص طور پر بزرگوں، خواتین اور بچوں کی حالت غیر ہوگئی ہے اور مختلف سٹیشنوں پر کھڑی مختلف ٹرینوں کے مسافروں نے ٹرین سے اترکر سڑک کے ذریعے سفر شروع کردیا ہے ۔دوسری جانب ریلوے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ صرف 40 افراد جاں بحق ہوئے ہیں،واضح رہے کہ اس سے پہلے بدھ کو وزیر ریلوے نے 45 سے 50 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی تھی۔ پاکستان ریلوے کے ذمہ دار افسران نے ہلاکتوں کی کم تعداد سے متعلق سرکاری بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی اپکسپریس کی 3 بوگیاں مکمل طور پرتباہ ہوئی ہیں جن میں عام حالات میں 100 سے 125 افراد سفر کرتے ہیں مگر عید کے سیزن میں ہر بوگی میں 200 سے لے کر 250 افراد تک سفر کرتے ہیں، بکنگ صرف نشستوں کے حساب سے ہوتی ہے۔ ریلوے کے ایک ذمہ دار افسران نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں کی تعداد محتاط اندازوں کے مطابق 500 کے قریب ہے کیونکہ حادثے میں 3بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں جن میں سفرکرنے والے مسافروں کے زندہ بچنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ان افسران کے مطابق اس حادثے میں تخریب کاری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا، تاہم ریلوے افسران کے ان بیانات کی جنرل منیجر پاکستان ریلوے اسد سعید نے پرزور تردید کی ہے اور کہا ہے کہ ہمارا جانی نقصان اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بہت کم ہوا ہے۔ ٹرین حادثے میں تخریب کاری کا امکان بھی انہوں نے مسترد کر دیا اور کہا کہ طرح طرح کی باتیں کی جارہی ہیں کہ فش پلیٹس اکھڑی ہوئی تھیں۔ یہ جدید ٹریک ہے جہاں فش پلیٹ لگانے کی ضرورت ہی نہیں ہے البتہ حادثے کی اصل وجوہات 15 روز میں سامنے آ سکیں گی جب ریلوے کے فیڈرل گورنمنٹ انسپکٹر جائے وقوعہ کا دورہ کر کے اپنی رپورٹ دیں گے۔ اس سوال پر کہ 15 روز میں شواہد ضائع نہیں ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 4-5 روز تو عید کی چھٹیوں میں گزر جائیں گے۔ جس کے بعد رپورٹ بنائی جائے گی۔ سکھر ڈویژن کے بعض ذمہ دار افسران نے کہا کہ حادثہ بڑی نوعیت کا ہے۔ اس لیے ڈویژنل انکوائری کے بجائے فیڈرل انسپکٹر انکوائری کریں گے ریلوے کا تمام ریکارڈ جو ٹریک اور ٹرین سے متعلق ہے ، سیل کر دیا گیا ہے۔ جائے حادثے سے شواہد جمع کرلیے گئے ہیں۔ ممکنہ تخریب کاری سے متعلق پوچھے گئے مختلف سوالات پر سکھر ڈویژن کے افسران نے کہا کہ اس کی تحقیقات بعض ایجنسیز کر رہی ہیں مگر ان کا ریلوے سے تعلق نہیں ہے۔رابطوں پر ریلوے کے بیشتر افسران کا کہنا تھا کہ سردی میں ریلوے ٹریک سکڑتا ہے جس کی وجہ سے پٹریوں میں کریک کے امکانات ہوتے ہیں۔ پٹری پر سے انجن گزر گیا مگر پیچھے والی 10بوگیاں ٹریک سے گر گئیں۔ ان سے پیچھے کی 6 بوگیاں مکمل محفوظ تھیں۔ ٹرین کے ڈرائیور آصف جاوید سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ حادثے کی اصل وجوہات کا علم تو تحقیقات کے بعد ہوگا تاہم انجن جب اس مقام سے گزرا تو ٹمپریچر 11 ڈگری سینٹی گریڈ تھا اور سپیڈ 90 سے 100 کلو میٹر کے درمیان تھی۔ انجن ایک دم جھٹکے سے گزر گیا لیکن پیچھے کی بوگیاں گرنا شروع ہوگئیں۔ 10 بوگیاں پٹری سے گریں جبکہ 6 بوگیاں مکمل محفوظ ٹریک کے اوپر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ حادثے میں کتنے لوگ جاں بحق ہوئے میرے علم میں نہیں کیونکہ میں انجن کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔ میرے ساتھ جو فائرمین تھا وہ پٹاخے اور دیگر سامان لے کر آگے نکل گیا تاکہ اپ کنٹری سے آنے والی ٹرینوں کو روکا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جھٹکے کے بعد انجن کا پریشر پائپ ٹوٹ گیا تھا۔ باقی انجن کو کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچا۔ اس سوال پر کہ فش پلیٹسں اکھڑی ہوئی تھیں تو انہوں نے کہا کہ یہاں پر ویلڈ کیا ہوا ٹریک ہے۔ فش پلیٹس اگر ہوں گی تو بہت فاصلے پر ہوں گی۔ ان کا زیادہ مسئلہ نہیں ہے۔ زیادہ امکانات ٹریک کے سکڑنے کا ہے۔ ٹریک سکڑنے کی وجہ سے جب اس پر سے بھاری بھرکم انجن گزرا تو اس میں کریک آگیا اور بعد میِں آنے والی بوگیاں کریک کے باعث ڈس بیلنس ہونے کی وجہ سے گرتی چلی گئیں۔ اے سی والی بوگیاں مکمل محفوظ رہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں انجن مکمل ورکنگ حالت میں روہڑی ڈویژن کے شیڈ میں چھوڑ کر آیا ہوں اب جب انکوائری والے بلائیں گے تو ان کے سامنے حاضر ہو جاؤں گا۔ دریں اثنا پاکستان ریلوے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کراچی ایکسپریس حادثے میں صرف 40 مسافر جاں بحق اور 115 زخمی ہوئے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ 39 لاشوں کو لواحقین کے حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ ایک لاش کی شناخت کرنا باقی ہے جسے ایدھی ہوم میں رکھا گیا ہے۔ حادثے کے بعد بھی جائے حادثہ پر امدادی سرگرمیاں جاری رہیں اور ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں نکالی گئی ہیں۔ تاہم امدادی کام سست روی کا شکار ہے اور 4 بوگیوں کو گزشتہ شام تک نہیں اٹھایا جاسکا تھا۔ کراچی سے لاہور جانے والی کراچی ایکسپریس رات ڈھائی بجے کے قریب حادثے کا شکار ہوئی تھی جس کے بعد صبح امدادی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور بوگیوں کو کاٹ کر زخمیوں اور لاشوں کو نکالا گیا۔امدادی کام گزشتہ روز بھی جاری رہا۔ اور امدادی کارکنوں نے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں نکالیں جو ریٹائرڈ نیوی افسر سلیم راجپوت، نیلماں، بیٹی فرحانہ، بیٹے عبدالوہاب اور حماد کی تھیں۔ بدقسمت خاندان کا تعلق جہلم سے بتایا گیا ہے۔ جائے وقوعہ پر مقامی لوگوں کے مطابق امدادی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث ہلاکتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ریلوے ٹریک کا عملہ بوگیاں کاٹ کر لاشیں نکالنے کے بجائے ریلوے ٹریک کی مرمت کرتا رہا جس پر محراب پور کے لوگوں نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بوگی نمبر1148-6، بوگی نمبر8538-2 ، بوگی نمبر 8520-6 اور ایک اور بوگی آپس میں پھنسی ہوئی ہیں جنہیں ہٹایا نہیں جاسکا اور خدشہ ہے کہ ان بوگیوں کے نیچے لاشیں ہوسکتی ہیں۔ تاہم جائے حادثہ کا دورہ کرنے والے پاکستان ریلوے کے جنرل منیجر اسد سعید نے کہاکہ حادثے کا شکار بوگیوں میں مزید کوئی لاش نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی لاش ہوتی تو بدبو آتی۔انہوں نے کہاکہ حادثے میں 40 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 39 لاشوں کو ان کے ورثا کے حوالے کردیا گیا ہے، جبکہ ایک لاش کی شناخت نہیں ہوسکی۔ایکسپریس کے حادثے کے بعد ٹرینوں کی آمدورفت جمعرات کو بھی متاثر ہوئی۔اگرچہ سرکاری ذرائع کے مطابق دن ایک بجے کے قریب اپ ٹریک کی مرمت کردی گئی تھی لیکن ٹرینوں کی آمدورفت معمول پر نہیں آسکی تھی۔ اے پی پی کے مطابق جمعرات کو ہزارہ اور شاہ لطیف ایکسپریس کی روانگی منسوخ کی گئی۔ ریلوے حکام کے مطابق جو ٹرین کراچی پہنچتی ہے اسے 3 گھنٹے کے بعد کراچی سے روانہ کیا جارہا ہے، اسی طرح ٹرینوں کی ضرورت کے مطابق ان کے ناموں اور روٹس میں بھی ردوبدل کیا جارہا ہے۔ دریں اثنا ایک بوگی سے مزید 5 لاشیں نکال لی گئیں جبکہ3بوگیوں کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان میں مزید مسافروں کی لاشیں موجود ہیں۔اطلاعات کے مطابق کراچی ایکسپریس کی بوگیوں میں ابھی تک لوگ پھنسے ہوئے ہیں ،ایک کمسن بچی علینا 12 گھنٹے تک ٹرین میں پھنسی رہی،جس کے بعد وہ روروکر ریلوے کے عملے سے فریاد کررہی تھی کہ میرا ہاتھ کاٹ دو اور مجھے بوگی سے نکال لو ،اس کی آہ وزاری پر وہاں موجود تمام لوگ اشکبار ہوگئے ۔ادھر حکام کی جانب سے ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔ دن بھر ریلوے کے ملازمین اپ ریلوے ٹریک کی بحالی کے لیے کام کرتے رہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق کراچی ایکسپریس کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے سوائے ایک مسافر کے تمام کی شناخت ہو گئی ہے اور ورثا لاشیں اپنے اپنے گھروں کو لے کر چلے گئے ہیں جبکہ ایک نا معلوم مسافر کی لاش کو ایدھی فاؤنڈیشن والے لے گئے ہیں اور اس کی شناخت کے لیے اخبارات کو تصاویر جاری کی جائیں گی۔ ریلوے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ محراب پور کے نزدیک کراچی ایکسپریس کے حادثے کے بعد متاثرہ ریلوے ٹریک کو بحال کردیا گیا ہے متاثرہ ٹریک سے کراچی سے راولپنڈی جانے والی پہلی ٹرین تیز گام گزری جس کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت بحال ہوگئی جبکہ ٹرینوں کی آمد میں تاخیر کے باعث کراچی سے ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر ہوئی۔ہزاروں مسافر گزشتہ روز بھی کینٹ سٹیشن پر موجود اور سخت پریشان نظر آرہے تھے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ مقصودالنبی نے جنگ کو بتایا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ تمام مسافر اپنے مطلوبہ مقامات پر پہنچ جائیں اور انہیں مختلف ٹرینوں میں ایڈجسٹ کرکے روانہ کیا جارہا ہے ان کا کہنا تھا دو یا تین روز میں حالات معمول پر آجائیں گے اور ٹرینوں کی آمد میں تاخیر کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ابو کاشان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2007
مقام: Karachi -Pakistan
مراسلات: 591
شکریہ: 100
112 مراسلہ میں 246 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 325
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, وزیر, لوگ, نظر, مکمل, معلوم, اللہ, بچوں, تصاویر, خواتین, رات, سفر, شناخت, شام, عید, صبح, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
رنگوں اورسیکڑوں انسانوں کے ذریعے تخلیق کیے گئے پورٹریٹ زارا دلچسپ اور عجیب 0 26-02-11 12:03 PM
وفاقی وزارتیں اگلے ماہ صوبوں کو منتقل کی جا ئینگی جاویداسد خبریں 0 13-08-10 10:34 PM
پاکستان پر واضح کر دیا قبائلی علاقوں میں سکیورٹی کی صورت حال پوری دنیا کی سلامتی کیلئے اہم ہے‘امریک ابن جلال خبریں 0 19-09-08 10:30 PM
سندھ دشمن عناصر صوبے میں لسانی بنیادوں پر محاذ آرائی چاہتے ہیں،الطاف حسین عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 08:24 AM
کرینہ کپور کی سیف کے بچوں میں دلچسپی عبدالقدوس فلمی دنیا 0 04-12-07 11:39 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:08 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger