واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’القاعدہ ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-09-07, 04:26 PM   #1
’القاعدہ ٹوٹنے کے بجائے زیادہ منظم‘
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 12-09-07, 04:26 PM

گیارہ ستمبر کے واقعات کے چھ سال بعد القاعدہ کے کمزور ہونے جانے کا تصور پرانا اور بالکل غلط نظر آتا ہے۔ بظاہر تو القاعدہ نے اپنے آپ کو مضبوط بنا لیا ہے۔
اسامہ بن لادن کا حالیہ ویڈیو پیغام تین سال میں ان کا ایسا پہلا ویڈیو ہے۔ امریکہ کو انتہائی مطلوب اسامہ بن لادن گرفتاری کے خطرے کے پیش نظر اب نسبتاً کم دیکھے اور سنے جاتے ہیں لیکن اس کے باوجود القاعدہ منظم نظر آتی ہے۔

حال میں یورپ میں القاعدہ کے منصوبوں میں ملوث افراد کے خلاف چھاپوں اور شمالی افریقہ میں حملوں سے یہ واضح ہوتا ہے کہ القاعدہ نئے سرے سے منظم ہوسکی ہے۔

گزشتہ ہفتے جرمنی میں ایک خفیہ سیل پر چھاپے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تنظیم اب اس طریقے پر عمل کر رہی ہے جس کا نمونہ برطانیہ میں اس کی کارروائی میں دیکھا گیا ہے۔ اس نمونے کے تحت مقامی افراد کو پاکستان میں مقیم القاعدہ کے رہنماؤں سے تربیت ملتی ہے تاکہ وہ اپنے ممالک میں حملوں کی منصوبہ بندی کر سکیں۔

یہ وہ طریقہ کار ہے جو اب یورپ کے کئی ممالک میں دیکھا جا رہا ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں سے قبل افغانستان میں مستقل ٹھکانوں پر قائم بڑے کیمپوں کی بجائے اب القاعدہ کے تربیتی کیمپ چھوٹے ہوتے ہیں اور اب ان کے کوئی مستقل ٹھکانے نہیں ہوتے۔ ان کیمپوں میں دی گئی تربیت میں اب دھماکہ خیز مواد کا علم اہم ہوتا ہے
لیکن ان کیمپوں میں تربیت حاصل کرنے والے افراد کا مقصد صرف مغربی مقامات کو حملوں کا نشانہ بنانا نہیں ہوتا بلکہ بہت سے کیمپ ایسے ہیں جو کشمیر اور سینٹرل ایشیا جیسے علاقوں میں جا کر لڑنے کے لیے تربیت دیتے ہیں۔

اس نوعیت کے کیمپوں سے القاعدہ اکثر ’باصلاحیت‘ افراد کی نشاندہی کر کے انہیں پھر مزید تربیت دینے کی پیشکش کرتی ہے۔

پاکستانی حکومت اور قبائلی علاقے وزیرستان میں قبائلی رہنماؤں کے درمیان امن معاہدے کو مغرب کے انسدادِ دہشت گردی کے حکام ایک بڑی غلطی قرار دیتے ہیں۔

ان اہلکاروں کے مطابق اس معاہدے کے طے پانے سے ان علاقوں میں غیرملکی جنگجو اور القاعدہ کے اراکان کو منظم ہونے کا موقع ملا ہے حالانکہ اس کا مقصد ان کا علاقے سے نکالنا تھا۔

اس معاہدے سے ان افراد کو ایک طرح سے مہلت مل گئی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے القاعدہ کی قیادت اور دنیا بھر میں مختلف شدت پسند گروپوں کے درمیان وہ رابطے بحال کر لیے جو گیارہ ستمبر کے بعد توڑ دیے گئے تھے۔

جرمن حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے گرفتار کیے جانے والے افراد پاکستان میں قائم تربیتی کیمپوں سے تربیت حاصل کرنے کے علاوہ اس خطے میں موجود القاعدہ کی قیادت سے یہ ہدایات بھی ملیں کہ کب اور کہاں حملہ کرنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان میں سے کئی رابطوں کا امریکی خفیہ اداروں کو پتہ چلا ہے۔

ان افراد کی برقیاتی نگرانی تو ممکن ہے مگر خفیہ اطلاعات کو جمع کرنے کا سب سے موثر طریقہ انسانوں کی نگرانی سمجھا جاتا ہے، یہ ملک کے اندر اور باہر جانے والے افراد پر نظر رکھنے کے علاوہ تربیتی مراکز میں جاسوسوں کی تعیناتی کرنے سے ممکن ہوتا ہے۔ لیکن ایسی نگرانی ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ اس خطے میں سفر کرنا بھی مشکل ہے اور ایسی نگرانی کے لیے وسائل بھی بہت درکار ہوتے ہیں۔
بظاہر اب القاعدہ مقامی افراد کو استعمال کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ اُسی ملک میں پلے بڑھے افراد کو استعمال کرنا کہیں آسان ہے کیونکہ یہ لوگ اپنے ہی ملکوں میں نقل و حرکت اور حملوں کی منصوبہ بندی پر با آسانی سے کام کر سکتے ہیں۔ یہی چیز ہے جو حال میں یورپ کے نا کام منصوبوں میں دیکھی گئی ہے۔

یورپی ممالک کے شہریوں کے ایسے منصوبوں میں ملوث ہونے سے امریکی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ کئی یورپی ممالک کے امریکہ کے ساتھ ایسے معاہدے ہیں جن کے تحت دونوں ممالک کے شہریوں کو ایک دوسرے کے ملک جانے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیکل ہیڈن نے گزشتہ ہفتے یہ بات پھر کہی تھی کہ امریکی خفیہ اداروں کے پاس اس قسم کی اطلاعات ہیں کہ القاعدہ کی مرکزی قیادت امریکی سر زمین پر بھرپور حملوں کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک محفوظ ٹھکانے کے ملنے سے القاعدہ کو نئے سرے سے اپنے آپ کو منظم او مضبوط کرنے کا موقع ملا ہے۔

القاعدہ کے از سرِ نو منظم ہونے کے شواہد حال ہی میں یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں کے علاوہ ذرائع ابلاغ میں جاری میڈیا جنگ کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔

یہ تنظیم ذرائع ابلاغ اور انٹرنیٹ کو اپنے مقاصد کے لیے کامیابی سے استعمال کرتی ہے۔

شمالی افریقہ ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں القاعدہ نے گزشتہ ایک سال میں کہیں زیادہ پر تشدد کارروائیاں کی ہیں۔ ستمبر کے اوائل میں وہاں دو دھماکوں میں 57 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اپریل میں ہونے والے خودکش حملوں میں 33 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

ان دھماکوں کی ذمہ داری شدت پسند گروہ ’سلفی گروپ فار پریچنگ اینڈ کامبیٹ‘ نے انٹرنیٹ پر جاری ہونے والے ایک بیان میں قبول کی تھی۔ اس گروہ نے اپنا نام بدل کر اب القاعدہ رکھ لیا ہے۔ اس کے اس بیان نے انتہائی موثر پروپیگنڈا مہم کو جنم دیا ہے۔
القاعدہ کے ایک بار پھر منظم ہونے کا ثبوت اطلاعات اور ذرائع ابلاغ سے واضح ہے۔ دو ہزار سات میں القاعدہ کے’پروڈکشن وِنگ‘ کی جانب سے کم از کم 74 ویڈیوز جاری کی گئیں۔ ایسی وڈیوز کی نگرانی کرنے والی تنظیم ’انٹیل سینٹر‘ کا کہنا تھا کہ اس کے مقابلے میں دو ہزار پانچ میں ان وڈیوز کی تعداد سولہ اور 2006 میں 58 تھی۔

القاعدہ کے ذرائع ابلاغ اور تکنیکی اعتبار سے موثر ہونے کے بعد اس کا دنیا بھر سے مسلمانوں کو بھرتی کرنے کا عمل تیز ہو گیا ہے۔ تنظیم کے فلسفہ جہاد کو ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن یہ مشکل دکھائی دیتا ہے۔
بی بی سی

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 310
Reply With Quote
جواب

Tags
پاکستان, پسند, واقعات, لوگ, نظر, موقع, منصوبہ, ممکن, معلوم, انٹرنیٹ, امریکہ, خودکش, خلاف, دھماکہ, سفر, سال, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
آزمودہ ٹوٹکے زارا گھریلو ٹوٹکے 3 12-11-11 06:31 PM
کولہے کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد متعلقہ شخص کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔ طبی ماہرین گلاب خان شعبہ طب 0 19-02-11 03:19 AM
زبیدہ آپا کے ٹوٹکے محمدعدنان قہقہے ہی قہقے 17 18-01-11 08:55 AM
گھریلو ٹوٹکے گلاب خان گھریلو ٹوٹکے 0 31-12-10 05:42 AM
دل ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا :پرویز مشرف جاویداسد خبریں 11 05-12-10 03:24 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:09 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger