پاکستان کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کاخواہاں ہے اور ’ان کے خیال میں اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
یوسف رضا گیلانی نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹیڈ پریس کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہیں لیکن یہ تعلقات باہمی احترام پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کی حدود بلکل واضح ہونی چاہیں۔
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا امریکہ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جائےگا کہ دونوں ملک ایک دوسرے کی خود مختاری کی ’سرخ لیکر‘ کو عبور نہ کریں اور دہشتگردی کی جنگ میں تعاون کے اصولوں کو پامال نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا: ’ہم امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ اپنی سٹراٹیجک پارٹنرشپ کو بڑھانا چاہتے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ ہم امریکہ، نیٹو، ایساف کے ساتھ اپنے تعاون کا نئے سرے سے جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے یہ معاملہ پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کی کمیٹی کو سونپ دیا ہے۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے امریکی صدر براک اوباما کی صدر آصف علی زرداری کے ساتھ فون پر ہونے والی بات چیت کے ایک روز بعد اپنے انٹرویو میں کہا ” ہم امریکہ مخالف نہیں ہیں، ہم نظام کا حصہ ہیں اور ہمیں عالمی برادری کے ساتھ کام کرنا ہے۔‘
افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار نبھائے گا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے سب سے زیادہ قیمت پاکستان نے دی ہے۔ ’پاکستان کے تیس ہزار عام شہری اور پانچ ہزار فوجی دہشتگردی کی جنگ میں ہلاک ہو چکے ہیں۔
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ’میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے ایک طریقہ کار وضح کر لیا ہے اور ہم تعاون کے لیے تیار ہیں۔‘
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ باوجود اس کے ہم بون میں ہونے والی کانفرنس میں شریک نہیں ہوئے لیکن ہم افغانستان میں مصالحت کے لیے ہونی والی کوششوں کے حامی ہیں اور ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔
پاکستان وزیر اعظم امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پاکستان جوہری توانائی کے حوالے سےپاکستان کےساتھ بھی ایسا ہی تعاون کرے جیسا کہ وہ بھارت کے ساتھ کر رہا ہے۔
’امریکہ سےاچھے تعلقات چاہیے، دیر نہیں لگے گی‘