|
’برطانوی ٹیم تحقیقات کی تکمیل تک پاکستان میں‘

05-01-08, 10:51 AM
پاکستان کی سابق وزیراعظم اور پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی تحقیقات میں مدد کے لیے پاکستان آنے والی برطانوی تفتیشی ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی ٹیم کو وزارتِ داخلہ میں بریفنگ دی گئی ہے۔
پاکستان کے نگران وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل(ر) حامد نواز نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ بریفنگ کے دوران برطانوی ماہرین کو اب تک کی تفتیش سے آگاہ کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کی ٹیم اس وقت تک پاکستان میں رہے گی جب تک اس مقدمہ کی تحقیقات مکمل نہیں ہو جاتیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی ماہرین کی یہ ٹیم اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پاکستانی ٹیم کو تکنیکی معاونت فراہم کرے گی۔
اس سوال کے جواب میں کہ جس جگہ پر یہ سانحہ رونما ہوا، اس کو راولپنڈی کی پولیس اور انتظامیہ نے فوری طور پر دھو دیا جس سے فورنزک شواہد ختم ہو گئے ہوں گے، وزیر داخلہ نے کہا کہ پولیس نے وہاں سے ضروری شواہد حاصل کر لیے تھے اور اس کے بعد اس جگہ کو دھونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
ادھر بریفنگ کے بعد برطانوی ماہرین نے سول لائنز تھانے میں موجود بینظیر بھٹو کی گاڑی کا معائنہ کیا۔ انہوں نے اس گاڑی کی مختلف زاویوں سے تصاویر لیں۔ اس موقع پر اس واقعہ کی تفتیش کرنے والی پولیس ٹیم کے ارکان بھی موجود تھے۔اس واقعہ کی تحقیقات کرنے والی پولیس ٹیم کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی پنجاب چودھری عبدالمجید نے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو ابھی تک اس مقدمے کی ہونے والی تفتیش کے بارے میں آگاہ کیا۔
پانچ تفتیشی ماہرین سمیت سات افراد پر مشتمل ٹیم جمعہ کی صبح پاکستان پہنچی تھی جہاں برطانوی ہائی کمیشن کے اہلکاروں نےاسلام آباد ائرپورٹ پر ان کا استقبال کیا اور انہیں لیکر ہائی کمیشن چلے گئے۔ یہ ٹیم سکاٹ لینڈ یارڈ کے انسدادِ دہشتگردی یونٹ کے ماہر سراغ رسانوں پر مشتمل ہے اور ان کی پاکستان آمد صدر پرویز مشرف کی جانب سے سانحۂ لیاقت باغ کی تحقیقات پر عدم اطمینان کے اظہار کےاگلے ہی دن ہوئی ہے۔
صدر پرویز مشرف نےجمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ وہ اس سانحے کی حالیہ تحقیقات سے مکمل طور پر مطمئن نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن سے سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین بھیجنے کی درخواست کی تھی۔
تفتیش کے دوران سب سے حساس معاملہ یہ ہوگا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو کے قتل کے اصل حقائق جاننے کے لیے ان کی قبرکشائی کی جائے اور ابھی تک بھٹو خاندان نے اس کی مخالفت کی ہے جس کی وجہ سے حقائق تک پہنچنا ممکن نہی۔اس بات کا بھی امکان ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم اس واقعہ کی مکمل تحقیقات کرنے کی بجائے اس واقعہ کی تفتیشی ٹیم کی تکنیکی معاونت کرے۔
ستائیس دسمبر سنہ 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے باہر بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس واقعے کی تفتیش پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی نے اس واقعے کی تحقیقات اقوامِ متحدہ کے انکوائری کمیشن سے کروانے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس قتل کی تحقیقات لبنان کے مقتول وزیراعظم رفیق حریری کے قتل کی تفتیش کی طرز پر چاہتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے پاس اس واقعے سے متعلق جو ثبوت موجود ہیں وہ صرف اقوامِ متحدہ کے انکوائری کمیشن کے حوالے ہی کیے جا سکتے ہیں۔
سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کی آمد کے ضمن میں بھٹو حاندان کا کہنا ہے کہ یہ ٹیم بہت تاخیر سے آئی ہے اور انہیں اس وقت پاکستان بلانا چاہیے تھا جب اٹھارہ اکتوبر کو کراچی میں بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ جلوس پر ہونے والے حملے میں ایک سو تیس سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔
ادھر پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے یہ بھی کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو محض الزامات کی بنیاد پر کسی فرد سے تفتیش کی اجازت نہیں ہو گی اور اگر تفتیش کے دوران کسی حکومتی اہلکار یا کسی شخص کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے آئے تو پھر ان سے پوچھ گچھ کی اجازت دی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں امید ہے کہ غیر ملکی ماہرین کی آمد سے ان’ سازشی افواہوں‘ کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جو بےنظیر بھٹو کے قتل کے بعد سے گردش میں ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بھی کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے الزام تراشی کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ سکاٹ لینڈ یارڈ ٹیم کے تحقیقاتی عمل میں فریق بن کر اپنا موقف پیش کریں گے۔ جمعہ کو مسلم لیگ ہاؤس میں ملک بھر سے مسلم لیگ کے سینیٹرز کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ق) بے نظیر بھٹو کیس کی تحقیقات کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم سے تعاون کرے گی۔
یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ پاکستانی حکام نے کسی سیاسی رہنما کے قتل کے لیے سکاٹ لینڈ یارڈ کی مدد لی ہواور اس سے قبل پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان اور پھر خود بےنظیر بھٹو کے بھائی مرتضٰی بھٹو کے قتل کی تحقیقات کے لیے بھی سکاٹ لینڈ یارڈ کے ماہرین کو طلب کیا گیا تھا۔تاہم دونوں مرتبہ تحقیقات کی تکمیل سے قبل ہی ٹیم کو واپس بھیج دیا گیا تھا۔
__________________
----------

|
محمدعدنان
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: خود کی تلاش میں
مراسلات: 15,327
شکریہ: 12,919
6,824 مراسلہ میں 15,898 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|