واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’دن میں حکومت، رات میں طالبان کا راج‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 23-08-11, 06:18 PM   #1
’دن میں حکومت، رات میں طالبان کا راج‘
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 23-08-11, 06:18 PM

بلال سروری
بی بی سی نیوز

صوبۂ ننگرہار کی وادی میں طالبان کے خلاف آپریشن جاری ہے

وہ گرمیوں کی ایک روشن صبح تھی جب ایک سو ایک ائر بورن ڈویژن کے امریکی فوجی، افغان فوج اور سرحدی محافظوں کے ہمراہ شمالی صوبے ننگرہار کی دلکش وادی کے ایک گاؤں وزیر بازار میں گشت کر رہے تھے۔

پاکستانی سرحد کے ساتھ واقع یہ گاؤں اجاڑ اور خالی نظر آتا تھا جہاں زمینی فوج کو کور دینے کے لیے امریکی ہیلی کاپٹر نیچی پرواز کر رہے تھے۔

لیکن شدت پسند جنہیں تلاش کرنے یہ وہاں گئے تھے سڑک کے کنارے ایک بم چھوڑ کر وادی سے غائب ہوچکے تھے۔

افغان بارڈر پولیس کے کمانڈر جنرل امین اللہ امرخیل فوجی قافلے کی رہنمائی کررہے تھے کیونکہ سوویت یونین کی سرخ فوج کا مقابلہ کرنے والے یہ سینئر افسر اس علاقے سے بخوبی واقف تھے۔

جنرل امرخیل نے مقامی لوگوں سے ملنے کے لیے اپنی بکتربند گاڑی سے باہر آنے سے پہلے صورتحال کا جائزہ لیا۔

تاہم دیگر علاقوں سے ہٹ کے اِس دیہات میں یونیفارم میں ملبوس افسر کا والہانہ استقبال نہیں کیا گیا۔ صرف تین افراد جن میں ایک ضیعف العمر جبکہ دو جوان انہیں خوش آمدید کہنے کے لیے آگے بڑھے۔

’کیا آپ لوگوں نے طالبان کو دیکھا ہے؟ پاکستانی، عرب اور چیچن جنگجو کہاں ہیں؟‘ جنرل نے دیہاتیوں سے پوچھا لیکن کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔

آپ کو ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ موجودگی دکھانا ہوگی۔ آپ ان لوگوں کو پانی، آبپاشی اور نہروں میں مدد فراہم کریں اور انہیں طالبان کی جانب سے جبراً ٹیکس کی وصولی سے محفوظ رکھیں۔ آپریشن تو سانپ کو زخمی کرنے کے مترداف ہے۔ جیسے ہی سانپ کے زخم بھر جائیں گے تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوجائے گا۔ آپ کو سانپ مارنے کی ضرورت ہے

انٹیلی جنس افسر

ذرا توقف سے انہوں نے کہا ’میں یہاں روسیوں سے لڑا ہوں لیکن میری اس ساکھ سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا؟‘

ضعیف العمر شخص نے کہا ’ہمیں طالبان کے بارے میں کوئی علم نہیں۔ ہم دن رات اپنے کھیتوں میں کام کرتے ہیں، ہمیں نہیں معلوم یہاں کون آتا جاتا ہے۔‘

نورستان اور سرحدی صوبوں لغمان، کنڑ، اور ننگرہار میں شدت پسندی میں اضافہ سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کوئی بھی طالبان کی موجودگی کے بارے میں بات کرنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتا۔ دیگر علاقوں کی طرح یہ علاقہ بھی کبھی طالبان تو کبھی سرکاری کنٹرول میں رہتا ہے۔

ایک نوجوان نے کہا ’میں نے پولیس کے امتحان میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن مجھے ملازمت نہیں دی گئی۔ انہوں نے مجھ سے ایک ہزار ڈالر رشوت طلب کی تھی لیکن میں نے صاف انکار کردیا تھا۔‘

جنرل نے دوبارہ یقین دہانی کراتے ہوئے اسے پیشکش کی ’چلو میرے ساتھ آؤ، میں تمہیں سرحدی پولیس میں افسر بناؤں گا‘۔ لیکن ان کی اِس پیشکش کو یکسر مسترد کردیا گیا۔ ’نہیں، میں یہاں ٹھیک ہوں‘ نوجوان نے جواب دیا۔

نوجوان کے جواب نے جنرل کو چراغ پا کردیا۔ اِس سے پہلے کہ ان کے باڈی گارڈز انہیں وہاں سے لے جاتے انہوں نے کہا ’یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں کہ یہاں کوئی طالبان نہیں ہے‘۔

جنرل امرخیل کے باڈی گارڈز کو اپنے افسر کی سلامتی کی فکر تھی کیونکہ اکثر خودکش حملہ آور دیہاتیوں کے روپ میں سینئر افسران پر حملہ کردیتے ہیں۔

امریکی فوج نے افغان فوجیوں سے کہا کہ وہ گھر گھر تلاشی لیں۔ ماضی میں بین الاقوامی افواج پر الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ تلاشی کے دوران وہ دروازوں پر لاتیں مارتے ہیں اور بسا اوقات شہریوں پر گولیاں بھی چلاتے ہیں۔

صرف ایک ضیعف العمر جبکہ دو جوان، جنرل کے استقبال کے لیے آگے بڑھے

لیکن دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ افغان فوج بھی بین الاقوامی فوج ہی کی مانند ظلم و جبر کرتی ہے۔ افغان فوج پر ماضی میں تلاشی کے دوران رقم اور زیورات چوری کرنے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔

افغان فورسز کی دیہاتوں میں موجودگی نہ صرف انتہائی کم ہے بلکہ وہاں ان کا انٹیلی جنس کا نظام بھی بہت کمزور ہے۔

افغان فوجیوں کو ایسا مکان مل گیا جس کی انہیں تلاش تھی۔ وہ مکان ایک افغان فوجی کا تھا اور خیال ہے کہ طالبان کمانڈر نے اسی مکان میں پناہ لی تھی۔

طالبان کی حکومت کو ختم ہوئے دس سال کا عرصہ بیت چکا ہے لیکن انٹیلی جنس کی ابتر صورتحال کے باعث افغان اور اتحادی افواج کو دیہی علاقوں میں بار بار ہزیمت اٹھانا پڑی ہے۔

دیہی علاقوں کے رہائشی کسی بھی قسم کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتے۔ انہیں معلوم ہے کہ فوج اور پولیس تو آپریشن کے بعد وہاں سے چلی جائے گی لیکن طالبان وہیں براجمان رہیں گے۔

الجھن کے شکار ایک نوجوان نے کہا ’دن میں یہاں حکومت کے اہلکار اور رات میں طالبان ہوتے ہیں۔‘

یہاں ہلاک ہونے والوں میں دہشت گردی کے خلاف کام کرنے والے افسر جنہیں اپنے علاقے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور محکمۂ آبپاشی کے ایک انجینئر شامل ہیں۔

طالبان کے دیگر اہداف میں ایک سکول کے ہیڈ ماسٹر بھی ہیں جنہیں اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ انہوں نے لڑکیوں کا سکول بند کرنے سے انکار کردیا تھا اور ایک مقامی مذہبی رہنماء کو اس لیے ہلاک کردیا گیا کیونکہ انہوں نے مقامی افراد کو پولیس اور فوج میں بھرتی ہونے سے نہیں روکا تھا۔

شادیوں میں شادیانوں پر پابندی ہے، داڑھی منڈے ہوئے افراد کو زد و کوب کیا جاتا ہے، سرکاری مخبروں کو قتل کیا جاتا ہے، اور آپ کو آمدنی کا دس فیصد عشر (ٹیکس) کے طور پر دینا ہوتا ہے

فلاحی کارکن

علاقے کے ایک فلاحی کارکن نے کہا ’یہ طالبان کی اسلامی امارت ہے‘۔ ان کے بقول ’شادیوں میں شادیانوں پر پابندی ہے، داڑھی منڈے ہوئے افراد کو زدوکوب کیا جاتا ہے، سرکاری مخبروں کو قتل کیا جاتا ہے، اور آپ کو آمدنی کا دس فیصد عشر (ٹیکس) کے طور پر دینا ہوتا ہے‘۔

افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسی کے ایک افسر کا کہنا ہے ’شدت پسندوں کے پاس مال، وسائل اور افرادی قوت کی کمی نہیں ہے۔‘

ان کے بقول افغان حکومت، پاکستان کے ساتھ سرحد کو سِیل کرنے میں ناکام ہے اور اسی لیے حالات انتہائی خراب ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا ’پاکستانی، عرب اور چیچن جنگجوؤں کے لیے یہ بہت ہی آسان ہے کہ وہ یہاں حملے کریں اور پھر سرحد پار کر کے پاکستان میں پناہ لے لیں‘۔

افغان انٹیلی جنس افسران کہتے ہیں کہ افغان سپیشل فورسز اور امریکی فوج کی جانب سے کوہِ ابیض میں مشترکہ شبانہ کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسندوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔

انٹیلی جنس کے ایک افسر کا کہنا ہے ’آپ کو ان علاقوں میں زیادہ سے زیادہ موجودگی دکھانا ہوگی۔ آپ ان لوگوں کو پانی، آبپاشی اور نہروں میں مدد فراہم کریں اور انہیں طالبان کی جانب سے جبراً ٹیکس کی وصولی سے محفوظ رکھیں۔ آپریشن تو سانپ کو زخمی کرنے کے مترداف ہے۔ جیسے ہی سانپ کے زخم بھر جائیں گے تو وہ پہلے سے زیادہ خطرناک ہوجائے گا۔ آپ کو سانپ مارنے کی ضرورت ہے۔‘

کابل میں وزارت داخلہ میں ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ غلطیاں تو ہوئی ہیں۔ ان کے بقول ’زمین پر فورسز کی تعداد میں کمی اور بحالی کے کاموں میں تاخیر نے مسائل میں اضافہ کردیا ہے۔‘

دیہی علاقے جیسے وزیر بازار ہی نیٹو سے افغان فوج کو اختیارات کی منتقلی کا تعین کریں گے۔
‭BBC Urdu‬ - ‮آس پاس‬ - ‮’دن میں حکومت، رات میں طالبان کا راج‘‬
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,982 مراسلہ میں 8,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 78
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (23-08-11)
جواب

Tags
کمر, پولیس, پسند, وزیر, نظر, مقابلہ, منتقلی, مسائل, معلوم, world, آپریشن, اللہ, الزام, امتحان, اسلامی, تلاش, جھوٹ, جواب, خودکش, خودکش حملہ, خوش, خلاف, داڑھی, طالبان, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خیبرپختونخوا، شمالی بلوچستان میں بارش زیارت، گلیات، چترال اور مختلف علاقوں میں برفباری کا امکان گلاب خان خبریں 0 19-02-11 03:44 AM
کیانی کے بھارت مخالف نظریات، حقائق کے عکاس ہیں ALI-OAD اپکے کالم 0 09-01-11 01:06 AM
سوات، مدین میں پولیس چیک پوسٹ پر حملے میں 9 اہلکار جاں بحق ابن جلال خبریں 0 23-09-08 01:20 AM
فرانس میں بینظیر کی غائبانہ نماز جنازہ تعزیتی ریفرنسز میں خراج عقیدت، خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-01-08 08:19 AM
آج جیو کی خصوصی حج نشریات، ” حاضر ہیں تیرے دربار میں ہم“ عبدالقدوس خبریں 0 18-12-07 07:50 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger