واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’دیس کی مٹی پر موت کی خواہش‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 17-10-08, 05:55 PM   #1
’دیس کی مٹی پر موت کی خواہش‘
ابن جلال ابن جلال آف لائن ہے 17-10-08, 05:55 PM

کراچی۔بی بی سی رپورٹ

کراچی کے علاقے صدر کی ایک تنگ گلی میں انیسویں صدی کی ایک پرانی بوسیدہ عمارت میں پانچ بوڑھے رہتے ہیں جن میں دو تو آج بھی چھوٹی موٹی مزدوری کرلیتے ہیں لیکن باقی تین عمر کے اس حصے میں ہیں جس میں انسان کو صرف آرام اور سہارے کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر بیماری کا روگ بھی ساتھ ہو تو جینا مرنے سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔

یہ سب تقسیم ہند سے بھی پہلے محنت مزدوری کی غرض سے بھارتی ریاست کیرل سے کراچی آئے تھے اور پھر روزگار نے انہیں وطن واپس نہیں جانے دیا۔

اب ان کی ایک ہی خواہش ہے کہ موت انہیں اپنے دیس کی مٹی پر نصیب ہو لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان برسوں پروان چڑھنے والی دشمنی ان کی راہ میں حائل ہے۔

ان بزرگوں میں سے ایک حاجی محمد ہیں جو اسی سال کے ہوگئے ہیں اور بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے مزدوری کرنے کے بھی لائق نہیں رہے۔

کچھ مخیر افراد اور محلے والوں کی مدد سے دو وقت کی روٹی مل جاتی ہے اسی پر گزارا ہے۔

ان کی بس ایک ہی خواہش ہے کہ کسی طرح وہ واپس اپنے گاؤں بے پور کالی کٹ چلے جائیں جو تقسیم سے پہلے ریاست مدراس کے ضلع ملابار کا حصہ تھی اور اب بھارتی ریاست کیریلہ میں واقع ہے لیکن بھارتی حکام انہیں اس بات کی اجازت نہیں دے رہے۔



”ادھر (وہاں) رہنے کے لئے وہ ریکارڈ مانگ رہا ہے۔ اب ہم ریکارڈ کہاں سے لاوے۔ پیدا پتہ نہیں کدھر ہوا ادھر آکر خوامخواہ ہم کو تنگ کرتا ہے، ایسا بولتا ہے وہ لوگ۔ میں صرف ادھر جاکر رہنا چاہتا ہے، ابھی رہے گا بھی کیا۔ سال دو سال میں ٹیں ہوجائے گا پھر ان (بھارتی حکام) کو کیا تکلیف ہے؟ ان کو اتنا تکلیف کیا ہے۔،،

حاجی محمد نے بتایا کہ وہ حادثاتی طور پر پاکستان آئے تھے۔ ان کے والد بے پور میں کشتی چلاتے تھے اور لوگوں کو ندی کے ایک کنارے سے ایک کنارے سے دوسرے کنارے پہنچاکر روزی کماتے تھے۔

1944ء میں وہ اچھے مستقبل کی خاطر جام نگر چلے گئے تھے اور وہاں بندرگاہ پر انہیں سو روپے ماہوار کی ملازمت مل گئی تھی۔ اس وقت ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔ بعد میں وہ بحرین چلے گئے اور وہاں مختلف کمپنیوں میں مزدوری کرتے رہے لیکن 1977ء میں انہیں کراچی آنا پڑا۔

’پاکستان آنے کا سوچ کر نہیں آیا تھا، یہ تو سمجھ لو قدرت نے میرے کو دھکیل دیا۔‘

’ہم اس سے پہلے بحرین میں تھا پندرہ سال۔ وہ زمانے میں ادھر (وہاں) پاسپورٹ کے بغیر ہم جیسا لوگ کو پولیس پکڑ رہا تھا، میرے کو بھی پکڑا تو میرے سے (ایک شخص) بولا کہ تم انڈین (شہری ہونے کا) نہیں بولنا یہ لوگ تم کو جیل میں ڈالے گا۔ تم پاکستانی بولو یہ تم کو ادھر (یہاں) دھکیل دے گا کراچی میں۔‘

تو یوں حاجی محمد کراچی کے ہوگئے اور پاکستانی شہریت اپنالی۔ انہوں نے یہاں ہوٹلوں پر کام کیا اور باقاعدگی سے پیسے سرحد پار اپنے گھر والوں کو بھیجتے رہے۔ ڈیڑھ دو سال میں جب موقع ملتا ویزا لے کر کیریلہ جاتے اور رشتے داروں سے مل آتے لیکن اب جب عمر بھی ساتھ چھوڑ گئی ہے تو بھارتی سفارتخانے بھی ویزے کے لئے نئی شرائط عائد کردی ہیں جنہیں پورا کرنا ان کے بس میں نہیں۔

’ابھی میرا تین بہنیں ہیں ادھر، میرا لڑکا ہے اسکا چار بچہ ہے۔ ایک لڑکی تین لڑکا۔ دو لڑکے کا شادی کیا، لڑکی کا بھی شادی ہوگیا اسکا تین بچہ ہے، ایک بیٹے کا ایک لڑکا ہے، میرا بیوی تو پہلے ہی مرگیا تھا۔ ابھی یہ لوگ بولتا ہے ادھر سے نکاح نامہ لے کر آؤ۔ ابھی ہم کہاں سے پچاس سال سے مرا ہوا بیوی کا نکاح نامہ لائے۔‘

بوڑھے حاجی محمد نے مجھے سات مختلف پاسپورٹس دکھائے جن پر بھارت کے درجنوں ویزا لگے ہوئے تھے۔


انہوں نے مجھے ایک تحریری درخواست کی نقل بھی دکھائی جو انہوں نے اپنی بھارتی شہریت کی بحالی کے لئے ایک سال پہلے جب وہ آخری بار اپنے پیاروں سے ملنے بے پور گئے تھے تو انڈیا کے سیکریٹری داخلہ کو ارسال کی تھی لیکن اسکا کوئی جواب نہیں آیا۔

کچھ ایسی ہی کہانیاں ان کے ساتھ رہنے والے دوسرے بزرگوں کی ہے جن کی غریب الوطنی نے جیتے جی ان کے اپنوں کو ان سے چھین لیا ہے۔
مصطفی پینسٹھ سال کے ہیں ان کے والد موسی کٹی تقسیم سے پہلے لی مارکیٹ کراچی کے ایک ہوٹل میں باورچی کا کام کرتے تھے اور اسی دور میں انہیں بھی اپنے ساتھ مزدوری کرانے کے لئے کراچی لے آئے تھے جب ان کی عمر صرف تیرہ سال تھی۔ بعد میں والد کا انتقال ہوگیا اور اسکے بعد وہ تنہا رہ گئے۔

’ماں، بیوی، بہن، بھانجے، ماموں وغیرہ سب ادھر ہیں پورا خاندان ادھر ہے، میں اکیلا ادھر ہوں، ویزا نہیں ملتا ہے، ویزا کیریلہ کا ملے تو پھر جاؤں۔ ابھی ویزا ملتا ہی نہیں ہے، بولتے ہیں بجلی کا بجل چاہیے نکاح نامہ چاہیے، ابھی یہ سب کہاں سے لاؤں۔‘

مصطفی نے بتایا کہ بھارتی سفارتخانے نے یہ شرائط پچھلے چند مہینوں سے عائد کی ہیں اس سے پہلے ایسی کوئی شرائط نہیں تھیں بلکہ جن لوگوں کو پہلے ویزا دیا گیا ہو ان سے ویزا کی درخواست کے ساتھ یہ دستاویزات طلب نہیں کی جاتی تھیں۔

مصطفی کی طرح مموٹی حسن ستر سال کے ہیں، وہ اپنے ماموں کے ساتھ تقسیم سے پہلے کراچی آئے تھے لیکن اب یہاں ان کا کوئی نہیں۔

’ادھر خالی (صرف) ہمارا بیوی ہے، وہ اکیلا ہے اس کا طبعیت بھی صحیح نہیں ہے، اس لئے ہم یہی چاہتا ہے کہ ہم کسی طرح سے وہاں چلے جائے اور ادھر ہی رہ جائے۔‘

مجھ سے بات کرتے ہوئے وہ مسلسل اپنے آنسوؤں کو ضبط کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

’ابھی یہ ویزا دے گا تو ہم وطن پہنچ جائے گا نا۔ لیکن یہ ہے کہ ہم نے کچھ مہینہ پہلے (ویزا کے لئے درخواست) دیا تھا لیکن ان لوگ نے واپس کردیا۔ ابھی ہم نے کاغذ منگوایا ہے اور دوبارہ ویزا کے لئے درخواست دے رہا ہے، اگر ویزا مل جائے، میں چلا جائے گا ایک دن بھی نہیں رکےگا۔‘

شیخ محمد بیاسی سال کے ہیں، وہ تقسیم کے وقت پاکستان آئے تھے، ان کے پیٹ میں ایک بڑی رسولی پڑگئی ہے اور تکلیف کی وجہ سے ان سے چلا پھرا بھی نہیں جاتا۔

’ابھی ہم بیمار ہے۔ ابھی دو مہینہ تین مہینہ سے سخت بیمار ہوگیا، ہم ہوٹل کا کاریگر تھا، سالنا والنا (سالن والن) پکاتا تھا۔ ابھی وہ نوکری بھی نہیں ہے دو تین سال سے۔۔۔۔جانا تو چاہتا ہے لیکن یہ اتنا رقم کون دے گا، ہمارے پاس کدھر ہے؟ ہم غریب آدمی ہے، پھر ہم چل پھر نہیں سکتا۔‘

اپنا گھر، علاقہ، گھر والے کسے پیارے نہیں ہوتے لیکن ہندوستان کی تقسیم کے ساتھ ہی اس حق سے محروم ہوجانے والے لوگوں کو آج بھی اپنے پیاروں سے جڑے رہنے کے لئے نہ جانے کون کون سی کاغذی کارروائیاں پوری کرنا پڑتی ہیں، شاید پاکستان اور بھارت کے درمیان چار برس سے جاری امن مذاکرات کے لئے یہ بہت چھوٹی بات ہو اسی لئے ڈی این اے ٹیکنالوجی کے اس دور میں بھی ان بزرگوں سے ان کے خونی رشتے ثابت کرنے کے لئے بھی ایسی دستاویزات طلب کی جاتی ہیں جو ان کی دسترس سے باہر ہیں۔

 
ابن جلال's Avatar
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 168
Reply With Quote
جواب

Tags
پیاروں, پیارے, پولیس, پاکستان, پاکستانی, لڑکی, نوکری, موقع, موت, آج, آدمی, انسان, تحریری, جیل, جواب, جام, حسن, دیس, درخواست, رشتے, سال, شخص, صحیح, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
اوبامہ کا سیکیورٹی انتظام ۔۔۔ ظلم اور نا انصافی کا بین ثبوت راجہ اکرام اپکے کالم 13 06-11-10 03:49 PM
پاکستانی ایس ایم ایس کمیونٹی ندیم رزاق کھوہارا موبائل ہی موبائل 2 20-06-10 10:06 AM
نواب اکبر بگٹی کی موت سے بلوچستان پر پڑھنے والے اثرات مباح تاریخ پاکستان 18 10-08-09 03:15 PM
بے نظیر کو دھاندلی کے ثبوت دینے سے چند گھنٹے پہلے قتل کیا گیا،پیپلز پارٹی خرم شہزاد خرم خبریں 0 02-01-08 08:24 AM
:::‌ ڈیرہ بگٹی:3 گیس لائنیں اڑا دی گئیں،سیکورٹی فورسز نے7 افراد کو ہلاک کردیا،بی ایل اے کا دعویٰ ::: ابو کاشان خبریں 0 23-12-07 10:58 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger