واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’سانحہ‘‘ کارگل کا ذمہ دار کون تھا؟

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 26-07-09, 11:45 AM   #1
’سانحہ‘‘ کارگل کا ذمہ دار کون تھا؟
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 26-07-09, 11:45 AM

’سانحہ‘‘ کارگل کا ذمہ دار کون تھا؟

’سانحہ‘‘ کارگل کا ذمہ دار کون تھا؟

بریگیڈیئر (ر) شمس الحق قاضی ـ

اس سے تو جنرل (ر) پرویز مشرف کو بھی انکار نہیں کہ کرگل آپریشن کلیۃً جنرل کی اپنی ذاتی تصنیف تھا اور جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے کہ اس کیلئے انہوں نے سول حکومت سے ہی نہیں بلکہ جی ایچ کیو اور کور کمانڈروں سے بھی کوئی مشورہ نہیں کیا تھا اور کبھی بھی واضح نہیں کیا کہ اس آپریشن کا مقصد کیا تھا۔
اب جھگڑا صرف اس بات پر چل رہا ہے کہ کارگل آپریشن اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے علم میں تھا یا نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپریشن کا وزیراعظم کے علم میں ہونا یا نہ ہونا بے معنی بات ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ آپریشن کا لانچ کرنا‘ روکنا یا رکھنا وزیراعظم کے اختیار میں تھا یا نہیں اور آیا وزیراعظم ‘ حکومت یا جی ایچ کیو کو واضح کیا گیا تھا کہ اس آپریشن کا مقصد کیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف کے دور تک فوجی کارروائیوں کے بارے میں فوج خود ہی فیصلے کرتی رہی ہے اور چنانچہ کل کلاں موجودہ دور کے بارے میں بھی یہ سوال اٹھایا جائیگا کہ کیا سوات اور وزیرستان کے آپریشن وزیراعظم کے علم سے حکم سے یا اجازت سے لانچ کئے گئے ہیں اور بلکہ پھر یہ سوال بھی پیدا ہو گا کہ آیا وزیراعظم یا کسی فرد یا ایجنسی کو پارلیمنٹ نے آپریشن لانچ کرنے کا حکم یا اجازت دی ہے۔
انگریزی دور میں فوجی کالجوں میں ہمیں پڑھایا جاتا تھا کہ جنگ کرنا اس قدر سنگین معاملہ ہے کہ کلیۃً وردی والوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔
اب کارگل کا معامعلہ سمجھنے کیلئے پہلے کارگل کے پس منظر پر گہرا غور کرنا ضرور ہو گا۔ 1948ء کی پاک ہند جنگ کے بعد مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کے درمیان باقاعدہ زمینی سروے کیمطابق جنگ بندی لائن کی پکی نشاندہی کر دی گئی تھی چنانچہ 1965ء کی جنگ کے بعد بھی اس سیز فائر لائن کا احترام کیا جاتا رہا اور جنگ بندی کے بعد دونوں اطراف سے مقبوضہ علاقے خالی کر دئیے گئے تھے۔
لیکن 1972ء کی تیسری جنگ بندی کے بعد جب امریکہ کے یہودی وزیر خارجہ ہنری کسنجری نے بھارت کے سر میں علاقائی سپر پاور بننے کا بھوت سوار کیا تو بھارت نے مقبوضہ علاقے خالی کرانے کی بجائے کنٹرول لائن کی اختراع نکال لی اور چنانچہ کارگل کے علاقہ میں پاکستانی چوکیاں خالی کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ سرینگر سے کارگل کے راستے لداخ جانے والی بھارتی سڑک ان چوکیوں کی زد میں تھی۔
اسکے بعد 1984ء میں بھارت کے چپکے سے سیاچن گلیشیئر پر بھی قبضہ کر لیا حالانکہ 1949ء کی ابتدائی سیز فائر لائن کیمطابق سیاچن پاکستانی علاقہ میں تھا اور 1984ء سے قبل بھارت کا کبھی ادھر سے گزر بھی نہیں ہوا تھا اور اس طرح بھارت نے اب ACTUAL یعنی حقیقی کنٹرول لائن کی اختراع سے ایک نئی سرحدی لائن قائم کر لی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ بھارت کے قیام سے بھی بہت پہلے ہندو قیادت چاہے وہ گاندھی ہوں یا پنڈت نہرو ہوں ان لوگوں نے کبھی اپنے وعدہ وعید یا باہمی معاہدوں کا احترام نہیں کیا‘ چاہے یہ اردو ہندی رسم الخط میں لکھی جانیوالی واحد قومی زبان ’’ہندوستانی‘‘ کے نام سے رائج کرنے کا وعدہ ہو۔ کیبنٹ مشن کی دی گئی گروپنگ سکیم کی قبولیت کا معاملہ ہو یا سکھوں اور کشمیریوں کو خود مختاری اور رائے شماری کا حق دینے کا وعدہ ہو‘ بات کر کے مُکر جانا ہمیشہ سے ہندو کی عادت رہی ہے اور اب یہ عادت ہمارے زرداری صاحب نے بھی ADOPT کر لی ہے۔
چنانچہ جب پاکستان کی جوابی کارروائی نے سیاچن میں اور بعد میں مجاہدین کے ہاتھوں کارگل میں بھارتیوں کو ناقابل شکست نقصان کا سامنا تھا تو وہ سیاچن سے جان چھڑانے کی تدبیریں کر رہے تھے اور اس سلسلہ میں ان کو امریکہ کی مسلسل حمایت بھی حاصل رہی ہے۔
چنانچہ امریکہ پاکستان پر مسلسل دباؤ ڈال رہا تھا کہ مجاہدین کو کارگل کی چوکیوں سے واپس بلایا جائے جبکہ امریکہ کو بخوبی علم تھا کہ کشمیری مجاہدین پاکستان کی کمان میں آپریشن نہیں کرتے دوسری طرف جبکہ پاکستان نے سیاچن کے محاذ پر بھارت کی دُم پر پاؤں رکھا ہوا تھا تو پورے کشمیر کے بارے میں کسی مناسب پیکج ڈیل کے بغیر امریکی خواہشات کیمطابق انڈیا کو بیل آؤٹ کرنا عقل مندی نہ تھی یہاں پر امریکہ کی طوطا چشمی ملاحظہ ہو۔
گزشتہ کئی سال سے بھارت نے نیلم ویلی میں ہماری لائف لائن کو مسلسل گولہ باری کی زد میں رکھا ہوا ہے۔ امریکہ کو نیلم ویلی میں ہمارے سکول کے بچوں اور بلکہ ہسپتال میں ہمارے مریضوں کے بھارتی گولہ باری سے شہید ہونے کا کبھی افسوس نہیں ہوا اور نہ ہی ان ہزاروں بے خانماں کشمیری مہاجرین کا خیال آیا جن کو بھارتی گولہ باری نے گھر بار سے محروم کر رکھا ہے۔
امریکہ کو یہ بھی احساس نہیں کہ پورے کشمیر میں کنٹرول لائن کے دونوں طرف کے دیہات اور ذرائع آمد و رفت دونوں اطراف کی گولہ باری کی زد میں ہیں اور صرف باہمی رواداری اور فائر بندی کے احترام سے ہی دونوں طرف کاروبار زندگی کو رواں دواں رکھا جا سکتا ہے لیکن چونکہ دونوں طرف کی آبادی مسلمان ہے اس لئے بھارتی حکومت صرف اس صورت میں فائر بندی کا احترام کرتی ہے جب اسکے فوجی ذرائع نقل و حمل پاکستانی گولہ باری کی زد میں ہوں۔
دوسری طرف بھارتی پارٹیوں نے اپنے الیکشن مینی فیسٹو میں پاکستان کو آزاد کشمیر سے بیدخل کرنے کا عزم کر رکھا ہے اور اسی لئے ہر نئی بھارتی حکومت اقتدار سنبھالتے ہی کشمیر میں فارورڈ پالیسی اختیار کر لیتی ہے اور روزِ اول سے ہی پاکستانی علاقہ میں مسلسل اور شدید گولہ باری سے علاقہ میں امن و امان کو تہ و بالا کر دیتی ہے اور پھر مئی 1998ء کے بھارتی ایٹمی دھماکوں کے بعد تو باجپائی اور اسکے وزیر امور کشمیر ایڈوانی نے علی الاعلان پاکستان کو آزاد کشمیر خالی کرنے کا الٹی میٹم دیدیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی علاقہ میں گولہ باری میں مزید شدت پیدا کرتے ہوئے سکول کے کئی ایک معصوم بچوں کو شہید کر دیا تھا۔
بھارت کی ان بہیمانہ کارروائیوں کے جواب میں امریکہ نے لاہور میں دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات کا ڈرامہ رچا کر ہم سے اعلانِ لاہور کے ذریعے سے اذکار رفتہ شملہ معاہدہ کی تجدید کرا لی لیکن امریکہ نے اسی دوران کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم سے بھارت کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف اب امریکہ کو کارگل علاقہ سے کشمیری مزاحمتی مجاہدین کو نکالنے کی فکر لگی تھی جنہوں نے روز روز کی بھارتی گولہ باری سے تنگ آکر خود بھی فارورڈ پالیسی اختیار کرتے ہوئے اب بھارت کی سرینگر - لداخ لائف لائن کو اپنی زد میں رکھ لیا تھا اور اس طرح تقریباً آٹھ بریگیڈ بھارتی فوج کو نرغے میں لے لیا تھا اور چنانچہ اب بھارتی سانپ کیلئے سیاچن کی چھچھوندر کو نگلنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔
چنانچہ جب کبھی کشمیر میں بھارت کسی مشکل میں پھنستا ہے تو بھارت کیلئے کوئی فیس سیونگ راستہ نکالنے کیلئے امریکہ پاک بھارت مذاکرات کا ڈول ڈالتا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ مذاکرات کس بنیاد پر کئے جا سکتے ہیں چونکہ بھارتی حکومت خود ہی ساری کنٹرول لائن کو گرم رکھتی ہے اس لئے مذاکرات بھی پورے کشمیر کیلئے ایک پیکیج کی صورت میں ہونے چاہئیں اور یہ پیکج ڈیل دو حصوں پر مشتمل ہو۔
ایک تو مسئلہ کا فوری حل اور دوسرا پورے مسئلہ کشمیر کا مستقل حل۔ فوری حل کیلئے ظاہر ہے کہ فوری طور پر کشمیر سے بھارتی فوج کا انخلا ضروری ہے‘ اس کیلئے کارگل چوکیوں پر بھی قبل از 1972ء کی صورت میں بھارتی قبضہ ختم کرنا چاہیے کیونکہ بھارت نے خود ہی سیاچن پر چپکے سے قبضہ کر کے لائن آف ACTUAL کنٹرول کی اختراع نکالی ہے تو اس لئے آئندہ فائر بندی بھی ACTUAL کنٹرول کیمطابق ہی ہونی چاہیے‘ البتہ امریکہ بہادر کو چاہیے کہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور کے ناطے سے دونوں فریقوں سے لائن کا احترام کرائے یعنی بھارت ہماری نیلم ویلی لائف لائن میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
کنٹرول لائن کیساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کی شہری آبادیوں کو تختہ مشق نہ بنائے تو ہم بھی بھارت کو کرگل روڈ ڈسٹرب نہ کرنے کا یقین دلائیں۔ اسکے بعد مسئلہ کشمیر کے مستقل حل کیلئے اقوام متحدہ کے پاس کردہ ریزولیشن کی طرف رجوع کرتے ہوئے اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کے ذریعے سے ہی طے کیا جائے۔
نواے وقت
__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,107 مراسلہ میں 7,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 237
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
محمد عاصم (14-10-10), محمدخلیل (26-07-09), مرزا عامر (14-10-10), رضی (26-07-09), عروج (14-10-10)
پرانا 26-07-09, 02:30 PM   #2
Senior Member
 
رضی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اندھیر نگری
مراسلات: 5,743
کمائي: 42,540
شکریہ: 25,542
4,073 مراسلہ میں 10,925 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بہت اچھے پاکستان ۔
رضی آف لائن ہے   Reply With Quote
رضی کا شکریہ ادا کیا گیا
عروج (14-10-10)
پرانا 26-07-09, 04:53 PM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jan 2008
مراسلات: 665
کمائي: 7,277
شکریہ: 0
371 مراسلہ میں 828 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یونائیٹڈ نیشن ذمہ دار تھی
arifkarim آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے arifkarim کا شکریہ ادا کیا
منتظمین (26-07-09), رضی (27-07-09), عروج (14-10-10)
پرانا 26-07-09, 05:25 PM   #4
Administrator
 
منتظمین's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 36
مراسلات: 11,360
کمائي: 171,650
شکریہ: 9,806
7,525 مراسلہ میں 22,596 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اب جھگڑا صرف اس بات پر چل رہا ہے کہ کارگل آپریشن اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے علم میں تھا یا نہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ آپریشن کا وزیراعظم کے علم میں ہونا یا نہ ہونا بے معنی بات ہے۔
لکھنے والے کو بلکل بھی شرم نہیں آتی ہے۔ وزیر اعظم کو پتہ ہو یا نہ ہو کوئی اہمیت کا حامل ہی نہیں ہے۔
__________________
تم سپاہی نہیں ہو پیشہ ور قاتلو!
منتظمین آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (04-09-09), مرزا عامر (14-10-10), عروج (14-10-10)
پرانا 14-10-10, 02:21 PM   #5
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Aug 2010
مقام: islamabad
عمر: 40
مراسلات: 3,708
کمائي: 43,221
شکریہ: 11,479
2,270 مراسلہ میں 5,225 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

دل دکھی کر دیا۔ میرے وطن کامحافظ کون ھؤا؟
عروج آف لائن ہے   Reply With Quote
عروج کا شکریہ ادا کیا گیا
محمد عاصم (14-10-10)
جواب

Tags
ہندو, کارگل, پاک, پاکستان, پاکستانی, وزیراعظم, نواز شریف, موجودہ, آپریشن, آبادی, اقوام متحدہ, امریکہ, اردو, بچوں, حکم, حل, خان, دل, راستہ, زندگی, زرداری, سال, عقل, علی, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
جو بھی تھا کیا تھوڑا تھا ؟ طاھر دیس ہوئے پردیس 22 26-08-10 03:03 AM
ہنساتا تھا مجھ کو، تو پھر رُلا بھی دیتا تھا محمدعمر شعر و شاعری 2 14-11-09 09:35 AM
ترے جیسا میرا بھی حال تھ ،ا نہ سکون تھا نہ قرار تھا The Great شعر و شاعری 0 27-08-09 11:25 AM
وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا Ashfaq Ahmed شعر و شاعری 0 22-09-07 07:21 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:13 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger