امریکی فوج کے اعلیٰ ترین اہلکار ایڈمرل مائیک مولن نے کہا ہے کہ بظاہر پاکستانی حکومت کے کچھ عناصر کی اجازت سے صحافی سلیم شہزاد کو قتل کیا گیا۔
پینٹاگون پریس ایسوسی ایشن کے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایڈمرل مولن نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر سکتے ہیں کہ پاکستان کی طاقت وار خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اس قتل میں ملوث ہے۔
حکومتِ پاکستان کے ترجمان نے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی پہلے ہی اس قتل میں ملوث ہونے کی خبروں کی تردید کر چکی ہے۔
آئی ایس آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم کو تشویش ہے، لیکن اس واقعے کو ملک کی سکیورٹی ایجنسی کو بدنام کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
ایڈمرل مولن کے مطابق ’صحافی سلیم شہزاد کے قتل کے حوالے سے ان کے پاس ایسے شواہد موجود نہیں ہیں جس سے ثابت ہو کہ کوئی خاص ایجنسی قتل میں ملوث ہے لیکن میں کسی ایسی چیز کو نہیں دیکھتا جو اس رپورٹ کے غلط ہونے پر قائل کر دے، جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت اس بارے میں جانتی تھی۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ’ ہاں اس کی حکومت نے اجازت دی تھی۔‘
یاد رہے کہ صحافی سلیم شہزاد کے قتل پر اب تک کسی بھی امریکی اہلکار کا یہ سب سے واضح بیان ہے۔
سلیم شہزاد اٹھائیس مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے اور اس کے تین دن بعد اکتیس مئی کو ان کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی تھی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔
صحافی سلیم شہزاد کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایڈمرل مائیک مولن نے کہا کہ ’انھیں سلیم شہزاد کے لاپتہ اور قتل ہونے پر شدید تشویش تھی اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا ہے کہ پاکستان میں کسی صحافی کو نشانہ بنایا گیا ہو۔
’میرے نقطۂ نظر سے یہ ایک ایسی چیز ہے جس پر پاکستانیوں سمیت ہم سب کو بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور یہ وہ راستہ نہیں جس پر آگے بڑھا جائے۔‘
سلیم شہزاد کے قتل میں آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کے سوال پر انھوں نے کہا کہ’میں نے ابھی تک کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی کہ میں اس کی تصدیق کر سکوں۔‘
حکومتِ پاکستان کے ایک ترجمان نے کہا کہ حکومت نے اس قتل کی تفتیش کے لیے ایک کمیشن قائم کر دیا ہے اور ایڈمرل مولن کے بیان سے اس قتل کی تفتیش میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔
سلیم شہزاد اٹھائیس مئی کو اسلام آباد سے لاپتہ ہو گئے تھے اور اس کے تین دن بعد اکتیس مئی کو ان کی لاش صوبہ پنجاب کے علاقے منڈی بہاؤالدین سے ملی تھی۔ انہیں نامعلوم افراد نے تشدد کرکے ہلاک کیا اور ان کی لاش کو نہر میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ آئی ایس آئی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صحافی سلیم شہزاد کی ہلاکت انتہائی افسوسناک واقعہ ہے جس پر پوری قوم کو تشویش ہے، لیکن اس واقعے کو ملک کی سکیورٹی ایجنسی کو بدنام کرنے کا ذریعہ نہیں بنانا چاہیے۔
آئی ایس آئی کا یہ بیان انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اس مطالبے کے بعد آیا تھا جس میں کہا گیا تھا پاکستانی صحافی سلیم شہزاد کے اغواء اور قتل کی کسی بھی تفتیش میں پاکستان کے خفیہ اداروں کو بھی شامل کیا جائے۔
بی بی سی اردو