|
’صدر زرداری کے مقدمے کی تفصیلات طلب‘

09-12-09, 05:13 PM
سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) سے صدر آصف علی زردرای کے خلاف سوئٹزرلینڈ کی عدالت میں دائر چھ کروڑ ڈالر کی بدعنوانی کے مقدمے کو واپس لینے اور اس مقدمے پر اُٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب کرلی ہیں۔
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نےیہ ہدایات بدھ کے روز قومی مصالحتی آرڈیننس (این آر او) کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیں۔چیف جسٹس نے نیب کے چیئرمین نوید احسن سے کہا کہ وہ تحریری طور پر آگاہ کریں کہ اس مقدمے کی واپسی کے احکامات کس نے دیے تھے۔
نیب کے پراسکیوٹر جنرل دانشور ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ مقدمہ حکومت پاکستان کی ایماء پر ختم کیا گیا تھا اور اُس وقت کے اٹارنی جنرل ملک قیوم نے اُنہیں اس ضمن میں تحریری طور پر آگاہ کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ سابق اٹارنی جنرل اس ضمن میں اُن کے ہمراہ جنیوا بھی گئے تھے جہاں پر سوئٹزرلینڈ کے اٹارنی جنرل سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اس مقدمے کو واپس لینے پر عدالت کا ردعمل کیا تھا تو نیب کے پراسیکوٹر جنرل نے کہا کہ جنیوا کی عدالت کے جج صاحبان نے اس پر ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔
سابق اٹارنی جنرل ملک قیوم نے سماعت کے دوران کھڑے ہو کر کہا کہ انہوں نے مذکورہ مقدمہ واپس لینے کے لیے نیب کو کوئی خط نہیں لکھا تھا۔اس سے قبل نیب کے ایڈیشنل پراسکیوٹر جنرل عبدالبصیر قریشی نے ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ صدر زرداری کے خلاف ایس جی ایس کیس سنہ دوہزار آٹھ میں واپس لیا گیا تھا۔
افتخار محمد چوہدری نے استفسار کیا کہ یہ مقدمہ واپس لینے کے بعد کیا سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑی ہوئی رقم کو واپس لانے کی لیے بھی کوئی درخواست دائر کی گئی ہے کیونکہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی۔
افتخار محمد چوہدری نے استفسار کیا کہ یہ مقدمہ واپس لینے کے بعد کیا سوئٹزرلینڈ کے بینکوں میں پڑی ہوئی رقم کو واپس لانے کی لیے بھی کوئی درخواست دائر کی گئی ہے کیونکہ یہ رقم قومی خزانے میں جمع ہونی چاہیے تھی۔
بینچ میں شامل جسٹس سائر علی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایسی مثالیں موجود ہیں کہ اگر کوئی مقدمہ واپس لیا جائے تو بینک رقم اصل مالک کو رقم دے دیتا ہے تو کیا حکومت کی طرف سے ایسی کوئی درخواست سوئٹزرلینڈ کے بینکوں کو دی گئی ہے جس کا نیب کا کوئی بھی اہلکار جواب نہیں دے سکا۔
جسٹس خلیل الرحمنٰ رمدے نے نیب کے چیئرمین سے استفسار کیا کہ کس کی ایما پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو اس مقدمے کا ریکارڈ لانے کے لیے جنیوا بھیجا تھا۔اس کے علاوہ لندن میں پاکستانی ہائی کشمنر کو بھی جنیوا کیوں بھیجا گیا جبکہ جنیوا میں پاکستان کا سفارتخانہ بھی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہاں سے وکیل سے اس مقدمے کا ریکارڈ لیکر پاکستان لانے کی بجائے لندن کیوں بھیجا گیا۔ بینچ میں شامل جج راجہ فیاض نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ وکیل کے پاس ایس جی ایس مقدمے کا ریکارڈ محفوظ تھا جبکہ لندن میں اس مقدمےکا ریکارڈ محفوظ نہیں ہے۔
ان درخواستوں کی سماعت کے دوران سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے ایک فہرست بھی عدالت میں پیش کی جس میں سات ہزار سے زائد فوجداری کے مقدمات این آر او کے تحت ختم کیے گئے تھے۔
ان مقدمات میں قتل، ڈکیتی، اغوا برائے تاوان اور بلوہ کے مقدمات بھی شامل تھے اور جن افراد کے نام اس فہرست میں شامل میں اُن میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے علاوہ پارٹی کے دیگر رہنماوں کے نام بھی شامل ہیں۔
وزیر مملکت برائے قانون افضل سندھو کے مطابق الطاف حسین کے خلاف فوجداری کے بہتتر مقدمات تھے جنہیں این آر او کے تحت ختم کیا گیا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا فوجداری کے مقدمات ختم کرنے کے لیے صوبائی حکومت نے کوئی حکم نامہ دیا تھا جس کا سندھ کے ایڈووکیٹ جنرل نے نفی میں جواب دیا۔
چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر اس ضمن میں صوبائی حکومت نے کوئی احکامات نہیں دیے تو پھر یہ فوجداری کے مقدمات ختم نہیں ہوئے بلکہ التوا کا شکار ہیں۔افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ این آر او اپنی قسمت پر رو رہا ہوگا کہ اُس سے فائدہ تو ہزاروں افراد نے اُٹھایا لیکن آج اُس کا دفاع کرنے والہ کوئی نہیں ہے۔
این آر او اپنی قسمت پر رو رہا ہوگا کہ اُس سے فائدہ تو ہزاروں افراد نے اُٹھایا لیکن آج اُس کا دفاع کرنے والہ کوئی نہیں ہے
چیف جسٹس
جسٹس خلیل الرحمن ردمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نظرثانی بورڈ کے پاس فوجداری مقدمات ختم کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔
این آر او کے خلاف درخواست دائر کرنے والے ڈاکٹر مُبشر حسن کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ این آر او پر پوری قوم متفق نہیں تھی بلکہ چند افراد نے اپنے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے سمجھوتہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم میں اتفاق رائے تو وہ تھا جو انہوں نے سنہ انیس سو تہتر کے آئین کے وقت دیکھایا تھا۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب بلوچستان میں اکبر بُگٹی کا قتل ہوا تھا تو وہاں کے لوگوں کے ساتھ مصالحت کرنی چاہیے تھی اس کے علاوہ سوبہ سرحد اور سوات کے علاوہ میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد مصالحت کرنی چاہیے تھی لیکن ایسا دیکھنے کو نہیں ملا۔
عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔
bbc urdu بدھ, 9 دسمبر, 2009, 12:52 GMT 17:52 PST
__________________
محتاج اصلاح و دعا
|
راجہ اکرام
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|