|
’عدالت میں پیشی، فیصلہ آئی ایس آئی اہلکار کریں گے‘

23-12-10, 08:01 PM
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک پاکستانی فوج کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے ذمہ داران خود کسی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ نہ کریں اُنہیں ایسا کرنے پر کوئی بھی مجبور نہیں کر سکتا۔
وہ جمعرات کو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوپدری نثار علی خان کے نیو یارک کی ایک عدالت کی جانب سے سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں کے معاملے میں جاری ایک مقدمے کے سلسلے میں آئی ایس آئی کے سربراہ اور کالعدم تنظیم لشکرِ طیبہ کے کئی عہدیداروں کو اگلے ماہ عدالت میں پیش ہونے کے لیے سمن جاری کرنے کے معاملے پر نکتہ اعتراض کا جواب دے رہے تھے۔
اُنہوں نے کہا کہ امریکی عدالت کی طرف سے آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر اہلکاروں کو طلب کرنے سے متعلق مشاروت کی جائے گی اور چونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے لہذا وہ اس بابت پالیسی بیان بعد میں دیں گے۔
امریکی عدالت کی طرف سے آئی ایس آئی کے سربراہ اور دیگر اہلکاروں کو طلب کرنے سے متعلق مشاروت کی جائے گی اور چونکہ یہ ایک حساس معاملہ ہے لہذا وہ اس بابت پالیسی بیان بعد میں دیں گے
یوسف رضا گیلانی
اسلام آباد میں نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایجنسیوں کا کردار کم ہونا چاہیے اور بدھ کے روز شاہ زین بگٹی کی گرفتاری کے حوالے سے جو واقعہ ہوا وہ ایک صوبائی معاملہ تھا۔
اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کے ٹھوس شواہد موجود ہیں اور سب کو مل کر اس مداخلت کو ختم کرنے کے لیے حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچی بھی اُتنے ہی محب وطن ہیں جتنے دوسرے صوبوں کے لوگ۔
شمالی وزیر ستان میں ممکنہ فوجی آپریشن سے متعلق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ پاکستان کی فوجی قیادت کرے گی تاہم اس ضمن میں کسی ملک کی ڈکٹیشن نہیں لی جائے گی۔
قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے ایوان میں نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ہمیں ایجنسیوں کے کام کے طریقہ کار پر اعتراض ہے لیکن کوئی بھی غیر ملکی عدالت ہمارے خفیہ ادارے کے سربراہ کو طلب نہیں کرسکتی۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ عدالتی کم اور سیاسی فیصلہ زیادہ ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حکومت کو اس حوالے سے سفارتی سطح پر شدید احتجاج کرنا چاہیے۔
اُنہوں نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان کو بتائیں کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کس قانون کے تحت پاکستان میں کام کر رہا ہے اور کیا ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت آئی ایس آئی بھی امریکہ میں کام کر سکے۔
چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ خفیہ ایجنسیوں کے کردار کی وجہ سے پاکستان دولخت ہوا اور بنگلہ دیش بنا جبکہ ان کی وجہ سے پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
وزیر اعظم ایوان کو بتائیں کہ امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے کس قانون کے تحت پاکستان میں کام کر رہا ہے اور کیا ایسا کوئی معاہدہ موجود ہے جس کے تحت آئی ایس آئی بھی امریکہ میں کام کر سکے
چوہدری نثار علی خان
اُنہوں نے کہا کہ خفیہ ایجنسیوں نے جس طریقے سے جمہوری وطن پارٹی کے سابق سربراہ نواب اکبر بُگٹی کے پوتے کو گرفتار کیا وہ قابل شرم ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بلوچستان میں کم ایسے بلوچ رہ گئے ہیں جو وفاق کے حامی ہیں لہذا اُن کو بچایا جائے۔
جمعیت عمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکہ شمالی وزیر ستان میں کارروائی کا اعلان کرتا ہے تو پاکستانی فوج کو جہاد کا اعلان کر دینا چاہیے۔ اُنہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کارروائی کرنے سے مزید مشکلات کا شکار ہوجائے گا۔
ادھر پاکستانی دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سفارتی عملے کو تاحال یہ سمن موصول نہیں ہوئے ہیں اور سمن دیکھے بغیر ان پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ مقدمہ امریکی قانون کے تحت دہشتگرد حملوں میں زخمی ہونے والے ایک امریکی شہری اور ان حملوں میں ہلاک ہونے والے چار امریکی شہریوں کے لواحقین نے دائر کیا ہے۔
نیویارک سے صحافی سلیم رضوی کے مطابق عدالت نے اس مقدمے میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا اور سابق سربراہ جنرل ندیم تاج کے نام سمن جاری کر کے انہیں عدالت میں طلب کیا ہے۔
عدالت نے پاکستانی فوج کے دو افسران میجر علی اور میجر اقبال کو بھی طلب کیا ہے۔ ان کے علاوہ جن افراد کے سمن جاری کیے گئے ہیں ان میں لشکرِ طیبہ کے ذکی الرحمان لکھوی اور جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید بھی شامل ہیں۔
ممبئی حملوں میں ہلاک ہونے والے یہودی ربی گیبریئل ہولزبرگ اور ان کی اہلیہ روکا کے وکیل کا کہنا ہے کہ سبھی سمن جاری کر دیے گئے ہیں اور جنوری میں ان سبھی کو یا تو خود یا کسی وکیل کی معرفت سے عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مؤکلوں کو زرِ تلافی دیا جانا چاہیے تاہم انہوں نے تسلیم کیا یہ معاملہ طول پکڑ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے اپنے موکلوں کو بتا دیا ہے کہ اس مقدمے میں کئی برس لگ سکتے ہیں تاہم میرے موکل اس مقدمے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے کمربستہ ہیں‘۔
BBC Urdu - پاکستان - ’عدالت میں پیشی، فیصلہ آئی ایس آئی اہلکار کریں گے‘
__________________
"اگرحق کونہیں پہچان سکتے،تو باطل کےتیروں پر نظررکھو،جہاں پرلگ رہے ہوں وہی حق ہے///شیخ الاسلام،،،امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ. (حافظ سعید زندہ باد)
|
ALI-OAD
Senior Member
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|