واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’مرد نااہل تو خواتین سیاسی میدان میں‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 05-09-10, 07:40 PM   #1
’مرد نااہل تو خواتین سیاسی میدان میں‘
جاویداسد جاویداسد آف لائن ہے 05-09-10, 07:40 PM

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور



خدیجہ عامر نے بھی اپنے شوہر عامریار وارن کے نااہل ہونے کی وجہ سے انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور رکن قومی اسمبلی کی رکن بن گئیں
پاکستان میں رکن اسمبلی بننے کے لیے گریجوایٹ یعنی بی اے ہونے کی شرط یا پھر جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے ایسی خواتین کو رکن اسمبلی بننے کا موقع ملا ہے جن کا تعلق تو سیاسی گھرانے سے تو ضرور ہے لیکن وہ عملی سیاست سے دور تھیں۔

اس کی تازہ ترین مثال جنوبی پنجاب سے نومنتخب رکن قومی اسمبلی خدیجہ عامر ہیں جو اپنے شوہر کی جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے سیاست میں آئی ہیں۔

حکمران جماعت پیپلز پارٹی کی خدیجہ عامر مکمل طور پر ایک گھریلو اور باپردہ خاتون ہیں۔

ان کے شوہر عامر یار وارن نے کچھ عرصہ پہلے جعلی تعلیمی سند کی وجہ سے اسمبلی کی رکنیت سے مستعفیٰ ہو گئے تھے لیکن پیپلز پارٹی نے ضمنی انتخابات میں انہیں دوبارہ اپنا امیدوار نامزد کیا ۔تاہم انہوں نے اپنی نااہلی کے خدشے کے پیش نظر احتیاطی طور پر اپنی اہلیہ خدیجہ عامر کے کاغذات بھی آزاد امیدوار کے طور جمع کرائے تھے اور ان کے الیکشن لڑنے۔پیپلز پارٹی نے عامر یار وارن کے نااہل ہونے پر ان کی اہلیہ اپنا امیدوار نامزد کردیا۔


حنا ربانی کھر اس وقت بطور وزیر وفاقی کابینہ میں کام کر ہی ہیں
اکتوبر دو ہزار دو میں ہونےوالے عام انتخابات سے پہلے اس وقت کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے رکن اسمبلی بننے کے لے بی اے یا گریجوایٹ ہونے کی شرط رکھ دی اور اس پابندی کی وجہ سے کئی قدآور سیاسی شخصیات رکن اسمبلی بننے کے لیے نااہل ہوگئیں۔

انتخابی سیاست سے باہر ہونے کے بعد ان سیاسی شخصیات کے قریبی عزیز اور رشتہ داروں نے عام چناؤ میں حصہ لیا اور اس طرح ان سیاسی گھرانوں کی وہ خواتین بھی انتخابی معرکے کے لیے میدان میں اتریں جن کا سیاست سے کوئی خاص لینا دینا نہیں تھا۔

جنوبی پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے ملک نور ربانی کھر بھی ان سیاست دانوں میں سے ایک ہیں جو بی اے کی ڈگری نہ ہونے کے باعث انتخابی سیاست سے باہر ہوگئے تاہم انہوں نے اپنی قومی اسمبلی کی نشست پر اپنی بیٹی حنا ربانی کھر کو دو ہزار دو میں مسلم لیگ قاف کی طرف سے انتخاب لڑایا اور وہ اپنی والد کی نشست پر کامیاب ہو کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔

ثمینہ خالد گھرکی کا تعلق پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک جانے مانے سیاسی گھرانے سے ہیں اور انہوں نے دو ہزار دو میں اپنے شوہر خالد جاوید گھرکی کے بی اے کی ڈگری نہ ہونے پر ان کی جگہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور حزب مخالف میں ہونے کے باوجود رکن قومی اسمبلی بنیں۔
دو ہزار آٹھ میں حنا ربانی کھر کو پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار نامزد کیا اور وہ دوبارہ اپنے آبائی علاقے سے رکن قومی اسمبلی چنی گئی اور اس وقت بطور وزیر وفاقی کابینہ میں کام کر رہی ہیں۔ حنا ربانی کھر کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پاکستان کی پہلی خاتون وزیر خزانہ ہونے کے ناطے دو ہزار نو میں قومی بجٹ پیش کیا۔

ثمینہ خالد گھرکی کا تعلق پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے ایک جانے مانے سیاسی گھرانے سے ہے اور انہوں نے دو ہزار دو میں اپنے شوہر خالد جاوید گھرکی کی بی اے کی ڈگری نہ ہونے پر ان کی جگہ پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر پہلی بار انتخابی سیاست میں حصہ لیا اور حزب مخالف میں ہونے کے باوجود رکن قومی اسمبلی بنیں۔

دو ہزار آٹھ میں وہ پیپلز پارٹی کی واحد رکن اسمبلی ہیں جو لاہور سے کامیاب ہوئیں ہیں اور اب وفاقی کابینہ کی رکن ہیں۔

مسلم لیگ نون کے افضل تارڑ بھی گریجوایٹ نہ ہونے کی وجہ سے انتخاب نہیں لڑسکے تاہم انہوں نے اپنی نشست پر اپنی بیٹی سارہ افضل تارڑ کو ٹکٹ دلوایا اور وہ حافظ آباد سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئیں۔
مصبرین کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بی اے ہونے کی شرط ختم ہونے کے بعد اب دیکھنا ہوگا جو خواتین اپنے رشتہ داروں کے گرایجوایٹ نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست انتحاب کے ذریعے اسمبلی میں پہنچی تھی کیا انہیں سیاسی جماعتیں دوبارہ انتخابی سیاست میں اپنا امیدوار نامزد کرتی ہیں یا پھر انہیں محضوص نشستوں پر رکن اسمبلی بنایا جاتا ہے۔

سارہ افضل تارڑ سابق صدر پاکستان جسٹس رفیق تارڑ کی بہو بھی ہیں جو نواز شریف کے دوسرے دورے حکومت میں پہلے سینیٹ کے رکن چنے گئے اور بعد میں انہیں فاروق لغاری کے مستعفیْ ہونے کے بعد صدر پاکستان بنا دیا گیا۔ رکن اسمبلی بننے سے پہلے سارہ تارڑ سیاست میں کوئی متحرک نہیں تھیں لیکن اب وہ سیاست میں سرگرم نظر آتی ہیں۔

جھنگ سے صائمہ اختر بھروانہ دو مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکی ہے اور دو ہزار دو میں انہوں نے بھی اپنے والد اختر بھروانہ کے بی اے نہ ہونے کے باعث مسلم لیگ قاف کی طرف سے قومی اسمبلی کے چناؤ میں حصہ لیا تھا تاہم دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے میدان میں آئیں۔

ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مسلم لیگ قاف کی رکن اسمبلی فرخندہ امجد بھی اپنے شوہر امجد وڑائچ کی نااہلی کی وجہ سے انتخابی سیاست میں آئیں کیونکہ عدالت نے امجد وڑائچ کو بی اے کی ڈگری نہ ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دے دیا تھا۔


اس وقت سترہ خواتین رکن اسمبلی قومی اسمبلی ہیں
فیصل آباد سے پیپلز پارٹی کے رہنما شہادت بلوچ بھی گریجوایشن کی شرط کے باعث رکن اسمبلی بننے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے اور اسی بنا پر انہوں نے اپنی جگہ اپنی بیٹی راحیلہ بلوچ کو انتخاب میں حصہ لینے کے لیے منتخب کیا اور ان کی بھرپور انداز میں خود انتخابی مہم چلائی۔

دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے علاوہ براہ راست انتخاب میں حصہ لے کر بھی خواتین رکن قومی اسمبلی بنیں ہیں اور خدیجہ عامر کی کامیابی کے بعد اب ان خواتین کی تعداد سولہ سے بڑھ سترہ ہوگئی ہے جن میں بارہ کا تعلق پنجاب سے اور پانچ کا صوبہ سندھ سے ہے۔

مصبرین کا کہنا ہے کہ آئندہ عام انتخابات میں بی اے ہونے کی شرط ختم ہونے کے بعد اب دیکھنا ہوگا جو خواتین اپنے رشتہ داروں کے گریجوایٹ نہ ہونے کی وجہ سے براہ راست انتخاب کے ذریعے اسمبلی میں پہنچی تھیں کیا انہیں سیاسی جماعتیں دوبارہ انتخابی سیاست میں اپنا امیدوار نامزد کرتی ہیں یا پھر انہیں محضوص نشستوں پر رکن اسمبلی بنایا جاتا ہے۔

بعض مبصرین کی یہ بھی رائے ہے کہ عین ممکن ہے کہ گریجوایشن کی شرط ختم ہونے کے بعد اب وہ خواتین دوبارہ عملی سیاست میں حصہ نہ لیں جن کو اپنے قریبی رشتہ دار کے بی اے نہ ہونے کی وجہ سے انتخابی سیاست کرنی پڑی۔
__________________
جاویداسد

 
جاویداسد's Avatar
جاویداسد
Senior Member
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 97
Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے جاویداسد کا شکریہ ادا کیا
shafresha (06-09-10), یاسر عمران مرزا (06-09-10), سحر (06-09-10), شمشاد احمد (06-09-10)
پرانا 06-09-10, 12:12 AM   #2
Senior Member
 
جاویداسد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 2,394
کمائي: 49,247
شکریہ: 2,418
1,903 مراسلہ میں 5,667 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اب ہر شعبے میں خواتین مردوں سے آگے جارہی ہے۔ تعلیم میں۔ سیاست میں ۔۔ جس کے ثبوت سامنے ہیں
جاویداسد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-09-10, 06:03 AM   #3
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

پھر ڈرو اس وقت سے جب۔۔۔۔۔۔۔۔ کرپشن اور ظلم میں بھی ‏آگے ہو جائیں گی۔۔۔۔ تو مظلوم کون ہو گا۔
پھر وہی کہاوت صادق ‏آئے گی مردوں پر
جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
color, کرنی, ٹیک, ڈاٹ, وزیر, قدم, نواز شریف, نظر, مکمل, موقع, ممکن, اردو, بھروانہ, حنا, خواتین, سیاست, شوہر, علاقے, عامر, عدالت, عرصہ, عزیز, صوبہ, صائمہ, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
گورنر پنجاب کا قتل سیاسی ہے‘ یہ کسی مذہبی جنونی کا کام نہیں‘ فوزیہ وہاب گلاب خان خبریں 0 06-01-11 03:30 AM
تینوں دسیا تے تو ہسنا اے سیپ پنجابی چوپال 1 01-11-08 12:21 AM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
نظامِ شمسی سے باہر تین زمین نما سیارے دریافت Real_Light کائنات کے راز 2 06-07-08 12:34 AM
سیاسی اکھاڑے میں‌ایک نئے بحران کی زور آزمائی عبدالقدوس اپکے کالم 0 19-09-07 06:36 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:20 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger