واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’یہ ایمرجنسی نہیں، مارشل لا ہے‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-11-07, 01:38 PM   #1
’یہ ایمرجنسی نہیں، مارشل لا ہے‘
چاچا کمال چاچا کمال آف لائن ہے 04-11-07, 01:38 PM

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ جنرل مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نہیں مارشل لاء نافذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے آئین کو معطل کیا ہے اور جب آئین معطل ہوگیا تو مفاہمت کا عمل بھی معطل ہوگیا ہے۔
یہ بات انہوں نے ایمرجنسی کے نفاذ کے چند گھنٹوں بعد وطن واپسی پر بلاول ہاؤس کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

بینظیر بھٹو نے اس اقدام کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ملک میں مارشل لاء فوری طور پر ختم کیا جائے اور آئین اور سپریم کورٹ کو بحال کر کے بروقت منصفانہ الیکشن کرائے جائیں ورنہ پاکستانی عوام یوکرین کے عوام کی طرح سڑکوں پر آئیں گے۔

’یہ ہمارے لیے بہت تاریک دن ہے کہ اس قسم کے فیصلے کیے گئے ہیں۔ ہمیں پہلے خدشہ تھا کہ ایمرجنسی نافذ کی جائے گی لیکن یہ تو ایمرجنسی سے بھی بدترین صورتحال ہے کیونکہ یہ تو مارشل لاء ہے ایمرجنسی نہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ایمرجنسی لگانے کی اصل وجہ یہ ہے کہ عدالت جنرل صاحب کی اہلیت کے بارے میں فیصلہ سنانے والی تھی اور کیونکہ ایک فرد واحد کو عدالت کا فیصلہ قبول نہیں تھا اس لیے ایمرجنسی نافذ کی گئی۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی جماعت یا سپریم کورٹ کے خلاف نہیں بلکہ ملک کے عوام کے خلاف ہے۔

بینظیر بھٹو نے کہا کہ مسلح افواج نے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کو گرفتار کرکے عدلیہ کی دوبارہ توہین کی ہے۔’اس سے قانون کی حکمرانی کمزور ہوجائے گی اور کوئی بھی ملک ترقی نہیں کرسکتا اگر قانون کی حکمرانی کمزور کی جائے ہماری تو کوشش ہے کہ سول اور سیاسی اداروں کو مضبوط بنایا جائے کیونکہ سول ادارے ہماری انتظامیہ کی قوت ہے اور سیاسی ادارے عوام کی قوت کا مظہر ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب میڈیا، سیاسی جماعتوں اور عدلیہ پر حملہ ہوتا ہے تو یہ کسی بھی قوم کے اہم مفادات پر حملہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ بھی رابطے کریں گی اور ان سے صلاح مشورہ کرکے آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’ہماری کوشش ہوگی کہ ہم احتجاج کریں اور عوام کے پاس جائیں۔‘

بے نظیر بھٹو نے مقررہ وقت پر منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ’انتخابات اس وقت تک منصفانہ نہیں ہوسکتے جب تک ملک میں مارشل لاء ہے کیونکہ آمریت اور جمہوریت ایک اسپیکٹرم کی دو انتہائیں ہیں جو اکٹھے نہیں چل سکتے۔‘

پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن نے کہا کہ وہ اس پر احتجاج کریں گے کیونکہ پاکستان کے عوام مارشل لاء کو قبول نہیں کریں گے۔ ’یہ عوامی میدان سے بھاگنے کی کوشش ہے کیونکہ انتخابات کا وقت آرہا تھا اور الیکشن کو اسی دسمبر یا جنوری میں ہونا تھا اسی لئے مارشل لاء لگایا گیا ہے تاکہ انتخابات نہ ہوں اور عوام کو طاقت نہ ملے کیونکہ منصفانہ انتخابات ہوں گے تو عوام کو طاقت ملتی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جنرل مشرف سے مفاہمت کی کوششوں کا کیا ہوگا تو ان کا جواب تھا کہ ’ہماری مفاہمت جمہوریت کے لیے تھی اس وقت جمہوریت نہیں ہے تو ظاہر ہے کہ جب آئین کو معطل کیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ مفاہمت کو بھی معطل کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے بین الاقوامی برادری سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کے بقول فرد واحد کی پشت پناہی کرنے کے بجائے پاکستان کے عوام کی پشت پناہی کرے۔ بینظیر بھٹو نے جنرل مشرف کے قوم سے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی کا ایک جواز یہ پیش کیا گیا ہے کہ عدلیہ کے کچھ ارکان انتظامیہ اور مقننہ کے ساتھ انتہا پسندی اور دہشتگردی کے سلسلے میں تعاون نہیں کررہے ہیں۔ ’یہ ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ نے عبدالعزیز کی فیملی کو لال مسجد واپس دے دی تھی مگر اب سپریم کورٹ پر یہ داغ لگانے کی کوشش کررہے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ انتہاپسندوں کے پیچھے جو لوگ کارفرما ہیں انہیں بے نقاب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی انتہا پسندی کے خلاف ہے لیکن جمہوریت کی بحالی کے بغیر انتہاپسندی کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ عوام ہی ملک کا دفاع کرسکتے ہیں۔ ’اس وقت تمام اختیارات ایک ہی شخص کے ہاتھ میں دیئے گئے ہیں وہ آئین کو تبدیل کرسکتا ہے اور اب اس نے آئین کو معطل کردیا ہے۔‘

بینظیر بھٹو نے کہا کہ پہلے سے ملک کو بہت سے خطرات لاحق ہیں اور اس اقدام سے ان خطرات میں اضافہ ہوگا اور اب پاکستان کی یکجہتی کو بھی خطرہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بچوں سے ملنے دوبئی گئی تھی کیونکہ وہ اٹھارہ اکتوبر کے بم دھماکوں کے بعد پریشان تھے۔ مگر جیسے ہی انہیں خبر ملی کہ پاکستان میں ٹی وی چینلز کو بند کیا جارہا ہے تو وہ فوری طور پر وطن واپس آئی ہیں۔ ’میں پاکستان کے سولہ کروڑ عوام کی حوصلہ افزائی بھی کرنا چاہتی تھی اور ان کو بتانا چاہتی تھی کہ مشکل دنوں میں میں آپ کے ساتھ ہوں۔،‘

بشکریہ بی بی سی

 
چاچا کمال's Avatar
چاچا کمال
Senior Member
تاریخ شمولیت: May 2007
عمر: 47
مراسلات: 938
شکریہ: 36
189 مراسلہ میں 304 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 317
Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, کراچی, پاکستان, پاکستانی, وزیر, لوگ, مسجد, انتظامیہ, احتجاج, بے نظیر, بچوں, جواب, خلاف, خبر, سپریم, شخص, عدالت, صورتحال, صلاح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
60درسی کتب بازار میں دستیاب نہیں، طلبہ کو دشواری Real_Light طالب علموں کی بیٹھک 0 26-07-08 02:21 PM
آئی سی سی کیخلاف کھلاڑی بغاوت کرسکتے ہیں، انٹرنیشنل پلیئرز ایسویسی ایشین میاں شاہد خبریں 0 18-04-08 04:51 AM
سیاسی جماعتیں ملکی حالات بہتر بنانے کیلئے کردار ادا کریں، پاکستان ایسوسی ایشن جاپان ابن ضیاء خبریں 1 11-01-08 04:45 PM
جنرل مشرف جلد از جلد ایمرجنسی ختم کر کے تمام برطرف ججوں کو بحال کریں، اقوام متحدہ عبدالقدوس خبریں 0 23-11-07 09:44 AM
صدر پرویز آرمی چیف کا عہدہ چھوڑ دیں، ایمرجنسی ختم کئے بغیر آزادانہ انتخابات نہیں ہوسکتے ،ترجمان وائٹ ہاؤس خرم شہزاد خرم خبریں 0 14-11-07 02:01 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:26 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger