واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


’32 روپے آمدن تو آپ انتہائی غریب نہیں‘

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 21-09-11, 08:15 PM   #1
’32 روپے آمدن تو آپ انتہائی غریب نہیں‘
پاکستانی پاکستانی آف لائن ہے 21-09-11, 08:15 PM

بھارت کے منصوبہ بندی کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ دلی اور ممبئی جیسے شہروں میں بتیس روپے روزانہ سے زیادہ پرگزارہ کرنے والے لوگوں کو انتہائی غریب افراد کے زمرے میں شامل نہیں کیا جاسکتا۔

کمیشن نے عدالت میں ایک حلفیہ بیان داخل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہروں میں رہنے والے جو لوگ نو سو پینسٹھ روپے ماہانہ خرچ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں انہیں انتہائی غریب لوگوں کے زمرے سے باہر رکھا جائےگا۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو سستے اناج کی شکل میں وہ امداد فراہم نہیں کی جائے گی جو انتہائی غریب لوگوں کی مہیا کی جاتی ہے۔

غریبووں کا تعین کرنے کے لیے تشکیل دی گئی تندولکر کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کمیشن نے کہا کہ شہروں میں آباد جن پانچ افراد پر مشتمل خاندانوں کی ماہانہ آمدنی چار ہزار آٹھ سو چوبیس روپے سے کم ہے، صرف وہی انتہائی غریب کے زمرے میں شامل کیے جائیں گے جبکہ دیہی علاقوں میں یہ حد تین ہزار نو سو پانچ روپے رکھی گئی ہے۔کمیشن کا موقف ہے کہ اس رقم میں چار لوگوں کے کنبے کی صحت، خوراک اور تعلیم سے متعلق تمام ضروریات پوری ہوسکتی ہیں۔ اس سے زیادہ خرچ کرنے والے کنبے غریبوں کے زمرے میں تو شامل ہوں گے لیکن انہیں بہت سی رعایتوں سے محروم کر دیا جائے گا۔

حکمراں یو پی اے کی چیئر پرسن اور کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی کی قیادت والی قومی مشاورتی کونسل کے رکن اور ماہر اقتصادیات ژوں ڈریز نے کہا ہے کہ کمیشن کے حساب سے حفظان صحت کے لیے روزانہ ایک روپیہ کافی ہے حالانکہ اتنے میں سر کے درد کی ایک گولی بھی نہیں ملتی۔

یہ حلف نامہ سپریم کورٹ کی اس ہدایت کے بعد داخل کیا گیا ہے کہ کمیشن مہنگائی کی موجودہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنے اعداد و شمار پر نظر ثانی کرے۔

قومی مشاورتی کونسل کی ایک اور رکن ارونا رائے نے کہا کہ ان اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت غریبوں کی کتنی ہمدرد ہے۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ اس پوری کارروائی کا بظاہر مقصد یہ ہے کہ انتہائی غربت میں رہنے والوں کی تعداد کم کی جائے تاکہ غریبوں کے لیے چلائی جانے والی مختلف سکیموں پر اخراجات کم ہوجائیں۔
اس سے پہلے کمیشن نے عدالت کو بتایاتھا کہ شہروں میں رہنے والا جو شخص پانچ سو اناسی روپے ماہانہ خرچ کرسکتا ہے، اسے انتہائی غربب نہیں مانا جاسکتا۔ دیہی علاقوں کےلیے یہ رقم چار سو سینتالیس روپے تھی۔
Name:  poverty_india.jpg
Views: 40
Size:  27.8 KB
تیندولکر کمیٹی نے اپنی سفارشات میں کہا تھا کہ شہری علاقوں میں بیس روپے اور دیہی علاقوں میں پندرہ روپے روزانہ خرچ کرنے والے لوگوں کو خطِ افلاس یا غریبی کی لائن سے نیچے تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کمیٹی نےیہ سفارشات دو ہزار چار اور دو ہزار پانچ کی قیمتوں کی بنیاد پر دی تھیں۔

بھارت میں اس وقت مہنگائی بے قابو ہے اور افراط زر تقریباً دس فیصد کے قریب ہے۔ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت گزشتہ اٹھارہ مہینوں میں بارہ مرتبہ سود کی شرح بڑھا چکی ہے لیکن اس اقدام کا کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔

__________________
کدی حال تان پوچھیا کر
دل دے تھورے ہین کج ویکھ کےروسیا کر

 
پاکستانی's Avatar
پاکستانی
ناظم اعلی
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: پاکستان
عمر: 25
مراسلات: 5,292
شکریہ: 10,319
3,107 مراسلہ میں 7,465 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 138
Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے پاکستانی کا شکریہ ادا کیا
یاسر عمران مرزا (21-09-11), مرزا عامر (21-09-11), راشد احمد (22-09-11), شمشاد احمد (21-09-11), عروج (22-09-11)
جواب

Tags
کورٹ, گئی, پہلے, یو, وقت, نظر, مہنگائی, موجودہ, مقصد, منصوبہ, معلوم, تعلیم, جانے, سپریم, شکل, شخص, عدالت, غریب, غریبی, غریبوں, غربت, صورتحال, صلاحیت, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ہر اک شے ہی زمانے میں‌ تو بازاری نہیں‌ہوتی نیلم خان شاعری اور مصوری 10 31-08-11 03:32 AM
عالمی منڈی میں‌خم تیل کی تیل80ڈالر --- ڈالر کے مقابلے میں‌روپے کی قدر میں‌اضافہ زین۔zf خبریں 0 10-10-08 12:37 PM
کسی ڈرائیو پر ڈبل کلک کرو تو وہ ایک الگ ونڈو میں اوپن ھوتی ھے۔۔ ایسا کیوں؟ چاند Ask Experts ماہرین کی رائے 16 02-07-08 05:21 PM
سی ڈی روم کو اوپن کریں‌ایک کلک سے TapalDanaDar کمپیوٹر کی باتیں 8 17-04-08 05:43 PM
صورتحال بہتر نہ ہوئی تو 50 ارب روپے تک نقصان ہو سکتا ہے: کسٹمز حکام خرم شہزاد خرم خبریں 0 01-01-08 10:30 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:27 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger