ریمنڈ خود کو امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرنے والی برطانوی کمپنی کا اہلکار ظاہر کرتا تھا، جیل میں ہی موت واقع ہوئی
لاہور( صابر شاہ ) سنٹرل انٹیلی جنس ایجنسی ( سی آئی اے ) کے افسروں کی غیر ملکی سرزمین پر گرفتاری کی تاریخ 1951ء سے شروع ہوتی ہے جب سی آئی اے کے ایک ایجنٹ ہگ ریمنڈ کو چین کے شہر شنگھائی میں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ٹائم میگزین کی 27 اکتوبر 2003ء کی اشاعت میں شامل سٹوری کے مطابق ریمنڈ خو د کو امپورٹ ایکسپورٹ کا کام کرنے والی ایک برطانوی کمپنی کا اہلکار ظاہر کرتا تھا سی آئی اے کے اس جاسوس کو 19 سال چین کی جیل میں گزارنا پڑے اور دوران اسیری ہی اس کا انتقال ہوا اس آرٹیکل میں غیرسرکاری کور میں کام کرنے والے جاسوسوں کی زندگی پر روشنی ڈالی گئی ہے مذکورہ رسالے نے اپنی اشاعت میں ایک اور واقعے کا ذکر کیا ہے جس میں فرانسیسی ایجنسیوں نے ایک خاتون سمیت سی آئی اے کے پانچ ایجنٹوں کوگرفتار کیا جو پانچ سال سے کاروبار کی آڑ میں جاسوسی کررہے تھے یہ واقعہ 1995ء میں پیش آیا۔ فرانس نے اگرچہ ان جاسوسوں کو گھر بھیج دیا تھا تاہم اس معاملے سے تعلق رکھنے والے سی آئی اے کے ایک سابق اہلکار نے رائے ظاہر کی کہ ”نان آفیشل کور“ میں کام کرنے والے لوگوں کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ نان آفیشل کور عموماً آفیشل کور کے متضاد ہوتا ہے آفیشل کور میں ایجنٹوں کو ڈپلومیٹک سروس جیسے سرکاری محکموں میں مقام حاصل ہوتا ہے ڈپلومیٹک سروس ہی سیکرٹ سروس ایجنٹ کو سرکاری استثنیٰ دلاتی ہے اور عموماً کسی جاسوس کے پکڑے جانے کی صورت میں اسے سخت سزا سے بچالیتی ہے یہ استثنیٰ درحقیقت کسی پکڑے گئے ایجنٹ کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دلوانے اور اسے غیرملک میں قید سخت سے بچانے کی بجائے ملک سے نکال دینے کے لئے معاون ہوتا ہے تاہم نان آفیشل کور میں کام کرنے والے ایجنٹوں کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہوتا اور اگر پکڑے جائیں یا ان پر مقدمہ چلے تو انہیں پھانسی سمیت سخت سزائیں دی جاتی ہیں سی آئی اے کے متعدد افسر دوست ممالک میں خود کو بزنس مین ظاہر کر کے ایشیاءسے وسطی امریکہ اور مغربی یورپ تک کام کررہے ہیں لیکن اس کے برعکس سی آئی اے کے بہت سے اہلکار سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ملازم فوجی اہلکاروں یا امریکی سفارتخانے سے منسلک دوسرے امریکی سرکاری اداروں کے اہلکار کی حیثیت سے کام کررہے ہیں۔ نان آفیشل کور کے تحت کا م کرنے والوں کا واشنگٹن ڈی سی کے کسی سرکاری محکمے سے بظاہر کوئی تعلق نہیں ہوتا اس طرح ان کا عام لوگوں کے ساتھ رابطہ آسان ہوتا ہے ان آفیشل کور میں کام کرنے والے جاسوسوں کا انکشاف چند سال قبل امریکی میڈیا نے کیا اس قسم کے جاسوسوں نے اب اپنی توجہ مختلف ملکوں خصوصاً جاپان کی معیشت پر مرکوز کردی ہے خود کو تاجر ظاہر کرتے ہوئے یہ لوگ باہر کے ملکوں کی وزارت خزانے میں اپنے ایجنٹ بھرتی کرتے ہیں یا پھر ان ملکوں کمپیوٹر الیکٹرانکس اور ایروسپیس انڈسٹریوں سمیت ہائی ٹیک کمپنیوں کی جاسوسی کرتے ہیں اور فوجی و سویلین شعبہ میں ہونے والی ترقی پر نظر رکھتے ہیں اگرچہ سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر ولیم کولبی نے اپنی ایجنسی کے نان آفیشل کور میں کام کرنے کی تردید کی تھی تاہم انہوں نے اس بارے میں جو چند الفاظ کہے وہ یہ ہیں میں اس موضوع پر کچھ نہیں کہہ سکتا یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے اپنے پرانے دوستوں کے برعکس میں اس کی کم تردید کرتا ہوں لیکن اگر امریکی کمپنیوں کے سربراہ غیرممالک میں اپنے دفاتر سی آئی اے کو دے دیں تو اس اقدام کی میں تعریف کروں گا اور وہ ایسا کریں گے کیونکہ وہ محب وطن ہیں۔ سی آئی اے اپنی ابتدا ہی سے بیرون ملک اپنے جاسوسی کے پروگراموں میں امریکی کمپنیوں کو استعمال کرتا رہا ہے سی آئی اے کے سابق ڈپٹی ڈائریکٹر ایڈمرل بوبی اے انمان نے کہا تھا کہ جب 1940ء کے اواخر میں ایجنسی نے نان آفیشل کور کا بہت زیادہ استعمال کیا چونکہ جاسوسوں کو امریکی سفارتخانے میں ٹھہرانا سستا کام تھا لہٰذا رقم بچانے کی خاطر 1960ء تک سی آئی اے نے نان آفیشل کور میں کام کرنے والے جاسوسوں کی تعداد کم کردی۔ ایڈمرل بابی کا مزید کہنا تھا کہ 1973ءمیں چلی کی بغاوت ظاہر ہونے پر اس پروگرام میں مزید کمی آگئی تاہم 1970ء میں رونما ہونے والے مختلف واقعات میں نان آفیشل کور کا استعمال ظاہر ہوتاہے نان آفیشل جاسوسوں کے استعمال کی تاریخ 1947ء میں صدر ہیری ٹرومین کے حکم پر بننے والی اس ایجنسی کے جتنی ہی پرانی ہے سی آئی اے کی ویب سائٹ تاہم اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے کہ امریکہ کی جانب سے غیرملکوں کی جاسوسی 19 صدی میں ابراہام لنکن کے دور سے کی جاتی رہی ہے سی آئی اے امریکی پالیسی بنانے والوں کو قومی سلامتی سے متعلق جاسوسی پر مبنی معلومات فراہم کرنے کی ذمہ دار ہے اور کانگریس اور انتظامیہ اس کی سرگرمیوں کو نظرانداز کرتے رہے ہیں۔ 1998ء میں اس ادارے کا بجٹ 26,7 ارب ڈالر تھا 1997ء میں امریکہ کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا مجموعی خرچہ پہلی بار عوام کے علم میں لایا گیا جو 26,6 ارب ڈالر تھا جسے مالی سال 1998ء کے لئے بڑھا کر 26,7 ارب ڈالر کردیا گیا اس کے بعد آنے والے سالوں میں انٹیلی جنس کا بجٹ کلاسیفائیڈ قرار دیا گیا ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی