معافی لینے والے 912259 قرضداروں میں 78 فیصد نے 5 لاکھ سے زائد قرضے لئے تھے
اسلام آباد (مہتاب حیدر) سٹیٹ بینک آف پاکستان نے سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ 1971ء سے 2010ء کے دوران 39 برسوں میں 912259 قرضداروں کو اصل زر اور سود سمیت 284 ارب روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔ ”دی نیوز“ کو ملنے والی سرکاری دستاویز کے مطابق 284 ارب روپے معاف شدہ قرضوں میں تقریبا 78 فیصد وہ لوگ ہیں جنہوں نے 5 لاکھ سے زائد قرضے لئے تھے۔ جبکہ صرف 22 فیصد چھوٹے قرض دار تھے۔ یہ دستاویز جس کی بنیاد پر سپریم کورٹ کو رپورٹ پیش کی گئی انکشاف کرتی ہے کہ 887195 قرض داروں نے 5 لاکھ سے کم قرضے لئے جن کو 48 ارب 25 کروڑ اصل زر، 11 ارب 36 کروڑ مارک اپ اور 1 ارب 73 کروڑ روپے کے چارجز سمیت کل 61 ارب روپے معاف کئے گئے۔ 5 لاکھ سے زائد قرضہ لینے والے 25064 قرضداروں نے 75 ارب اصل زر، 44 ارب سود اور 99 ارب دیگر چارجز سمیت 219 ارب 57 کروڑ روپے معاف کرائے۔ سٹیٹ بینک نے سپریم کورٹ کو خطے کے دیگر ملکوں سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ 2009ء میں بنگلہ دیش میں 27 ارب 36 کروڑ پاکستانی روپے، بھارت 28 ارب 64 کروڑ، ملائیشیا 240 ارب، انڈونیشیا 7 ارب 61 کروڑ، جنوبی کوریا میں 710 ارب 64 کروڑ روپے جبکہ پاکستان میں 27 ارب 30 کروڑ روپے کے قرضے معاف کئے گئے۔ سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستانی بینکوں نے جو قرضے معاف کئے ان میں صرف 44 فیصد اصل زر ہے جبکہ باقی مارک اپ اور دیگر چارجز ہیں۔ 2002ء کو جاری ہونے والے سرکلر نمبر BPD-29 کے تحت کل معاف کردہ قرضوں کا صرف 20 فیصد یعنی 57 ارب روپے معاف کئے گئے۔ مزید برآں بینکوں کی اپنی طرف سے معاف کئے قرضوں میں 47 فیصد اصل زر تھا جبکہ BPD-29 سکیم کے تحت معاف ہوئے۔ قرضوں میں اصل زر کی شرح بہت کم 32 فیصد تک تھی۔ یہ سکیم پرانے قرضوں کے تصفیے کے لئے تھی جو کہ کم از کم 6 سال سے نادہندہ ہوں۔ اس سکیم کے تحت معاف ہونے والوں میں اکثریت 8 سال اور اس سے زائد عرصہ سے ادا نہ ہونے والے قرضوں کی تھی جن کے بارے میں کہا گیا کہ یہ بینکوں کے ڈوبے ہوئے اثاثے ہیں اور اس سکیم کے ذریعے کچھ ریکوری ہوپائے گی۔ سکیم کے تحت 18 ارب 35 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی جبکہ 57 ارب کے قرضے معاف ہوئے اور اس کا مالیاتی اداروں کی بیلنس شیٹوں پر کوئی برا اثر نہ پڑا کیونکہ وہ پہلے ہی اس ضمن میں تمام شرائط پوری کرچکے تھے۔اس میں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے کہ معاف کردہ رقم میں اصل زر صرف 18 ارب تھا۔ سرکاری اعداد و شمار مزید ظاہر کرتے ہیں کہ 2001ء میں قرضے 1044 ارب جبکہ کل نان پرفارمنگ قرضوں کی مالیت 244 ارب روپے تھی۔ اس طرح ان کی شرح 23.38 فیصد تھی جو کہ2002 میں کم ہوکر 21.81 فیصد ہوگئی۔ 2007ء میں یہ شرح مزید 7 فیصد کم ہو گئی۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی