200ڈالرز فی ٹن بیچی گئی گندم 511 ڈالر فی ٹن تک خریدی گئی
200ڈالرز فی ٹن بیچی گئی گندم 511 ڈالر فی ٹن تک خریدی گئی
اسلام آباد (رپورٹ … حنیف خالد) وفاقی وزارت خوراک و زراعت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ آج پاکستان کے پاس 21 لاکھ ٹن گندم کا ذخیرہ ہے‘ 15 لاکھ ٹن درآمد کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے‘ اس طرح 36 لاکھ ٹن گندم پاکستان کے پاس ہے جو 30 اپریل 2008ء تک کی ضرورت کیلئے کافی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے حکم پر لاکھوں ٹن گندم 200 ڈالر ٹن کے حساب سے برآمد کردی گئی‘ آج پاکستان نے امریکا، کینیڈا سے تقریباً 5 لاکھ ٹن سفید گندم 511 ڈالر فی ٹن کے حساب سے خریدی ہے۔ یوکرائن سے 450 ڈالر ٹن کے حساب سے 4 لاکھ ٹن گندم خریدی ہے۔ حالیہ فصل کے بعد 4 لاکھ ٹن گندم کی برآمد 200 ڈالر کے حساب سے کرکے موجودہ بحران کو جنم دیا گیا حالانکہ آسٹریلیا میں گندم 23 ملین ٹن کے ہدف کے بجائے 13 ملین ٹن پیدا ہوئی تھی‘ امریکا میں 25 فیصد کم گندم پیدا ہوئی تھی‘ امریکا سے 450 سے 460 ڈالر فی ٹن ایف او بی گندم خریدی گئی ہے‘ دبئی سے گندم منگوانے پر 30 ڈالر ٹن اور امریکا سے 60 ڈالر ٹن بحری جہاز کا کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ حکومت کے غلط فیصلے کی وجہ سے حکومت 300 ڈالر فی ٹن گندم پر سبسڈی دے گی۔ سروے کے دوران پنجاب کے محکمہ خوراک کے سیکریٹری یار احمد خان‘ ڈپی ڈائریکٹر رشید رازی نے بتایا کہ فلورملوں کو جتنی گندم یومیہ فراہم کی جارہی ہے وہ پنجاب کے عوام کی ضروریات پوری کرنے کیلئے کافی ہے‘ جون 2007ء تک نجی شعبے نے 12 لاکھ ٹن گندم سوا چار سے ساڑھے چار سو روپے من کے حساب سے خریدی‘ آج وہ 840 روپے من کے حساب سے گندم فروخت کرکے غریب عوام کا خون چوس رہے ہیں۔ گندم کے ذخیرہ اندوزوں نے 12 لاکھ ٹن گندم بینکوں سے قرضے لیکر خریدی‘ ان کو قرضے 31 جنوری تک واپس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے‘ اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو حکم دے دیا ہے کہ وہ گندم کی خریداری کے قرضے لازماً 31 جنوری 2008ء تک واپس وصول کریں۔ وزارت خوراک و زراعت کے ایڈیشنل سیکریٹری راجہ شاہد حسین سے نمائندہ جنگ نے جب نئی فصل کے بارے میں انٹرویو کیا تو انہوں نے بتایا کہ گندم کی نئی فصل سے 24 ملین ٹن گندم کی پیداوار کا تخمینہ ہے۔ واضح رہے کہ آٹے کے بحران کی وجہ سے پاکستان میں آٹے کی گرانی کے 60 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ بلوچستان‘ سرحد‘ آزاد کشمیر‘ پنجاب کے بالائی علاقوں میں آٹا 500 روپے فی 20 کلو تک بکنے
|