واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


2009ء: اٹلی میں سی آئی اے کے23 ایجنٹوں کو سزاسنائی گئی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 25-02-11, 06:42 AM   #1
2009ء: اٹلی میں سی آئی اے کے23 ایجنٹوں کو سزاسنائی گئی
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 25-02-11, 06:42 AM

ان میں سی آئی اے کے سٹیشن چیف ‘ایک سفارتکار اورامریکی ائیرفورس کا کرنل شامل تھا
لاہور(صابر شاہ) مغربی میڈیا کی جانب سے اس انکشاف کے بعد کہ ریمنڈ ڈیوس سی آئی اے کےلئے کام کرتا تھا پاکستان میں اس خفیہ ایجنٹ کے لئے استثنیٰ کی نئی بحث شروع ہورہی ہے ۔ ایسے میں اسیر امریکی ایجنٹ کی وکالت کرنے والوں کےلئے یہ خیال برانہ ہوگا کہ وہ اٹلی میں مشہور زمانہ ابو عمر کے اغواء کے مقدمے پر نگاہ ڈالیں اور یہ دیکھیں کہ امریکہ کی اس خفیہ ایجنسی کے ایجنٹوں کے خلاف کیا قانونی طریقہ اختیار کیا گیا تھا ایک پیشہ ور امریکی سفارت کار میلان (اٹلی) میں سی آئی اے کا سٹیشن چیف اورامریکی ائرفورس کا ایک حاضر سروس کرنل سی آئی کے ان مبینہ ایجنٹوں میں شامل تھے جنہیں اٹلی کی عدالتوں نے نومبر2009 ء میں ان کی غیرموجودگی میں سزا سنائی ان پر ایک مسلمان پیش امام ابوعمر کو اغواء کرکے ایذا پہنچانے کا مقدمہ تھا ابوعمر کو 17 فروری 2003 ء کو میلان کی گلیوں سے دن دہاڑے اغوا کرکے اسے جرمنی کے راستے قاہرہ لے جایا گیا اغواء کا یہ کام اٹلی کے ایک جاسوس ادارے کے تعاون سے کیا گیا تھا۔ قاہرہ میں ابوعمر سے تفتیش کی گئی اور اس مقصد کے لئے اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ عالمی میڈیا نے اس کیس کو خوب اچھالا کیونکہ بش انتظامیہ کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں سی آئی اے کو کسی شخص کی سپردگی کا یہ اقدام انتہائی غیرمعمولی سمجھا گیا تھا۔ سی آئی اے کے آپریشن میں اس وقت رخنہ پڑاجب اٹلی کے حکام نے امام عمر کے مبینہ طورپر دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی تحقیقات شروع کردی۔ عمر کو 2007ء میں مصر کی ایک عدالت نے رہا کردیا اوراپنے فیصلے میں کہا کہ عمر کی گرفتاری بلاجواز تھی اگرچہ اٹلی کی حکومت نے ابوعمر کی گرفتار ی میں کوئی کردار ادا کرنے کی تردید کی تاہم پراسیکیوٹر آرمینڈو سیاتارو اور فرڈ نینڈیومارشی نے سی آئی اے کے 26 ایجنٹوں کی نشاندہی کی جن میں روم سی آئی اے کا سٹیشن چیف جیفری کیٹیلی جو 2003ء تک اٹلی میں سی آئی اے کا سربراہ رہا اور میلان میں خفیہ ادارے کی سٹیشن چیف رابرٹ لیڈی بھی شامل تھے اٹلی کے پراسیکیوٹر نے اٹلی کے خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل نکولولاری اوران کے نائب مارکومایخنی کے خلاف بھی اپنے پولیس اہلکاروں کو ٹیلی فون ٹیپ کرنے اور انٹیلی جنس سروس کے ریکارڈ سے دستاویزات دینے کا مقدمہ بنایا۔ اگرچہ اٹلی کی آئینی عدالت نے 2009ء کے اوائل میں فیصلہ دیا کہ پراسیکیوٹر نے جو شواہد اکٹھے ہیں ان میں زیادہ تر کو اٹلی کے خفیہ دستاویزات سے متعلق قانون کا تحفظ حاصل ہے لہٰذا انہیں عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکتا تاہم اس کیس کو دائر کرنے والوں نے موقف اختیار کیا کہ پیش امام ابوعمر کی گرفتاری سے نہ صرف ان کی قوم کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہوئی ہے بلکہ اس سے دہشت گردی کے خلاف تحقیقات کا اہم عمل بھی ساقط ہوگیا ہے اس پراٹلی کے جج آسکر میگی نے مقدمے کی سماعت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس مقدمے میں میلان میں سی آئی اے کی سٹیشن چیف رابرٹ لیڈی کو ابوعمر کو پکڑنے میں کردارادا کرنے پر8 سال جبکہ امریکی سفارتخانے کے سکینڈ سیکرٹری سبریناڈی سوزا اورا مریکی ائرفورس کے ایک حاضر سروس افسر لیفٹیننٹ کرنل رومینو کو عدالت نے پانچ پانچ سال قید کی سزاسنائی علاوہ ازیں انہیں 15 لاکھ امریکی ڈالر ابوعمر کو اور5 لاکھ یورو اس کی اہلیہ کو بطور زرتلافی ادا کرنے کا حکم دیا ان کے علاوہ سی آئی اے کے دیگر 20 ایجنٹوں کو بھی پانچ سال قید کی سزا سنانے کے علاوہ عدالت نے حکم دیا کہ ابوعمر اوراس کی اہلیہ کو ادا کئے جانے والے زرتلافی میں یہ لوگ بھی حصہ دیں گے۔ ان کے علاوہ اٹلی کی انٹیلی جنس ایجنسی کے دو اہلکاروں کو سی آئی اے کے ساتھ تعاون کرنے کے جرم میں تین سال کی سزا سنائی گئی۔ 2009ء میں امریکی سفارتکار سبریناڈی سوزا کو امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیش امام کے اغواء کے مقدمے میں استثنیٰ دلوانے کی کوشش کی اور امریکی ائرفورس کے افسر لیفٹیننٹ کرنل جوز ف رومینو کو سزا پر افسوس کا اظہار کیا۔ واشنگٹن کی عدالت میں سفارتکار سبرینا نے سفارتی استثنیٰ کی درخواست کی اور حکومت نے اٹلی میں وکلاء کے اخراجات برداشت کئے سبرینا ڈی سوزا روم میں امریکی سفارت خانے میں سکینڈ سیکرٹری کی حیثیت سے رجسٹرڈ تھیں جبکہ ان کی تعیناتی درحقیقت اٹلی میں تھی سبرینا کا دعویٰ تھا کہ وہ فارن سروس کی افسر ہیں اور میلان میں کام کررہی ہیں اور 2003ء میں ابوعمر کو پکڑنے میں ملوث نہیں تھیں تاہم اٹلی کے پراسیکیوٹرز کا اصرار تھا کہ وہ سی آئی اے کی افسر ہیں جو سفارتکاروں کوحاصل تحفظ کے بھیس میں کام کررہی ہیں ان کی وکیل کے حوالے سے سی این این نے خبر دی تھی کہ سبرینا کو اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے انہیں دکھ پہنچا ہے اور وہ سخت غصے میں ہیں وہ محسوس کرتی ہیں کہ امریکہ نے ان کے پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ اٹلی والوں نے ایساکیوں کیا وہ اپنے قوانین پر عمل کررہے تھے لیکن دن کے اختتام پر امریکی حکومت کے بیرون ملک نمائندوں کو ہماری اپنی ہی حکومت نے تنہا چھوڑ دیا سبرینا پرابوعمر کو بذات خود اغواء کرنے کا الزام نہیں بلکہ انہوں نے تفتیش کاروں کوگمراہ کرنے کے لئے جعلی دستاویزات تیار کرنے میں مدد دی تھی۔ پینٹاگون کے ترجمان جیف موریل نے اس فیصلے پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہماری رائے میں نیٹو فورسز کے معاہدے کے تحت اٹلی کی عدالتوں کو لیفٹیننٹ کرنل رومینو پر مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں تھا انہیں چاہیے تھا کہ کرنل رومینو کے خلاف عائد کردہ الزامات فوراً مسترد کردیتیں اور ہماری اس رائے سے اٹلی کے وزیرانصاف بھی متفق ہیں ہمیں اس فیصلے سے مایوسی ہوئی ہے تاہم اٹلی میں اس وقت کے سی آئی اے کے سربراہ کواس بنیاد پر معاف کردیا تھا کہ انہیں سٹیٹ سیکریسی قوانین کا تحفظ حاصل ہے۔ سی آئی اے کے سربراہ کسیٹلی کے علاوہ دوامریکی سفارتکاروں کو اس بنیاد پر بری کردیا گیا کہ انہیں ویانا کنونشن کے تحت استثنیٰ حاصل ہے اسی طرح اٹلی کی ملٹری انٹیلی جنس کے سابق سربراہ جنرل پولادی اوران کے نائب مارکو منخچی کو بھی اس بناء پر بری کردیا گیا کہ ان کے خلاف پیش کردہ شہادتوں کو سرکاری خفیہ دستاویزات کا تحفظ حاصل ہے اس فیصلے کے فورآ بعد امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان آئن کیلی نے اظہار رائے کرتے ہوئے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا سی آئی اے کے تجزیہ کار مائیکل شوٹر نے سی این این پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا تھا کہ اٹلی کی ملٹری سیکرٹ سروس نے پیش امام کی گرفتاری سے متعلق آپریشن کی منظوری دی تھی تاہم اٹلی کی حکومت نے اس بات کی پرزور تردید کی تھی کہ اس نے اس اغواء کی اجازت دی تھی۔ گارڈین کی 4 نومبر 2009ء کی اشاعت میں کہا گیا کہ جن لوگوں کو سزادی گئی ہے انہیں اٹلی کے قانون کے تحت بھگوڑا قرار دیا جائے گا۔ 2007ء میں پوری پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے 6 سال کے دوران یورپ کے اوپر کی فضاﺅں سے ایک ہزار سے زائدایسی پروازیں کی تھیں جن میں اغواء کئے گئے لوگوں کو لے جایا گیا اس اقدام کی اجازت سے سب سے پہلے امریکی صدر رونالڈریگن نے 1988 میں دی تھی اور1990ء میں کلنٹن انتظامیہ نے اسلام کے بڑھتے ہوئے اثرات سے نمٹنے کے لئے جاری رکھا۔ بعد ازاں نائن الیون کے واقعے کے بعد جارج بش جونیئر نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس پالیسی کو حصہ بنایا ا ن میں سے بعض لوگوں کو امریکہ سے باہر بنائی گئی جیلوں میں لے جایا گیا تاکہ ان پر امریکی قوانین کا اطلاق نہ ہو۔ بی بی سی کے مطابق اوباما انتظامیہ نے بھی 2009ء میں ان سزاﺅں پر مایوسی کا اظہار کیا تھا ریمنڈ ڈیوس کے مقدمے سے نہ صرف یورپ میں سی آئی اے کےلئے کام کرنے والوں کےلئے سفارتی استثنیٰ کے مسئلے پر بحث چھڑگئی ہے بلکہ اس معاملے نے سفارتی استثنیٰ کی حد سے متعلق بھی سوال اٹھایا ہے سادہ ترین الفاظ میں اس کیس نے مختلف ملکوں میں کام کرنے والے سفارتکاروں کو حاصل استثنیٰ کی نوعیت کے بارے میں بحث کو بھی جنم دیا ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
24 فروری 2011ء
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,982 مراسلہ میں 8,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 115
Reply With Quote
جواب

Tags
color, کوشش, کلنٹن, کنونشن, پولیس, پاکستان, واشنگٹن, قید, لوگ, آپریشن, الزام, انتظامیہ, امریکہ, اسلام, حکم, خلاف, خبر, درخواست, زمانہ, سال, شخص, غصے, صابر, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
سال 2009ء کا تیسرا چاند گرہن (آج) ہوگا رضی خبریں 0 05-08-09 06:38 PM
2009ء میں عالمی فضائی کمپنیوں کو مجموعی طور پر 4.1 ارب ڈالر کا خسارہ ہو سکتا ہے ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:06 PM
مہمند ایجنسی : سیکورٹی چیک پوسٹ پر راکٹوں اور خود کا ہتھیاروں سے حملہ عبدالقدوس خبریں 0 07-01-08 07:34 AM
::: باجوڑ ایجنسی:خار میں اسکاوٹس کے ہیڈ کوارٹر پر راکٹوں سے حملہ ::: ابو کاشان خبریں 0 14-12-07 10:57 PM
کانٹوں سی دنیا محمدعدنان شاعری اور مصوری 0 15-08-07 07:26 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger