واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


2010ءمیں دنیا بھر میں 2 درجن سے زائد وزیر برطرف ہوئے

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 15-12-10, 05:18 AM   #1
2010ءمیں دنیا بھر میں 2 درجن سے زائد وزیر برطرف ہوئے
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 15-12-10, 05:18 AM

پاکستان میں اعظم سواتی اور حامد سعید کاظمی سمیت 5 اور بھارت میں 10 وزراءکو فارغ کیا گیا
لاہور (صابر شاہ) دو وفاقی وزرا اعظم سواتی اور حامد سعید کاظمی کی منگل کے روز کابینہ سے فراغت کے بعد صرف 2010ءمیں دنیا بھر میں فارغ کئے گئے وزرا کی تعداد دو درجن سے زائد ہو گئی ہے۔ان وزراءکو مالی و اخلاقی کرپشن، پارٹی موقف سے انحراف، بلا جواز گفتگو/بیانات، جاب ناموزونیت، نااہلی اور پیشہ ورانہ غفلت کی وجوہات پر برطرف کیا گیا۔
حال ہی میں ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی کو ایران صدر محمود احمدی نژاد نے 13 دسمبر کو فارغ کیا۔ متقی کو عالمی معاملات پر ایران موقف بہتر طور پر پیش نہ کئے جانے پر ایران کے کئی سیاسی حلقوں اور پارلیمنٹ کی طرف سے تنقید کا سامنا تھا۔ ان کے ناقدین کا کہنا تھا کہ وہ (منوچہر) جوہری پروگرام پر سلامتی کونسل کی قرار دادیں اور ایران پر پابندیاں رکوانے میں ناکام رہے۔ تاہم تہران کے کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان کی اچانک تبدیلی کی ایک وجہ ہے جو کہ وہ ایک پیشہ ور سفارتکار میں کوئی ٹیکنوکریٹ نہیں ہے اس لئے صدر احمدی نژاد کے ساتھ چل نہیں سکے تھے۔
9 دسمبر کو آرمینیا کے وزیر انصاف Gevorg Danielian کو مبینہ طور پر تشدد کے واقعہ میں ملوث ایک اعلیٰ عہدیدار ماتحت کو سزا دینے میں ناکام پر اچانک کابینہ سے برطرفی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
صدر Serzh Sarkisian کے دفتر سے جاری تحریری بیان میں کہا گیا کہ Danielian نامناسب طور پر اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے۔ تاہم تحریری بیان میں مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
14 نومبر کو بھارتی وزیر ٹیلی کمیونیکیشن اے راجہ کو مبینہ طور پر 40 ارب ڈالر کی 2 جی سپیکٹرم مالیاتی سکینڈل میں ملوث ہونے کی بناءپر مستعفی ہونے پر مجبور کیا گیا۔ اس سکینڈل نے ٹیلی کمیونیکیشن اور آئی ٹی وزارت کو ہلا کر رکھ دیا۔
جدید بھارت کی تاریخ کے سب سے بڑی سیاسی کرپشن کیس کا مرکزی ملزم قرار دیئے جانے والے پر ٹیلی کام بینڈ وڈتھ کو انڈر ویلیو کر کے اور ایک مخصوص بینڈ کسٹمر کو فروخت کر کے ملکی خزانے کو بہت بڑا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اس سکینڈل میں بڑے بھارتی گروپس شامل ہیں۔
2 جی بینڈ وڈتھ سپیکٹرم کی الاٹمنٹ سنگین بے ضابطگیوں کی بناءپر بھارت میں زبردست تنقید کا نشانہ بنی اور متعلقہ تفتیشی حکام نے اس حوالے سے مقدمہ درج کر لیا۔
ایف آئی آر میں الزام لگایا گیا کہ الاٹمنٹ مارکیٹ قیمت کے مطابق نہیں کی گئی۔ بی جے پی کے ارون جیٹلی کے مطابق سکینڈل 1700 ارب روپے یا 38.59 ارب ڈالر کا ہے۔
بھارت کے آڈیٹر جنرل نے 2008ءمیں 2 جی سپیکٹرم کی 2001ءکے نرخوں پر فروخت کا ذمہ دار براہ راست وزیر اے راجہ کو ٹھہرایا ہے اور کہا کہ اہم حکومتی عہدیدارا نے خزانے کو 40 ارب ڈالر سے زائد نقصان پہنچایا۔
اگست 2010ءمیں کنٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل نے شواہد پیش کئے کہ اے راجہ نے بہت سے قابل اعتراض ایلوکشینز کی خود منظوری دی اور دستخط کئے اگرچہ سیاسی اپوزیشن میں سکینڈل میں ان کے استعفے کا مطالبہ کر ہی ہیں۔ تاہم اے راجہ نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے استعفیٰ سے انکار کر دیا لیکن 14 نومبر کو منموہن سنگھ حکومت نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔
14 نومبر کو فرانسیسی حکومت نے اپنے دو وزراءکو برطرف کیا ان کو نکولس سرکوزی نے اپنی کابینہ میں نسلی تنوع کے لئے شامل کیا تھا۔
سینیگال نژاد فرانسیسی وزیر برائے کھیل راما پادے اور وزیر برائے شہری پالیسی فضیلہ عمارہ کو تازہ ترین ردوبدل میں اپنی وزارتوں سے ہاتھ دھونا پڑا جو اس بات کا اظہار تھا کہ فرانسیسی صدر کی اپنے سیاسی مخالفین اور نسلی اقلیتوں کے لئے کھلے پن کی پالیسی ختم ہو گئی۔
6 نومبر کو انگلینڈ میں ایڈ ملی بینڈ کی شیڈو کابینہ کے ایک رکن کو اس وقت فارغ ہونا پڑا جب عدالت میں انتخابی مہم کے دوران ان کا جھوٹ بولنا ثابت ہو گیا۔
شیڈو وزیر برائے امیگریشن Philwoolas جو کہ 1997ءسے رکن پارلیمنٹ چلے آ رہے تھے کو 3 سال کے لئے پارلیمنٹ سے فاغ ہو گئے اور نتیجتاً ان کی لیبر پارٹی کی رکنیت بھی معطل ہو گئی۔
ہائی کورٹ کے ججوں نے دیکھا کہ Woolas نے اپنی مہم کے لٹریچر میں اپنے مخالف Watkins کے خلاف غلط بیانی کی تاکہ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں غیر قانونی ذرائع سے اہم ووٹ حاصل کر سکے۔ ان کا یہ اقدام برطانوی عوامی نمائندگی ایکٹ 1983ءکے صریحاً خلاف تھا۔
26 اکتوبر کو بھارتی کشمیر کے وزیر جی ایم سروری کو میڈیکل انٹری ٹیسٹ میں مبینہ طور پر اپنی بیٹی کی جگہ کسی اور کو بیٹھانے پر وزارت سے فارغ کر دیا گیا۔ کانگریس وزیر سروری کو اس تنازع کے سامنے آنے پر اپنی پوزیشن واضح کرنے کے لئے کہا گیا لیکن وہ ان ہدایت کو نظر انداز کرتے ہوئے وزارت خارجہ کی منظوری کے بغیر عمرہ کے لئے جدہ چلے گئے۔ ان کو فارغ کئے جانے کا فیصلہ وزیراعلیٰ عمر عبداﷲ کی سربراہی میں ہونے والے کابینہ اجلاس میں ہوا۔
13 اکتوبر کو بھارتی پنجاب کے وزیر خزانہ من پریت سنگھ بادل کو اپنے ہی چچا اور وزیراعلیٰ پرکاش سنگھ بادل کی کابینہ سے فارغ کر دیا گیا جس کی وجہ ان کے ریاست (صوبے) پر قرضوں کے بوجھ کے بارے میں بیانات تھی۔
9 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے وزیر تجارت و صنعت چوہدری رخسار کو جعلی اسناد کی بناءپر کابینہ سے فارغ کر دیا گیا۔ ان کی میٹرک کی سند جعلی ہونے کے حوالے سے اپوزیشن امیدوار چوہدری ارشد نے درخواست دائر کی تھی۔
ایک مقامی سیشن جج نے ان کی تعلیمی اسناد کو جعلی قرار دیتے ہوئے انہیں نااہل قرار دے دیا تھا۔
7 اکتوبر کو بھارتی ریاست کرناٹک کے وزیراعلیٰ بی ایس یادیوروپا جن کی حکومت کو بغاوت کا سامنا ہے نے جوابی اقدام کے طور پر 6 منحرف وزراءکو فارغ کر دیا۔ فارغ کئے گئے وزراءمیں وزیر میونسپل ایڈمنسٹریشن (بالا چندرا) اور وزیر فشریز (اننداسنوتیکر) بہت اہم سیاسی شخصیات تھیں۔
5 اکتوبر کو کانگو کے صدر نے وزیر ٹرانسپورٹ کو 38 افراد کی ہلاکتکا سبب بننے والے فضائی حادثے کی انکوائری کے نتیجے میں فارغ کر دیا تھا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق وزیر ٹرانسپورٹ Remy Henri کو ایوی ایشن سیکٹر کو چلانے میں ناکامی پر فارغ کیا گیا۔
25 ستمبر کو وزیراعظم گیلانی نے وزیر دفاعی پیداوار قیوم جتوئی کو فارغ کر دیا۔ ان سے چیف جسٹس اور آرمی کے خلاف غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے پر وزیراعظم ہائوس طلب کر کے وضاحت طلب کی گئی تھی۔
وزیراعظم نے اپنے وزیر کے سخت جملوں کا سخت نوٹس لیا تھا اور ان کو فوری طور پر اسلام آباد طلب کیا تھا۔
21 ستمبر کو کیوبا کے صدر رال کاسترو نے اپنے وزیر برائے توانائی اور وسائل کو فارغ کر دیا اور سرکاری شعبے میں بہت سی اسامیاں ختم کر دیں۔
وزیر برائے بنیادی صنعت یادرا گارشیا کو سرمایہ کاری اور پیداوار کے لئے رکھے گئے وسائل پر کمزور کنٹرول کی وجہ سے سے فارغ کیا گیا۔
21 اگست کو یوکرائن کے وزیر Yury Lutsenko کو عدالتی فیصلوں پر عمل نہ کرنے اور پھر بیلٹ پیپرز شائع کرنے والی پرنٹنگ پریس پر حملے کے وقت کارروائی نہ کرنے پر عہدے سے فارغ ہوتا پڑا۔
13 جون کو بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نواب رئیسانی نے پی پی کے صوبائی وزیر جعفر جارج کو لاہور کے ایک تھیڑ میں غنڈہ گردی کے الزامات پر فارغ کر دیا تھا۔ وزیر اعلیٰ نے پنجاب حکومت کی رپورٹ کی روشنی میں آئین کے آرٹیکل 132(3) کے تحت اپنے اختیارات استعمال کئے تھے۔
جعفر جارج جو مذہباً مسیحی ہیں کو گرفتار کیا گیا بعدازاں رہا کر دیا گیا۔
28 مئی کو جاپانی وزیر اعظم نے Yokio Hatoyama نے اپنی وزیر برائے صارف امور Mizuho Fukushima کو امریکی اڈے Futenna کی جگہ کی تبدیلی کی قرارداد پر دستخط نہ کئے جانے پر فارغ کر دیا تھا۔
23 مارچ کو بحرین کے شاہ حماد بن عیسیٰ الخلیفہ نے وزیر منصور بن رجب کو منی لانڈرنگ کے الزامات پر فارغ کر دیا تھا۔
26 فروری کو گیمبیا کے صدر یحییٰ نے اپنی وزیر انصاف Marie Saine Firdous کو فارغ کر دیا۔
18 فروری کو بہار کے وزیر اعلیٰ نتیشن کمار نے اپنے وزیر ایکسائز جمشید اشرف کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے کچھ ملازمین کے بارے میں مالیاتی سکینڈل میں ملوث ہونے کا بیان دینے پر فارغ کر دیا۔ قبل ازیں اشرف کے نام ایک خفیہ خط میں وزیر اعلیٰ نے ان کو کہا تھا کہ انکوائری کے بعد کسی بے ضابطگی کے سامنے نہ آنے پر اب مستعفی ہو جائیں۔ کمار نے اپنے خط میں کہا تھا کہ ”الزامات بدقیمتی، شان کے خلاف، بدنیتی پر مبنی اور وزیر کے لئے نامناسب ہیں“۔
10 فروری کو نائیجیریا کے وزیر انصاف کو اس وقت کے قائم مقام صدر Goodluck Jonatham نے فارغ کر دیا۔ Anakakaa ان وزراءمیں سے ایک تھے جو صدر Umaru Yar Adua کی دو ماہ کے لئے غیر موجودگی میں Janotham کو اختیارات کی مستعفی کے خلاف تھے۔
5 فروری کو برونڈی کے وزیر برائے جنیڈرو انسانی حقوق Rose Nduwayo کو بطور استاد اور وزیر دو جگہوں سے 3 سال تک تنخواہ لینے پر فارغ کر دیا گیا۔ یہ تین صرف 3 ہزار ڈالر تھا جو کہ پاکستان میں لئے جانے والے اعداد و شمار سے بہت زیادہ مختلف ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,982 مراسلہ میں 8,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 42
Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کورٹ, پاکستان, وزیر, وزیراعظم, نظر, الزام, اسلام, استاد, اعلیٰ, تحریری, جھوٹ, خلاف, درخواست, سال, عیسیٰ, عدالت, صوبے, صوبائی, صنعت, صابر, صارف, صدارتی, صدر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
افغانستان : نیٹو کا سب سے زیادہ نقصان 2010ء میں ہوا‘ 709 فوجی ہلاک ہوئے: رپورٹ ALI-OAD خبریں 3 02-01-11 11:24 PM
2010ء: پاکستانی سفیر حسین حقانی واشنگٹن کی نمایاں شخصیات میں شامل گلاب خان خبریں 0 26-11-10 03:49 AM
ماہنامہ پاکستان کی آواز - جون 2010ء - یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں! ھارون اعظم پاک میگ 19 22-09-10 08:23 PM
ماہنامہ پاکستان کی آواز - اگست 2010ء - یہاں سے ڈاؤن لوڈ کریں! ھارون اعظم پاک میگ 4 14-09-10 06:59 PM
سیلاب کی تباہی 11-2010ء میں مہنگائی کی شرح 25 فیصد ہوجائیگی، وزارت خزانہ کی جائزہ رپورٹ گلاب خان خبریں 0 23-08-10 03:21 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger