واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


260ارب ڈالر مالیت سونے کی کان کوڑیوں کے دام بیچنے کی تیاریاں

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 03-11-10, 04:31 AM   #1
260ارب ڈالر مالیت سونے کی کان کوڑیوں کے دام بیچنے کی تیاریاں
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 03-11-10, 04:31 AM

سابق وزیر خزانہ بتا چکے ہیں کہ سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا تو بلوچستان میں ریکو ڈک کی اس کان کی مجموعی قیمت ایک کھرب ڈالر ہوجائےگی، لائسنس کے حصول کےلئے چھپ کر حکومت پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے


شاہین صہبائی:
واشنگٹن ........ گزشتہ ہفتے نہایت ہی خاموشی کے ساتھ اور میڈیا سے چھپ کر دنیا کے دو بڑے سونے کی کان کنی کے گروپس سے تعلق رکھنے والے 20 کے قریب سربراہان اور ان کے لابسٹس صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر کے ساتھ اسلام آباد میں بات چیت میں مصروف رہے اور ان پر زور دےتے رہے کہ بلوچستان ریکو ڈک کے مقام پر موجود 260 ارب ڈالرز مالیت کی سونے اور تانبے کے ذخائر کی دنیا کی سب سے بڑی کان ان کی کمپنی کو دی جائے اور وہ بھی کوڑیوں کے دام۔ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی خاطر پاکستان آنے سے قبل کان کنی کے شعبے کے یہ بڑے تاجر اپنے آڑھتیوں (Middle-men) کے ذریعے پس پردہ مذاکرات میں مصروف رہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے چند اہم اور چونکا دینے والی تبدیلیاں ہوتی محسوس کی گئیں جس سے ماہرین اور دنیا بھر میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ افراد حیران و پریشان ہوگئے۔ یہ کمپنیاں چاہتی ہیں کہ ذخائر تلاش کرنے کے لائسنس کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی پاکستان جلد از جلد انہیں کان کنی کا لائسنس دیدے۔ لیکن اس میں کئی قانونی رکاوٹیں موجود ہیں لہٰذا مقاصد کے حصول کےلئے چھپ کر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ایسے کئی کھیل کھیلے گئے ہیں جس میں اتنے بھاری بھر کم خزانوں میں پاکستان کا حصہ انتہائی کم سے کم رکھنے کی کوششیں کی گئی ہیں۔ اس کےلئے ان لالچی سیاست دانوں اور بیوروکریٹس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے جنہوں نے اپنے ملک کی قدرتی دولت کو بیچا ہے۔ کئی دستاویزات کے بغور مشاہدے، بڑے کھلاڑیوں کے بیانات، اسٹیک ہولڈرز اور کامپی ٹیٹرز، وزیراعلیٰ بلوچستان سمیت اہم ترین حکومتی شخصیات سے بات چیت کے بعد جو تصویر بن رہی ہے وہ اس قدر مبہم اور بوکھلا دینے والی ہے کہ عام آدمی سوچ بھی نہیں سکتا کہ آخر یہ ہو کیا رہا ہے۔ صرف تفصیلی عدالتی تحقیقات ہی اس گتھی کو سلجھا سکتی ہے۔ دستاویزات کے پلندے کے مشاہدے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً ہر شخص ایک دوسرے کو دھوکا دینے میں مصروف ہے، حقیقی تصویر کبھی پیش نہیں کی جاتی، میڈیا میں گمراہ کن بیانات اور متضاد دعوے کئے گئے، اس ایشو کو مبہم رکھا گیا جبکہ پس پردہ یہ معاہدہ آہستگی کے ساتھ حتمی شکل اختیار کر رہا تھا۔ نیویارک میں کان کنی کے شعبے سے وابستہ ایک کارپوریٹ ایگزیکٹو کے مطابق ”چونکہ ملک میں نیب کی طرح کوئی تحقیقاتی ایجنسی نہیں ہے اور صرف سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کے پاس مختلف معاملات کا نوٹس لینے کا اختیار ہے کہ وہ ٹھیکوں اور معاہدوں کے معاملے میں امتناع جاری کریں، اس لئے چھپ کر ایسے معاہدے کئے جاتے ہیں جس سے پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہو رہا ہے“۔ مذکورہ کارپوریٹ ایگزیکٹو کی کمپنی کے چیئرمین ایک ایماندار شخص ہیں اور وہ تین مرتبہ امریکی کانگریس کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔ اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ ”ریکو ڈک کا اسکینڈل ایک ارب ڈالر مالیت کی 260 اسٹیل ملوں یا 350 ملین ڈالرز کی 550 اسٹیل ملوں کے برابر ہے۔ یہ وہی قیمت ہے جس پر سابق حکومت پاکستان اسٹیل مل فروخت کررہی تھی لیکن سپریم کورٹ نے پہلے ہی اس اقدام پر روک لگا دی“۔ واشنگٹن سے تعلق رکھنے والے کان کنی کے شعبے کے ایک ماہر کے مطابق اگر پاکستان کو کان سے سونے اور تانبے کا جائز حصہ ملے تو بلوچستان اور پاکستان کسی بھی تیل پیدا کرنے والی خلیجی ریاست سے زیادہ بلکہ بہت زیادہ امیر ہوجائے گا۔ ”ان کے پاس دولت ہے لیکن صرف ہمت کی ضرورت ہے“۔ بلوچستان کے علاقے چاغی میں دریافت ہونے والی یہ کان ”ریکو ڈک“ اسی ارضیاتی پٹی کا حصہ ہیں جو افغانستان میں حال ہی میں دریافت ہوئی تھی اور جس کے بارے میں پینٹاگون نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ دریافت ہونے والی اشیاءکی قیمت ایک کھرب ڈالر سے زیادہ ہے؛ لیکن صدر حامد کرزئی کا دعویٰ ہے کہ یہ ذخائر ایک نہیں بلکہ تین کھرب ڈالر کے ہیں۔ 13 جون 2010ءکو نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں جیمز رائزن نے لکھا تھا کہ ”امریکی ماہرین کی رائے ہے کہ لوہے، تانبے، کوبالٹ، سونے اور لیتھیم جیسی دیگر صنعتی دھاتوں کے ان ذخائر کے بارے میں پہلے علم نہیں تھا اور یہ ذخائر اس قدر بڑے ہیں اور ان میں اس قدر معدنیات موجود ہیں جنہیں آج کے جدید صنعتی دور میں استعمال کرکے افغانستان کو دنیا کے ایک بڑے کان کنی کے مرکز میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر پینٹاگون کے ایک میمو سے معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں ”لیتھیم کا سعودی عربیہ“ بننے کی صلاحیت ہے۔ لیتھیم ایک ایسی دھات ہے جو لیپ ٹاپ کمپیوٹرز اور بلیک بیری کی بیٹریاں بنانے کےلئے استعمال ہوتی ہے“۔ کان کنی کے حوالے سے اندازوں کے مطابق پاکستان میں افغانستان کے مقابلے میں بہت زیادہ معدنی ذخائر ہیں لہٰذا بند کمروں میں ہونے والے مذاکرات اور ذخائر کا سوچ کر امیروں کے دل کے مچلنے سے ان کی مالیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک ماہر کے مطابق اگر یہ ڈیل ہوگئی تو یہ معاملہ ”تمام معاہدوں کی ماں“ اور پاکستان کی تاریخ کے ”تمام کرپشن کیسز کا دادا“ تصور کیا جائے گا۔ دی نیوز کے پاس دستیاب دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی تاریخ میں ایسی لوٹ کھسوٹ کی مثال نہیں ملتی؛ جتنے بھی جھوٹ بولے گئے، سبوتاژ کرنے کی کوششیں کی گئیں؛ ان سب کو تحریری شکل دی گئی ہے۔ یہ سارا معاملہ پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوا تھا لیکن جیسے ہی اتنا بھاری بھر کم منافع کا علم پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو ہوا تو وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کےلئے تیار ہوگئی تاکہ معاہدے پر دوبارہ اور بند کمرے میں مذاکرات کئے جا سکےں۔ درحقیقت ایک آسٹریلین کمپنی نے ذخائر کی تلاش کا کام شروع کیا اور تقریباً 30 ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی لیکن 2006ءمیں یہ کمپنی کینڈا اور چلی کی ایک مشترکہ کمپنی کو 230 ملین ڈالرز میں فروخت کردی گئی۔ اس نئی کمپنی کو ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کا نام دیا گیا۔ کینیڈین اور چلی کی کمپنی نے جو معلومات اپنے اسٹیک ہولڈرز اور ریگولیٹرز کو کھل کر فراہم کی وہ یہ تھی کہ دونوں کمپنیوں میں سے ہر ایک کے پاس 37.5 فیصد شیئرز ہیں جبکہ باقی 25 فیصد حصہ پاکستان کا ہے۔ بڑے ذخائر دیکھ کر ٹی سی سی نے سرمایہ کاری کی حد بڑھا کر 500 ملین (50 کروڑ ) ڈالرز کردی گئی۔ پاکستانی حصہ حکومت بلوچستان کی ملکیت ہے جبکہ وفاقی حکومت کا اس پروجیکٹ میں کوئی حصہ نہیں۔ ان غیر ملکی کمپنیوں کو 100 فیصد اونر شپ پر ایکسپلوریشن کےلئے 2 لائسنس بھی جاری کئے گئے؛ اس میں پاکستان (یا بلوچستان) کا کوئی حصہ نہیں تھا۔ یہ سارا کام پرویز مشرف کے دور میں کیا گیا اور بیوروکریٹس نے پاکستانی مفادات کے ساتھ بھدا مذاق کیا۔ وہ حامد کرزئی کے وزیر کان کنی کے ساتھ مقابلے کی کوشش کر رہے تھے جو دبئی کے بینک میں 30 ملین ڈالرز رکھواتے ہوئے پکڑے گئے؛ افغان وزیر کو بعد میں برطرف کردیا گیا تھا۔ 18 نومبر 2009ءکو واشنگٹن پوسٹ میں شایع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ”افغان وزیر نے ملک کے بڑے ترقیاتی منصوبے کا ٹھیکہ چینی مائننگ فرم کو دینے کےلئے 30 ملین ڈالرز کی رشوت لی تھی“۔ امریکی عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے واشنگٹن پوسٹ نے لکھا تھا کہ افغان وزیر محمد ابراہیم عادل کو چائنیز میٹا لرجیکل گروپ کو ٹھیکہ دیئے جانے کے ایک ماہ بعد دسمبر 2009 میں مبینہ ادائیگی دبئی میں کی گئی۔ چائنیز کمپنی کو 2.9 ارب ڈالرز کا ٹھیکا دیا گیا جس کے تحت اسے لوگر صوبے میں ایانک کے ذخائر سے تانبہ نکالنا تھا۔ ایانک میں دنیا کے تانبے کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ پاکستان کو کبھی بھی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے دریافت کئے گئے سونے اور تانبے کے ذخائر کی اصل مقدار نہیں بتائی گئی ۔ حتیٰ کہ رواں سال جولائی تک مسٹر آرون ریجنٹ کی زیر قیادت کینیڈین کمپنی کے اعلیٰ وفد نے جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے اسلام آباد میں ملاقات کی تو گیلانی صاحب کو بتایا گیا کہ اس پروجیکٹ سے 40 سال تک حکومت پاکستان کو صرف 3.5 ارب ڈالرز اور حکومت بلوچستان کو صرف 4.5 ارب ڈالرز کی آمدنی ہوگی۔ لیکن کینیڈین کمپنی کو اپنی کینیڈین حکومت کو ہر سال ذخائر کی حقیقی قیمت سے آگاہ کرنا ہوتا ہے اور 31 دسمبر 2008ءکو کینیڈین کمپنی نے ان ایجنسیوں اور اپنے اسٹیک ہولڈرز کو بتایا کہ اندازے کے مطابق ریکو ڈک میں اس کے 37.5 فیصد حصے کے نتیجے میں اسے 17 ملین اونس سونا اور 20 ارب پاﺅنڈ تانبا ملے گا اور یہ ذخائر 25 برس میں نکالے جا سکیں گے جبکہ پاکستانی وزیراعظم کو 40 برس کا عرصہ بتایا گیا۔ موجودہ قیمتوں کو مد نظر رکھا جائے تو کینیڈین، چلی اور پاکستانی حکومت کے اثاثوں کی مشترکہ قدر 260 ارب ڈالرز ہوگی اور سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کے مطابق جیسے ہی سونے اور تانبے کی قیمتیں بڑھیں گی تو مجموعی آمدنی 500 ارب یا پھر ایک کھرب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔ 2008ءمیں پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں نے اکھاڑے میں قدم رکھا اور 25 دسمبر 2009ءکو حکومت بلوچستان نے ریکو ڈک معاہدے کی منسوخی کا اعلان کیا۔ صوبائی کابینہ نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا یعنی اس کا مطلب یہ تھا کہ پوری بلوچستان اسمبلی کا بھی یہی فیصلہ تھا۔ کابینہ نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ کینیڈین کمپنی کو ذخائر ڈھونڈنے کےلئے دیئے گئے لائسنس میں مزید توسیع نہیں کی جائے گی اور مزید تلاش کےلئے کوئی لائسنس جاری نہیں کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی نے اس موقع پر کہا تھا کہ ”ریکو ڈک کے تانبے اور سونے کے پروجیکٹ کی منسوخی صوبائی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنے کی جانب ایک قدم ہے اور یہ فیصلہ عوام کی خواہشات کا عکاس ہے“۔ اس معاملے پر جو اہم بیان دیا گیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اتحادی پارٹنرز (اسے پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری سمجھا جائے) کے ساتھ مشاورت کی تھی۔ 2008ءاور 2009ءمیں رئیسانی کے فیصلے سے قبل، پرویز مشرف کے دور میں صوبے کے سابق وزیراعلیٰ جام یوسف نے 2007ءکے اوائل میں چلی اور کینیڈا کا دورہ کیا تھا۔ یہ معلوم نہیں کہ ان کے دورے کا مقصد کیا تھا لیکن اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وزیراعلیٰ صاحب ایک کمپنی کے کارپوریٹ ہیڈکوارٹرز کا دورہ کرنے کیوں گئے تھے۔ رواں سال کے اوائل میں رئیسانی صاحب نے یہ معاملہ صوبے کے محکمہ برائے مائنز اینڈ منرلز ڈویلپمنٹ کے سپرد کردیا اور نامور سائنس دان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی خدمات حاصل کی گئیں؛ انہیں اس کے بورڈ آف گورنرز کا سربراہ بنایا گیا۔ جولائی 2010ءمیں کینیڈین کمپنی کے سربراہ کے دورہ اسلام آباد کے بعد وزیراعلیٰ رئیسانی اور وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور قدرتی وسائل نے وفاقی حکومت پر دباﺅ ڈالنا شروع کردیا کہ وہ جلد ہی ریکوڈک کے متعلق کوئی فیصلہ کرلے۔ کئی افسران کا ان کے عہدوں سے تبادلہ کردیا گیا۔ اکتوبر میں ایک حیران کن خط میں وزیراعلیٰ صاحب نے صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم گیلانی سے کہا کہ وہ حتمی فیصلہ لینے کےلئے ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس بلائیں۔ ایسا لگتا ہے کہ دہرا کھیل پہلے ہی شروع ہوچکا تھا۔ لیکن اسلام آباد میں صدر زرداری سے ملاقات سے قبل دبئی میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے 25 اکتوبر 2010ءکو اعلان کیا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے منسوخی کے باوجود ریکوڈک کا منصوبہ اپنے طے شدہ پلان کے تحت آگے بڑھے گا۔ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر گیرہارڈ وان بوریز نے ایک تقریب میں کہا کہ پروجیکٹ اپنے پلان کے مطابق چلے گا اور منسوخ نہیں ہوگا، ہم اب حکومت سے بات کر رہے ہیں اور امید ہے کہ 2015ءکے آخر تک پیداوار شروع ہوجائے گی۔ اکتوبر میں اسلام آباد دورے سے ایک ماہ قبل، کمپنی نے 3.3 ارب ڈالر کے ایک لاکھ صفحات پر مشتمل فزیبلٹی رپورٹ جمع کرائی اور کل قیمت 3.3 ارب ڈالرز بتائی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سونا اور تانبا نکالنے کےلئے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر پر یہ 3.3 ارب ڈالرز خرچ ہوں گے۔ یہ رپورٹ لکھنے میں تین سال کا وقت لگا اور ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے بورڈ کو اس رپورٹ کا فوراً جائزہ لینا تھا، شاید چند روز میں جائزہ لینا تھا۔ لیکن بورڈ آف گورنرز کی جانب سے رپورٹ پڑھنے سے پہلے ہی یکم اکتوبر 2010ءکو ایک نئی کمیٹی تشکیل دی گئی جو اب تمام فیصلے کرے گی اور شاید انتہائی جلد بازی میں۔ دنیا بھر میں 29 کانوں کی مالک کینیڈین کمپنی Barrick Gold پر پہلے ہی انٹرنیٹ پر کئی الزامات عائد کئے جا چکے ہیں۔ ان میں زہریلے مواد سائنائیڈ، پارہ اور دیگر بھاری دھاتیں بہانا، نقادوں پر دباﺅ ڈالنا، زہر خورانی، آبی وسائل کو درپیش خطرات حتیٰ کہ زنا بھی شامل ہیں۔ 2008ءمیں کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ نے بلوچستان ہائی کورٹ میں حلفیہ بیان دیا کہ کان کنی کی سرگرمیوں کےلئے بلوچستان کے وسط میں ائر پورٹ بنائے جانے سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ ائر پورٹ تو بن رہا تھا لیکن کسی اور کی پراپرٹی پر۔ یہ امریکی ایکسپلوریشن کمپنی کی زمین تھی۔ تاہم، سہ ماہی بنیادوں پر 2007ءمیں جمع کرائی گئی رپورٹس میں بیرک گولڈ نے واشنگٹن ڈی سی میں سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن کو بتایا تھا کہ اس نے پاکستان میں ائر پورٹ بنانے اور دیگر سرگرمیوں پر 30 ملین ڈالرز خرچ کئے ہیں۔ یہ وہی پٹی تھی جو پڑوسی کمپنی کی زمین پر بنائی گئی تھی۔ اب یہ معلوم نہیں ہے کہ کینیڈین کمپنی نے واشنگٹن میں سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن میں جھوٹ بولا یا بلوچستان ہائی کورٹ میں۔ لیکن امریکی کمپنی بےن وے کارپوریشن (جو اسی علاقے میں کان کنی کر رہی ہے) نے اپنی زمین پر کینڈین کمپنی کی جانب سے مداخلت کرکے فضائی پٹی بنانے کا معاملہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا اور سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن کو بھی اس معاملے سے آگاہ کردیا؛ اب سیکورٹیز ایکسچینج کمیشن اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ بدعنوانی کے نتیجے میں امریکی قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے یا نہیں۔ ممکن ہے کہ یہ پریشان کن تفصیلات عام قاری کےلئے عجیب ہوں لیکن بلوچستان ہائی کورٹ میں جمع کرائی گئی تقریباً 1050 دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو 30 سال کی لیز پر زمین دی گئی۔ یہ ایسی بات ہے جس کے بارے میں وزیراعلیٰ رئیسانی کو بھی علم نہیں ہے۔ 28 اکتوبر کو جب ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے بڑے عہدیدار اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے باسز سے ملاقات کر رہے تھے تو اس وقت بلوچستان کے وزیراعلیٰ بھی وہاں موجود تھے۔ نواب رئیسانی نے دی نیوز کے صحافی احمد نورانی کو بتایا کہ زمین دیئے جانے کا معاملہ ناممکن ہے۔ جب تک معاملات کو حتمی شکل نہیں دیدی جاتی اس وقت تک ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو اس قدر وسیع زمین لیز پر نہیں دی جاسکتی اور وہ بھی 30 سال کےلئے۔ ان سے پوچھا گیا کہ ”کیا آپ کو معلوم ہے کہ ریکوڈک کےلئے دیئے گئے لائسنس نمبر پانچ میں ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو 2لاکھ 40ہزار ایکڑ زمین دی گئی ہے اور یہ 2011ءمیں ایکسپائر ہو رہا ہے۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے یہ لائسنس محکمہ برائے منرلز اینڈ مائننگ ڈویلپمنٹ سے حاصل کیا تھا اور 24 دسمبر 2009ءکو آپ نے متفقہ طور پر صوبائی کابینہ میں فیصلہ کیا تھا کہ ایکسپلوریشن لائسنس نمبر پانچ کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ لیکن ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) 2008ءمیں 10 ملین ڈالرز کے عوض 30 سال کےلئے یہ زمین بورڈ آف ریونیو بلوچستان سے خرید کر احتیاطاً لیز کرا چکی ہے۔ 24 دسمبر 2009ءسے جو صورتحال تبدیل ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ آپ 24 نومبر 2010ءتک یا اس سے بھی پہلے ایک اور نیا معاہدہ کرنے والے ہیں؟“ ۔ اس پر وزیراعلیٰ رئیسانی، جنہیں 30 سال کے لیز کے معاملے کا علم ہی نہیں تھا، نے جواب دیا کہ ”یہ ممکن ہی نہیں کہ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) 30سال کے عرصے کےلئے اتنی بڑی زمین کا حصہ اپنے نام لیز کرالے“۔ رئیسانی صاحب نے اپنے پرسنل سیکریٹری سے کہا کہ وہ معاملے کا جائزہ لے کر انہیں درست صورتحال سے آگاہ کرے۔ اس کے بعد رئیسانی صاحب سے ان لاکھوں روپے مالیت کے چیک کے بارے میں پوچھا گیا جو انہیں کینیڈین کمپنی سے ملے تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد وہ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) یا اس سے وابستہ کمپنیوں سے کل کتنے چیک لے چکے ہیں؟ آپ کی رائے میں آپ کو یہ چیک کیوں دیئے جا رہے ہیں حالانکہ اس معاملے پر بڑا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے؟ ان سوالات کے جواب میں رئیسانی سے اعتراف کیا کہ انہیں 10ملین اور 8.5ملین روپے مالیت کے دو چیک ملے تھے۔ دونوں چیک چیف منسٹرز ریلیف فنڈ کےلئے تھے اور یہ رقم بلوچستان حکومت کے اکاﺅنٹ میں جمع کرادی گئی۔ اسلام آباد میں ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے ترجمان نے دی نیوز کو بتایا کہ ساڑھے آٹھ ملین روپے کا چیک وزیراعلیٰ بلوچستان کو 25 اگست 2010ءکو دیا تھا؛ یہ چیک وزیراعلیٰ بلوچستان کےلئے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کی خاطر دیا گیا تھا۔ لیکن رئیسانی کے پریس سیکریٹری مسٹر کامران نے دعویٰ کیا کہ یہ چیک وزیراعلیٰ بلوچستان نہیں بلکہ حکومت بلوچستان کے نام پر تھا اور اسے چیف منسٹر کے فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع کرایا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس چیک کا وزیراعلیٰ کے دفتر میں موجود ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کی فائلوں سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وزیراعلیٰ رئیسانی نے دی نیوز کو بتایا کہ 24دسمبر 2009ءکے فیصلے کے بعد ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) نے ایک نئی فزیبلٹی رپورٹ پیش کی جس کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا۔ پریس سیکریٹری کے بیان کے باوجود وزیراعلیٰ نے کہا کہ پروجیکٹ کا ٹھیکا دیئے جانے کے متعلق فیصلے کے حوالے سے کوئی حتمی تاریخ نہیں دی جا سکتی۔ وزیراعلیٰ سے ان لائسنسوں کے متعلق پوچھا گیا جس میں پاکستانی حکومت کا کوئی شیئر نہیں اور سارا حصہ غیرملکی کمپنیوں کا ہے؛ تو رئیسانی نے جواب دیا کہ جہاں تک ذخائر کی تلاش کے لائسنس کا تعلق ہے اس میں حکومت بلوچستان کے حصے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ انہوں نے کہا کہ ذخائر کی تلاش کےلئے بلوچستان حکومت کو ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کو ادائیگی کرنا پڑے گی۔ ذخائر کی مقدار کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان لاجواب نظر آئے۔ جب انہیں بتایا گیا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ کینیڈین کمپنی کے ریکارڈ کے مطابق ریکوڈک کی کل مالیت 260 ارب ڈالرز ہے ؛ سابق وزیر خزانہ بتا چکے ہیں کہ سونے اور تانبے کی عالمی قیمت بڑھنے کے نتیجے میں یہ مالیت 500 ارب ڈالرز حتیٰ کہ ایک کھرب ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے؛ لیکن جولائی میں جب بیرک گولڈ کے صدر نے وزیراعظم گیلانی سے ملاقات کی تھی تو ان ذخائر کی مالیت صرف 50 ارب ڈالرز بتائی گئی۔ آخر ایسی کون سی آفت آپڑی ہے کہ حکومت جلد بازی میں ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے حق میں فیصلہ دینے کی کوشش میں ہے؟ حیران کن جواب دیتے ہوئے رئیسانی صاحب نے کہا منصوبے کی کل مالیت 8.9 ارب روپے ہے؛ ڈالرز نہیں۔ انہوں نے سوال کے باقی حصے کا جواب نہیں دیا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا ایک لاکھ صفحات پر مشتمل فزیبلٹی رپورٹ کا جائزہ لینے کےلئے کسی غیرملکی ماہر کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں کیونکہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کا پہلا پروجیکٹ ہے۔ وزیراعلیٰ کا جواب تھا کہ ہمیں کسی غیرملکی ماہر کی ضرورت نہیں؛ ہم نے کسی غیرملکی کی خدمات بھی حاصل نہیں کیں؛ ملک میں مختلف شعبہ جات کے ماہرین موجود ہیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) سے معاہدے پر دستخط کےلئے وزیراعلیٰ بلوچستان پر دباﺅ ڈالا جا رہا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اس معاملے پر بدھ (گزشتہ ہفتے) کو صدر صاحب سے ملاقات کی ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ صدر صاحب نے آپ سے کیا کرنے کو کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ میرے اور صدر صاحب کے درمیان کا معاملہ ہے اور میں یہ نہیں بتا سکتا کہ صدر صاحب نے ٹیتھن کاپر کمپنی (ٹی سی سی) کے ساتھ معاہدے کے سلسلے میں مجھے کیا کرنے کو کہا۔ لیکن کچھ دیر تک سوچنے کے بعد انہوں نے کہا وفاقی حکومت اس ایشو پر مجھ پر دباﺅ نہیں ڈال رہی۔ ہم اس معاملے سے خود نمٹ رہے ہیں۔ اس ساری بات کا لب لباب یہ ہے کہ اب پاکستان نے سونا اور تانبہ نکالنے کےلئے ان غیر ملکی کمپنیوں کو لائسنس جاری کرنا ہیں۔ یہ سونا اربوں ڈالر مالیت کا ہے اور فی الحال اسلام آباد کی سوچ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ ان غیرملکی کمپنیوں کو ایک بڑا حصہ دینے کا خواہاں ہے۔ درحقیقت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنے پاس 70 سے 80 فیصد حصہ رکھے۔ کئی ممالک میں، جہاں بیرون ممالک میں بیٹھ کر معاہدہ کرکے غیر ملکیوں کو بڑے حصے دیئے جاتے ہیں وہ معاہدے بعد میں میزبان ممالک کے فائدے کےلئے تبدیل کئے گئے۔ آئرلینڈ، ساﺅتھ افریقہ، وینزویلا نے اپنے فائدے کےلئے کان کنی کے ٹھیکوں کا دوبارہ جائزہ لیا تھا۔ کرزئی حکومت کے افغان وزیر کی طرح صرف چند ملین ڈالرز کا لالچ رکھنے والے افراد، جن کی حرکت سے ملک کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے، کو اس بات کی اجازت نہیں دینا چاہئے کہ وہ ایسا کرے۔ یہ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اہم معاملے پر اپنا کردار ادا کریں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,982 مراسلہ میں 8,241 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 165
Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے گلاب خان کا شکریہ ادا کیا
shafresha (03-11-10), نورالدین (03-11-10), منتظمین (03-11-10), حیدر (03-11-10), عبدالقدوس (03-11-10), عبداللہ آدم (25-11-10)
پرانا 03-11-10, 07:42 AM   #2
Senior Member
 
shafresha's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2008
مقام: کراچی
عمر: 40
مراسلات: 9,661
کمائي: 254,777
شکریہ: 53,120
7,705 مراسلہ میں 22,601 بارشکریہ ادا کیا گیا
shafresha کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شئیرنگ کا شکریہ بھائی!!!!

”ریکو ڈک“ پر بدر بھائی بہت پہل ایک مضمون لکھ چکے ہیں، یقینا نئے ساتھیوں‌کے لیئے دلچسپی کا باعث‌ہوگا!!!
ریکو ڈیک کا معمہ: دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخآئر
__________________
میں‌تمھارے اس حق کے لیئے کہ تم مجھ سے "اختلاف" کرسکو، آخری وقت تک لڑوں‌گا!
shafresha آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے shafresha کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (04-11-10), نورالدین (03-11-10), حیدر (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 10:07 AM   #3
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,979
کمائي: 48,993
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

پاکستانی واقعی اپنی ماں بیچ دیتے ہیں


میری بات پر کوئی غصہ نہ کرے
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
بلال اویسی (03-11-10), حیدر (03-11-10), شمشاد احمد (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 04:00 PM   #4
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,078
شکریہ: 52,552
11,185 مراسلہ میں 35,279 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

260ارب ڈالر پاکستانی روپے میں کتنے کھرب، چرب بنتے ہیں
شاید 22525000000000روپے
او مائی گاڈ
کتنے سالوں کی پاکستانی بجٹ بنتے ہیں بھلا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-11-10, 04:07 PM   #5
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
پاکستانی واقعی اپنی ماں بیچ دیتے ہیں


میری بات پر کوئی غصہ نہ کرے
غصہ كي كوئي بات نہيں ان باتوں پر اس وقت غصہ آيا كرتا تھا جب تك يہ حركتيں كيا نہيں‌كرتے تھے۔۔۔ غالبا ايمل كانسي كے مقدمے كي سماعت كے دوران ايك امريكي وكيل نے جب پاكستاني قوم كو ماں بيچنے‌كاطعنہ كيا تھا تو ہم نے غصہ كيا تھا كيوں كہ اس وقت تك ہم يہ نہيں كيا كرتے تھے۔۔۔۔۔۔ اب تو ڈنكے كي چوٹ پر كرتے ہيں۔۔۔۔‌تو شرم كيوں۔۔۔۔ ويسے بھي ہماري روشن خيالي اور دہشت گردي كي جنگ كے خلاف اگر ہماري ماں بھي ركاوٹ ڈالے يا مخالفت كرے تو بھلا ايسي ماں كو قتل اپنے ہي ہاتھ مارنے سے بہتر نہيں كہ فروخت كر كے زر مبادلہ ميں‌اضافہ كيا جائے۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 04:07 PM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

عوام کو اس پر احتجاج کرنا چاہئے
اتنا مال و دولت اگر ہمارے ملک میں ہے تو ہم اسے ڈاکوؤں کو نہیں دینگے

ہمیں تحریک چلانی ہوگی
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 04:12 PM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں آپ کو یقین دلاتا ہوں‌

اس ملک میں اتنے وسائل ہیں کے یہاں کی عوام اگلے سو سال تک بہترین زندگی گذارسکتی ہے
لیکن " کچھ کا ٹولہ " ہمارے ان سارے وسائل پر قبضہ کرکے اپنی بوٹی کے لئے پورے بکرا ہی حلال کرنا چاہتا ہے
اس ملک کی قسمت صرف جبھی بدل سکتی ہے جب ہم " کچھ کے ٹولے " سے نجات حاصل کرلیں
اس سے پہلے کے ہمارے بچوں کا مستقبل ویران ہو ہمیں یہ اسٹیپ لینا پڑے گا

یاد رکھیں
اس ملک کو صرف ہم ٹھیک کرسکتے ہیں
صرف ہم
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
گلاب خان (04-11-10), حیدر (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 04:17 PM   #8
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,078
شکریہ: 52,552
11,185 مراسلہ میں 35,279 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس سال کا پاکستانی بجٹ 39.3بلین ڈالرز کا ہے۔ اور یہ ذخیرہ 260 بلین ڈالرز کا۔ یعنی کم از کم 5 سال کا پاکستانی بجٹ۔وہ بھی سونے کی صرف ایک کان میں۔
ہر شاخ پہ خون آشام چمگادڑیں بیٹھی ہیں؛انجام گلستان کیا ہو گا
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-11-10, 04:21 PM   #9
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,078
شکریہ: 52,552
11,185 مراسلہ میں 35,279 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں‌

اس ملک میں اتنے وسائل ہیں کے یہاں کی عوام اگلے سو سال تک بہترین زندگی گذارسکتی ہے
لیکن " کچھ کا ٹولہ " ہمارے ان سارے وسائل پر قبضہ کرکے اپنی بوٹی کے لئے پورے بکرا ہی حلال کرنا چاہتا ہے
اس ملک کی قسمت صرف جبھی بدل سکتی ہے جب ہم " کچھ کے ٹولے " سے نجات حاصل کرلیں
اس سے پہلے کے ہمارے بچوں کا مستقبل ویران ہو ہمیں یہ اسٹیپ لینا پڑے گا

یاد رکھیں
اس ملک کو صرف ہم ٹھیک کرسکتے ہیں
صرف ہم
چچا بھائی ۔۔۔میں بیہوش ہو رہا ہوں یار۔
اللہ کرے یہ رپورٹ جھوٹی ہو ۔ آمین چُم امین ایک دفعہ پھر آمین
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 03-11-10, 04:38 PM   #10
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
پاکستانی واقعی اپنی ماں بیچ دیتے ہیں


میری بات پر کوئی غصہ نہ کرے
کیا آپ پاکستانی ہیں اور ہیں تو کیا آپ بھی

میری بات پر کوئی غصہ نہ کرے
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (03-11-10), حیدر (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 04:51 PM   #11
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,979
کمائي: 48,993
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : بلال اویسی مراسلہ دیکھیں
کیا آپ پاکستانی ہیں اور ہیں تو کیا آپ بھی

میری بات پر کوئی غصہ نہ کرے
سمجدار کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے
کیا میں سارے پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں
محمدخلیل آف لائن ہے   Reply With Quote
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی (03-11-10)
پرانا 03-11-10, 05:03 PM   #12
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
سمجدار کو اشارہ ہی کافی ہوتا ہے
کیا میں سارے پاکستانیوں کی بات کر رہا ہوں
آپ نے کوئی خاص پاکستانی علیٰحدہ نہیں کیئے۔ اس لئے پاکستانی تمام ہی ذہن میں آتے ہیں۔ شکریہ
بلال اویسی آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
فروخت, کورٹ, پوسٹ, پاکستان, پاکستانی, وزیر, وزیراعظم, قدم, نیوز, نظر, موجودہ, منصوبہ, ممکن, معلوم, آج, انٹرنیٹ, اسلام, تلاش, جھوٹ, دبئی, دریافت, سیاست, سائنس, علی, صدر زرداری


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا سوچتے ہو، پھولوں کی رت بیت گئی، رُت بیت گئی خرم شہزاد خرم شعر و شاعری 3 21-12-10 04:54 PM
تیری الجھن کا حل یہ سوچا ھے gorgeous شعر و شاعری 2 09-11-09 10:17 AM
سڈنی: بتیاں بجھانے کی عالمی مہم محمدعدنان دلچسپ اور عجیب 1 05-11-08 01:08 AM
فاروق ستار کا قتل وغارت کا الزام،شعیب سڈل نے لیگل نوٹس تیار کرنے کی ہدایت عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:04 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:40 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger