متاثرین کی بڑی تعداد گندے پانی میں پھنسی ہے جس سے بیماریاں پھیل رہی ہیں‘ مارٹن موگوانجے
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) یونیسف اور اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کی کوشش سے سیلاب زدہ علاقوں میں 25لاکھ افراد تک صاف پانی کی فراہمی ممکن کردی ہے جبکہ ابھی تک 35لاکھ افراد گندہ پانی استعمال کررہے ہے۔ اقوام متحدہ کے چیف کوارڈینیٹر مارٹن موگوانجے نے بتایا ہے کہ سیلاب متاثرین کی بڑی تعداد ابھی تک انتہائی گندے پانی میں پھنسی ہوئی ہے۔ جس کی وجہ سے جراثیمی امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ بریفنگ کے دوران بتایاگیاکہ یونیسف نے اب تک 750000 افراد تک صاف پانی فراہم کیا ہے جبکہ 18لاکھ افراد کو دیگر امدادی اداروں نے صاف پانی فراہم کیا ہے۔ یونیسف کی کیرن ایلن نے بتایا کہ ابھی تک لاکھوں افراد صاف پانی سے محروم ہیں ان تک صاف پانی کی فراہمی کے حوالہ سے کوششیں جاری ہیں۔ ابھی کیرن ایلن نے بتایا کہ موجودہ ہفتہ میں یونیسف نے پانی صاف کرنے کے 13یونٹ فراہم کئے ہیں۔ جن کو پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں نصب کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 325000 افراد تک ضروری کٹس فراہم کی ہیں۔ اسکے علاوہ 268000 بکیٹس 78000جیری کیس اور 76000 صابن دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پانی والے علاقوں میں پیچس کے امراض تیزی سے پھیل رہے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے پال گارووڈ نے کہاکہ سیلاب زدہ علاقوں میں مسائل کی وجہ سے صحت کو چیلنج پیدا ہورہے ہیں۔ عالمی اداروں کی طرف سے انسانی آبادی کو مہلک بیماریوں سے بچانے کیلئے اقدامات ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ 32لاکھ افراد کو صحت کے مراکز سے ادویات مل سکی ہیں۔ اس کے علاوہ ملیریا کے بھی 65ہزار مریض ریکارڈہوئے ہیں۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی کی خبر