واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


4 گر وہ مجھے مارنا چاہتے تھے ،5 لاکھ ڈالر کے عوض حر یف سیاسی جماعت کے 3 افراد کی خدمات حاصل کی گئیں ،بینظیرکتاب کے اقتباسات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 04-02-08, 06:23 AM   #1
4 گر وہ مجھے مارنا چاہتے تھے ،5 لاکھ ڈالر کے عوض حر یف سیاسی جماعت کے 3 افراد کی خدمات حاصل کی گئیں ،بینظیرکتاب کے اقتباسات
عبدالقدوس عبدالقدوس آف لائن ہے 04-02-08, 06:23 AM

کراچی (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی شہید چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ پرویز مشرف حکومت مجھ پر حملے کے خطرے سے آگاہ تھی، انہیں منصوبہ سازوں کے نام اور ٹیلی فون نمبر تک معلوم تھے، حتیٰ کہ ان کی اپنی پارٹی اور قریبی حلقے کے ان لوگوں کے بارے میں بھی پتا تھا جو ہمارے خیال میں اس سازش میں شریک ہیں۔ ہماری بار بار کی درخواستوں کے باوجود بھی ہمیں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملی کہ میری واپسی سے قبل ان لوگوں کے خلاف کوئی قدم اٹھایاگیا ہے۔ صدر پرویز کو میری حفاظت اور سیکورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق تھی لیکن ان کے حامیوں نے میری زندگی کے تحفظ کے لیے بہت ہی معمولی سے اقدامات کیے۔ صدر پرویز مشرف اور ایک دوست مسلم ملک نے بتایا تھا کہ چار مختلف گروہ مجھے قتل کرنے کی کوشش کریں گے، ان میں بیت اللہ محسود کا بھیجا گیا گروپ، اسامہ بن لادن کے صاحبزادے 16سالہ حمزہ بن لادن کا گروپ، لال مسجد کے عسکریت پسند اور کراچی کا ایک عسکریت پسند گروہ شامل ہے۔ میں جانتی تھی کہ پاکستانی معاشرے کے وہی عناصر جنہوں نے میرے والد ذوالفقار علی بھٹو کو تختہٴ دار تک پہنچانے میں کردار ادا کیا اور جمہوریت کو خاتمے سے دوچار کیا، اب بھی وہی لوگ میرے خلاف صف آراء ہوچکے ہیں۔ برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز نے بے نظیر بھٹو کی کتاب کے اقتباسات شائع کیے ہیں جن میں بعض اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی کتاب میں 18 اکتوبر 2007ء کو پاکستان واپسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا میری وطن واپسی کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کی گئی، صدر مشرف نے مجھے نجی ملاقاتوں میں بتایا کہ مجھے الیکشن کے بعد پاکستان واپس آنا چاہیے۔ لیکن جب یہ واضح ہوگیا کہ میں ہر قیمت پر پاکستان واپس جاوٴں گی تو پھر میرے عملے کو صدر مملکت کا یہ پیغام ملا کہ میں عوامی اجتماع یا جلوس میں شرکت نہ کروں، ایرپورٹ پر اترنے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے براہ راست بلاول ہاوٴس چلی جاوٴں، صدر نے کہا کہ وہ میری سیکورٹی اور تحفظ کے حوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں لیکن ان کے حامیوں کو میرے تحفظ کے لیے جو کچھ کرنا چاہیے تھا انہوں نے بہت ہی کم اقدامات اٹھائے۔ ہمیں موبائل سگنل جام کرنے والے آلات و سڑکوں پر روشنی چاہیے تھی، میرے قافلے کے راستے میں خالی کھڑی گاڑیوں کو ہٹائے جانے کی ضرورت تھی اور بطور سابق وزیراعظم میرے تحفظ کے لیے یہ اقدامات میرا حق تھے۔ مجھے یہ صدر پرویز کے پیغامات سے یہ بات معلوم ہوچکی تھی کہ میری واپسی کے فوری بعد صوبہ سرحد و قبائلی علاقوں سے بھیجے جانے والے خودکش سکواڈ میرے قتل کی کوشش کریں گے۔ مجھے مشرف حکومت اور برادر مسلم ملک نے چار خودکش بمبار گروہوں کے بارے میں بتایا۔ میں نے صدر پرویز کو ایک خط بھی لکھا تھا جس میں انہیں بتایا کہ اگر عسکریت پسند مجھے قتل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو اس کی ذمے داری آپ کی حکومت میں موجود ان کے حمایتیوں پر ہوگی جن کے بارے میں میں بتا چکی ہوں کہ وہ مجھے راستے سے ہٹانے کے درپے ہیں تاکہ میری وجہ سے ان کے اقتدار کو لاحق خطرات ختم ہوجائیں۔ جس وقت میں پاکستان پہنچی، اس وقت بھی جنرل صاحب کے لوگ میری وطن واپسی کے خلاف تھے، وہ یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ میں بانی پاکستان قائداعظمم محمد علی جناح کے مزار کے سائے میں عوامی اجتماع سے خطاب کروں لیکن میں جانتی تھی کہ جو لوگ جمہوریت اور میری لیڈر شپ پر یقین رکھتے ہیں وہ کراچی کی سڑکوں پر میرے منتظر ہیں، جب شام کے سائے منڈلانے لگے، روشنی کو اندھیرے نے جذب کرنا شروع کیا اور جب میرے بکتر بند ٹرک کے قریب تک عوام کا جم غفیر پہنچ گیا تو میں نے یہ بات واضح طور پر نوٹ کی کہ سڑک پر نصب سٹریٹ لائٹیں بند ہونا شروع ہوگئیں اور بالآخر مکمل اندھیرے نے اپنے ڈول ڈال دیے، ایسا لگا کہ سگنل جام کرنے والے آلات نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ میرے شوہر آصف علی زرداری دبئی میں موجود تھے، وہ میری ریلی کی براہ راست کوریج ٹیلی وژن پر دیکھ رہے تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بلٹ پروف ٹرک کے اوپر سے عوام کی طرف براہ راست نظر میں نہ آوٴں لیکن میں نے ان سے کہا کہ نہیں! مجھے اگلے حصے میں ہی رہنا ہوگا اور عوام کے جوش و جذبے کو آگے بڑھانا ہے۔ کوئی گیارہ بجے کے قریب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پرچم والے لباس میں ملبوس ایک شخص کو دیکھا جس نے ایک مبینہ بچے کو اٹھایا ہوا تھا، وہ بچے کو میری گود میں دینا چاہتا تھا جو بمشکل ایک یا دو برس کا ہوگا، میں نے لوگوں سے کہا کہ اس شخص کو میرے قریب آنے دو لیکن جب مجمعے نے اس کے لیے راستہ بنایا تو وہ آگے نہیں بڑھا لیکن اس نے مجمعے میں موجود کسی اور شخص کو بچہ دینے کی کوشش کی تاکہ اسے مجھ تک پہنچا دیا جائے لیکن میں نے اس خطرے کے پیش نظر کہ کہیں بچہ زمین پر نہ گرجائے اس شخص کو آگے آنے کے لیے کہا۔ اسے بالآخر سیکورٹی گارڈز نے روک لیا میں نے ان سے کہا کہ اسے ٹرک پر آنے دو، لیکن اسی وقت میں ٹرک کے نچلے حصے میں چلی گئی، اب ہمیں شبہ ہے کہغ بچے کے کپڑوں میں دھماکہ خیز مواد بھرا ہوا تھا۔ میں نے پی پی پی کی پولٹیکل سیکریٹری ناہید خان سے ٹرک کے اندرونی حصے میں اپنی مجوزہ تقریر کے بارے میں گفتگو شروع کی، ابھی میں لفظ ’دہشت گرد‘ پر پہنچی ہی تھی کہ زوردار دھماکہ ہوا، پھر پچاس سیکنڈ کے بعد ہی دوسرا زوردار دھماکہ ہوا، اور پھر وہ سب کچھ ہوا جو بہت ہی دردناک اور افسوس ناک تھا۔ مجھے بالآخر بلاول ہاوٴس پہنچا دیا گیا۔ میں نے اپنے شوہر سے بات کی اور انہیں بتایا کہ میں زخمی نہیں ہوں لیکن میں اپنے بچوں سے بات نہیں کرسکی، شکر ہے کہ وہ سونے کیلئے چلے گئے تھے اور انہوں نے دھماکہ نہیں دیکھا تھا۔ بعد میں مجھے لاہور کے ایک ایسے اجلاس کے بارے میں بتایا گیا جس میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق مخالف سیاسی جماعت کے تین افراد کو پانچ لاکھ ڈالر کے عوض اس کام کے لیے تیار کیا گیا، ان کے نام اعجاز، سجاد تھے، تیسرے کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ جب کراچی میں بم دھماکہ ہوا تو ان میں سے ایک مارا گیا کیونکہ وہ وہاں سے بروقت نکل نہیں پایا۔ خیال ہے کہ یہ وہی شخص تھا جس نے میری گود میں بچہ ڈالنے کی کوشش کی۔ بہرحال بم بنانے کے لیے بم ساز کی ضرورت ہوتی ہے۔ میرے ذرائع کے مطابق یہاں پر قاری سیف اللہ اختر منصوبے میں داخل ہوتا ہے، لاہور میں حکام نے اختر سے مدد طلب کی اور انہیں اپنے مطلب کا آدمی مل گیا۔ کراچی کا دھماکہ آرمی کنٹونمٹ کے علاقے میں ہوا اور جیسے ہی فوجی اہلکار جائے سانحہ پر پہنچے تو زخمیوں نے ان پر آوازے کسے۔ یہ بات غلط ہو یا صحیح لیکن پاکستان میں یہ تصور ہے کہ عسکریت پسندی کی ذمے داری فوج پر ہی عائد ہوتی ہے۔ پاکستان کی ساٹھ سالہ تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو وہ جمہوریت کے لیے ایک قدم آگے بڑھا اور کئی قدم پیچھے ہٹ گیا۔ متوسط طبقہ کے بغیر جمہوریت برقرار نہیں رہ سکتی، تعلیمی نظام قوموں کی تشکیل میں مدد دیتا ہے لیکن پاکستان میں فوج پر ہر برس 4.5بلین ڈالر خرچ ہوتے ہیں جو تعلیم کے مقابلے میں 14سو گنا زیادہ ہے۔ پاکستان میں مدرسوں کی بہتات اس لیے نہیں ہوئی کہ پاکستانی عوام انتہائی مذہبی ہوگئے بلکہ مدرسوں نے ان والدین کی غربت سے فائدہ اٹھایا جو اپنے بچوں کے لیے بہتر تعلیم و تربیت کے لیے پریشان تھے، ان سیاسی و فوجی تربیت گاہوں نے ابتدائی تعلیم پر بہت کم رقم اور وقت صرف کیا۔ انہوں نے بچوں کی برین واشنگ کے لیے مذہب کو استعمال کیا اور انہیں غیر ریگولر آرمی کے جوانوں میں تبدیل کرڈالا۔ انہیں نفرت اور تشدد کی تعلیم دی گئی، انہوں نے سائنس دانوں کے بجائے دہشت گرد تیار کیے۔ اسلام اور مغرب کے درمیان تنازع پر میں ایک تصفیہ کار ہوں، جو لوگ تہذیبوں کے تصادم کے خیال کے حامی ہیں انہوں نے اسلام کو جمہوریت کے مخالف کے روپ میں پیش کیا حالانکہ یہ بات قرآن و علما کی تعریفوں کے لحاظ سے درست نہیں ہے۔
__________________
http://voobuzz.com
it's the place where you can talk about things you find interesting, Share updates, photos, videos, and more.

 
عبدالقدوس's Avatar
عبدالقدوس
Administrator

تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 263
Reply With Quote
جواب

Tags
کراچی, پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیراعظم, قدم, قرآن, نفرت, نیوز, نظر, موبائل, منصوبہ, مسجد, معلوم, بے نظیر, بچوں, خودکش, دھماکہ, دوست, دبئی, ذوالفقار علی بھٹو, راستہ, زرداری, سائنس, علی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
نیا سیاسی منظر نامہ، بابر اعوان کا شجاعت اورپرویز الٰہی سے فون پر رابطہ گلاب خان خبریں 0 15-12-10 05:14 AM
کوئٹہ میں فائرنگ سے سیاسی جماعت کے سربراہ ہلاک، واقعہ کے بعد ہنگامہ آرائی شروع ابن جلال خبریں 2 26-01-09 04:35 PM
سیاسی مفاہمت عوام کے خلاف سیاستدانوں کا اتحاد ہے ، جماعت السنہ عبدالقدوس خبریں 0 02-07-08 12:49 PM
کسی سیاسی جماعت کو وکلا تحر یک پر اثر انداز نہیں ہو نے دینگے،بار کونسلوں ک عبدالقدوس خبریں 0 22-06-08 08:42 PM
چوہدری شجاعت اور پیر پگارا میں مفاہمت وزیراعظم کی سیاسی مہارت کی عکاس عبدالقدوس خبریں 0 28-10-07 09:40 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger