|
8اکتوبر2005 زلزلہ۔۔۔۔۔تیسری برسی۔۔۔۔۔۔۔۔۔خصوصی کوریج

08-10-08, 12:22 AM
آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں تباہ کن زلزلہ میں جاں بحق ہونے والے 75 ہزار سے زائد شہریوں کی تیسری برسی (آج) منائی جائے گی
دن کا آغاز زلزلہ میں شہید ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور خصوصی دعائوں سے ہو گا
مختلف سیاسی، سماجی، فلاحی، ادبی اور دوسری تنظیمیں خصوصی تقاریب کا اہتمام کریں گی
8 اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلہ سے آزاد کشمیر، صوبہ سرحد اور اسلام آباد میں بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلی تھی
اسلام آباد …………آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد میں 8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلہ میں جاں بحق ہونے والے 75 ہزار سے زائد شہریوں کی تیسری برسی (آج) بدھ کو اس عزم کے ساتھ منائی جائے گی کہ متاثرین کی مشکلات اور مصائب کے خاتمہ کیلئے تمام وسائل استعمال کئے جائیں گے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ دن کا آغاز زلزلہ میں شہید ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی اور خصوصی دعائوں سے ہو گا۔ اس موقع پر مختلف سیاسی، سماجی، فلاحی، ادبی اور دوسری تنظیمیں خصوصی تقاریب کا اہتمام کریں گی جن میں زلزلہ سے بحالی کی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کی امداد کیلئے کئے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا جائے گا۔ 8 اکتوبر 2005ء کو آنے والے تباہ کن زلزلہ سے اسلام آباد، آزاد کشمیر، صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات میں بڑے پیمانہ پر تباہی پھیلی تھی اور ہزاروں افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ لاکھوں افراد زخمی اور بے گھر ہوئے جبکہ زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ زلزلہ کے فوری بعد حکومت پاکستان نے امدادی کارروائیاں اور بحالی و تعمیر نو کے کاموں کا آغاز کیا جن میں پاکستانی عوام اور حکومت کے ساتھ ساتھ عالمی برادری نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تاہم زلزلہ کو تین سال گذرنے کے باوجود کئی متاثرہ علاقوں میں متاثرین اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔ گھروں، سکولوں اور دیگر بنیادی ڈھانچہ کی تعمیرنو ابھی تک نہیں ہو سکیں جس کی وجہ سے متاثرین مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں۔ سابق حکومت نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں بحالی و تعمیر نو کیلئے ایک اتھارٹی (ایرا) قائم کی جس کی کارکردگی سے بھی متاثرین کی اکثریت مطمئن نہیں ہے۔ ایرا اور سابق حکومت کا دعوی رہا ہے کہ متاثرین تک امداد پہنچا دی گئی ہے اور تعمیر نو کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے۔ سابق حکومت نے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں اور افراد کی بحالی و تعمیر نو کیلئے ایک ڈونر کانفرنس بھی بلوائی جس سے تقریباً 6 ارب ڈالر اکٹھے کئے گئے لیکن اس رقم کا صحیح مصرف بھی ابھی تک سامنے نہ آ سکا اور متاثرین کی پریشانیاں کم نہیں ہو سکیں۔ متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کیلئے معاوضہ کی رقم میں اضافہ کیا جائے کیونکہ تعمیراتی سامان کی قیمتیں بڑھنے کی وجہ سے ایک لاکھ 75 ہزار روپے فی گھر کے حساب سے جو معاوضہ مل رہا ہے اس سے گھروں کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔ عالمی امدادی ادارے اور فلاحی تنظیمیں اس وقت بھی متاثرین زلزلہ کی بحالی و تعمیر نو کی سرگرمیوں کیلئے فنڈز دے رہی ہیں لیکن ان فنڈ کے درست استعمال سے ہی متاثرین کو ریلیف فراہم کرنے کا اصل مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے۔ زلزلہ کو تین سال پورے ہونے پر (آج) بدھ کو حکومت اور عوام اس عزم کا اظہار کریں گے کہ آزاد کشمیر، صوبہ سرحد اور شمالی علاقہ جات کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں اور افراد کی بحالی و تعمیر نو کیلئے تمام تر وسائل استعمال کئے جائیں گے اور مشکل کی اس گھڑی میں پوری قوم متاثرین کے مصائب کم کرنے اور انہیں تمام ضروری سہولیات کی فراہمی کیلئے ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
8 اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلے نے 61 سالہ ترقی کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا
بہترین منصوبہ بندی اور معیاری تعمیرات سے آئندہ شدید خطرات سے محفوظ رہا جاسکتا ہے
زلزلے میں ہونے والے انسانی جانوں کے ضیاع کو صدیوں تک محسوس کیا جائے گا
صدر آزاد کشمیر راجہ محمد ذوالقرنین کا قیامت خیز زلزلے کی تیسری برسی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو
مظفر آباد …………صدر ریاست آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد ذوالقرنین خان نے کہا ہے کہ ملک اس وقت اندرونی وبیرونی سازشوں کا شکار ہے۔ کشمیری عوام پاکستان کے استحکام اور سلامتی کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ریاستی عوام گذشتہ 61 سالوں سے اپنی جانوں کے نذرانے تکمیل پاکستان کی خاطر دیئے چلے آرہے ہیں، بھارت سے آزادی اور تکمیل پاکستان تک ہماری جدوجہد جاری رہے گی، 8 اکتوبر 2005ء کے قیامت خیز زلزلہ کے 42 سیکنڈ نے 61 سالہ تعمیر وترقی ملبے کے ڈھیر میں بدل دی کسی بھی بڑی عمارت کی پائیدار اور خوبصورت تعمیر کیلئے سینکڑوں لوگ سالوں میں تکمیل کرتے ہیں لیکن لمحوں کی تخریب سے سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے، مظفر آباد ڈویثرن کے مکینوں نے قربانی جذبے اور ہمالیہ سے بلند حوصلوں کی لازوال اور سنہری تاریخ رقم کی ہے جس کیلئے وہ خراج تحسین کے مستحق ہیں وہ منگل کو یہاں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کر رہے تھے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ دہشت گردی ،غربت، جہالت کے خاتمے اور پاکستان دشمنوں کی مکروہ سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے علمائے کرام ، سیاستدان ،صحافی، شاعر، اساتذہ اور طالبعلم قومی وملی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے آگے آئیں اور اپنا کردار ادا کریں۔ انگریزوں اور ہندووں نے ہمیں پاکستان پلیٹ میں رکھ کر نہیں دیا تھا۔ 1.5 ملین کے قریب انسانی جانوں ،عصمتوں اور اربوں روپوں کی قیمتی املاک کی قربانیوں اور طویل جدوجہد کے بعد آزادی کی نعمت حاصل کی گئی اسلئے ہمیں آزادی کی اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے پاکستان کی تعمیر وترقی اور استحکام کیلئے کامل یکجہتی اور اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ فطری طور پر ریاست جموں وکشمیر پاکستان کے زیادہ قریب تر ہے۔ یہاں سے نکلنے والے دریائوں تک کا رخ بھی پاکستان کی طرف ہے۔ یہ خطہ جغرافیائی ،ثقافتی اور ہر اعتبار سے پاکستان سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد سرینگر سے محض 300 کلومیٹر جبکہ دہلی کا فاصلہ ایک ہزار کلومیٹر ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کے عوام مکہ اور مدینہ کے بعد سب سے زیادہ محبت پاکستان سے کرتے ہیں اور گذشتہ 61 سالوں سے بلاناغہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر کے اور سرینگر کے لال چوک میں پاکستانی سبز ہلالی پرچم لہرا کر اپنی عملی محبت کا اظہار کر رہے ہیں۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ انسان زلزلہ آنے سے نہیں بلکہ ناقص تعمیرات گرنے کیوجہ سے مرتے ہیں۔ بہترین حکمت عملی ،منصوبہ بندی اور معیاری تعمیرات کر کے ہم آئندہ کیلئے ایسے خطرات سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ 8 اکتوبر کے زلزلہ میں ہونیوالے قیمتی جانوں کے نقصان کی تلافی آئندہ کئی صدیوں تک محسوس کی جاتی رہے گی۔ اپنے پیاروں کے بچھڑنے کا غم ناقابل تلافی ہے تاہم ہر تخریب میں ایک تعمیر پوشیدہ ہوتی ہے۔ ہم پہلے سے بہتر اور خوبصورت تعمیرات کر کے اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل اور زندگیاں محفوظ کر سکتے ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سانحہ 8 اکتوبر کے تین سال مکمل ہونے کے موقع پر (آج) مظفر آباد کا دورہ کریں گے
مظفرآباد …………آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں (کل) بدھ کو 8 اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلے کی تیسری برسی منائی جائے گی۔ وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی مظفر آباد کا خصوصی دورہ کرینگے اور وہ زلزلہ زدگان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرینگے علاوہ ازیں وہ اس دوران تعمیر نو کے حوالہ سے مختلف منصوبوں کا افتتاح کرینگے۔ قبل ازیں 8 اکتوبر کو آزاد کشمیر کے زلزلہ متاثرہ علاقوں میں اذان کا آغاز تمام مساجد میں نماز فجر کے بعد شہدائے زلزلہ کیلئے خصوصی دعائوں سے ہوگا اور آزاد کشمیر بھر میں اس سلسلہ میں ہفتہ استقامت کے طور پر منایا جا رہا ہے۔ دارالحکومت مظفر آباد میں 8 اکتوبر 2005ء کی تباہ کن زلزلے کی یاد میں مختلف تقریبات منعقد ہو نگے اور اس موقع پر شہدائے زلزلہ کے ورثاء کی استقامت کو خراج تحسین پیش کیا جائیگا جبکہ زلزلہ کے دوران پاکستانی قوم ، پاک فوج کے نمایاں کردار اور عالمی ڈونر ایجنسیوں کی جانب سے مشکل حالات میں ریلیف اور میڈیکل ایڈ کی فراہمی اور بحالی وتعمیر نو میں قابل تحسین کردار نبھانے پر زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم پاکستان کی آمد پر سیکورٹی کے سخت اور فول پروف انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ پولیس اور پیراملٹری ٹروپس کو حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
حکومت زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھے گی
8 اکتوبر کے زلزلہ کی تیسری برسی کے موقع پر آزادکشمیر کے صدر و وزیراعظم کے پیغامات
مظفرآباد …………آزادکشمیر کے صدر راجہ ذوالقرنین خان اور وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ آزادکشمیر حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کو سو فیصد یقینی نہیں بنایا جاتا، اکتوبر 2005ء کے زلزلے کی ہولناک تباہ کاریوں کے بعد متاثرہ علاقوں میں جس انداز سے یکجہتی، اتحاد اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا گیا اس کی مثال تارےخ میں نہیں ملتی، یہ زلزلہ خدا کی طرف سے ایک امتحان تھا جس میں پوری قوم نے صبر، حوصلے اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ ان خیالات کااظہار صدر اور وزیراعظم آزادکشمیر نے 8 اکتوبر 2005ء کے زلزلہ کی تیسری برسی کے موقع پر اپنے پیغامات میں کیا۔ صدر آزادکشمیر راجہ ذوالقرنین نے کہاکہ 8 اکتوبر 2005ء کے سانحہ کو گزرے آج تین سال ہوگئے ہیں اس زلزلے میں آزادکشمیر میں ہزاروں لوگ شہید اور زخمی ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے جن کے دکھوں کی آج ہم یاد تازہ کر رہے ہیں۔ 8 اکتوبر کے زلزلے میں ہونے والے ناقابل تلافی نقصان کا ہم ازالہ تو نہیں کر سکتے لیکن ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم ایک عزم، حوصلے اور استقامت سے بحالی اور تعمیر نو میں اجتماعی طور پر حصہ لیںگے اور ایک باوقار قوم کی طرح زندہ رہیںگے۔ بیشتر ممالک کی فراخدلانہ امداد اور بین الاقوامی اور ملکی این جی اوز کے تعاون سے تعمیر نو میں پیشرفت ممکن ہوسکی جس کیلئے ہم ان سب کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ بحالی اور تعمیر نو کے عمل میں ایرا اور سیرا نو توقعات سے بڑھ کر کام کیا جس سے زلزلے کے بعد آزادکشمیر کے لوگوں میں ذہنی اور فکری سطح پر ایک مثبت تبدیلی آئی اور لوگ محبت میں عظمت ہے کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں اور یہ واحد موقع تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج ، پاکستانی قوم اور عالمی برادری کسی تفریق رنگ ونسل ایک مقصد کی خاطر متحد ہوئے جوکہ عالمی سطح پر ایک مثبت تبدیلی کا پیشہ خیمہ ہے۔ اس تناظر میں یہاں گلوبلائزیشن کا ایک نیا رخ نظر آیا۔ ایرا ،سیرا، این جی اوز اور پوری قوم کی کاوشوں سے اب آزادکشمیر میں زندگی متحرک نظر آ رہی ہے۔ موجودہ حکومت کیلئے ان علاقوں کے عوام کی بحالی کے ساتھ ان علاقوں کی تعمیر نو جیسا بڑا چیلنج درپیش تھا۔ صدر نے کہاکہ مجھے اپنے باوقار عوام سے اس موقع پر کہنا ہے کہ وہ حکومت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ بحالی اور تعمیر نو کا کام بروقت اور معیار کے ساتھ مکمل ہوسکے۔ آزادخطہ میں تعمیر وترقی اور متاثرین کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اجڑی بستیاں آبادیوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔ کھنڈرات کا منظر پیش کرنے والی سڑکوں کی جگہ شاہرات نے لے لی ہے۔ تعلیمی اداروں کی عالیشان عمارتیں تیار ہوچکی ہیں۔ صحت کے شعبہ میں بیرونی ممالک کے تعاون سے ہسپتالوں کی تعمیر بہتر انداز میں ہو رہی ہے اور جدید طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ رسل ورسائل کیلئے بین الاقوامی معیار کی شاہرات تعمیر کی جا رہی ہیں۔ عوام کو زندگی کی تمام بنیادی سہولتیں پہنچانے کیلئے اقدامات جاری ہیں۔ ان سب تعمیراتی عمل میں ایرا اور سیرا ایک مثالی کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ 8 اکتوبر 2005ء کا زلزلہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے امتحان تھا جس میں اﷲ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ہم کامیابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تین سال کے عرصہ میں ریکارڈ تعمیر وترقی ہوئی ہے۔ میں آپ کو اس موقع پر یقین دلاتا ہوں کہ بحالی اور تعمیر نو کے کام قومی جذبہ سے کئے جائیںگے۔ مظفر آباد، باغ، راولاکوٹ سے ماسٹر پلان کے مطابق کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ ایرا نے تین سال کے عرصہ میں متاثرین زلزلہ کی بحالی کیلئے جو عملی اقدامات کئے ہیں قابل تحسین ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سانحہ اکتوبر کی تیسری برسی کو ہفتہ استقامت کے طور پر منانے کیلئے پروگرامز کو حتمی شکل دیدی گئی
میرپور ………… اکتوبر 2005ء کے تباہ کن زلزلے کے تین سال مکمل ہونے اور آزاد کشمیر میں اس سانحہ کی (آج) 8 اکتوبر کو تیسری برسی کو ہفتہ استقامت کے طور پر منانے کیلئے پروگرامز کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔ اس حوالے سے ہفتہ استقامت پورے آزاد کشمیر میں 12 اکتوبر تک منایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں خصوصی پروگرام ترتیب دیئے جائیںگے۔ا س ہفتے کے دوران تعلیمی اداروں میں خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔ 8 اکتوبر کی صبح سائرن بجائے جائیںگے اور ٹریفک ایک منٹ کیلئے رک جائے گی اور لوگ شہداء کے ایصال ثواب کیلئے دعا کریںگے۔ اس سلسلے میں مرکزی تقریب یونیورسٹی گرائونڈ مظفر آباد میں منعقد کی جائے گی جس میں پولیس سلامی دے گی۔ اس دوران آٹھ بجکر 52 منٹ پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
|
ابن جلال
Senior Member
تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: Pakistan
مراسلات: 5,434
شکریہ: 9,850
2,670 مراسلہ میں 4,570 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|