واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


8 ارب 60 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس، جنگ گروپ کو ٹارگٹ اور تنہا کرنےکا واضح کیس

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 06-02-11, 05:17 AM   #1
8 ارب 60 کروڑ روپے کا قانونی نوٹس، جنگ گروپ کو ٹارگٹ اور تنہا کرنےکا واضح کیس
گلاب خان گلاب خان آف لائن ہے 06-02-11, 05:17 AM

اخلاقیات کے تمام معیار پورے کےے گئے، دنیا بھر میں عوامی شخصیات دلچسپی کا مرکز ہوتی ہیں
پہلے بھی ایسے ہتھکنڈے استعمال کےے جا چکے ہیں، لیکن اس سلسلے میں کوئی پیش رفت نہیں کی گئی
کراچی (نیوز ڈیسک) جنگ گروپ آف نیوز پیپرز کے ترجمان نے 10 کروڑ ڈالرز (8 ارب60 کروڑ روپے) کے قانونی نوٹس جاری کئے جانے پر افسوس اور گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے، یہ قانونی نوٹس حکومت کی جانب سے گروپ کو دیا گیا ہے، اگرچہ اس کی نقل تاحال سرکاری طور پر فراہم نہیں کی گئی، لیکن ٹی وی چےنلز اور میڈیا کے ذریعے ملک اور دنیا بھر مےں دکھایا گیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ نوٹس اےک اےسے رجحان کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد سستی اور مفت کی شہرت حاصل کرنا اور عدالت مےں مقدمے کی پیروی کئے بغیر معصومیت کا دعویٰ کرنا ہے۔ ان کی گزشتہ حکومت میں بھی اسی قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی رہی ہیں اور جنگ گروپ کو نوٹس وغےرہ جاری کرتی رہی ہیں، یہ نوٹس جنگ گروپ کے سینئر صحافی اور دیگر کو جاری کئے گئے لےکن پھر کبھی ان پر پیشرفت نہیں کی گئی۔ ترجمان نے کہا کہ دلچسپ امر یہ ہے کہ حکومت نے کرپشن کے حوالے سے شائع ہونے والی سےکڑوں رپورٹس اور خبروں پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا، لوٹ مار پر حکومت کی معصومیت ثابت کرنے کےلئے کچھ نہیں کیا۔ لیکن عوامی دلچسپی کے اےک بہت بڑے معاملے کو جنگ گروپ کو ہدف بنانے کےلئے استعمال کیاجارہا ہے اور یہ عمل گروپ کو مالیاتی نقصانات پہنچانے کی جاری پالیسی کا حصہ ہے۔ اگر اس قسم کا فوری نوٹس لوٹ مار کی رپورٹس کے خلاف لیا جاتا تو یہ بات بڑے اطمینان کا باعث ہوتی۔ ترجمان کے مشاہدے کے مطابق جنگ گروپ کو اےک مرتبہ پھر تنہا کیا گیا ہے حالانکہ یہ خبر دنیا بھر کے میڈیا مےں گردش کررہی تھی، یہ وےب سائٹوں اور انٹرنےٹ بلاگز پر موجود تھی اور کسی نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ اب یہ دےکھا جائے گا کہ آیا صرف جنگ گروپ کو ہدف بنایا جارہا ہے یا دوسروں کو بھی اسی قسم کے نوٹس بھجوائے جارہے ہیں۔ جنگ گروپ دراصل بڑے پیمانے پر پھےلی ہوئی ان افواہوں اور خبروں کو ختم کرنے کی دیانتدارانہ کوشش تھی اور اس نے پےشہ ورانہ اخلاقیات کے سخت اصولوں کی پیروی کی اور تقاضے پورے کئے گئے اور نہ صرف ایوان صدر کے ترجما ن اور صدر کی مشیر کی جانب سے جاری ہونے والی تردید کو بڑے نمایاں انداز مےںشائع کیا، بلکہ متعلقہ خاتون سے خود رابطہ کیا، انہیں فون کیا اور براہ راست ان سے بات کی (اور تمام معاملات مےں اےسا ہی کیا جانا چاہئے) تاکہ پورے حقائق ہمیشہ کےلئے سامنے آجائیں۔ اس بات کو مدنظر رکھا جانا چاہئے کہ جنگ گروپ کی خبروں کی شہ سرخیوں کی توجہ یہ ثابت کرنے پر مرکوز رہی کہ یہ افواہیں اور ویب سائٹس کی خبریں غلط ہیں۔ دو مخصوص شہ سرخیاں مندرجہ ذیل ہیں: ”ایوان صدر نے زرداری کی شادی کی خبریں مسترد کردیں“ (دی نیوز، 4 فروری 2011ئ) اور ”صدر زرداری سے شادی کی خبریں بے بنیاد ہیں، ان سے ملاقات تک نہیں ہوئی، ڈاکٹر تنویر زمانی“ (دی نیوز، 5 فروری 2011ئ)۔ ان خبروں نے ایسا کوئی مواد دوبارہ شامل نہیں کیا گیا جو درجنوں ویب سائٹس پر گردش کررہا ہے۔ ڈاکٹر زمانی کی یوٹیوب اور انٹرنیٹ پر صدر زرداری اور ان کے ”بیٹے“ بلاول سے متعلق جذبات پر مشتمل متعدد ویڈیوز اور تقاریر کو بھی کسی ایک خبر میں بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ جب گروپ ایڈیٹر شاہین صہبائی نے ڈاکٹر زمانی سے رابطہ کیا تو انہوں نے خبر کی سچائی کی تصدیق یا تردید سے انکار کیا۔ ان کی جانب سے پہلو تہی نے نئے سوالوں کا جنم دیا اور اس طرح کی ذاتی معاملے میں صرف ایک ”نا“ معاملے کو جہاں کا تہاں ختم کردیتی ہے۔ ڈاکٹر زمانی دوسرے دن بھی حیلے بہانے بناتی رہیں جب جنگ گروپ کے ایک اور سینئر صحافی عظیم ایم میاں نے، جو ذاتی طور پر بھی انہیں جانتے تھے، ان سے رابطہ کرکے ان کا نکتہ نظر جاننے کی کوشش کی۔ ڈاکٹر زمانی نے ایک بار پھر پہلو تہی کرنے کی کوشش کی اور بے حد اصرار اور بعد ازاں بعض پاکستانی عہدیداروں کی جانب سے مداخلت کے بعد بالآخر انہوں نے اپنا موقف دیا۔ ان کا موقف جنگ گروپ میں نمایاں طور پر شائع کیا گیا۔ جنگ گروپ زور دیتا ہے کہ اس طرح کی خبروں میں مکمل طور پر پیشہ ورانہ امور، اخلاقیات کے تمام اصولوں کا خیال رکھا جائے، تمام افراد کے موقف کا نمایاں شائع کیا جائے اور غیر اہم اور غیر سنجیدہ تفصیلات جو کئی دنوں اور ہفتوں سے گردش کررہی ہوں انہیں نظر انداز کیا جائے۔ اس سب میں کوئی تعصب یا خراب نیت شامل نہیں تھی لیکن اس تمام معاملے کے بارے سچائی کو سامنے لانا تھا جو پاکستان کے منتخب صدر سے متعلق تھا۔ اس بات کا ذکر کرنا بھی غلط نہ ہوگا کہ پوری دنیا میں سرکاری عہدیدار، منتخب سیاستدان اور اہم شخصیات عوامی بحث کا موضوع رہتے ہیں اور ایسی لاتعداد مثالیں ہمارے سامنے ہیں جن میں صدر بل کلنٹن، صدر نکولس سرکوزی، لیڈی ڈیانا، وزیراعظم برلسکونی اور دیگر اہم شخصیات شامل ہیں۔ صرف 2 ہفتے قبل ہی اطالوی وزیراعظم کو میلان کے ایک نائٹ کلب کی رقاصہ سے جنسی تعلقات کی تحقیقات کا سامنا کرنا پڑا جو ان کے گھر میں نجی محفلوں میں شرکت کرتی تھی۔ ان تمام خبروں کا مطلب یہ نہیں کہ میڈیا کسی رہنما کو اپنے تعصب کی وجہ سے نشانہ بنا رہی ہے اور جان بوجھ کر ان پر تہمت لگا رہی ہے۔ جہاں تک ان کی حکومت کا تعلق ہے تو جنگ گروپ کا ماننا ہے کہ یہ گروپ کو نشانہ بنانے کے حوالے سے الٹ کیس ہے۔ مختلف حکومتی حربوں کے ذریعے اس گروپ کی آواز کو دبانے کی کوششیں کی جاچکی ہیں اور ہمیں آخری انصاف کےلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنا پڑا تھا اور حالیہ کیس میں جیو سوپر کےلئے حقوق بھی حاصل کےے گئے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایک طرف جہاں کئی میڈیا گروپس اور اخبارات نے یہی خبر نمایاں طور پر اور تفصیلی انداز میں شایع کی ہے لیکن نوٹس صرف جنگ گروپ کو جاری کیا گیا ہے۔ یہ ایک واضح کیس ہے جس میں جنگ گروپ کو اس مخصوص ایشو کی بجائے دیگر وجوہات کی بناءپر پھنسایا جا رہا ہے جس میں یہ وجہ بھی شامل ہے کہ اس گروپ نے موجودہ حکمرانوں کی کرپشن اور خراب طرز حکمرانی کو بے نقاب کردیا ہے۔ ماضی میں مشرف دور میں بھی جنگ گروپ ظلم اور جبر کے خلاف ڈٹ گیا تھا اور گروپ کے صحافیوں نے قربانیاں دیں، گروپ کو بڑے پیمانے پر مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا لیکن قانون کی حکمرانی اور آزاد عدلیہ کی جدوجہد ترک نہیں کی گئی۔ جنگ گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ایوان صدر میں موجود اعلیٰ حکام میڈیا میں ان لوگوں کو استعمال کررہے ہیں جو ان کے بزنس پارٹنرز رہ چکے ہیں اور ان میں سے ایک پارٹنر تو نیب کو مطلوب بھی تھا اور ملک چھوڑ کر بھاگ گیا تھا۔ حالیہ لیگل نوٹس بھی گروپ کو مالی نقصان پہنچانے کی ایک کوشش کا حصہ ہے۔ ایک ایسے موقع پر جب گروپ میں شایع ہونے والی خبروں پر اعتراض کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے، کیونکہ یہ متوازن تھیں اور پیشہ ورانہ انداز سے شایع کی گئی تھیں، بامقصد اور سچ پر مبنی تھیں، ایسے موقع پر اربوں روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کرنا صرف اس گروپ اور اس کے ایسے انتہائی سنجیدہ پیشہ ور ماہرین کےلئے توہین اور نفرت کا واضح ثبوت ہے جنہوں نے اعلیٰ سطح پر کرپشن کو بے نقاب کرنے اور کئی دیگر کیسز سامنے لانے میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور کئی کیسز میں تو اس گروپ نے متعدد کرپٹ سیاست دانوں اور عہدیداروں کو اربوں روپے واپس کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے پر مجبور کردیا۔ جنگ گروپ کو ان انتہائی پیشہ ور صحافیوں پر ناز ہے جنہوں نے سختیوں اور کئی ایک معاملات میں طاقت کے بدترین استعمال کے باوجود عظیم ہمت اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم یہ فیصلہ اپنے معزز قارئین پر چھوڑتے ہیں کہ وہ مسٹر زرداری اور ڈاکٹر زمانی کے حوالے سے دونوں خبروں کا آزادانہ جائزہ لیں۔ ہم یہاں دونوں خبروں کا متن پیش کر رہے ہیں تاکہ جس نے یہ خبریں نہیں پڑھیں وہ انہیں پڑھ کر یہ طے کرسکے کہ کیا اس گروپ کو بدنام کرنے یا اس کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا جواز ہے یا نہیں۔ 4 فروری کو شایع ہونے والی خبر یہ ہے: .... ترجمان فرحت اﷲ بابر نے صدر مملکت آصف زرداری کی شادی کے حوالے سے خبروں کو بے بنیاد قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ بعض عناصر قیاس آرائیوں پر مبنی اس طرح کی گمراہ کن خبریں دے رہے ہیں جن کی کوئی صداقت نہیں۔ ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس قسم کی غیرمصدقہ اطلاعات بیمارذہنوں کی پیداوار ہیں اور صدر کے مخالفین اب ان کے خلاف اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں اوران کی نجی زندگی پرانگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کی ایک نیوز ایجنسی نے یو اے ای کے ایک فیشن ڈیزائننگ کمپنی کے حوالے سے یہ خبر انٹرنیٹ پر جاری کی جس کے بعد سے انٹرنیٹ اور فیس بک پر صدر زرداری کی شادی کی خبریں گردش کررہی ہیں، جن کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے پچھلے ہفتے دبئی میں ایک امریکی خاتون تنویرزمانی سے شادی کی ہے، شادی کی باقاعدہ تقریب منعقد نہیں کی گئی۔ اس موقع پر 9 کالے بکرے، 6 گائیں اور ایک اونٹ ذبح کیا گیا۔ انٹرنیٹ اور فیس بک پر چلنے والی رپورٹس کے مطابق تنویر زمانی پیشے کے لحاظ سے فزیشن ہیں اور انہوں نے برطانیہ سے عالمی سیاست میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ ان کے دبئی، لندن، اسلام آباد اور مین ہٹن میں بھاری مالیت کے اثاثے ہیں۔ وہ امریکی سیاست میں پارٹی وابستگی کے حوالے سے ڈیموکریٹ ہیں اور 2008ءکے صدارتی الیکشن میں انہوں نے اوبامہ کیلئے مہم بھی چلائی تھی۔ ادھر صدر زرداری کی میڈیا ایڈوائزر فرح ناز اصفہانی نے اپنے بلاگ میں لکھا ہے کہ چونکہ صدر آصف علی زرداری کی اہلیہ محترمہ بے نظیر بھٹو اب حیات نہیں ہیں اس لئے اب مخالفین کی جانب سے یہ نفرت انگیز افواہ پھیلائی جارہی ہے تاکہ صدر، ان کے گھر والوں اور پارٹی کو پریشان کیا جا سکے۔ فرح ناز اصفہانی نے کہاکہ یہ خبریں بے بنیاد ہیں۔ نمائندہ جنگ کے مطابق صدر زرداری کی ڈاکٹر تنویر زمانی سے شادی کے حوالے سے انٹرنیٹ پر بہت زیادہ باتیں ہورہی ہیں، اس سلسلے میں فیس بک پر ایک پیج بھی بنایا گیا ہے اور وہاں ایک فون نمبر بھی درج ہے، بطور نمائند ہ جنگ میں نے اس نمبر پر فون کیا اور ہماری بات چیت کا آغاز ہوگیا۔ میں نے واشنگٹن کے مقامی وقت کے مطابق 3 فروری کی صبح 9 بجکر 40 منٹ پر فون کیا۔ جب دوسری جانب سے فون اٹھایا گیا تو میں نے دو بار تصدیق کی کہ کیا وہ ڈاکٹر زمانی ہی ہیں، یہ بالکل وہی آواز ہے جو کہ یوٹیوب پر موجود متعدد ویڈیوز میں ہے۔ میں نے اپنا تعارف کرایا اور ان سے بغیر کچھ تمہید باندھے ایک سادہ سوال کیا ”انٹرنیٹ پر ایک بات کا بہت چرچا ہے تو آپ اس کی تصدیق کریں گی یا تردید؟“ ان کا جواب تھا کہ میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہوں گی اور میں نے اس حوالے سے قانونی تجاویز طلب کر لی ہیں۔ میں نے پوچھا ”یہ خبر تو آپ اور صدر زرداری کی شادی کے متعلق ہے اور ہے بھی بہت ہی زیادہ ذاتی نوعیت کی تو کیسی قانونی مشاورت اور کس لئے؟“ انہوں نے کہا کہ ذاتی معاملات کی ترجیح بہت بعد میں آتی ہے، پہلے تو ہمیں مصر کی صورتحال ، مہنگائی کو دیکھنا ہے بلاول کو متعارف کرانا ہے اور بہت سے دیگر معاملات ہیں، ذاتی باتوںکی بات بعد میں آئے گی۔ میں نے دوبارہ سوال کیا کہ کیا آپ زرداری صاحب کی اہلیہ ہیں تو ان کا جواب تھا میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہوں گی۔ میں دوبارہ پوچھا کیا آپ نے کچھ غیر قانونی کیا ہے۔ تو ان کا جواب تھا کہ میں نے صورتحال سے نمٹنے کے لئے قانونی مشاورت طلب کرلی ہے۔ میں نے دوبارہ پوچھا اس کا مطلب ہے آپ اس کی تردید یا تصدیق نہیں کریں گی۔ انہوں نے پھر کہا اس پر کچھ نہیں کہوں گی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا .... 5 فروری کو شایع ہونے والی خبر کا متن یہ ہے .... امریکی ڈاکٹر تنویر زمانی نے صدر آصف علی زرداری کے ساتھ اپنی شادی کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ان کی صدر زرداری کے ساتھ کبھی ملاقات ہوئی ہی نہیں۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ پر آنے والے ایسے پیغامات اور اطلاعات کے حوالے سے میں نے تردید جاری کرنا اسلئے مناسب نہیں سمجھا کیونکہ یہ میری شان کے خلاف تھا کہ میں ایسی بےکار افواہوں کی تردید کروں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلاگرز اور صحافیوں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس طرح کی من گھڑت خبریں بنائیں اور لوگوں کی زندگیاں غارت کردیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی صدر زرداری کے ساتھ شادی نہیں ہوئی۔ ان کے دل میں صدر زرداری کےلئے احترام کا جذبہ ہے۔ امریکا میں پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی خبریں ڈاکٹر تنویر زمانی نے خود اپنی مرضی سے شروع کیا تاکہ وہ پبلسٹی اور توجہ حاصل کرسکیں۔ اس پروپیگنڈے کو ڈاکٹر تنویر زمانی کے اپنے جوشیلے اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے ہوا ملی ہے جبکہ حقیقت میں ایسی کسی شادی کا قطعاً کوئی وجود نہیں ہے۔

روزنامہ جنگ راولپنڈی
__________________

(وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا) اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔ (الاسراء: 23)

 
گلاب خان's Avatar
گلاب خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 4,516
شکریہ: 1,554
2,983 مراسلہ میں 8,242 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 159
Reply With Quote
گلاب خان کا شکریہ ادا کیا گیا
پرانا 06-02-11, 09:01 AM   #2
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,633
کمائي: 29,476
شکریہ: 7,141
2,969 مراسلہ میں 8,769 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

جنگ گروپ کے سربراہان کی شادی کی رات اور ان کی محبوباؤں‌کے نام، تصاویر اور ان کی ذاتی بات چیت کی آڈیو یا ویڈیو درکا ر ہے تاکہ اس کو یو ٹیوب پر پوسٹ کیا جاسکے ۔۔

وجہ:
تاکہ ان لوگوں‌کو اندازہ ہوسکے کہ ذاتی معاملات کیا ہوتے ہیں اور عوامی معاملات کیا ہوتے ہیں۔
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-02-11, 09:50 AM   #3
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
کمائي: 29,821
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
ALI-OAD آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 06-02-11, 09:52 AM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,633
کمائي: 29,476
شکریہ: 7,141
2,969 مراسلہ میں 8,769 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

افواہ گرم ہے کہ جنگ گروپ کا موجودہ روح رواں ، میر شکیل الرحمن ، ایک مشہور فلمی اداکارہ سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ کیا یہ افواہ ہے یا سچی خبر ہے؟؟؟؟

یہ بھی افواہ گرم ہے 65 سالہ ، عظیم ایم میاں‌کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے ایک 19 سا لہ ہیرا منڈی کی ایک ناچنے والی نوخیز دوشیزہ کو امریکہ اپنے خرچے پر بلایا ہوا ہے۔ کیا یہ افواہ ہے یا سچی خبر ہے۔

کیا روزنامہ جنگ کا طریقہ واردات ہے؟؟؟‌۔۔ سستی شہرت کا مہنگا طریقہ ؟؟؟؟؟ کیا یہ افواہ ہے یا سچی خبر ہے؟؟؟؟
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
ALI-OAD (06-02-11)
پرانا 06-02-11, 10:35 AM   #5
Senior Member
 
ALI-OAD's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Mar 2009
مقام: کراچی
عمر: 32
مراسلات: 1,692
کمائي: 29,821
شکریہ: 1,514
1,088 مراسلہ میں 3,342 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حل من مزید
ALI-OAD آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
کورٹ, پاکستانی, ویب, واشنگٹن, وزیراعظم, نفرت, نیوز, مہنگائی, مفت, مکمل, موجودہ, متعارف, معلوم, آصف زرداری, انٹرنیٹ, اسلام, اعلیٰ, بے نظیر, بلاگرز, جواب, دبئی, زرداری, صدارتی, صدر،, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
ورڈ پریس پر بلاگ اوپن نہیں ہورہا کیا وجہ ہے محمد عاصم اردو پریس (http://wordpress.pk) 23 26-03-11 12:17 PM
بیا لیس کروڑ روپے کا گندم کی بجائے گو بر۔۔۔ جاویداسد خبریں 2 29-09-10 07:08 PM
چینی 71۔ ایل پی جی گیس 90روپے کلو جاویداسد خبریں 4 07-08-10 09:15 PM
پچیس لاکھ روپے کا ہاتھ محمدعدنان فلمی دنیا 0 21-04-08 08:44 PM
ہمارا گروپ اصلاحاتی گروپ کہلائے گا،(ق) لیگ کے30 ارکان کی حمایت حاصل ہے،کشم عبدالقدوس خبریں 0 19-04-08 04:05 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 09:52 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger