فارغ کئے گئے افسران میں آئی جی سندھ، ڈپٹی ڈی جی آئی بی، ایس ایس پی ریلوے، ڈی آئی جی گلگت، منیجنگ ڈائریکٹر ہاﺅسنگ اتھارٹی اور دیگرشامل ہیں
ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمدکو برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، اب بھی چار سیکرٹری کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں
اسلام آباد (نیوزرپورٹر) سپریم کورٹ کے احکامات پر کنٹریکٹ پر تعینات8 افسروں کو فارغ کر دیاگیا ہے تاہم ڈی جی ایف آئی اے کے معاملے پر وزیراعظم سیدیوسف رضاگیلانی ڈٹ گئے ہیں۔یہ امر باعث تعجب ہے کہ وزیراعظم یوسف رضاگیلانی نے اگرچہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژنکو چند افسر برطرف کرنے کی ہدایت کی لیکن جس افسر کی وجہ سے یہ تنازعہ اکھڑا ہوا تھا یعنی ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کاکنٹریکٹ منسوخ نہیں کیاگیا بلکہ یوں لگتا ہے کہ وزیراعظم ایف آئی اے میں زیرتفتیش بعض اہم مقدمات کی وجہ سے ڈی جی ایف آئی اے کو بچانے کےلئے ڈٹ گئے ہیں جس سے دوآئینی اداروں میں ایک بار پھر تناﺅ کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے کی پوسٹ کیڈر پوسٹ ہے اور اس پرریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر وسیم احمد کی تعیناتی سے ترقی کا عمل رکا ہوا ہے جو سول سرونٹسایکٹ کی روح کے منافی ہے پولیس گروپ سے تعلق رکھنے والے نو افسروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ دیاگیا تھا جس میں سے چار کا کنٹریکٹ منسوخ کردیاگیا ہے لیکن ڈی جی ایف آئی اے سمیت اب بھی تین افسر کام کررہے ہیں البتہ ایک افسر کے کنٹریکٹ کی مدت ختم ہوگئی ہے اور انہیں توسیع نہیں دی گئی۔ سیکرٹریٹ گروپ کی آسامیوں پر 23 ریٹائرڈ افسر کام کررہے ہیں لیکن دکھاوے کےلئے صرف تین افسروں کو فارغ کیاگیا حالانکہ چار وزارتوں کے سیکرٹری کنٹریکٹ پر کام کررہے ہیں جس میں دفاع، دفاعی پیداوار، انسانی حقوق اور قانون وانصاف شامل ہیں۔ اس کےلئے وزارتوں، ڈویژن میں اور ان کے ذیلی اداروں میں سینکڑوں افسران ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر تعینات ہیں۔وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سپریم کورٹ کی ہدایت پرکنٹریکٹ پر تعینات متعدد ریٹائرڈ افسروں کو مرحلہ وار فارغ کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع نے بتایا کہ اس بارے میں ”گو سلو“ (Go Slow )کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر تعینات افسروں کی تعداد سینکڑوں میں ہے جن میں سے جمعہ کے روز بعض افسروں کے کنٹریکٹ منسوخ کر کے انہیں فارغ کر دیا گیا۔ ان افسروں میں آئی جی پولیس سندھ سلطان صلاح الدین بابر خٹک آئی بی کے ڈپٹی ڈی جی اصغر محمودایس ایس پی ریلوے میاں اختر حیات اور ڈی آئی جی گلگت کرنل(ر) فرمان علی شامل ہیں۔ آئی بی میں تعینات گریڈ 21 کے ایک ریٹائرڈ افسر طارق جمیل کا کنٹریکٹ 8 فروری کو ختم ہو گیا تھا انہیں بھی مزید توسیع دینے سے انکار کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹریٹ گروپ کے دو ریٹائرڈ افسران فارغ کر دیئے گئے ہیں۔ گریڈ22 کے ایک ریٹائرڈ افسر محمد علی آفریدی پاکستان ہاﺅسنگ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے جن کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے جبکہ ڈی جی پورٹس اینڈ شپنگ ونگ کراچی وزارت بندرگاہیں و جہازرانی ایس ایم حسن زیدی کا کنٹریکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعینات ایگزیکٹو ڈائریکٹر ای گورنمنٹ عامر شہزاد کا کنٹریکٹ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے جو ایم پی ون سکیل میں کام کر رہے تھے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرائع نے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کو برطرف کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا جو ریٹائرمنٹ کے بعد کنٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں اور جن کے بارے میں سپریم کورٹ ناراضگی کے ریمارکس دے چکی ہے۔
روزنامہ جنگ راولپنڈی