اسلام آباد: پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے ایک نرالی منطق ایجاد کرلی ہے ان کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے این آئی سی ایل اراضی اسکینڈل کے مرکزی ملزم سے رقم تو لی تھی مگر وہ خود اس اسکینڈل میں ملوث نہیں ہیں۔
یہ موقف کراچی میں تعینات ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف حسین نےقومی اسمبلی کے قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے اجلاس کے دوران اختیار کیا جس سن کر تمام حاضرین ششدر رہ گئے جب کہ قائمہ کمیٹی نے تحقيقات پر عدم اعتماد کا اظہار کرديا۔
قومي اسمبلی کی قائمہ کميٹی برائے تجارت کا اجلاس پارليمنٹ ہاؤس ميں چيئرمين خرم دستگير کي زير صدارت ہوا جس ميں لاہور، کراچی اور دبئی ميں اين آئی سی ايل کے لئے اراضی کی خريداری ميں ہونے والی خرد برد پر بريفنگ کے لئے ایف آئی اے حکام کو طلب کیا گیا تھا۔
ایف آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور کیس کے تفتيشی افسر ظفر قريشی نے لاہورمیں ہونے والی بدعنوانی اور اب کی تحقیقات سے آگاہ کیا۔
انھوں نے بتایاکہ لاہور کے مضافات ميں اين آئی سی ايل کے لئے ايک ارب 68 کروڑ 63 لاکھ روپے سے 803 کنال 19 مرلے زمين خريدی گئی ليکن ادائيگی کے باوجود زمين ٹرانسفر نہيں کی گئی جس پر چیئرمین ایاز خان نیازی سمیت این آئی سی ایل کے دیگر حکام ، سابق وزیر حبیب اللہ وڑائچ اور ان کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج کی گئی اور ملزمان سے تمام رقم واگزار کرالی گئی ہے۔
ظفر قریشی نے بتایا کہ اسی طرح لاہور ايئرپورٹ کے قريب 20 کنال کا پلاٹ ايک ارب 6 کروڑ 53 لاکھ روپے میں خریدا گیا جس کی اصل قيمت 56 کروڑ روپے تھي۔ اس کيس ميں بھی اب تک 8 کروڑ روپے ريکور کئے جاچکے ہیں جب کہ 42 کروڑ روپےتاحال ابھی باقی ہيں۔
انہوں نے بتايا کہ اس اسکينڈل کی جب تفتیش شروع کی گئی تو پتہ چلا کہ رقم مختلف ملزمان کے اکاؤنٹس میں منتقل ہوئی ایک اکائونٹ میں 22 کروڑ روپے بھیجے گئے تھےلیکن اکاؤنٹ ہولڈر کو خانیوال سے پکڑا گیا تو اس نےانکشاف کیا کہ اس نے یہ اکائونٹ کھلوایا ہی نہیں تھا جب کہ متعلقہ بینک منیجر سے پوچھ گچھ ہوئی تو پتہ چلا کہ مونس الٰہی کی کمپنی الطہور کے منیجر محمد مالک نے مذکورہ شخص کے شناختی کارڈ کی کاپی کے ذریعے یہ اکائونٹ کھلوایا اور رقم کیش کرواکر مونس الٰہی کو دے دی۔
ظفر قریشی کے مطابق ایک اور اکائونٹ منڈی بہائوالدین کے رہائشی عادل عمر کے نام کا تھاجبکہ وہ بھی اس اکائونٹ سے لاعلم تھا۔ یہ اکائونٹ بھی محمد مالک نے اس کےشناختی کارڈ کی نقل حاصل کرکے کھلوایا تھا ، اس اکائونٹ میں 10 کروڑ روپے ٹرانسفر ہوئے جو مونس الٰہی کو کیش کی صورت میں پہنچا دیئے گئے۔
ظفرقریشی نے بتایا کہ اس رقم میں سے پندرہ کروڑ روپے مونس الٰہي کے برطانیہ میں موجود بينک اکائوئنٹ ميں بھی بھجوائے گئے،کمیٹی کے استفسار پر ظفر قریشی نے بتایا کہ اس کيس کی تحقیقات میں حکومت کي جانب سے رکاوٹيں ڈالی جارہی ہيں۔ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل نہیں کیا جارہا۔
کراچی ميں اين آئی سی ايل کي زمين کی خريداری ميں ہونے والی خردبرد کی تفتیش کے بارے میں بتاتے ہوئے ايف آئي اے کراچی کے ڈپٹی ڈائريکٹر اورتفتيشی افسر الطاف حسين نے کہا کہ کورنگی ميں 42 کروڑ روپے کی زمین 90 کروڑ روپے میں خریدی گئی۔ خزانے کو 48 کروڑ روپے کا نقصان پہنچايا گيا جس ميں سے ساڑھے 35 کروڑ روپے ريکور کرلئے گئے ہيں۔
ايک رکن کے استفسار پر الطاف حسين نے کہا کہ اسکينڈل کے مرکزی ملزم خواجہ اکبر کے اکائونٹ سے وزير تجارت مخدوم امين فہيم کے اکائونٹ ميں پيسے ضرور ٹرانسفر ہوئے تھے ليکن وہ ٹرانزکشن گھر کی خريداری کے سلسلے ميں تھی تاہم سودا نہ ہوسکا اور امين فہيم نے وہ رقم واپس کردی اس پر کميٹی نے سخت برہمي کا اظہار کيا اور کہا کہ تحقیقات درست انداز سے آگے نہیں بڑھ رہی۔ کميٹی چيئرمين خرم دستگير نے کہا کہ ایف آئی اے حکومت کی ماتحت ہے اور اسی لئے اثر انداز ہورہی ہے۔ کسی کو بے قصور قرار دينا ايف آئی اے کا نہیں عدالتوں کا کام ہے۔
The News Tribe