واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


SOS,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 10-03-09, 09:04 PM   #1
SOS,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی
طارق راحیل طارق راحیل آف لائن ہے 10-03-09, 09:04 PM

موجودہ ارباب اقتدار کو حکومت کا تجربہ نہیں۔ حزب اختلاف کو اپوزیشن میں رہنے کا تجربہ نہیں اور عوام کو جمہوریت کا تجربہ نہیں۔ ظاہر ہے اناڑیوں کے ہاتھوں جو کچھ ہو سکتا ہے۔ ہو رہا ہے۔ دنیا حیران ہے کہ پاکستان کی حکومت کہاں ہے؟ کوئی اسے ایوان صدر میں تلاش کرتا ہے۔ کوئی وزیر اعظم ہاؤس میں اور کوئی راولپنڈی میں۔ حکومت ہے کہ سوائے نوازشریف کے کسی کے ہاتھ نہیں لگ رہی۔ ایک وہی ہیں جو تاک تاک کے ٹھیک ٹھیک نشانے لگا رہے ہیں۔ جس طرح حکومتی فیصلے دلچسپ ہوتے ہیں‘ اسی طرح نواز شریف کے مطالبے بھی دلچسپ ہوتے جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں حکومت بھی مجھے دو۔ پیپلزپارٹی بھی مجھے دے دو اور جسٹس افتخار چودھری کی سربراہی میں عدلیہ بھی میرے حوالے کرو۔ بے نظیر شہید کے قاتلوں کو ڈھونڈنے کا کام بھی میرے سپرد کرو۔ سب کچھ میں کر لوں گا۔ اپنے اپنے کام میں ان دواناڑیوں کے سوا ‘باقی ساری دنیا پریشان ہے کہ پاکستان تباہی کی طرف کیوں بڑھ رہا ہے؟ پہلے تو فاٹا میں خودکش بمبار تیار ہوتے تھے۔ اب حکومت اور اپوزیشن بھی اسی راہ پر چل نکلی ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے نہ حکومت کے پاس وقت ہے اور متبادل راستے بتانے کے لئے اپوزیشن کو فرصت نہیں۔
جو خطرہ ہمارے ملک میں پل رہا ہے۔ ساری دنیا اس سے لرزہ براندام ہے۔ آسٹریلیا کے ریڈیو نے کہا ”پاکستان سلگ رہا ہے۔ اسے سخت گیر محبت کی ضرورت ہے۔“ ڈیلی ٹیلی گراف نے لکھاکہ ”اگر آپ کا خیال ہے کہ افغانستان میں گھمس مچا ہے تو سرحد کی دوسری طرف پاکستان کی طرف دیکھیے یہ ایک ایسا ملک ہے جو مکمل تباہی کے کنارے پر کھڑا لڑکھڑا رہا ہے۔“ گارڈین میں لکھا گیا کہ ”پاکستان کو کون سنبھالے گا؟“امریکی سیکرٹری خارجہ ہیلری کلنٹن کہتی ہیں ”نیویارک ‘ میڈرڈ اور لندن میں دھماکے کرنے والے اور بے نظیر بھٹو کے قاتل ‘ سب فاٹا سے آئے تھے۔“ بھارت کے وزیر خارجہ پرتاب مکھر جی دہائیاں دے رہے ہیں”طالبان کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ اگر دنیا نے آگے بڑھ کر کچھ نہ کیا۔تو وہ پاکستان پر قبضہ کر لیں گے۔“پاکستان کی سب سے قدیم سیکولر جماعت خوفزدگی کی حالت میں ریاست کی عملداری سے دست بردار ہوتی جا رہی ہے۔ سوات میں ایک معاہدہ تو وہ ہوا جو ہم سب نے اخبارات میں پڑھا۔ لیکن دوسرا معاہدہ خفیہ طور سے کیا گیا۔ جس کا پتہ اس وقت چلا جب سکیورٹی فورسز کے اہلکار اغوا کئے گئے۔ صوفی محمد کی طرف سے وضاحت آئی کہ ان لوگوں نے طالبان کو اپنی نقل و حرکت کے بارے میں نہیں بتایا تھا- اخبارات میں شائع ہونے والے معاہدے میں یہ شرط کہیں نہیں۔ جستجو پر معلوم ہوا کہ خفیہ معاہدے کے تحت سکیورٹی کے اہلکاروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنی نقل و حرکت سے طالبان کو قبل ازوقت آگاہ کریں گے۔ اپنی آمدورفت کا روٹ بتائیں گے اور طالبان کا ایک نمائندہ ان کے ساتھ موجود رہے گا۔ طالبان کے نمائندے کے بغیر ‘نقل و حرکت کرنے والے سکیورٹی کے اہلکار اپنی سلامتی کے خود ذمہ دار ہوں گے۔ طالبان پر اس طرح کی کوئی پابندی نہیں۔ وہ ہر طرح کی نقل و حرکت کے لئے آزاد ہیں۔ سکیورٹی فورسز پر یہ پابندی بھی ہے کہ مالاکنڈ کی حدود میں نئے اہلکار داخل نہیں ہو سکیں گے۔ البتہ مالاکنڈ کی حدود سے اجازت لے کرباہر جانے والوں کو نہیں روکا جائے گا۔ سوات میں جو یونیورسٹی قائم ہونے لگی تھی۔ اس کی زمین پر صوفی محمد کا قبضہ ہو چکا ہے۔ صوبائی حکومت نے اس قبضے کو تسلیم کر لیا ہے۔یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد فاروق جو پرخطرماحول میں مینگورہ کے اندر بیٹھے یونیورسٹی کی تعمیر کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اب اپنا عہدہ چھوڑ کر واپس جانے کی سوچ رہے ہیں۔
فاٹا میں جہاں بھی سکیورٹی فورسز کی فتوحات کی خبریں آتی ہیں۔ تھوڑے ہی عرصے میں وہاں طالبان کی وارداتیں ہونے لگتی ہیں اور پتہ چلتا ہے کہ وہ ہرگز غیر موثر نہیں ہوئے۔ میں ایک مدت سے لکھتا چلا آ رہا ہوں کہ پاکستان کے ہر شہر میں کچھ ایسے مدرسے موجود ہیں ‘ جہاں امکانی طالبان ضرورت کے وقت متحرک ہو سکتے ہیں۔ یقینا خالص دینی تعلیم دینے والے مدارس بھی موجود ہیں۔لیکن نوجوان طلباء کو ترغیب دینے کے لئے جو لٹریچر پھیلایا جا رہا ہے۔دینی تعلیم و تربیت رکھنے والے طلبا کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے معصوم ذہنوں میں گناہوں اور بدکاریوں کے جو تصورات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق خواتین کا وجود ہی گناہوں کی بنیاد ہے۔ وہ بے پردہ خواتین کو لائق تعزیر سمجھتے ہیں۔ میک اپ کو جرم تصور کرتے ہیں۔ مرد کے بغیر گلی یا بازار میں آنے والی عورت کو پسند نہیں کرتے۔ اب اس کا اظہار ہر شہر میں تقسیم ہونے والے ہینڈ بلز میں کیا جا رہا ہے۔ لاہور کے اندر بھی ایسے ہینڈ بلز تقسیم ہو رہے ہیں۔ جن میں عورتوں کو اکیلا باہر آنے اور بے پردہ رہنے سے منع کیا جاتاہے۔ کئی مدرسے ایسے ہیں جن میں اسلحہ بھی موجود ہے۔ میں نے کچھ دن پہلے لکھاکہ ہم آتش فشاں کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اب یہ بات دنیا بھر میں کہی جا رہی ہے۔
یہ ایسا وقت ہے کہ ملک کی بقا اور تحفظ کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے۔لیکن جن لوگوں کو عوام نے ملک کا نظم و نسق چلانے کے لئے منتخب کیا ہے۔ وہ تلواریں سونت کر ایک دوسرے کو ختم کرنے پر تلے ہیں۔ حزب اختلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے اور حکومت امن امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سے بچنے میں لگی ہے۔ کچھ پتہ نہیں کہ ملک میں بغاوت کے چھوٹے چھوٹے انگارے کہاں کہاں سلگ رہے ہیں؟ جمہوری نظام کو چلانے اور تحفظ دینے والے لیڈربغاوت کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔ ان کی مرضی کی بغاوت ہو نہ ہو لیکن فسطائیت ‘ تنگ نظری اور انتہا پسندی ضرور بغاوت کی طرف جا رہی ہے۔ پاکستان میں موجود سفارتی نمائندے انتہائی پریشانی کے عالم میں اپنا سامان سمیٹنا شروع کر چکے ہیں۔افغانستان میں موجود امریکہ اور نیٹو کی افواج کو پاکستانی سرحد کے اندر کارروائیوں کے لئے تیاررہنے کے احکامات مل چکے ہیں۔ شیخ رشید احمد کا یہ انتباہ بے بنیاد نہیں کہ ”آپ ڈرونز کی باتیں کر رہے ہیں۔ خطرہ یہ ہے کہ امریکہ کے بمبار طیارے حرکت میں نہ آ جائیں۔“پاکستان کے سیاسی اثاثے بحران کا مقابلہ کرنے کی اہلیت ثابت نہیں کر سکے۔ ریاست کا دفاعی نظام بغاوتوں کو کچلنے میں ناکام دکھائی دے رہا ہے۔ ایک صوبائی حکومت باغیوں کے ساتھ سمجھوتہ کر کے ریاستی عملداری سے دستبرداری شروع کر چکی ہے۔ اگر اب بھی کسی کو اندازہ نہیں ہو رہا کہ ہم کس انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تو پھر کب ہو گا؟
__________________
سمجھو تو بہت قابلِ تعظیم ہے لوگوں
اِک دوست کا اِک دوست سے پیار کا رشتہ
www.tariqraheel.blogspot.com

 
طارق راحیل's Avatar
طارق راحیل
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2007
مقام: Karachi
عمر: 27
مراسلات: 2,895
شکریہ: 4,003
1,208 مراسلہ میں 2,413 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 154
Reply With Quote
طارق راحیل کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب

Tags
پاکستان, پاکستانی, پسند, وزیر, لندن, نواز شریف, مکمل, موجودہ, مقابلہ, محبت, معلوم, انتباہ, امریکہ, اغوا, بے نظیر, تلاش, تعلیم, جرم, خواتین, خودکش, شہر, عورت, عالم, صوبائی, صدر


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
وہ بھٹک کے‘ کئی راستے دکھا گیا...سویرے سویرے…نذیر ناجی ھارون اعظم خبریں 8 01-08-10 02:24 AM
لمبی لمبی سویاں محمد کاشف حبیب دلچسپ اور عجیب 9 04-11-09 02:32 PM
سویرے جو کل آنکھ میری کھلی فیصل ناصر قہقہے ہی قہقے 2 07-12-08 04:09 AM
تلخ سفر امیدوں کا,,,,,سویرے سویرے…نذیر ناجی خرم شہزاد خرم اپکے کالم 1 05-01-08 09:40 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:05 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger