واپس چلیں   پاکستان کی آواز > حالات حاضرہ > خبریں



خبریں پاکستان اور دنیا بھر کی تمام نئی خبروں کے لیئے یہاں تشریف لائیں


Why America Slept - پراسرار اموات

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 19-01-12, 03:42 AM   #1
Why America Slept - پراسرار اموات
طاھر طاھر آف لائن ہے 19-01-12, 03:42 AM

السلام علیکم،

آج ایک امریکی تحقیقاتی صحافی جیرالڈ پوزنر کی ایک کتاب Why America Slept کے کچھہ مندرجات پڑھنےکا اتفاق ہوا۔ اس کتاب میں انہوں نے ستمبر 11 کے وقوع پذیر ہونے کی وجوہات اور اس کے بعد کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ مختصرا یہ کہ ان کے مطابق اس واقعے کی ذمہ داری ناقص انٹیلیجنس پر عائد ہوتی ہے۔

اس کتاب کے خلاصہ میں جس چیز نے مجھے چونکایا وہ القاعدہ کے ایک ذمہ دارابو زبیدہ کی گرفتاری اوراس سے حاصل ہونےوالی معلومات تھی۔

کہا جاتا ہے کہ ابوزبیدہ نامی شخص جو کہ ایک سعودی باشندہ تھا کو پاکستان کے علاقے فیصل آباد سے مارچ سن 2002 میں گرفتار کیا گیا۔ یہ ابھی گوانتانامو بے کی جیل میں ہے اور اسے سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔ ابوزبیدہ سے معلومات کا حصول سی آئی اے کا سب سے بڑا مسئلہ تھا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہ شخص القاعدہ کی اعلی قیادت اور آپریشنل ٹیم کے درمیان رابطہ کار کا فریضہ انجام دیتا تھا۔

معلومات کے حصول کے لیئے اسے شدید ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور کہا جاتا ہے کہ تقریبا 82 دفعہ واٹر بورڈنگ کے عمل سےگذارا گیا۔ جب سی آئی اے اس سے معلومات حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئی تو ایک اور طریقہ آزمایا گیا جسے فالس فلیگ کہا گیا۔ اسے ایک ایسے ماحول میں رکھاگیا جو سعودی طرز کا تھا اور سی آئی اے کے عربی افسران نے سعودی بن کر اس سے باز پرس کی اور اسے انتہائی سخت سعودی تشدد کی دھمکی دی۔ خوفزدہ ہونے کے بجائے ابوزبیدہ بہت خوش ہوا اور اس نے ایک سعودی نمبر اپنے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ اس پر بات کرنا چاہتا ہے۔ یہ نمبر سعودی شاہی خاندان کے ایک فرد کا تھا اور وہ اس کی رہائی کے احکامات جاری کردے گا۔یہ نمبر شہزادہ احمد بن سلمان بن عبدالعزیز کا تھا۔ اس کے علاوہ تین اور سعودی شہزادوں کے نام بھی اس نے لیئے جن میں شہزادہ سلطان بن فیصل بن ترکی، شہزادہ فہد بن ترکی بن سعود الکبیر اور شہزادہ ترکی جو کہ سعودی انٹیلیجنس چیف تھے۔ چونکا دینے والے ناموں میں ایک نام ایئر چیف مارشل مصحف علی میر کا بھی تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 1996 میں ابوزبیدہ نے مصحف علی میر کے ذریعے آئی ایس آئی کو القاعدہ کو ہتھیاروں کی فراہمی اور اسامہ کے تحفظ کی بات کی تھی۔


سی آئی اے کے تحقیق کاروں کی امیدوں کے برعکس یہ نمبر بالکل درست ثابت ہوا اور اس طرح انہیں سعودی - پاکستانی اور القاعدہ کے مثلث کا ایک بڑا سراغ مل گیا۔

ابوزبیدہ کے مطابق اسامہ بن لادن نے اسے خود بتایا کہ شہزادہ ترکی اور اسامہ کا یہ معاہدہ 1991 میں طے ہوا تھا کہ اسامہ سعودیہ چھوڑ کر کہیں اورچلاجائے تو اسے سعودی حکومت خاموشی سے امداد فراہم کرتی رہے گی شرط صرف یہ ہو گی کہ وہ سعودی عرب میں اپنے جہادی ایجنڈے کو فروغ نہیں دے گا۔ 1998 میں قندھار میں شہزادہ ترکی، پاکستانی آئی ایس آئی ، طالبان اور اسامہ کے درمیان ایک ملاقات میں یہ بات پھر طے پائی گئی کہ سعودی امداد طالبان کوملتی رہے گی اور اسامہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی نہی کیا جائے گا جب تک اسامہ اورطالبان اس جہادی ایجنڈے کو سعودی عرب سے دور رکھتے ہیں۔

چونکا دینے والے حصےمیں مصنف کہتاہےکہ 2002 جولائی کوشہزادہ احمد دل کے دورے کے باّعث انتقال کر گئے ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔ دوسرے ہی دن شہزادہ سلطان بن فیصل بن ترکی تیز رفتار کار کے حادثے میں ہلاک ہوگئے۔ ایک ہفتے ہی بعد شہزادہ فہد بن ترکی بن سعود الکبیر ریاض کے قریب ایک ریگستان میں سفر کرتے ہوئے پیاس کا شکار ہو کر ہلاک ہوگئے۔ سات مہینے بعد فروری 2003 ائیرچیف مصحف علی میر ایک ناگہانی فضائی حادثے میں اپنی بیوی اور دوسرے ہائی کمان افسران کے ہمراہ شہید ہوگئے۔ اس تمام لسٹ میں صرف شہزادہ ترکی الفیصل زندہ بچے کیونکہ مصنف کے بقول وہ اتنا کچھہ جانتے تھے کہ انہیں مارنا سعودیوں کے لیئے خطرناک تھا۔ انٹیلیجنس سے ہٹا کرانہیں برطانیہ میں سعودی سفیر کی حیثیت سے تعینات کردیا گیا، ساتھہ ہی انہیں کسی بھی مجرمانہ پراسیکیوشن سے خصوصی سفارتی استشناّ دیا گیا ہے۔

ان تمام اموات کی وجوہات کو نہ تو سعودی حکومت اورنہ ہی پاکستانی حکومت نے جانچنے کی کوشش کی۔ مصحف علی میرکے فضائی حادثے میں موسم اور پائلٹ کو قصوروار قرار دے دیا گیا۔

اسی سلسلے میں نیشنل جیوگرافی کی ایک ڈاکومینٹری بھی دیکھی جو کہ ان مندرجات سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہے۔



خداجانے کیا سچ ہے اور کیا فکشن -- لیکن یہ کچھہ حقائق میرے لیئے خاصے چونکا دینے والے تھے۔

والسلام

طاہر
__________________
ہمیں خبر ہے لٹیروں کے سب ٹھکانوں کی
شریک جرم نہ ہوتے تو مخبری کرتے

 
طاھر's Avatar
طاھر
Senior Member
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 455
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-01-12), ہادی (19-01-12), کنعان (19-01-12), پاکستانی (19-01-12), ھارون اعظم (21-01-12), محمد یاسرعلی (20-01-12), مرزا عامر (21-01-12), احمد نذیر (19-01-12), حیدر (19-01-12), راجہ اکرام (20-01-12), زارا (19-01-12), شمشاد احمد (21-01-12), عبدالقدوس (19-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 06:11 AM   #2
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,356
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

بلاخر ثابت ہوا کہ پاکستان نے ہی 9/11 کروایا ہے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا
پاکستانی (19-01-12), احمد نذیر (19-01-12), حیدر (19-01-12), طاھر (19-01-12)
پرانا 19-01-12, 07:15 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,633
کمائي: 29,476
شکریہ: 7,141
2,969 مراسلہ میں 8,769 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

شہزادہ احمد بن سلمان بن عبدالعزیز Monday, July 22, 2002 ، عمر بوقت موت 43 سال
شہزادہ سلطان بن فیصل بن ترکی، Monday, July 23, 2002 ، عمر بوقت موت 41 سال
شہزادہ فہد بن ترکی بن سعود الکبیر ، ترکی، Monday, July 29, 2002 ، عمر بوقت موت 25 سال
سات مہینے بعد20 فروری 2003 ائیرچیف مصحف علی میر، بھی ہلاک۔

سعودی تعلق کسی کو بھی نظر نہیں‌آتا۔ سعودی پاکستان میں‌بھی فرد واحد کی یا ایک ہمدم ٹولے کی حکومت چاہتے ہیں ۔ کہ - جمہوریت، سعودی عرب کے حکمران ٹولے کے لئے سم قاتل ہے ۔ لہذا القائیدہ عرف الفائیدہ جیسے گروہوں کی ہر طرف پشت پناہی کرتے رہتے ہیں۔ جن لوگوں‌کے نام سامنے آگئے ان کو کونڈا
__________________
فاروق سرور خان
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشـا ہے نـہ رازی نـہ صـا حب کشـاف
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (19-01-12)
پرانا 19-01-12, 09:52 AM   #4
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
جمہوریت، سعودی عرب کے حکمران ٹولے کے لئے سم قاتل ہے ۔
السلام علیکم،

ایک بات سے آپ اتفاق کریں گے کہ امریکہ دنیا بھر میں اورخصوصا مسلم ممالک میں "جمہوریت" کے نفاذ کےلیئے انتہائی غیرمعمولی پھرتیاں دکھاتا پھرتا ہے۔

اس کی تمام کوششیں سعودی عرب کے سامنے خاموش ہوجاتی ہیں۔ نہ صرف سعودی عرب بلکہ دوسری عرب ریاستوں بحرین، عمان وغیرہ کی بادشاہت بھی انہیں جمہوریت ہی لگتی ہے۔

بات وہی ہے کہ اپنے ایجنڈے اورترجیحات سب کو پیارے ہوتے ہیں، چاہے وہ امریکہ ہو، سعودی عرب ہویا طالبان۔

باقی رہی بات پاکستان کی تو وہ ویسے ہی "سرکار" کی نگران حکومت ہوتی ہے یہ وہ واحد مملکت ہے جس کا شاید کوئی ایجنڈا ہی نہیں۔

والسلام

طاہر
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
ھارون اعظم (21-01-12), محمد عاصم (21-01-12), احمد نذیر (19-01-12), حیدر (19-01-12), راجہ اکرام (20-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 10:04 AM   #5
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,401
کمائي: 96,078
شکریہ: 52,552
11,185 مراسلہ میں 35,279 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مصحف علی میر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ حضرت مشرف علیہ وغیرہ وغیرہ کو بھی ان سے خطرہ تھا کیوں کہ وہ مشرف کی پالیسیوں کی بھرپور مخالفت کرتے تھے۔

جی دار بندے جلد ہی مار دئیے جاتے ہیں۔ لگتا ہے اللہ صرف ظالموں کی رسی دراز کرتا ہے۔
حیدر آن لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (21-01-12), ھارون اعظم (21-01-12), ننھا بچہ (19-01-12)
پرانا 19-01-12, 11:24 AM   #6
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اس میں حیرت کی بات اس لئے نہیں ہے کے سی آئی اے درحقیقت قاتلوں کی ایک ٹیم ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
dxbgraphics (19-01-12), پاکستانی (19-01-12), محمد عاصم (21-01-12), عبدالقدوس (19-01-12)
پرانا 19-01-12, 07:05 PM   #7
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
مصحف علی میر کے بارے میں کہا گیا تھا کہ حضرت مشرف علیہ وغیرہ وغیرہ کو بھی ان سے خطرہ تھا کیوں کہ وہ مشرف کی پالیسیوں کی بھرپور مخالفت کرتے تھے۔

جی دار بندے جلد ہی مار دئیے جاتے ہیں۔ لگتا ہے اللہ صرف ظالموں کی رسی دراز کرتا ہے۔
شای ایسا ہی ہولیکن مشرف نے مصحف علی میر کو ائیرچیف بنانے کے لیئے 4 سینیئرافسران کو بائی پاس کروایا۔

سنی سنائی ہے کہ مصحف علی میر امریکہ کو پاکستانی فضائی اڈے دینے کے خلاف تھے۔

واللہ اعلم
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (19-01-12), عبدالقدوس (19-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 10:40 PM   #8
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 681
کمائي: 12,936
شکریہ: 0
369 مراسلہ میں 711 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

امريکہ مسلمانوں اور عالم اسلام کے مدمقابل نہيں ہے۔ جس دشمن کا ہميں آج سامنا ہے، وہ مسلمانوں کے ليے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ خود امريکہ کے ليے ہے۔ يہ ايک حقيقت ہے کہ خود مسلم ممالک ميں ميڈيا مہم، مذہبی بحث اور دانشوروں کی تقارير کے ذريعے دہشت گردی کی مذمت کی جا رہی ہے اور يہ شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہشت گردی ايک جرم ہے اور اس کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

جہاں تک سياسی قتل کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ سال 1976 ميں امريکی صدر فورڈ کی جانب سے ايشو ہونے والے سرکاری حکم نامے 11905 کی جانب دلواؤں گا جس ميں امريکہ کی خارجہ ممالک ميں معلوماتی سرگرميوں کی وضاحت کر دی گئ ہے۔ "معلوماتی سرگرميوں پر قدغن" نامی سيکشن ميں امريکی صدر فورڈ نے سياسی قتل پر مکمل پابندی کا حکم نامی جاری کيا تھا۔ "سياسی قتل پر پابندی" کے سيکشن 5 جی ميں واضح درج ہے کہ "امريکی حکومت کا کوئ ملازم کسی بھی صورت ميں کسی سياسی قتل ميں اور کسی سياسی قتل کی سازش ميں شريک نہيں ہو گا۔"

سال 1976 سے ہر امريکی صدر نے صدر فورڈ کے "سياسی قتل پر پابندی" کے اس حکم نامے کو برقرار رکھا ہے۔

سال 1978 ميں صدر کارٹر نے اينٹلی جينس کے نظام کو ازسرنو تشکيل دينے کے ليے سرکاری حکم نامہ جاری کيا۔ اس حکم نامے کے سيکشن 503-2 ميں "سياسی قتل پر پابندی" کی شق کو برقرار رکھا گيا۔

سال 1981 ميں صدر ريگن نے سرکاری حکم نامہ 12333 جاری کيا جس ميں "سياسی قتل پر پابندی" کو برقرار رکھا گيا۔


http://www.fas.org/irp/crs/RS21037.pdf


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook
Fawad آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-01-12, 10:45 PM   #9
Senior Member
 
ننھا بچہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2010
مقام: جہانِ فانی میں
مراسلات: 4,510
کمائي: 52,540
شکریہ: 5,869
3,229 مراسلہ میں 6,949 بارشکریہ ادا کیا گیا
ننھا بچہ کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
امريکہ مسلمانوں اور عالم اسلام کے مدمقابل نہيں ہے۔ جس دشمن کا ہميں آج سامنا ہے، وہ مسلمانوں کے ليے بھی اتنا ہی بڑا خطرہ ہے جتنا کہ خود امريکہ کے ليے ہے۔ يہ ايک حقيقت ہے کہ خود مسلم ممالک ميں ميڈيا مہم، مذہبی بحث اور دانشوروں کی تقارير کے ذريعے دہشت گردی کی مذمت کی جا رہی ہے اور يہ شعور اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دہشت گردی ايک جرم ہے اور اس کا مذہب سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

جہاں تک سياسی قتل کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ سال 1976 ميں امريکی صدر فورڈ کی جانب سے ايشو ہونے والے سرکاری حکم نامے 11905 کی جانب دلواؤں گا جس ميں امريکہ کی خارجہ ممالک ميں معلوماتی سرگرميوں کی وضاحت کر دی گئ ہے۔ "معلوماتی سرگرميوں پر قدغن" نامی سيکشن ميں امريکی صدر فورڈ نے سياسی قتل پر مکمل پابندی کا حکم نامی جاری کيا تھا۔ "سياسی قتل پر پابندی" کے سيکشن 5 جی ميں واضح درج ہے کہ "امريکی حکومت کا کوئ ملازم کسی بھی صورت ميں کسی سياسی قتل ميں اور کسی سياسی قتل کی سازش ميں شريک نہيں ہو گا۔"

سال 1976 سے ہر امريکی صدر نے صدر فورڈ کے "سياسی قتل پر پابندی" کے اس حکم نامے کو برقرار رکھا ہے۔

سال 1978 ميں صدر کارٹر نے اينٹلی جينس کے نظام کو ازسرنو تشکيل دينے کے ليے سرکاری حکم نامہ جاری کيا۔ اس حکم نامے کے سيکشن 503-2 ميں "سياسی قتل پر پابندی" کی شق کو برقرار رکھا گيا۔

سال 1981 ميں صدر ريگن نے سرکاری حکم نامہ 12333 جاری کيا جس ميں "سياسی قتل پر پابندی" کو برقرار رکھا گيا۔


http://www.fas.org/irp/crs/RS21037.pdf


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
U.S. Department of State
USUrduDigitalOutreach - Government Organization - Washington, DC | Facebook
اچھا تُسی کہ دتا تے اسی من لاں گے؟
ننھا بچہ آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے ننھا بچہ کا شکریہ ادا کیا
skjatala (21-01-12), احمد نذیر (20-01-12)
پرانا 19-01-12, 11:36 PM   #10
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : Fawad مراسلہ دیکھیں
سال 1981 ميں صدر ريگن نے سرکاری حکم نامہ 12333 جاری کيا جس ميں "سياسی قتل پر پابندی" کو برقرار رکھا گيا۔
بڑے صاحب

قوانین کی موجودگی تو اپنی جگہ ہے لیکن آف دی ریکارڈ Assassinations کو کون رپورٹ کرتا ہے؟

کیا آپ کے خیال میں سی آئی اے دنیا میں کہیں بھی سیاسی قتل میں ملوث نہیں ہوئی؟

اگر آپ کا خیال اس قسم کا ہے تو آپ سی آئی اے کے ڈی کلاسیفائیڈ Assassinations مینول کے بارے میں کیا کہتے ہیں - اس کی کیا ضرورت تھی؟

گوگل آپ کواس قسم کی سینکڑوں کہانیاں ڈھونڈ کر دے سکتا ہے۔

ویسے ریگن کے بعد کیا یہ قانون ختم ہوچکاہے

Last edited by طاھر; 19-01-12 at 11:39 PM.
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے طاھر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-01-12), محمد عاصم (21-01-12), احمد نذیر (20-01-12), عبدالقدوس (20-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12)
پرانا 20-01-12, 11:16 AM   #11
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Mar 2008
مقام: US
مراسلات: 3,633
کمائي: 29,476
شکریہ: 7,141
2,969 مراسلہ میں 8,769 بارشکریہ ادا کیا گیا
فاروق سرورخان کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قتل کرنے والے ، سعودی ہی ہو سکتے ہیں‌۔ اس لئے کہ پاکستان کے خلاف سعودی مہم بہت ہی ایڈونچرس ہے ۔
فاروق سرورخان آن لائن ہے   Reply With Quote
فاروق سرورخان کا شکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس (20-01-12)
پرانا 20-01-12, 11:39 AM   #12
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,258
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
جہاں تک سياسی قتل کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں آپ کی توجہ سال 1976 ميں امريکی صدر فورڈ کی جانب سے ايشو ہونے والے سرکاری حکم نامے 11905 کی جانب دلواؤں گا جس ميں امريکہ کی خارجہ ممالک ميں معلوماتی سرگرميوں کی وضاحت کر دی گئ ہے۔ "معلوماتی سرگرميوں پر قدغن" نامی سيکشن ميں امريکی صدر فورڈ نے سياسی قتل پر مکمل پابندی کا حکم نامی جاری کيا تھا۔ "سياسی قتل پر پابندی" کے سيکشن 5 جی ميں واضح درج ہے کہ "امريکی حکومت کا کوئ ملازم کسی بھی صورت ميں کسی سياسی قتل ميں اور کسی سياسی قتل کی سازش ميں شريک نہيں ہو گا۔"
سی آئی اے خود کو ملازم سمجھتی ہے ؟؟
کتابوں میں لکھے میں اور زمینی حقائق میں جو تضاد ہے اسے تو میرے جیسے بھی جانتے ہیں آپ کو کافی جہاندیدہ آدمی ہیں فواد صاحب
کمال کرتے ہیں وہ بھی دن دہاڑے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (20-01-12), محمد یاسرعلی (20-01-12), احمد نذیر (20-01-12), عبداللہ آدم (20-01-12)
پرانا 21-01-12, 12:05 AM   #13
Senior Member
 
طاھر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Aug 2007
مقام: دنیائے فانی
عمر: 42
مراسلات: 2,817
کمائي: 46,566
شکریہ: 2,080
1,944 مراسلہ میں 6,506 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فاروق سرورخان مراسلہ دیکھیں
قتل کرنے والے ، سعودی ہی ہو سکتے ہیں‌۔ اس لئے کہ پاکستان کے خلاف سعودی مہم بہت ہی ایڈونچرس ہے ۔
وہ کیسے ؟؟؟؟؟

تفصیل سے بتائیں۔۔۔۔
طاھر آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 21-01-12, 12:46 AM   #14
ذیلی ناظم
 
عبداللہ آدم's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2010
مقام: راولپنڈی
مراسلات: 6,037
کمائي: 100,077
شکریہ: 24,031
4,992 مراسلہ میں 14,715 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ آدم کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

مصحف علی میر بارے تو ہمارے چچا جی کافی کچھ بتایا کرتے تھے ان دنوں، وہ خود بھی اسی کی ماتحتی میں تھے اس لیے، میر ساحب کو مشرف نے کتنے دن ہاوس اریسٹ بھی رکھا تھا اور سب بیسز کو آرمی کے کنٹرول میں اور بعد میں صورتحال کچھ بہتر ہونے پر نگرانی میں رکھا گیا تھا....... اور پھر برے پیمانے پر تنزلیاں اور لوگوں کو کک آوت بھی کیا گیا تھا،،،،،،،، درحقیقت سب سے زیادہ رزسستنس ایر فورس ہی میں ہوئی تھی جب مشرف نے امریکہ کی مدد کا فیصلہ کیا تھا..... !!!

بظاہرابوزبیدہ والے مسئلے پر قیافے اندازے ہی ہیں، لیکن اگر شہزادوں کی پر اسرار اموات کی تاریخیں یہی ہیں تو اسے محض اتفاق نہیں کہا جا سکتا..........
اور جیسا کہ ایجنسیز اس بارے میں خاصی مشہور ہے کہ وہ بندوں کو حادثاتی موت بالخصوص ایکسیڈنٹ میں فارغ کروا دیتی ہیں.

یہی سے سعودی عرب کے امریکی شکجنے میں پاکستان سے بھی زیادہ سختی سے جکرے ہونے کا سراغ ملتا ہے کہ ہم تو فہیم اور فیضان اور عبدالرحمٰن پہ پھر دو چار دن رو پیٹ لیتے ہیں اور وہاں تین شہزادے مار دیے گئے اور بات ختم !!!
اور خود انٹیلی جنس چیف ساب کی چھٹی کروا دی گئی ......
__________________
قال الشيخ محمد نجيب المطيعي - رحمه الله- في تصوير طبيعة طريق المجاهد :
"وإنما يجاهد المؤمن في الله جهاده، إن أخفق فإفادة أو أوذي فإرادة، أو نفي فريادة،
أو سجن فعبادة، أو عاش فقيادة، أو مات فشهادة، فله الحسنى وزيادة"
عبداللہ آدم آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے عبداللہ آدم کا شکریہ ادا کیا
skjatala (21-01-12), فیصل ناصر (21-01-12), عبدالقدوس (21-01-12)
پرانا 21-01-12, 08:08 AM   #15
Administrator

 
عبدالقدوس's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2007
مقام: گوگل
عمر: 24
مراسلات: 25,294
کمائي: 2,346,356
شکریہ: 18,821
12,630 مراسلہ میں 29,416 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبدالقدوس کو ICQ کے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو AIMکے ذریعے پیغام ارسال کریں عبدالقدوس کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

سرورق پر ڈال دیا گیا ہے
عبدالقدوس آف لائن ہے   Reply With Quote
عبدالقدوس کا شکریہ ادا کیا گیا
جواب


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
To America State Department راجہ اکرام دلچسپ اور عجیب 4 06-08-11 01:29 AM
America at a Crossroads ایک دلچسپ ڈاکومنٹری shafresha فلمی دنیا 18 28-06-10 03:35 AM
FBI Report: Violence Against Women in America وجدان English Literature and Books 3 17-05-08 02:29 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 10:06 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger