واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


آیت اظہارِ دین اور خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-07-11, 02:48 AM  
آیت اظہارِ دین اور خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 08-07-11, 02:48 AM

ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔

’’وہ (اللہ) ہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو (کتاب) ہدایت اور دین حق دے کر تا کہ غالب کر دے اسے تمام دینوں پر اور (رسول کی صداقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘(سورۃ الفتح، ۸۲)

قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت ۳۳، اور سورۃ الصّف کی آیت ۹، میں بھی اظہارِ دین کا اعلان معمولی لفظی تغیّر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مذکورہ دونوں مقامات پروَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا کے بجائے ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو رفتہ رفتہ تقریباً تمام عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو گیا۔ ایک طرف مشرک قبائل تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہو گئے۔ دوسری طرف سرمایہ دار یہود و نصاریٰ تھے جو ہر قیمت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناکام کر دینے کا فیصلہ کر چکے تھے اور تیسری طرف منافقین تھے جو بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے مگر ان کا مقصد بھی یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں گھس کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کو اندر سے ڈائنا میٹ کر دیں۔

اس طرح طاقت، سرمایہ اور اندرونی سازشیں، سہ طرفہ مخالفتوں کے طوفان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی تحریک چلا رہے تھے کہ تھوڑے سے غلاموں اور کمزور لوگوں کے سوا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی نہ تھا۔ مکہ کے سربر آوردہ لوگوں میں سے گنتی کے چند آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے نکلے ان کا بھی یہ حال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آتے ہی وہ خاندان سے کٹ گئے اور ان کی قوم ان کی بھی اسی طرح دشمن ہو گئی جس طرح وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن تھی۔

یہ تحریک یوں ہی چلتی رہی یہاں تک کہ حالات اس قدر شدید ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر جانا پڑا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی جو پہلے ہی نہتے اور کمزور تھے۔ مدینہ منوّرہ میں اس حالت میں جمع ہوئے کہ اپنے وطن میں جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی چھن چکا تھا۔ مدینہ منوّرہ میں ان لوگوں کی بے کسی کا یہ حال تھا کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنکے رہنے کے لیے باقاعدہ کوئی مکان نہیں تھا وہ چھپر پڑے ہوئے ایک چبوترے پر زندگی گزارتے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کا نام اصحاب صفّہ پڑ گیا تھا۔

چند انسانوں کا یہ بے سر و سامان قافلہ مدینے کی سر زمین پر اس طرح پڑا ہوا تھا کہ ہر آن یہ خطرہ تھا کہ چاروں طرف اس کے پھیلے ہوئے دشمن اس کو اچک لے جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ان ساری مخالفتوں کے علی الرغم اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کر کے رہے گا۔

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔

’’اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ بے شک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناًاللہ تعالیٰ زور آور غالب ہے۔‘‘ (المجادلہ، ۱۲)

سورۃ التوبہ آیت ۳۳، اور سورۃ الصّف آیت ۹، کے سیاق و سباق پر نظر ڈالنے سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ ’’یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءِوْا۔۔۔یُرِیْدُوْ نَ لِیُطُفِءِوْا۔۔۔‘‘میں اہل کتاب کو چیلنج ہے اور ’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ۔۔۔‘‘میں مشرکین عرب کو۔۔۔ کیونکہ سر زمینِ حجاز میں ان ہی گروہوں سے اسلام کا مقابلہ تھا بعد میں یہ میدانِ مقابلہ بہت وسیع ہو گیا۔

پھر سورۃ التوبہ اور سورۃ الصف میں غلبے کی جس بشارت کو ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ‘‘اور ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْمْشْرِکْوْنَ‘‘کے الفاظ سے مؤکد کیا گیا ہے تو سورۃ الفتح میں ’’وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ‘‘کے الفاظ سے تسلی دی گئی ہے کہ اس بشارت کو یہود و نصاریٰ، مشرکین اور دیگر کافر خواہ کتنا ہی بعید از قیاس سمجھیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی صداقت کے لیے اللہ کی گواہی کافی ہے۔

یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ بظاہر اس مغلوبانہ صلح سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو بڑا رنج پہنچا لیکن یہ سورۃ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجروح دلوں کے لیے مرہم ثابت ہوئی جب کہ سورۃ التوبہ پوری کی پوری فتح مکہ اور غزوہ حنین کے بعد مختلف اوقات میں نازل ہوئی، سورۃ التوبہ، سورۃ الفتح اور سورۃ الصف کی آیات ’’اظہارِ دین‘‘ میں جس غلبے کی بشارت دی گئی ہے اس سے دلائل و براہین کا غلبہ مراد ہے یا سیف و سنان اور قوت و اقتدار کا غلبہ؟

مذکورہ بشارت میں دونوں قسم کا غلبہ مراد ہے۔ دلائل و براہین کا غلبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تو ہر پیغمبر کو حاصل رہا ہے اور یہ غلبہ مادی قوت کے سامنے بظاہر کامیابی نہیں کہلاتا۔ جیسے فرعون استدلال کے میدان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دلائل و معجزات کے سامنے ہار گیا لیکن مادی قوت کے بل بوتے پر وہ غالب رہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ملک چھوڑنا پڑا۔

اسی طرح دلائل کے میدان میں قریش مکہ نے پے در پے شکستیں کھائیں مگر قوت و اقتدار کے غلبے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہجرت اختیار کرنا پڑی۔ پھر مذکورہ بشارت کے مطابق چند سالوں میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت تک سارا عرب اسلام کا گہوارہ بن چکا تھا اور اس کے ساتھ حبش، مصر، ایران، شام، روم اور دوسرے ممالک تک اسلام کی دعوت کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ غزوہ احزاب میں خندق کی کھدائی کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشفی صورت میں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کا مسلمانوں کے قبضہ میں آنا مشاہدہ فرمایا۔

علامہ سید سلیمان ندوی رح لکھتے ہیں کہ:

امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب تم لوگ شام کی طرف ہجرت کرو گے تو وہ تمہارے لیے فتح کر دیا جائے گا۔‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ شام فتح ہونے کے ساتھ ہی عربوں کا مسکن بن گیااور آج بھی ان کی آبادی وہاں سب سے زیادہ ہے۔


پھر ارشاد ہوا کہ عراق مفتوح ہو گا اور لوگ وہاں بھی اپنی سواریوں کو ہنکاتے ہوئے اہل و عیال کو لے کر آئیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا اگر وہ سمجھتے۔۔۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عنقریب مصر فتح کرو گے جہاں کا قیراط مشہور ہے جب اس کو فتح کرو تو وہاں کے باشندوں کے ساتھ نیکی سے پیش آنا کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان تعلق اور رشتہ ہے۔‘‘( حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی اور حضرت اسماعیل کی ماں ہاجرہ مصر کی تھیں)

بحر روم جس کو بحر اخضر اور بحر متوسط بھی کہتے ہیں۔ یورپ اور ایشیا اور اب گویا اسلام اور عیسائیت کی حد فاصل ہے اور اس زمانہ میں یہ رومیوں کی بحری قوت کی جولانگاہ تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خواب راحت سے مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اس وقت خواب میں میری امت کے کچھ لوگ تخت شاہی پر بادشاہوں کی طرح بیٹھے ہوئے دکھائے گئے۔ یہ بحر اخضر میں (جہاد کے لیے) اپنے جہاز ڈالیں گے۔ یہ بشارت سب سے پہلے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں پوری ہوئی اور دیکھا گیا ہے کہ دمشق کا شہزادہ یزید اپنی سپہ سالاری میں مسلمانوں کا پہلا لشکر لے کر بحر اخضر میں جہازوں کے بیڑے ڈالتا ہے اور دریا کو عبور کر کے قسطنطنیہ کی چہار دیواری پر تلوار مارتا ہے۔ (سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، جلد سوم۔ ص۹۹۵، ۱۰۶)

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زیر عنوان ’’عقبہ بن نافع اور ان کی فتوحات‘‘ لکھتے ہیں کہ: اس علاقے (شمالی افریقہ) کی فتح کا اصل سہرا حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے سر ہے۔ مصر کی فتوحات میں یہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ بعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ حکومت میں انہیں شمالی افریقہ کے باقی ماندہ حصے کی فتح کی مہم سونپ دی۔ یہ اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ مصر سے نکل کر دادِ شجاعت دیتے ہوئے تونس تک پہنچ گئے اور یہاں قیروان کا مشہور شہر بسایا۔ جس کا واقعہ یہ ہے کہ جس جگہ آج قیروان آباد ہے وہاں بہت گھنا جنگل تھا جو درندوں سے بھرا ہوا تھا۔

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بربریوں کے شہروں میں رہنے کی بجائے مسلمانوں کے لیے الگ شہر بسانے کے لیے یہ جگہ منتخب کی تا کہ مسلمان یہاں مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی قوت بڑھا سکیں۔ ان کے ساتھیوں نے کہا یہ جنگل تو درندوں اور حشرات الارض سے بھرا ہوا ہے لیکن حضرت عقبہ کے نزدیک شہر بسانے کے لیے اس سے بہتر کوئی جگہ نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور لشکر میں جتنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ان کو جمع کیا۔ یہ کل اٹھارہ صحابہ کرام تھے۔ ان کے ساتھ مل کر حضرت عقبہ نے دعا کی اور اس کے بعد یہ آواز لگائی: ’’اَیَّتُہَا السِّباعُ وَالْحَشَرَاتُ نَحْنُ اَصْحَابُ رَسُوُلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وسلم اِرْحَلُوْا عَنَّا فَاِنَّا نَازِلُوْنَ فَمَن وَّ جَدْنَاہٗ بَعْدَ قَتَلْنَاہٗ‘‘اے درندو اور کیڑو! ہم رسول اللہ کے اصحاب ہیں۔ ہم یہاں بسنا چاہتے ہیں لہذا تم یہاں سے کوچ کر جاؤ۔ اس کے بعد تم میں سے جو کوئی یہاں نظر آئے گا ہم اسے قتل کر دیں گے۔

اس اعلان کا نتیجہ کیا ہوا؟[COLOR="rgb(255, 0, 255)"] امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ: ’’فَلَمْ یَبْقِ مِنْہَا شَئیٌ اِلَّا خَرَجَ ہَارِباً حَتیٰ اَنَّ السِبَاعَ تحم اَوْلادھا‘‘[/COLOR]ان جانوروں میں سے کوئی نہیں بچا جو بھاگ نہ گیا ہو۔ یہاں تک کہ درندے اپنے بچوں کو اٹھائے لے جا رہے تھے۔

اس کے بعد عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جنگل کاٹ کر یہاں شہر قیروان آباد کیا، وہاں جامع مسجد بنائی اور اسے شمالی افریقہ میں اپنا مستقر قرار دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ افریقہ کی امارت سے معزول ہو کر شام میں آباد ہو گئے تھے۔ آخر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ وہاں بھیجنا چاہا لیکن آپ کی وفات ہو گئی۔ بعد میں یزید نے اپنے عہد حکومت میں انہیں دوبارہ افریقہ کا گورنر بنایا اس موقع پر انہوں نے قیروان سے مغرب کی طرف اپنی پیش قدمی پھر سے شروع کی اور روانگی سے پہلے اپنے بیٹوں سے کہا: ’’میں اپنی جان اللہ تعالیٰ کو فروخت کر چکا ہوں لہذا اب (مرتے دم تک) اللہ کا انکار کرنے والوں سے جہاد کرتا رہوں گا۔

اس کے بعد انہیں وصیتیں فرمائیں اور روانہ ہو گئے۔ اسی زمانے میں انہوں نے الجزائر کے متعدد علاقے تلمسان وغیرہ فتح کیے۔ یہاں تک کہ مراکش میں داخل ہو کر اس کے بہت سے علاقوں میں اسلام کا پرچم لہرایا اور بالآخر اسفیٰ کے مقام پر جو افریقہ کا انتہائی مغربی ساحل ہے بحر ظلمات (اٹلانٹک) نظر آنے لگا۔ اس عظیم سمندر پر پہنچ کر حضرت عقبہ نے وہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’یا رب لو لا ہٰذا البحر لمفیت فی البلاد مجاہداً فی سبیلک‘‘ پروردگار! اگر یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو میں آپ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا اپنا سفر جاری رکھتا۔

اس کے بعد آپ نے اپنے گھوڑے کے اگلے پاؤں اٹلانٹک کی موجوں میں ڈالے، اپنے ساتھیوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ ہاتھ اٹھاؤ۔ ساتھیوں نے ہاتھ اٹھا دیے تو عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے یہ اثر انگیز دعا فرمائی:’’ یا اللہ! میں غرور و تکبر کے جذبے سے نہیں نکلا اور تو جانتا ہے کہ ہم اسی سبب کی تلاش میں ہیں جس کی آپ کے بندے ذوالقرنین نے جستجو کی تھی اور وہ یہ ہے کہ بس دنیا میں تیری عبادت ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیاجائے۔ اے اللہ! ہم دین اسلام کادفاع کرنے والے ہیں تو ہمارا ہو جا اور ہمارے خلاف نہ ہو۔ یا ذوالجلال والاکرام‘‘ (جہانِ دیدہ، ص۶۰۱۔۰۱۱)

اس دعا کو آیات ’’اظہارِ دین‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت اور تمام باطل ادیان پر دین حق کے غلبے کی پیش گوئی کو آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار اعوان و انصار بالخصوص خلفائے راشدین (بشمول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے اپنے اپنے ادوار میں پورا کر دکھایا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور امارت و خلافت کو نکال کر قوت و اقتدار اور سیف و سنان کے غلبے کی پیش گوئی کیوں کر ثابت کی جا سکتی ہے؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں دونوں قسم کا غلبہ حاصل رہا اور تمام (سبائی، یہودی اور عیسائی) سازشی عناصر زیرِ زمین گھس جانے پر مجبور ہو گئے۔

نیز یہ غلبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک ہی موقوف نہیں رہا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کم از کم بارہ خلفاء تک ضرور قائم رہا۔ ’’لَا یَزَالُ الْاِسْلَامُ عَزِیْزاً اِلیٰ اِثْنَیْ عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔۔۔لَا یَزَالُ ہٰذا الدِّیْنُ عَزِیْزاً مُنِیْعًا اِلیٰ اِثْنَیْ عَشَرَ خَلِیْفَۃً‘‘(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریشہ جلد۲، ص۹۱۱)

جب کہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’یَکُوْنُ اثْنَا عَشَرَ اَمِیْراً۔۔۔کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ‘‘

(صحیح بخاری کتاب الاحکام، باب بلاعنوان بعد از باب الاستخلاف، رقم الحدیث ۲۲۲۷)

سنن ابی داؤد کی روایت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’لَا یَزَالُ ہٰذا الدِّیْنُ قَاءِمٌ حَتّیٰ یَکُوْنَ عَلَیْکُمْ اِثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْاُمَّۃُ‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، باب الملاحم جلد ۲۔ ص۹۳۲)

جامع ترمذی میں ’’یَکُوْنُ مِنْ م بَعْدِیْ اِثْنَا عَشَرَ اَمِیْراً‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔ (جامع الترمذی، جلد دوم، ص۳۱۱)


مذکورہ روایات میں بتایا گیا ہے کہ اسلام بارہ خلفاء کے دور تک ہمیشہ غالب رہے گا، کوئی بیرونی طاقت ان پر غلبہ نہ پا سکے گی، یہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے اور ان سب پر امت کا اجماع ہو گا۔

علامہ سید سلیمان ندوی رح ’’ بارہ خلفاء‘‘ کی بحث میں لکھتے ہیں کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ خلفاء کے ہونے کی بشارتیں حدیث کی مختلف کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہیں۔۔۔ علمائے اہل سنت میں سے قاضی عیاض اس حدیث کا یہ مطلب بتاتے ہیں کہ تمام خلفاء میں سے بارہ وہ شخص مراد ہیں جن سے اسلام کی خدمت بن آئی اور وہ متقی تھے۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]حافظ ابن حجر، ابو داؤد کے الفاظ کی بنا پر خلفائے راشدین اور بنی امیّہ میں سے ان خلفاء کو گناتے ہیں جن کی خلافت پر تمام امت کا اجتماع رہا یعنی

۱۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ۳۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۴۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ۵۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ۶۔یزید ۷۔عبدالملک ۸۔ولید ۹۔سلیمان ۰۱۔عمر بن عبدالعزیز ۱۱۔یزید ثانی ۲۱۔ہشام

(سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد سوم، ص۴۰۶۔ تحت اخبار غیب یا پیش گوئی)
[/COLOR]
حسب ذیل کتب میں بھی معمولی تغیّر کے ساتھ بارہ خلفاء کے نام آئے ہیں: (فتح الباری، جلد۳۱۔ ص۴۱۲، منہاج السنۃ لابن تیمیۃ جلد۴۔ ص۶۰۲، تاریخ الخلفاء للسیوطی مترجمہ شمس بریلوی، الصواعق المحرقۃ لابن حجر ہیتمی، ص۱۲، شرح فقہ اکبر لملا علی قاری، ص۴۸، تکملہ فتح الملہم للشیخ محمد تقی عثمانی جلد۳۔ ص۴۸۲)

محدثین کی مذکورہ تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہشام بن عبد الملک اموی کے دور خلافت میں پوری اور سچی ثابت ہوئی۔ مذکورہ اموی خلفاء کو یہ شرف حاصل رہا کہ ان پر پوری امت متفق و مجتمع تھی، ان کے ادوار میں تمام عالم اسلام کا ایک ہی سیاسی مرکز تھا۔ ایک ہی خلیفہ کا حکم پوری اسلامی دنیا پر چلتا تھا اور نہ صرف اندرونِ مملکت اسلام غالب تھا بلکہ کسی بیرونی قوت کو خلافتِ اسلامیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

بہر حال آیات ’’اظہارِ دین‘‘ میں بیان کردہ غلبہ کی پیش گوئی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور (جو ۰۱۱ھ تک رہا ہے) یقینی طور پر شامل ہے۔

قرآن کریم سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے: ’’فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘پس یقیناًاللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی۔ (المائدہ، ۶۵)

ایک دوسرے مقام پر قرآن عزیز نے ’’حزب اللہ‘‘ کو ’’لشکر‘‘ کا نام دیا ہے۔

’’وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘اور ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ (الصّٰفٰت، ۳۷۱)


مذکورہ تفصیل اور قرآن و حدیث کے دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو گئی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت راشدہ میں دونوں قسم (یعنی دلائل اور قوت و اقتدار و سیف و سنان) کا غلبہ حاصل رہا ہے کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مجتہد صحابی اور خود بھی بہ لسان نبوت ’’قَوِیٌّ اَمِیْنٌ‘‘ تھے۔

(مجمع الزوائد ، جلد۹، ص۶۵۳)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’قوی و غالب‘‘ ہونے کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ : ’’ابن عساکر نے روایت کی عروہ بن رویم سے کہا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ مجھ سے کُشتی لڑ۔ تو اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تجھ سے کُشتی لڑتا ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی مغلوب نہ ہو گا۔

چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو پچھاڑ دیا تو جب یوم صفّین ہو چکا تو علی رضی اللہ عنہ نے (عروہ سے) کہا کہ اگر تو اس حدیث کو مجھ سے ذکر کر دیتا تو میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ نہ کرتا۔‘


(ازالۃ الخفاء، جلد چہارم، ص۸۱۵۔ مترجمہ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیف و سنان کا غلبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ’’دین حق‘‘ کو حاصل ہوا جب ایران و روم کی دو ’’سپر پاور‘‘ حکومتیں پاش پاش ہوئیں اور دنیا میں کوئی حکومت مسلمانوں کو چیلنج کرنے والی نہ رہی۔ اس عہد میں اسلامی خلافت کا رقبہ ۲۲لاکھ مربع میل تک پہنچ گیا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں ایران و روم کے باقی ماندہ علاقے فتح کر کے اس کا رقبہ ۴۴ لاکھ مربع میل تک پہنچا دیا تھا۔ قرآن مجید میں غلبۂ اسلام اور تمکین دین کے جو وعدے کیے گئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جو بشارتیں دی تھیں ان میں سے اکثر خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں پوری ہو گئی تھیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور امارت میں مذکورہ فتوحات میں برابر کے شریک تھے لیکن حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری کے بعد جب خود انہوں نے زمامِ خلافت اپنے ہاتھ میں لی تو انہوں نے نہ صرف اپنی قابلیت سے اندرونی و بیرونی شورشوں کو فرو کیا بلکہ مزید علاقے فتح کر کے اسلامی خلافت کا رقبہ ۵۶ لاکھ مربع میل تک پہنچا دیا۔ اس طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے نصف سے زائد رقبے پر دین اسلام کا پھریرا لہرا کر اسے ادیانِ باطلہ پر غالب کر دیا۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3330
15 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (08-07-11), skjatala (08-07-11), قاسم شاہ (16-07-11), نورالدین (08-07-11), نبیل خان (08-07-11), محمد عاصم (12-07-11), مرزا عامر (08-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (13-09-11), حسن قادری (08-07-11), راجہ اکرام (08-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (08-07-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 21-07-11, 02:37 PM   #166
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,495
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
سیفی خان صاحب وہیں اٹکے پڑے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوع موضوع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اپکے موضوع میں تھا کیا ؟؟
اس سے بڑا موضوع تو پریز مشرف کے بارے میں لکھا جاسکتا ہے
صرف اس کی ارمی کی زندگی کہ ہی کارنامے لکھنے شروع کیے جائیں تو پڑھتے پڑھتے تھک جائیں
اسکا مطلب یہ تو نہی کہ وہ ایک اچھا انسان تھا یا ہے یا ایک اچھا حکمران تھا ۔ ۔

یا وہ ادمی ہے کہ جسے اللہ نے کہا ہے کہ صادقین میں سے ہے
اور صادقین کے ساتھ ہوجاو ،اور اس کے بارے میں لکھنے اور پڑھنے سے کوئی اللہ خوش ہوگا
بس اپکا موضوع اپنی جگہ اور ان کی عزت بھی اپنی جگہ مگر یہ وہ ہستیاں نہی ہیں کہ جن کے بارے میں لکھنے اور پڑھنے سے اللہ خوش ہوگا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

شکریہ
ہم نے پہلے تو صرف سنا ہی تھا کہ بعض احباب کو کاتب وحی ، خال المسلمین ، خلیفہ ء راشد امیرالمؤمنین سیدنا امیر معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کے نام اور فضائل سے چڑ ہے ۔ مگ آج آپ کی بوکھلاہٹ نے اس کا مشاہدہ کروا دیا
اس کے لئے میں آپ کا مشکور ہوں ۔ ۔
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
بلال الراعی (22-07-11), حیدر (21-07-11), شھزادباجوہ (22-07-11)
پرانا 21-07-11, 02:40 PM   #167
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,495
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

باقی آپ بحث کو جس طرف لے گئے ہیں چلیں پھر اسی پر بات کرتے ہیں ۔ ۔

میں نے عرض کی تھی کہ آپ اپنے امام مہدی جس کا ذکر شیعہ کتب میں ہے اس کا تعارف کروا دیں ۔ اور ساتھ ساتھ ان کارناموں کا ذکر کرنا نہ بھلویئے گا جو شیعہ کتب میں درج ہیں

اور 12 ویں امام نے جو روضہ رسول کے ساتھ کرنا ہے اس کا ذخر بھی کر دیجیئے گا

ہم منتظر ہیں
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (21-07-11), حیدر (21-07-11), شھزادباجوہ (22-10-11)
پرانا 22-07-11, 12:36 PM   #168
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سیفی خان مراسلہ دیکھیں
اور 12 ویں امام نے جو روضہ رسول کے ساتھ کرنا ہے اس کا ذخر بھی کر دیجیئے گا

ہم منتظر ہیں
امام مہدی علیہ سلام اللہ کے حکم کے بغیر کچھ نہ کریں گئے ۔ہم ان کے غلاموں میں ہونگے

دوسرے یہ کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم امام مہدی علیہ سلام کے جد بزرگوار ہیں
رسول اللہ ص کے روضہ کو اگر پاک صاف رکھنا چاہیں گئے تو کون روک سکتا ہے ایک بیٹے کو اپنے والد کے گھر کو صاف ستھرا رکھنے سے ۔۔۔

قرآن میں کعبہ کے لیے بھی حکم موجود ہے میرے گھر کو پاک صاف رکھو۔ ۔ ۔
چاہیے کوئی بھی اپنے بت سجائے بیٹھا ہو۔ اور چاہے پوری دنیا ہی تمھاری مخالف ہوجائے

بس رسول اکرم ص نے اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی کسر نہ رکھی۔

بس ہم یوں بھی سوچ سکتے ہیں کہ رسول خدا ص کے مزار سے لے کر اگر کعبہ تک میں بھی لوگ اللہ کے حکم کے علاوہ کسی دوسرے حکم پر چل رہے ہونگے تو امام مہدی علیہ سلام حکم خدا کے اگے سر جھکائیں گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انھیں کوئی روک نہ سکے گا

بس اس روز زمین کی حکومت اللہ کے ہاتھوں‌ میں ہوگئی۔ ۔ ۔القران ۔ ۔ ۔

تو اپ یہ سوچیں کہ کیا اج حکومت اللہ کے ہاتھوں میں نہی ہے ؟ اگر ہے تو پھر اللہ نے یہ کیوں کہا کہ اس روز اللہ کے ہاتھوں میں ہوگئ۔ ۔ ۔ ۔

اے رسول ص یہ تیرے ہاتھ نہی بلکہ میرا ہاتھ ہے ۔ ۔ ۔ ۔سمجھیں اس بات کو اللہ کا فیصلہ ہے
بس امام مہدی علیہ سلام فرزند رسول ص ہیں ۔ ۔ ۔ ۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ۔ ۔ ۔ ۔مہدی ع میری بیٹی فاطمہ س کی نسل سے ہوگا
یہ بھی فرمایا کہ ہر ایک کی نسل بیٹے سے ہوتی ہے اور میری نسل میری بیٹی فاطمہ س سے ہوگی
درود پڑھتے ہیں تو یہ بھی غور کریں کہ ال ابراھیم علیہ سلام کو اللہ نے کیا رحمت و برکت دی تھی ؟؟
اللہ نے آل ابراھیم علیہ سلام کو ملک عظیم دیا ۔
بس اپنے درود پڑھنے کو بے کار مت کریں ۔ ۔ ۔


بے کار کی باتوں میں وقت برباد نہ کریں ۔ ۔ہوسکتا ہے کہ کل آپ نہ رہیں یا میں نہ رہوں اور لکھنےوالے فرشتے ہمارا کیا لکھنا چھوڑ دیں ۔ ۔ ۔

علم حاصل کریں ان لوگوں سے دور رہیں جو جہالت پھیلاکر لوگوں کو بے وقوف بناتےہیں

اور امام اور امامت کوسمجھیں آپ ان لاکھوں نہی بلکہ کروڑوں لوگوں میں وہ خاص شخص ہیں جن کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اپ پڑھ بھی سکتے ہیں اور سوچنے کے لیے وقت بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔اور اللہ کی بے انتہا نعمتیں بھی ۔ ۔ ۔تو ان کا شکر اس طرح بھی کرسکتے ہیں
امامت ، نبوت کی طرح الہی عہدہ ہے ۔۔
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے  
پرانا 22-07-11, 12:41 PM   #169
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
علم حاصل کریں ان لوگوں سے دور رہیں جو جہالت پھیلاکر لوگوں کو بے وقوف بناتےہیں

اور امام اور امامت کوسمجھیں آپ ان لاکھوں نہی بلکہ کروڑوں لوگوں میں وہ خاص شخص ہیں جن کے پاس اتنے وسائل ہیں کہ اپ پڑھ بھی سکتے ہیں اور سوچنے کے لیے وقت بھی ہے ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔اور اللہ کی بے انتہا نعمتیں بھی ۔ ۔ ۔تو ان کا شکر اس طرح بھی کرسکتے ہیں
امامت ، نبوت کی طرح الہی عہدہ ہے ۔۔
جہالت پھیلانے والوں کی نشاندہی بھی کر دیں تو بچنا زیادہ آسان ہو جائے گا
راجہ اکرام آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
شھزادباجوہ (22-07-11), شمشاد احمد (22-07-11)
پرانا 22-07-11, 02:29 PM   #170
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
جہالت پھیلانے والوں کی نشاندہی بھی کر دیں تو بچنا زیادہ آسان ہو جائے گا
اکرام بھائی ۔ ۔ ۔
اپ کے تعصب اور طنز نے آپ کی عقل کو زائل کردیا ۔

دلیل :

اپ کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ علم پھیلانے والوں کی نشاندھی کردیں ۔۔۔
یعنی صادقین کی کچھ نشاندھی کردیں تاکہ ہم علم حاصل کریں اور جہالت سے بچ جائیں چونکہ صادقین کم ہیں تو ان کی نشاندھی کرنا آسان ہے ۔


اس کےبجائے اپ نے یہ کہا کہ جہالت پھیلانے والوں کی نشاندھی کردیں اور ساتھ ساتھ لفظ زیادہ آسان بھی استعمال کیا ۔
جبکہ جاہلوں کی نشاندھی کرنا زیادہ آسان نہی ہے بلکہ زیادہ مشکل ہے
کیونکہ
جاہلوں کی اکثریت قران سے بھی ثابت ہے
اس لیے میں ان کی نشاندھی نہی کرسکتا کیونکہ نہ صرف یہ مشکل کام ہے بلکہ زیادہ مشکل کام ہے۔



جو لکھا تھا اسے دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ ۔ ۔ ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
پرانا 22-07-11, 02:44 PM   #171
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
اکرام بھائی ۔ ۔ ۔
اپ کے تعصب اور طنز نے آپ کی عقل کو زائل کردیا ۔

دلیل :

اپ کو یہ کہنا چاہیے تھا کہ علم پھیلانے والوں کی نشاندھی کردیں ۔۔۔
یعنی صادقین کی کچھ نشاندھی کردیں تاکہ ہم علم حاصل کریں اور جہالت سے بچ جائیں چونکہ صادقین کم ہیں تو ان کی نشاندھی کرنا آسان ہے ۔


اس کےبجائے اپ نے یہ کہا کہ جہالت پھیلانے والوں کی نشاندھی کردیں اور ساتھ ساتھ لفظ زیادہ آسان بھی استعمال کیا ۔
جبکہ جاہلوں کی نشاندھی کرنا زیادہ آسان نہی ہے بلکہ زیادہ مشکل ہے
کیونکہ
جاہلوں کی اکثریت قران سے بھی ثابت ہے
اس لیے میں ان کی نشاندھی نہی کرسکتا کیونکہ نہ صرف یہ مشکل کام ہے بلکہ زیادہ مشکل کام ہے۔



جو لکھا تھا اسے دوبارہ غور سے پڑھیں ۔ ۔ ۔ ۔
آپ کا دعویٰ بنیادی طور پر غلط ہے۔ کیوں کہ زائل وہ چیز ہوتی ہے جس کا وجود ہے۔ معدوم زائل نہیں ہوتا۔
اور آپ کا جو پیمانہ عقل و صداقت، علم و آگہی ہے اس کے مطابق مجھ میں عقل کا وجود ہی مشکوک ہے۔
اگر عقل ہوتی تو میں آپ کی باتیں سمجھ جاتا لیکن ایسا نہیں ہوتا
آپ کی اکثر باتیں مجھے ایسے لگتی ہیں جیسے بے ربط اور بے ہنگم سی ہیں۔ سوال کا جواب کبھی آپ نے سیدھے طریقے سے نہیں دیا۔ جب کچھ نہ بنا تو کوئی تیسری بات شروع کر دی

ویسے یہ میری رائے ہے۔ اور یقیننا غلط بھی ہو سکتی ہے کیوں کہ زوال عقل کے بعد کسی صحیح بات کا صدور محال ہی ہوتا ہے
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
بلال الراعی (19-09-11), حسن قادری (22-07-11), شھزادباجوہ (03-08-11)
پرانا 22-07-11, 09:13 PM   #172
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں

یہ آپ ہمارے ساتھ اور پاک نیٹ کے ساتھ زیادتی کر رہے ہیں۔
اپنے "علوم" پر ضرور اعتقاد رکھیں لیکن دوسروں کے "خلوص الی اللہ" پر شک مت کریں۔ کیونکہ آپ کو اس کا کوئی حق نہیں دیا گیا۔
ارے حيدر بھيا علوم كي ہي تو بات كي ہے علوم كسي كي جاگير نہيں ۔۔۔۔۔۔ باقي خلوص الي اللہ كے حوالے سے كسي مسلمان كے خلوص پر مجھے شك نہيں البتہ مومن كے خلوص كو ميں‌پركھتا ضرور ہوں۔۔۔۔۔ اگر آپ كہيں تو درس تفسير كے دھأگے كو چھوڑ كر مسلم و مؤمن كے فرق كو واضح كر دوں۔۔۔۔۔۔ مگر پہلے سوچ ليں يہ معارف ہضم ہو جائيں‌گے۔۔۔۔‌پير راجہ صاحب كي شان الگ ہے۔۔۔ ان پر خود كو قياس مت كيجئے‌گا ورنہ بھسم بھي ہو سكتے ہيں۔ آخر كو مؤمن كي تجليات قابل بردشات تھوڑي ہي ہوتي ہيں۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
پرانا 22-07-11, 09:13 PM   #173
Senior Member
 
سیفی خان's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
کمائي: 44,495
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
سیفی خان کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں سیفی خان کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
رسول اللہ ص کے روضہ کو اگر پاک صاف رکھنا چاہیں گئے تو کون روک سکتا ہے ایک بیٹے کو اپنے والد کے گھر کو صاف ستھرا رکھنے سے ۔۔۔
واہ کیا بات ہے کر گئے گول ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

واضح کریں کیسی صفائی کریں گے آپ کے 12 ویں امام

میں نے کہا تھا کہ اگر آپ میں اتنی ہمت نہیں ہے تو مجھے بتائیں میں
12ویں امام کا تعارف کروا دیتا ہوں ۔ مگر آپ نے نہ تو مجھے کہا اور خود کروانا شروع کیا تو گول مول ۔ ۔

بات ایسے نہیں بنے گے ۔ جب عقیدہ ہے تو پھر بیان کرنے میں شرم کیسی
سیفی خان آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
بلال الراعی (22-07-11), شھزادباجوہ (03-08-11), شمشاد احمد (22-07-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فروخت, کتابوں, نثار, نظر, مکہ, مکمل, موسیٰ علیہ السلام, مقابلہ, منافقین, ممکن, ماں, مجید, مسجد, معلوم, آبادی, آج, اکبر, امیر, اسلام, بچوں, تلاش, دعا, عبادت, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لاہور بادشاہ کی جیت /ویسٹ انڈین کی ہار champion_pakistani کرکٹ 3 18-11-08 09:07 AM
یہودیت از رابرٹ وین ڈی وئیر عرفان حیدر کتاب گھر 1 11-04-08 08:20 AM
اینن آرڈین نے سال کا دسواں ٹائٹل جیت کر ریکارڈ قائم کردیا خرم شہزاد خرم کھیل اور کھلاڑی 0 13-11-07 10:00 AM
ریشل گرنہام نے ورلڈ اوپن ویمنز اسکواش چیمپئن شپ جیت لی عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 29-10-07 11:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:31 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger