واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


آیت اظہارِ دین اور خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 08-07-11, 02:48 AM  
آیت اظہارِ دین اور خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ
سیفی خان سیفی خان آف لائن ہے 08-07-11, 02:48 AM

ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہ وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا۔

’’وہ (اللہ) ہی ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو (کتاب) ہدایت اور دین حق دے کر تا کہ غالب کر دے اسے تمام دینوں پر اور (رسول کی صداقت پر) اللہ کی گواہی کافی ہے۔‘‘(سورۃ الفتح، ۸۲)

قرآن مجید میں سورۃ التوبہ کی آیت ۳۳، اور سورۃ الصّف کی آیت ۹، میں بھی اظہارِ دین کا اعلان معمولی لفظی تغیّر کے ساتھ کیا گیا ہے۔ مذکورہ دونوں مقامات پروَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا کے بجائے ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اسلام کی دعوت دینی شروع کی تو رفتہ رفتہ تقریباً تمام عرب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مخالف ہو گیا۔ ایک طرف مشرک قبائل تھے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانی دشمن ہو گئے۔ دوسری طرف سرمایہ دار یہود و نصاریٰ تھے جو ہر قیمت پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناکام کر دینے کا فیصلہ کر چکے تھے اور تیسری طرف منافقین تھے جو بظاہر مسلمان بنے ہوئے تھے مگر ان کا مقصد بھی یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں گھس کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحریک کو اندر سے ڈائنا میٹ کر دیں۔

اس طرح طاقت، سرمایہ اور اندرونی سازشیں، سہ طرفہ مخالفتوں کے طوفان میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح اپنی تحریک چلا رہے تھے کہ تھوڑے سے غلاموں اور کمزور لوگوں کے سوا کوئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھی نہ تھا۔ مکہ کے سربر آوردہ لوگوں میں سے گنتی کے چند آدمی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دینے کے لیے نکلے ان کا بھی یہ حال ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آتے ہی وہ خاندان سے کٹ گئے اور ان کی قوم ان کی بھی اسی طرح دشمن ہو گئی جس طرح وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی دشمن تھی۔

یہ تحریک یوں ہی چلتی رہی یہاں تک کہ حالات اس قدر شدید ہو گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کو اپنا وطن چھوڑ کر دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر جانا پڑا۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی جو پہلے ہی نہتے اور کمزور تھے۔ مدینہ منوّرہ میں اس حالت میں جمع ہوئے کہ اپنے وطن میں جو کچھ ان کے پاس تھا وہ بھی چھن چکا تھا۔ مدینہ منوّرہ میں ان لوگوں کی بے کسی کا یہ حال تھا کہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جنکے رہنے کے لیے باقاعدہ کوئی مکان نہیں تھا وہ چھپر پڑے ہوئے ایک چبوترے پر زندگی گزارتے تھے۔ اسی مناسبت سے ان کا نام اصحاب صفّہ پڑ گیا تھا۔

چند انسانوں کا یہ بے سر و سامان قافلہ مدینے کی سر زمین پر اس طرح پڑا ہوا تھا کہ ہر آن یہ خطرہ تھا کہ چاروں طرف اس کے پھیلے ہوئے دشمن اس کو اچک لے جائیں گے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بشارت دی گئی تھی کہ ان ساری مخالفتوں کے علی الرغم اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غالب کر کے رہے گا۔

کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ اِِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔

’’اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ بے شک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناًاللہ تعالیٰ زور آور غالب ہے۔‘‘ (المجادلہ، ۱۲)

سورۃ التوبہ آیت ۳۳، اور سورۃ الصّف آیت ۹، کے سیاق و سباق پر نظر ڈالنے سے یہ بات صاف طور پر معلوم ہو جاتی ہے کہ ’’یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِءِوْا۔۔۔یُرِیْدُوْ نَ لِیُطُفِءِوْا۔۔۔‘‘میں اہل کتاب کو چیلنج ہے اور ’’ہُوَ الَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ۔۔۔‘‘میں مشرکین عرب کو۔۔۔ کیونکہ سر زمینِ حجاز میں ان ہی گروہوں سے اسلام کا مقابلہ تھا بعد میں یہ میدانِ مقابلہ بہت وسیع ہو گیا۔

پھر سورۃ التوبہ اور سورۃ الصف میں غلبے کی جس بشارت کو ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ‘‘اور ’’وَ لَوْ کَرِہَ الْمْشْرِکْوْنَ‘‘کے الفاظ سے مؤکد کیا گیا ہے تو سورۃ الفتح میں ’’وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا ‘‘کے الفاظ سے تسلی دی گئی ہے کہ اس بشارت کو یہود و نصاریٰ، مشرکین اور دیگر کافر خواہ کتنا ہی بعید از قیاس سمجھیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے اور اس کی صداقت کے لیے اللہ کی گواہی کافی ہے۔

یہ بات بھی ملحوظِ نظر رہے کہ سورۃ الفتح صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی ہے۔ بظاہر اس مغلوبانہ صلح سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دلوں کو بڑا رنج پہنچا لیکن یہ سورۃ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مجروح دلوں کے لیے مرہم ثابت ہوئی جب کہ سورۃ التوبہ پوری کی پوری فتح مکہ اور غزوہ حنین کے بعد مختلف اوقات میں نازل ہوئی، سورۃ التوبہ، سورۃ الفتح اور سورۃ الصف کی آیات ’’اظہارِ دین‘‘ میں جس غلبے کی بشارت دی گئی ہے اس سے دلائل و براہین کا غلبہ مراد ہے یا سیف و سنان اور قوت و اقتدار کا غلبہ؟

مذکورہ بشارت میں دونوں قسم کا غلبہ مراد ہے۔ دلائل و براہین کا غلبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ تو ہر پیغمبر کو حاصل رہا ہے اور یہ غلبہ مادی قوت کے سامنے بظاہر کامیابی نہیں کہلاتا۔ جیسے فرعون استدلال کے میدان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دلائل و معجزات کے سامنے ہار گیا لیکن مادی قوت کے بل بوتے پر وہ غالب رہا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو ملک چھوڑنا پڑا۔

اسی طرح دلائل کے میدان میں قریش مکہ نے پے در پے شکستیں کھائیں مگر قوت و اقتدار کے غلبے کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہجرت اختیار کرنا پڑی۔ پھر مذکورہ بشارت کے مطابق چند سالوں میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت تک سارا عرب اسلام کا گہوارہ بن چکا تھا اور اس کے ساتھ حبش، مصر، ایران، شام، روم اور دوسرے ممالک تک اسلام کی دعوت کا بھی آغاز ہو گیا تھا۔ غزوہ احزاب میں خندق کی کھدائی کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کشفی صورت میں قیصر و کسریٰ کے خزانوں کا مسلمانوں کے قبضہ میں آنا مشاہدہ فرمایا۔

علامہ سید سلیمان ندوی رح لکھتے ہیں کہ:

امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عنقریب تم لوگ شام کی طرف ہجرت کرو گے تو وہ تمہارے لیے فتح کر دیا جائے گا۔‘‘

معلوم ہوتا ہے کہ شام فتح ہونے کے ساتھ ہی عربوں کا مسکن بن گیااور آج بھی ان کی آبادی وہاں سب سے زیادہ ہے۔


پھر ارشاد ہوا کہ عراق مفتوح ہو گا اور لوگ وہاں بھی اپنی سواریوں کو ہنکاتے ہوئے اہل و عیال کو لے کر آئیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر تھا اگر وہ سمجھتے۔۔۔

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم عنقریب مصر فتح کرو گے جہاں کا قیراط مشہور ہے جب اس کو فتح کرو تو وہاں کے باشندوں کے ساتھ نیکی سے پیش آنا کیونکہ تمہارے اور ان کے درمیان تعلق اور رشتہ ہے۔‘‘( حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی اور حضرت اسماعیل کی ماں ہاجرہ مصر کی تھیں)

بحر روم جس کو بحر اخضر اور بحر متوسط بھی کہتے ہیں۔ یورپ اور ایشیا اور اب گویا اسلام اور عیسائیت کی حد فاصل ہے اور اس زمانہ میں یہ رومیوں کی بحری قوت کی جولانگاہ تھا۔ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خواب راحت سے مسکراتے ہوئے بیدار ہوئے اور فرمایا اس وقت خواب میں میری امت کے کچھ لوگ تخت شاہی پر بادشاہوں کی طرح بیٹھے ہوئے دکھائے گئے۔ یہ بحر اخضر میں (جہاد کے لیے) اپنے جہاز ڈالیں گے۔ یہ بشارت سب سے پہلے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں پوری ہوئی اور دیکھا گیا ہے کہ دمشق کا شہزادہ یزید اپنی سپہ سالاری میں مسلمانوں کا پہلا لشکر لے کر بحر اخضر میں جہازوں کے بیڑے ڈالتا ہے اور دریا کو عبور کر کے قسطنطنیہ کی چہار دیواری پر تلوار مارتا ہے۔ (سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، جلد سوم۔ ص۹۹۵، ۱۰۶)

شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی زیر عنوان ’’عقبہ بن نافع اور ان کی فتوحات‘‘ لکھتے ہیں کہ: اس علاقے (شمالی افریقہ) کی فتح کا اصل سہرا حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے سر ہے۔ مصر کی فتوحات میں یہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔ بعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ حکومت میں انہیں شمالی افریقہ کے باقی ماندہ حصے کی فتح کی مہم سونپ دی۔ یہ اپنے دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ مصر سے نکل کر دادِ شجاعت دیتے ہوئے تونس تک پہنچ گئے اور یہاں قیروان کا مشہور شہر بسایا۔ جس کا واقعہ یہ ہے کہ جس جگہ آج قیروان آباد ہے وہاں بہت گھنا جنگل تھا جو درندوں سے بھرا ہوا تھا۔

حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے بربریوں کے شہروں میں رہنے کی بجائے مسلمانوں کے لیے الگ شہر بسانے کے لیے یہ جگہ منتخب کی تا کہ مسلمان یہاں مکمل اعتماد کے ساتھ اپنی قوت بڑھا سکیں۔ ان کے ساتھیوں نے کہا یہ جنگل تو درندوں اور حشرات الارض سے بھرا ہوا ہے لیکن حضرت عقبہ کے نزدیک شہر بسانے کے لیے اس سے بہتر کوئی جگہ نہ تھی۔ اس لیے انہوں نے اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کیا اور لشکر میں جتنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے ان کو جمع کیا۔ یہ کل اٹھارہ صحابہ کرام تھے۔ ان کے ساتھ مل کر حضرت عقبہ نے دعا کی اور اس کے بعد یہ آواز لگائی: ’’اَیَّتُہَا السِّباعُ وَالْحَشَرَاتُ نَحْنُ اَصْحَابُ رَسُوُلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہ وسلم اِرْحَلُوْا عَنَّا فَاِنَّا نَازِلُوْنَ فَمَن وَّ جَدْنَاہٗ بَعْدَ قَتَلْنَاہٗ‘‘اے درندو اور کیڑو! ہم رسول اللہ کے اصحاب ہیں۔ ہم یہاں بسنا چاہتے ہیں لہذا تم یہاں سے کوچ کر جاؤ۔ اس کے بعد تم میں سے جو کوئی یہاں نظر آئے گا ہم اسے قتل کر دیں گے۔

اس اعلان کا نتیجہ کیا ہوا؟[COLOR="rgb(255, 0, 255)"] امام ابن جریر طبری لکھتے ہیں کہ: ’’فَلَمْ یَبْقِ مِنْہَا شَئیٌ اِلَّا خَرَجَ ہَارِباً حَتیٰ اَنَّ السِبَاعَ تحم اَوْلادھا‘‘[/COLOR]ان جانوروں میں سے کوئی نہیں بچا جو بھاگ نہ گیا ہو۔ یہاں تک کہ درندے اپنے بچوں کو اٹھائے لے جا رہے تھے۔

اس کے بعد عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جنگل کاٹ کر یہاں شہر قیروان آباد کیا، وہاں جامع مسجد بنائی اور اسے شمالی افریقہ میں اپنا مستقر قرار دیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ افریقہ کی امارت سے معزول ہو کر شام میں آباد ہو گئے تھے۔ آخر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ وہاں بھیجنا چاہا لیکن آپ کی وفات ہو گئی۔ بعد میں یزید نے اپنے عہد حکومت میں انہیں دوبارہ افریقہ کا گورنر بنایا اس موقع پر انہوں نے قیروان سے مغرب کی طرف اپنی پیش قدمی پھر سے شروع کی اور روانگی سے پہلے اپنے بیٹوں سے کہا: ’’میں اپنی جان اللہ تعالیٰ کو فروخت کر چکا ہوں لہذا اب (مرتے دم تک) اللہ کا انکار کرنے والوں سے جہاد کرتا رہوں گا۔

اس کے بعد انہیں وصیتیں فرمائیں اور روانہ ہو گئے۔ اسی زمانے میں انہوں نے الجزائر کے متعدد علاقے تلمسان وغیرہ فتح کیے۔ یہاں تک کہ مراکش میں داخل ہو کر اس کے بہت سے علاقوں میں اسلام کا پرچم لہرایا اور بالآخر اسفیٰ کے مقام پر جو افریقہ کا انتہائی مغربی ساحل ہے بحر ظلمات (اٹلانٹک) نظر آنے لگا۔ اس عظیم سمندر پر پہنچ کر حضرت عقبہ نے وہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’یا رب لو لا ہٰذا البحر لمفیت فی البلاد مجاہداً فی سبیلک‘‘ پروردگار! اگر یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو میں آپ کے راستے میں جہاد کرتا ہوا اپنا سفر جاری رکھتا۔

اس کے بعد آپ نے اپنے گھوڑے کے اگلے پاؤں اٹلانٹک کی موجوں میں ڈالے، اپنے ساتھیوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ ہاتھ اٹھاؤ۔ ساتھیوں نے ہاتھ اٹھا دیے تو عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے یہ اثر انگیز دعا فرمائی:’’ یا اللہ! میں غرور و تکبر کے جذبے سے نہیں نکلا اور تو جانتا ہے کہ ہم اسی سبب کی تلاش میں ہیں جس کی آپ کے بندے ذوالقرنین نے جستجو کی تھی اور وہ یہ ہے کہ بس دنیا میں تیری عبادت ہو اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیاجائے۔ اے اللہ! ہم دین اسلام کادفاع کرنے والے ہیں تو ہمارا ہو جا اور ہمارے خلاف نہ ہو۔ یا ذوالجلال والاکرام‘‘ (جہانِ دیدہ، ص۶۰۱۔۰۱۱)

اس دعا کو آیات ’’اظہارِ دین‘‘ کے ساتھ ملا کر پڑھنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقصد بعثت اور تمام باطل ادیان پر دین حق کے غلبے کی پیش گوئی کو آپ کو صلی اللہ علیہ وسلم کے جان نثار اعوان و انصار بالخصوص خلفائے راشدین (بشمول حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ) نے اپنے اپنے ادوار میں پورا کر دکھایا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور امارت و خلافت کو نکال کر قوت و اقتدار اور سیف و سنان کے غلبے کی پیش گوئی کیوں کر ثابت کی جا سکتی ہے؟

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں دونوں قسم کا غلبہ حاصل رہا اور تمام (سبائی، یہودی اور عیسائی) سازشی عناصر زیرِ زمین گھس جانے پر مجبور ہو گئے۔

نیز یہ غلبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور تک ہی موقوف نہیں رہا بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق کم از کم بارہ خلفاء تک ضرور قائم رہا۔ ’’لَا یَزَالُ الْاِسْلَامُ عَزِیْزاً اِلیٰ اِثْنَیْ عَشَرَ خَلِیْفَۃً۔۔۔لَا یَزَالُ ہٰذا الدِّیْنُ عَزِیْزاً مُنِیْعًا اِلیٰ اِثْنَیْ عَشَرَ خَلِیْفَۃً‘‘(صحیح مسلم کتاب الامارۃ باب الناس تبع لقریش والخلافۃ فی قریشہ جلد۲، ص۹۱۱)

جب کہ صحیح بخاری میں یہ الفاظ آئے ہیں: ’’یَکُوْنُ اثْنَا عَشَرَ اَمِیْراً۔۔۔کُلُّہُمْ مِنْ قُرَیْشٍ‘‘

(صحیح بخاری کتاب الاحکام، باب بلاعنوان بعد از باب الاستخلاف، رقم الحدیث ۲۲۲۷)

سنن ابی داؤد کی روایت میں بتایا گیا ہے کہ: ’’لَا یَزَالُ ہٰذا الدِّیْنُ قَاءِمٌ حَتّیٰ یَکُوْنَ عَلَیْکُمْ اِثْنَا عَشَرَ خَلِیْفَۃً کُلُّہُمْ تَجْتَمِعُ عَلَیْہِ الْاُمَّۃُ‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الفتن، باب الملاحم جلد ۲۔ ص۹۳۲)

جامع ترمذی میں ’’یَکُوْنُ مِنْ م بَعْدِیْ اِثْنَا عَشَرَ اَمِیْراً‘‘کے الفاظ آئے ہیں۔ (جامع الترمذی، جلد دوم، ص۳۱۱)


مذکورہ روایات میں بتایا گیا ہے کہ اسلام بارہ خلفاء کے دور تک ہمیشہ غالب رہے گا، کوئی بیرونی طاقت ان پر غلبہ نہ پا سکے گی، یہ سب کے سب قریش میں سے ہوں گے اور ان سب پر امت کا اجماع ہو گا۔

علامہ سید سلیمان ندوی رح ’’ بارہ خلفاء‘‘ کی بحث میں لکھتے ہیں کہ: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ خلفاء کے ہونے کی بشارتیں حدیث کی مختلف کتابوں میں مختلف الفاظ میں آئی ہیں۔۔۔ علمائے اہل سنت میں سے قاضی عیاض اس حدیث کا یہ مطلب بتاتے ہیں کہ تمام خلفاء میں سے بارہ وہ شخص مراد ہیں جن سے اسلام کی خدمت بن آئی اور وہ متقی تھے۔

[COLOR="rgb(255, 0, 255)"]حافظ ابن حجر، ابو داؤد کے الفاظ کی بنا پر خلفائے راشدین اور بنی امیّہ میں سے ان خلفاء کو گناتے ہیں جن کی خلافت پر تمام امت کا اجتماع رہا یعنی

۱۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ۲۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ۳۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ۴۔حضرت علی رضی اللہ عنہ ۵۔حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ۶۔یزید ۷۔عبدالملک ۸۔ولید ۹۔سلیمان ۰۱۔عمر بن عبدالعزیز ۱۱۔یزید ثانی ۲۱۔ہشام

(سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ، جلد سوم، ص۴۰۶۔ تحت اخبار غیب یا پیش گوئی)
[/COLOR]
حسب ذیل کتب میں بھی معمولی تغیّر کے ساتھ بارہ خلفاء کے نام آئے ہیں: (فتح الباری، جلد۳۱۔ ص۴۱۲، منہاج السنۃ لابن تیمیۃ جلد۴۔ ص۶۰۲، تاریخ الخلفاء للسیوطی مترجمہ شمس بریلوی، الصواعق المحرقۃ لابن حجر ہیتمی، ص۱۲، شرح فقہ اکبر لملا علی قاری، ص۴۸، تکملہ فتح الملہم للشیخ محمد تقی عثمانی جلد۳۔ ص۴۸۲)

محدثین کی مذکورہ تشریح سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ پیش گوئی ہشام بن عبد الملک اموی کے دور خلافت میں پوری اور سچی ثابت ہوئی۔ مذکورہ اموی خلفاء کو یہ شرف حاصل رہا کہ ان پر پوری امت متفق و مجتمع تھی، ان کے ادوار میں تمام عالم اسلام کا ایک ہی سیاسی مرکز تھا۔ ایک ہی خلیفہ کا حکم پوری اسلامی دنیا پر چلتا تھا اور نہ صرف اندرونِ مملکت اسلام غالب تھا بلکہ کسی بیرونی قوت کو خلافتِ اسلامیہ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

بہر حال آیات ’’اظہارِ دین‘‘ میں بیان کردہ غلبہ کی پیش گوئی میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا دور (جو ۰۱۱ھ تک رہا ہے) یقینی طور پر شامل ہے۔

قرآن کریم سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے: ’’فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘پس یقیناًاللہ تعالیٰ کی جماعت ہی غالب رہے گی۔ (المائدہ، ۶۵)

ایک دوسرے مقام پر قرآن عزیز نے ’’حزب اللہ‘‘ کو ’’لشکر‘‘ کا نام دیا ہے۔

’’وَ اِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ‘‘اور ہمارا ہی لشکر غالب رہے گا۔ (الصّٰفٰت، ۳۷۱)


مذکورہ تفصیل اور قرآن و حدیث کے دلائل سے یہ بات روزِ روشن کی طرح ثابت ہو گئی ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت راشدہ میں دونوں قسم (یعنی دلائل اور قوت و اقتدار و سیف و سنان) کا غلبہ حاصل رہا ہے کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مجتہد صحابی اور خود بھی بہ لسان نبوت ’’قَوِیٌّ اَمِیْنٌ‘‘ تھے۔

(مجمع الزوائد ، جلد۹، ص۶۵۳)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’قوی و غالب‘‘ ہونے کی ایک روایت نقل کرتے ہیں کہ : ’’ابن عساکر نے روایت کی عروہ بن رویم سے کہا کہ ایک اعرابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ مجھ سے کُشتی لڑ۔ تو اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تجھ سے کُشتی لڑتا ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کبھی مغلوب نہ ہو گا۔

چنانچہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے اعرابی کو پچھاڑ دیا تو جب یوم صفّین ہو چکا تو علی رضی اللہ عنہ نے (عروہ سے) کہا کہ اگر تو اس حدیث کو مجھ سے ذکر کر دیتا تو میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے جنگ نہ کرتا۔‘


(ازالۃ الخفاء، جلد چہارم، ص۸۱۵۔ مترجمہ مولانا عبدالشکور لکھنویؒ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیف و سنان کا غلبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ’’دین حق‘‘ کو حاصل ہوا جب ایران و روم کی دو ’’سپر پاور‘‘ حکومتیں پاش پاش ہوئیں اور دنیا میں کوئی حکومت مسلمانوں کو چیلنج کرنے والی نہ رہی۔ اس عہد میں اسلامی خلافت کا رقبہ ۲۲لاکھ مربع میل تک پہنچ گیا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے عہدِ خلافت میں ایران و روم کے باقی ماندہ علاقے فتح کر کے اس کا رقبہ ۴۴ لاکھ مربع میل تک پہنچا دیا تھا۔ قرآن مجید میں غلبۂ اسلام اور تمکین دین کے جو وعدے کیے گئے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق جو بشارتیں دی تھیں ان میں سے اکثر خلفائے ثلاثہؓ کے دور میں پوری ہو گئی تھیں۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے دور امارت میں مذکورہ فتوحات میں برابر کے شریک تھے لیکن حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی دست برداری کے بعد جب خود انہوں نے زمامِ خلافت اپنے ہاتھ میں لی تو انہوں نے نہ صرف اپنی قابلیت سے اندرونی و بیرونی شورشوں کو فرو کیا بلکہ مزید علاقے فتح کر کے اسلامی خلافت کا رقبہ ۵۶ لاکھ مربع میل تک پہنچا دیا۔ اس طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دنیا کے نصف سے زائد رقبے پر دین اسلام کا پھریرا لہرا کر اسے ادیانِ باطلہ پر غالب کر دیا۔
__________________

میرا بلاگ۔ صدائےقلندرhttp://saifikhan011.blogspot.com/

 
سیفی خان's Avatar
سیفی خان
Senior Member
تاریخ شمولیت: Feb 2011
مقام: خاموش آباد
مراسلات: 3,531
شکریہ: 4,038
2,387 مراسلہ میں 5,933 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 3330
15 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا
shafirajput (08-07-11), skjatala (08-07-11), قاسم شاہ (16-07-11), نورالدین (08-07-11), نبیل خان (08-07-11), محمد عاصم (12-07-11), مرزا عامر (08-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (13-09-11), حسن قادری (08-07-11), راجہ اکرام (08-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (08-07-11), غلام خان (13-07-11)
پرانا 11-07-11, 12:12 PM   #61
Senior Member
 
ارشد کمبوہ's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2010
مقام: Bhawal Pur
مراسلات: 1,478
کمائي: 19,793
شکریہ: 4,532
893 مراسلہ میں 2,297 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
جہالت اگر چاروں طرف ہو تو کوئی مضائقہ نہی ہے
یعنی جب معاویہ نام رکھا گیا تھا اس وقت تین طرف جہالت تھی اور چھوتھی طرف
ایک کتیا کھڑی تھی جو بھونک بھونک کر کتوں کو بلا رہی تھی
چونکہ زمانہ جاہلیت میں جو بھی پہلی شے سامنے اتی تھی اس کے حساب سے نام تجویز کیے جاتے تھے جو کہ جاہلیت کے دور کی ایک بہت بری مثال تھی جس کو رسول اکرم ص نے ختم کیا ۔۔

اپ پہلے عربی کی لغت / ڈکشنری دیکھں پھر نام رکھیے گا
کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئ اسے کتیا کہہ کر پکارے تو اس کو برا لگے جب وہ بڑا ہوجائے اگر اور اس میں تھوڑی بہت عقل اجائے تب ۔۔ ۔۔۔وہ سوچے کہ میرا بات کیا دور جاہلیت سے تعلق رکھتا تھا ؟
انا للہ وانا علیہ راجعون
اگر ایسا کچھ تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح باقی برے نام تبدیل کیے معاویہ کا نام کیوں تبدیل نہ کیا؟
__________________
بیاض کمبوہ پڑھنے کے لیے ایڈریس بار میں ٹائپ کریں،
biazekamboh.co.cc
شکریہ والسلام
ارشد کمبوہ آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے ارشد کمبوہ کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-07-11), راجہ اکرام (11-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (11-07-11)
پرانا 11-07-11, 02:51 PM   #62
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر Rehan مراسلہ دیکھیں
جہالت اگر چاروں طرف ہو تو کوئی مضائقہ نہی ہے
یعنی جب معاویہ نام رکھا گیا تھا اس وقت تین طرف جہالت تھی اور چھوتھی طرف
ایک کتیا کھڑی تھی جو بھونک بھونک کر کتوں کو بلا رہی تھی
چونکہ زمانہ جاہلیت میں جو بھی پہلی شے سامنے اتی تھی اس کے حساب سے نام تجویز کیے جاتے تھے جو کہ جاہلیت کے دور کی ایک بہت بری مثال تھی جس کو رسول اکرم ص نے ختم کیا ۔۔

اپ پہلے عربی کی لغت / ڈکشنری دیکھں پھر نام رکھیے گا کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئ اسے کتیا کہہ کر پکارے تو اس کو برا لگے جب وہ بڑا ہوجائے اگر اور اس میں تھوڑی بہت عقل اجائے تب ۔۔ ۔۔۔وہ سوچے کہ میرا بات کیا دور جاہلیت سے تعلق رکھتا تھا ؟
حيدر صاحب۔۔۔۔۔ تمام تر آداب بجا لاتا ہوں۔۔۔ اور يہي توقع بھي ركھتا ہوں كہ آپ بھي بجائيں‌گے۔۔۔
سر دست يہاں ميرے مخاطب آپ نہيں تھے۔۔۔ كيوں كہ آپ كا علمي قد كاٹھ ميں ۔۔۔۔۔آیہ ’اولی الامر‘ کی روشنی میں امامت۔۔۔۔۔ ميں ديكھ چكا ہوں۔۔ جہاں سے آپ بلا وجہ غائب ہو گئے ہيں۔۔۔۔

ميں آپ كي طرح جہالت اور عشق كے دعوے تو نہيں‌كروں گا۔۔۔‌كيوں كہ كسي كي جہالت يا علميت كے ٹپكنے كا فيصلہ وہ خود نہيں اس كے احباب كرتے ہيں۔۔۔ سويہ فيصلہ احباب پر رہا۔۔ باقي رہا عشق تو اس كا پيمانہ آپ كا الگ ہو سكتا ہے ميرا الگ ہو سكتا ہے اس لئے ميں اس پر بھي آپ كو كچھ نہيں كہوں گا۔ كيوں كہ عشق كے حوالے سے ميرا نظريہ يہ ہے كہ اگر يہ ہوتا ہے تو اس كے اظہار كا طريقہ ہر ايك كا الگ الگ ہوتا ہے۔ لہذا ميں آپ سے يہ اصرار نہيں كروں گا كہ آپ حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ سے اسي طرح محبت كريں جس طرح ميں يا ہم اہل سنت والجماعت كرتے ہيں۔۔۔۔۔ البتہ ايك چيز اور ہے جو قدر مشترك ہے۔۔‌وہ ہے عزت احترام۔۔‌جي ہاں۔۔ ميري آپ كي، ميرے بڑوں كي آپ كے بڑوں‌گي عزت اس كا پيمانہ ايك ہي ہے۔۔ اور وہ ہے عزت كرو اور عزت كراؤ۔۔۔۔۔ اس لئے تالي دونوں ہاتھوں سے بچتي ہے۔ لہذا تالي كے لئے نہ ميں ہاتھ آگے بڑھاؤں‌گا اور توقع ركھتا ہوں كہ آپ بھي ہاتھ آگے‌نہيں كريں‌گے۔۔۔۔ اگر واقعي ہم اور آپ باب العلم كا دامن تھامے ہوئے ہيں تو ہميں باب العلم كا كردار بھي اپنانا ہو گا۔۔۔ ورنہ اكيسويں صدي ميں زبانيں سب كي آزاد ہيں۔۔۔ اور كان سب كے كھلے ہيں۔۔۔

ان چند گذارشات كے بعد آتا ہوں ضمني مسئلہ كي طرف جس كي ميري نظر ميں‌كوئي اہميت نہيں ہے۔۔ اور وہ ہے نام نامي اسم گرامي۔

معاويہ كے‌نام كا مطلب جو آپ نے بيان كيا ہے۔ معذرت درست نہيں ہے۔۔۔ اگر آپ كي اپني تحقيق ہے تو درست نہيں اور اگر كسي كي تحقيق پر اعتماد كيا ہے تو اپنے محقق پر نظر ثاني كيجئے۔۔۔ اس لئے‌كہ
ازروئے لفظ معاويہ كے‌حسب ذيل معاني آتے ہيں۔
(1)۔۔۔۔۔ كسي چيز كو موڑنا يا مروڑنا
(2)۔۔۔۔۔ عالم شباب ميں قوت سے مد مقابل كا پنجہ مرووڑ ڈالنا
(3)۔۔۔۔ كسي كي مدافعت كرنا
(4)۔۔۔ حمايت يا جنگ وغيرہ كے لئے لوگوں كو بلانا اور جمع كرنا
(5)۔۔ آواز دے كر پكارنا

( منتھي الادب 2/215 ،لسان العرب ، 8/109القاموس 896، تاج العروس جلد 10/260
جہاں اہل لغت نے معاويہ كے مذكورہ بالا معاني بيان كئے ہيں‌وہاں ساتھ خود ہي وضاحت بھي كر دي ہے كہ معاوہ كا لفظ اگر معرف بالام ہو۔ يعني معاويہ كے نام پر الف لام داخل ہو۔ جيسے كہ المعاويہ۔۔ ہو تو اس كا معني مادہ سگ يعني كتيا كے ہيں۔ اگر يہ لفظ بغير الف لام كے صرف يعني صرف معاويہ ہو اور لوگوں كے‌علم يعني نام كے طور پر ہو تو يہ معني نہيں‌كيا جا سكتا كيونكہ اعلام يعني ناموں ميں‌ابتدائي لفظي معني نہيں ليے جاتے۔ خصوصا ان ناموں ميں جو منقول عنہ كے‌درجے ميں‌ہوں۔۔۔

جناب رسول مقبول صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے نسب مبارك ميں چھٹي پشت ميں ۔۔ كلاب۔۔ آتے‌ہيں۔۔ تو كيا كوئي نالائق يہاں بھي اعلان ميں معاذ اللہ اس كا ابتدائي معني مراد لے سكتا ہے۔۔۔۔ كلاب جمع ہے كلب كي اور كلب عربي ميں‌كتے كو كہتے ہيں۔ اسي طرح

(1)۔۔۔الباقر كا معني ہے گايوں كا ريوڑ۔
(2)۔۔۔الجعفر كا معني ہے، دريا، ندي اور بہت دودھ دينے والي اونٹني
(3)۔۔۔ اويس كا معني ہے بھيڑيا
(4)۔۔۔عباس عبوسيت سے ہے جس كا معني ہے برا منہ بنانا تيوري چڑھانا

اب اگر كوئي كہے كہ حضرت باقر عليہ الرحمہ كے‌نام كا مطلب ہے گائے كا ريوڑ
جعفر عليہ الرحمہ كا مطلب ہے دودوھ دينے‌والي اونٹي، اور اونٹني دودھ اس وقت تك نہيں‌ديتي جب تك اونٹ كے ساتھ نہ لگ جائے۔
تو ايسے لوگوں كو صرف اپني علميت كا علم بلند كرنے سے كوئي نہيں روك سكتا ليكن اہل علم كے ہاں ان كي بزعم خود كي علمي تحقيقات تار عنكبوت كي حيثيت ركھتي ہيں۔

سمجھنے كے لئے ان ہي اسماء كا ذكر كافي ہے‌ورنہ فہرست طويل كي جا سكتي ہے۔۔۔ ماننے‌والوں كے لئے يہي كافي ہيں نہ ماننے‌والوں كي نظر ميں نبي كي رفافقت اور صحبت حيثيت نہ ركھ پائي تو ميري بات كي كيا اہميت ہے۔۔۔

خير اگر بالفرض معاويہ كے نام ميں كوئي قباحت پائي بہي جاتي ہو تو پھر بہي لغوي معني مراد نہيبں ليا جائے‌گا جيسا كہ مذكورہ اسماء ميں نہيں‌مراد ليا جاتا۔ اس كا سادہ سا معني اگر غير جانب دار ہو كر ديكھا جائے تو يہ بنتا ہے‌كہ

عوي كے‌معني آواز دينے كے ہيں، عاوہم كے معني ہيں اس نے لوگوں كو آواز دي، تو معاويہ كے‌معني ہوئے ايسا ہر دل عزيز مقبول صاحب اثر سردار جو لوگوں كو جب بلائے تو لوگ اس كي آواز پر فورا حاضر ہو جائيں۔

معاويہ كے نام كا مطلب كتيا سمجھنے ميں بعض لوگوں كو يہ غلطي ہوئي كہ معاويہ اور المعاويہ كا مطلب ايك ہي ہے۔۔۔‌جيسا كہ اوپر وضاحت ہو چكي ہے۔۔ اسي طرح بعض حضرات كو يہ مخالطہ بھي لگا كہ معاويہ كے نام كے آخر ميں جو ۔۔۔ ة۔۔۔۔ آتي ہے يہ ۔۔۔ ثانيث يعني مؤنث كے لئے ہے۔۔۔‌ ليكن حقيقت يہ ہے كہ معاويہ كے آخر ميں آنے والي۔۔۔‌ة۔۔۔ تانيث كے لئے‌نہيں جيسا كہ عكرمہ، طلحہ، سارية، حمزہ ميں ة تانثي كے لئے نہيں ہے۔

معاويہ نام اسلام سے قبل سے ہي اہل عرب ميں مشہور و معروف چلا آ رہا ہے اور اسلام كے آمد كے بعد بھي كبھي اس نام كو كسي نے برا نہيں سمجھا نہ اس ميں‌كوئي لفظي يا معنوي برائي كسي كو نظر آئي۔۔۔ آج بھي اہل عرب يہ نام كثرت سے ركھتے ہيں۔۔۔ آپ گوگل پر سرچ كر سكتے ہيں۔ خوش شيعہ حضرات ميں يہ نام غالبات تيسري صدي ہجري تك چلتا رہا ہے۔۔۔ يہي وجہ ہے كہ اہل تشيع كي كتب روايات ميں متعدد رواي معاويہ نام كے ہيں يا ان كے والد كا نام معاويہ ہے۔۔۔

خير تو عرض يہ كر رہا تھا كہ اس نام كو كبھي بھي معيوب يا برا نہيں سمجھا گيا۔ اور اگر اس نام ميں‌كوئي خرابي ہوتي تو حضور اكرم صلي اللہ عليہ والہ وسلم اس نام كو تبديل فرما ديتے جيسا كہ آپ صلي اللہ عليہ والہ وسلم نے متعدد ناموں كو تبديل كيا ہے۔۔۔۔ مثلا
حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ كي بيٹي عاصيہ كا نام تبديل كر كے جميلہ ركھا
ايك شخص كا نام عبد شر تھا اس كا نام تبديل كر كے آپ نے عبد خير ركھا
سعيد بن المسيب كے دادان كا نام حزن تھا جب وہ آپ كي خدمت ميں آئے تو آپ نے ان كا نام تبديل كر كے سہل ركھا۔۔۔۔۔ ايسي متعدد مثاليں موجود ہيں۔

اس تفصيل سے يہ تو واضح ہو گيا كہ آپ صلي اللہ عليہ والہ وسم برے نام تبديل فرما ديا كرتے تھے۔ ليكن معاويہ كے نام كے بارے ميں آپ عليہ السلام جيسے افصح العرب سے كوئي ممانعت اشارة بھي ثابت نہيں، اسي لئے يہ نام عہد رسالت سے ليكر آج تك اہل اسلام كے ہاں رائج چلا آ رہاہے۔۔۔ خصوصا اہل عرب كے ہاں زيادہ اس كا استعمال ہے۔۔۔

پھر كتب حديث و تاريخ ميں ايسي بيسوں ايسي مثاليں موجود ہيں كہ اس نام سے لگاؤ كي وجہ سے حضرات صحابہ كرام اور تابعين عظام نے اس ناك كو استعمال كيا ہے۔۔ شيخ الاسلام علامہ ابن حجر العسقلاني نے الاصابہ مع الاستيعاب ميں۔۔ ذكر من اسم معاويہ كے تحت مندرجہ ذيل اكابرين كا تذكرہ كيا ہے۔
معايہ بن انس اسلمي
معاويہ بن ثور بن عبادة
معاويہ بن جاہمہ
معاويہ بن حرث بن المطلب بن عبد مناف
معاوہ بن خديج
معاوہ بن حزن
معاويہ بن الحكم اسلمي
معاويہ بن حيدہ بن معاويہ
معاوہ بن ابي ربعيہ
معاوہ بن سفيان بن الاسلام المخزومي
معاويہ بن ابي سفيان صخر بن حرب
معاويہ بن سويد
معاويہ بن صعصہ
معاويہ بن عبادة بن عقيل
معاويہ بن عبد اللہ
معاويہ بن عروہ
معاويہ بن عفيف المزني
معاويہ بن عمر و الاحوذي
معاويہ بن عمر الائلي
معاويہ بن قريل
معاويہ بن محصن
معاويہ بن مرداس بن ابي عامر
معاويہ بن معاويہ المزني
معاويہ بن المغيرہ
معاويہ بن مقرن المزني
معاويہ بن نضيع
معاويہ الثقفي
معاويہ العذري
معاويہ اليثي
معاويہ الہذلي
معاويہ والد نوفل

اس كے علاوہ ديگر كتب تاريخ و انساب ميں بھي ان كے علاوہ كچھ‌مزيد نام ملتے ہيں۔
معاويہ بن يزيد بن معاويہ
معاويہ بن عبد اللہ بن جعفر بن ابي طالب
معاويہ بن عبد اللہ افطح بن محمد بن باقر بن زين العابدين بن حسين بن علي بن ابي طالب
معاويہ النميري
معاويہ بن قرة
معاويہ بن مسلم
معاويہ بن مروان
اس كے‌علاوہ حضرت علي رضي اللہ تعالي عنہ كي ايك صاحبزادي رملہ كا نكاح ابو الہياج كے ساتھ ہوا تھا ان كي وفات كے بعد ان كا نكاح مروان بن حكم كے بيٹے معاويہ كے ساتھ ہوا۔
حضرت علي كے شاگردوں ميں ايك شخص معاويہ بن صعصہ تھا۔۔ ليكن حضرت علي نے ان كا نام تبديل نہيں كيا۔
اسي طرح حضرت جعفر صادق كے شاگردوں ميں بھي معاويہ بن الكندي الكوفي، معاويہ بن سلمہ انفري موجود تھے‌ليكن انھوں نے‌كبھي نہ تو اس نام پر كوئي نكير كي اور نہ كبھي اس كو تبديل كيا۔۔۔

خلاصہ يہ كہ كتب حديث تاريخ اور انساب ميں ايسي بيسوں شخصيات ہيں جن كے‌نام نامي اسم گرامي معاويہ ہيں ان شخصيت ميں صحابہ كرام، تابعين اور ديگر بزرگان دين، بنو اميہ، بنو ہاشم اور دوسرے قبائل كے‌افراد شامل ہيں۔ جن كے علمي اور عملي كارنامے تاريخ ميں مذكور ہيں۔
ان تمام حضرات كے ناموں ميں‌كبھي كسي كو كوئي نقص نظر نہيں آيا۔ كوئي عيب يا برائي نظر نہيں ىئي۔ كبھي ان كے ناموں كو ہدف طعن نہيں بنايا گيا۔۔ يہ ساري طعن و تشنيع بغض اور برائي صرف ايك مخصوص طبقہ كو صرف اور حضرت معاويہ بن ابي سفيان رضي اللہ تعالي عنہ كے‌نام ميں صديوں بعد نظر آئي۔۔۔
حضرت معاويہ بن ابي سفيان رضي اللہ تعالي عنہ كے نام ميں‌كيڑے نكالنے والے تحقيق كاروں ميں سے‌كسي ميں اتني جرات اور دم خم ہے كہ وہ يہي كيڑے
(1)۔۔۔ آنحضرت صلي اللہ عليہ والہ وسلم كے چچازاد بھائي معاويہ بن الحارث بن عبد المطلب
(2)۔۔۔حضرت علي پوتے معاويہ بن عباس
(3)۔۔ حسين بن علي كے بھتيجے معاويہ بن عبد اللہ
(4)۔۔ حضرت باقر كے پوتے معاويہ بن عبد اللہ افطح
(5)۔۔ حضرت جعفر صادق كے شاگر معاويہ بن سعيد الكندي اور معاويہ بن سلمہ النفري
اور اوپر مذكورہ ديگر بزرگان دين كے‌ناموں ميں بھي لغت كا كمزور اور غير علمي سہارا ليتے ہوئے ان كے‌ناموں كا مطلب بھي لومڑي كا بچہ، كتيا، بھوكنے والي كتيا وغيرہ كے كريں۔۔۔ اسي پر اپنے مذعومہ نظريات كي عمارت كو قائم كريں۔

اگر ان سب كے‌ناموں كے ساتھ ايسا نہيں كيا جاتا۔۔۔‌اور يہ قلم كار اور محقق ايسا نہيں‌كرتے تو كيا يہاں پہنچ كر لغت تبديل ہو جاتي ہے؟ يا لغت سے‌معاني اخذ كرنے قواعد و ضوابط تبديل ہو جاتے ہيں۔۔۔۔ اگر ايسا نہيں ہے۔۔ اور يقينا ايسا نہيں ہے تو سيدنا معاويہ رضي اللہ تعالي عنہ كے اسم مبارك پر طعن تشنيع كرنے‌كا كيا جواز باقي رہ جاتا ہے۔۔۔

اپنے پڑھنے‌والے اہل سنت والجماعت بھائيوں سے عرض كرتا چلوں كہ حضرت معاويہ رضي اللہ تعالي عنہ سے بغض و عناد كي وجہ ان كا نام نامي اسم گرامي نہيں ہے ۔۔ كيوں كہ اگر صرف نام ہي باعث نفرت ہوتا يہ سب مذكورہ شخصيات باعث نفرت ہوتيں۔۔۔۔۔ اصل اسباب كيا ہيں۔۔۔ چوں نكہ يہ دھاگہ ان سے‌متعلق نہيں۔۔۔ اس ليے ان كي طرف نہيں جاتا ۔۔۔ سر دست يہ سمجھ ليجئے كہ
(1)۔۔۔ اگرحضرت معاويہ اپنے دور حكومت ميں نصرانيت، يہوديت، سبائيت، اور مجوسيت لوہے كے چنے نہ چبواتے۔
(2)۔۔۔ اگر حضرت معاويہ اپنے دور ميں اسلامي سطلنت كا رقبہ 65 لاكھ مربع ميل تك نہ پھيلاتے۔
(3)۔۔۔ اگر وہ منصب امارت و خلافت قبول كر كے بكھري ہوئي امت كو اكھٹا نہ كرتے
(4)۔۔۔ اگر وہ عبد اللہ بن سبا كو لاتيں‌مار كر شام سے ملك بدر نہ كرتے
(5)۔۔ اسلام اور مسلمانوں كے تحفظ اور ان كي ترقي كے لئے اپنے چاليس سالہ دور اقتدار ميں وہ اقدامات نہ كرتے جو انھوں نے‌كئے۔۔ تو انہيں كبھي طعن و تشنيع كا نشانہ نہ بنايا جاتا۔۔۔۔


چوں كہ موضوع چل نكال تھا اس لئے انصاف پسند حضرات كے لئے قدرے وضاحت كر دي ہے۔۔‌ورنہ نہ ميں بنيادي حقائق و معارف سے‌قطع نظر كر كے بحث برائے بحث كا قائل ہوں اور نہ ہي ميرے‌پاس اتنا وقت ہے۔۔۔ البتہ حيدر ريحان صاحب كا اوپر ديئے‌گئے دھاگے ميں انتظار رہر حال رہے گا۔۔۔‌
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔

Last edited by شمشاد احمد; 11-07-11 at 02:54 PM.
شمشاد احمد آف لائن ہے  
14 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-07-11), کنعان (11-07-11), قاسم شاہ (16-07-11), ننھا بچہ (17-07-11), آبی ٹوکول (11-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (12-07-11), حیدر (11-07-11), حیدر Rehan (11-07-11), راجہ اکرام (11-07-11), سیفی خان (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), عبداللہ حیدر (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 02:59 PM   #63
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,398
کمائي: 96,046
شکریہ: 52,551
11,185 مراسلہ میں 35,278 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حیدر ریحان صاحب نے انتہائی نامعقول مراسلہ لکھا ہے
حیدر آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-07-11), آبی ٹوکول (11-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (12-07-11), سیفی خان (12-07-11), شمشاد احمد (11-07-11)
پرانا 11-07-11, 03:04 PM   #64
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
جزاک اللہ خیر برادرم شمشاد احمد
اللہ تعالیٰ آپ کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے ۔۔ آمین
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
آبی ٹوکول (11-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (11-07-11)
پرانا 11-07-11, 03:30 PM   #65
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,353
کمائي: 52,313
شکریہ: 4,405
1,840 مراسلہ میں 6,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
حیدر ریحان صاحب نے انتہائی نامعقول مراسلہ لکھا ہے
فیا للعجب کہ آپکو ان سے کسی معقولیت کی بھی توقع تھی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
7 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (17-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر (11-07-11), راجہ اکرام (11-07-11), سیفی خان (12-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 03:35 PM   #66
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,353
کمائي: 52,313
شکریہ: 4,405
1,840 مراسلہ میں 6,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں

چوں كہ موضوع چل نكال تھا اس لئے انصاف پسند حضرات كے لئے قدرے وضاحت كر دي ہے۔۔‌ورنہ نہ ميں بنيادي حقائق و معارف سے‌قطع نظر كر كے بحث برائے بحث كا قائل ہوں اور نہ ہي ميرے‌پاس اتنا وقت ہے۔۔۔ البتہ حيدر ريحان صاحب كا اوپر ديئے‌گئے دھاگے ميں انتظار رہر حال رہے گا۔۔۔‌
اسلام علیکم شمشاد بھائی آج کافی دنوں بعد ایک علمی اور تحقیقی تحریر پڑھی بخدا دل محبت صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین بشمول اہل بیت کی سہانی خوشبؤوں سے باغ باغ ہوگیا اللہ کرے زور قلم اور زیادہ ۔ ۔والسلام
__________________
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیکرِ دلرُبا بن کے‌ آیا ،روحِ ارض و سما بن کے آیا
سب رسولِ خُدا بن کے آئے ،وہ حبیبِ خُدا بن کے آٰیا
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
ننھا بچہ (17-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), بلال الراعی (12-07-11), حیدر (11-07-11), راجہ اکرام (11-07-11), سیفی خان (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (12-07-11), عبداللہ حیدر (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 03:55 PM   #67
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
فیا للعجب کہ آپکو ان سے کسی معقولیت کی بھی توقع تھی ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔۔۔
بڑے عرصہ بعد تشریف آوری ہوئی اور دھماکہ دار ہوئی
راجہ اکرام آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (11-07-11), حیدر (11-07-11), سیفی خان (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:03 PM   #68
ناظم اعلی
 
حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مراسلات: 15,398
کمائي: 96,046
شکریہ: 52,551
11,185 مراسلہ میں 35,278 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اور آتے ہی مجھے دھوبی پٹکا دے مارا
حیدر آن لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (12-07-11), آبی ٹوکول (11-07-11), احمد نذیر (13-07-11), سیفی خان (12-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:05 PM   #69
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
( منتھي الادب 2/215 ،لسان العرب ، 8/109القاموس 896، تاج العروس جلد 10/260
جہاں اہل لغت نے معاويہ كے مذكورہ بالا معاني بيان كئے ہيں‌وہاں ساتھ خود ہي وضاحت بھي كر دي ہے كہ معاوہ كا لفظ اگر معرف بالام ہو۔ يعني معاويہ كے نام پر الف لام داخل ہو۔ جيسے كہ المعاويہ۔۔ ہو تو اس كا معني مادہ سگ يعني كتيا كے ہيں۔
اگر يہ لفظ بغير الف لام كے صرف يعني صرف معاويہ ہو اور لوگوں كے‌علم يعني نام كے طور پر ہو تو يہ معني نہيں‌كيا جا سكتا كيونكہ اعلام يعني ناموں ميں‌ابتدائي لفظي معني نہيں ليے جاتے۔ خصوصا ان ناموں ميں جو منقول عنہ كے‌درجے ميں‌ہوں۔۔۔

معاويہ كے نام كا مطلب كتيا سمجھنے ميں بعض لوگوں كو يہ غلطي ہوئي كہ معاويہ اور المعاويہ كا مطلب ايك ہي ہے۔۔۔‌
جيسا كہ اوپر وضاحت ہو چكي ہے۔۔ اسي طرح بعض حضرات كو يہ مخالطہ بھي لگا كہ معاويہ كے نام كے آخر ميں جو ۔۔۔ ة۔۔۔۔ آتي ہے يہ ۔۔۔ ثانيث يعني مؤنث كے لئے ہے۔۔۔‌ ليكن حقيقت يہ ہے كہ معاويہ كے آخر ميں آنے والي۔۔۔‌ة۔۔۔ تانيث كے لئے‌نہيں جيسا كہ عكرمہ، طلحہ، سارية، حمزہ ميں ة تانثي كے لئے نہيں ہے۔
۔۔۔‌
السلام وعلیکم
شمشاد بھائی
بہت ہی تحقیق کی گئی ہے اتنی تحقیق کہ لگتا ہے کہ یہ سوال اب تک تاریخ میں نہ جانے کتنے اہم لوگوں سے کتنے اہم لوگوں نے کیا ہوگا اور کچھ زیادہ ہی کیا گیا ہوگا
تبھی اس نام کے مطلب کو صاف ستھرا کرنے کے لیے لوگوں کتنی محنت کی ہے اور اپنے اپنے دور میں عام لوگوں کو سمجھایا اور اتنا سمجھایا کہ لوگ یہ نام رکھتے بھی رہے
لغت نام کی جو چیز ہوتی ہے اس کا تعلق پڑھے لکھے گھرانوں سے ہوتا ہے اس لیے شاید اپ لغت کی بات نہی کررہے بلکہ ایک ایسی جماعت کے پیش کردہ مطلب بتارہے ہیں جو ظاہر ہے کہ کسی بھی طور پر کوئی برا مطلب اگے جانے نہی دیں گئے کیونکہ ایسے لوگوں کا خرچہ پانی ہی ایسی باتوں سے چل رہا ہے

پہلی بات یہ کہ میں نے شاید پہلے بھی کہا تھا کہ عام لوگوں کی بات میں نہی کررہا
خدا را ’’خلیفہ و امام‘‘ کے نام کے ساتھ یہ نہ لکھیں یعنی خلافت و امامت پاکیزہ عہدے ہیں ان کو ایسے نام والوں سے منصوب نہ کریں

دوسری بات یہ کہ اونٹھ بھیڑ یا گائے کا ملطب والے نام میں اور ایک حرام جانور میں کوئ فرق ہوتا ہے یا نہی ؟؟

تیسری بات یہ اگر باقر کا جو مطلب بتارہے ہیں اگر وہ انکا نام ہوتا تو بھی سوچتے مگر یہ تو نام بھی نہ تھا
بلکہ نام اسی ترتیب سے ہیں جو رسول خدا ص نے بتائے محمد بن علی یا علی بن محمد علیہ سلام بس یہئ نام ہیں جو کسی خلیفہ و امام کو زیب دیتے ہیں اور یہی اصل نام ہمارے ائمہ معصومین کے ہیں

چوتھی بات یہ کہ اگر مولا علی نے یا امام حسن یا امام حسین علیہ سلام نے کسی بچے کی سرپرستی کی تو اس کے نام کا مطلب بدلنے کی نہی کی بلکہ اللہ کا حکم ہے کہ یتیم کی پرورش کی جائے اس لیے انھیں یا ایسے نام والے افراد اہلبیت کے گھرانوں میں خدمت کرتے نظر ائیں گئے


پانجویں بات ۔۔۔باقی رہی وہ ناموں کی ایک لمبی فہرست جس میں افراد کے نام معاویہ ہیں وہ ایک کھلی حقیقیت ہیں کہ دیکھ لو
ایسے نام رکھنے والے بھی آخر کار جھکے تو آل محمد علیہ سلام کے در پر کوئی حسن کے در پر کوئ حسین کے در پر یہ سلسلہ چلتا رہا اور لوگ آتے رہے اور اسی آل محمدعلیہ سلام کے در پر جھکے

یہی نام تو وہ حقیقیں ہیں جو ہم دیکھانا چاہتے ہیں کہ دیکھ لو تمارے سارے کہ سارے
نہ صرف اپنے اپنے گھر کو بلکہ سارے جہان کو چھوڑ کر بھاگ آئے تو کہاں ائے؟؟؟

بے شک اللہ نے دنیا و آخرت میں لوگوں کے لیے محمد ص و آل محمد ع کو ہی آخری امید بنایا ہے


کیا اپ نے معاویہ ابن یزید کے خطبات نہی پڑھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کھبی وقت ملے تو پڑھ لیجیے گا
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
محمدخلیل (11-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:12 PM   #70
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,979
کمائي: 48,968
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
میرا سوال بالکل صاف ہے۔ کیونکہ آپ کی نظر میں تو یزید بھی ایک صحابی تھا اور آپ نے معاویہ کا ہی ساتھ دینا تھا۔
اور اگر پیارے نبی : سے پیارہے تو اس کی پیاری چیزوں سے بھی پیار ہونا چاہیے اور پیارے حسن اور حسین کا نام رکھ لیں۔
جیسا کہ میں نے رکھا ہے۔
میرے سوال کا جواب دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر آبی
محمدخلیل آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:13 PM   #71
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,353
کمائي: 52,313
شکریہ: 4,405
1,840 مراسلہ میں 6,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حیدر مراسلہ دیکھیں
اور آتے ہی مجھے دھوبی پٹکا دے مارا
آپ کو دھوبی پٹکا لگا جبکہ ہمیں راجہ صاحب نے چاروں شانے چت کرڈالا ہم چلے تھے بڑے عربی دان بننے اور "ترخیم منادیٰ" کو اسم تصغیر قرار دے ڈالا لا حول ولا قوۃ الا باللہ اب ہم اسے بطور شرمندگی تسامح بھی نہیں کہہ سکتے کہ وہ لفظ تو اہل علم کہ لیے مستعمل ہے ۔
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-07-11), شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 11-07-11, 04:17 PM   #72
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
( منتھي الادب 2/215 ،لسان العرب ، 8/109القاموس 896، تاج العروس جلد 10/260
جہاں اہل لغت نے معاويہ كے مذكورہ بالا معاني بيان كئے ہيں‌وہاں ساتھ خود ہي وضاحت بھي كر دي ہے كہ معاوہ كا لفظ اگر معرف بالام ہو۔ يعني معاويہ كے نام پر الف لام داخل ہو۔ جيسے كہ المعاويہ۔۔ ہو تو اس كا معني مادہ سگ يعني كتيا كے ہيں۔ ۔۔‌

جب یہ بات خود شمشاد بھائی نے کہا ہے کہ درست ہے کہ معاویہ میں اگر ال لگادیا جاے یعنی کہا جائے کہ
المعاویہ تو اس کا مطلب کتیا کے ییں

اب اہل کمپیوٹر حضرات اگر گوگل سرچ انجن پر ’’المعاویہ‘‘ لکھ کر بٹن دبائیں گئے تو کئی ہزار صفحات دیکھیں گئے کہ جس امیر شام کے لیے جو نام لکھا گیا ہے وہ المعاویہ ہی ہے جو کہ میں نے پہلی بار سے لے کر ابھی تک اس مراسلے میں کہا تھا کہ امیر شام کے نام کا مطلب کتیا ہیں
تو جو جو برا مانا تھا وہ واپس اکر کہے کہ ہاں ہم نے اس وقت جلد بازی میں تمھیں برا کہا تھا

شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

شکریہ
حیدر Rehan آف لائن ہے  
حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا گیا
شمشاد احمد (12-07-11)
پرانا 12-07-11, 03:54 AM   #73
Senior Member
 
آبی ٹوکول's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Oct 2008
مراسلات: 2,353
کمائي: 52,313
شکریہ: 4,405
1,840 مراسلہ میں 6,857 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
میرے سوال کا جواب دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر آبی
تمہارے سوالوں کا کیا جواب دوں ؟؟؟؟ آخر تمہارے سوال ہیں ہی کیا سوائے بیوقوفیوں کے ؟؟؟ تمہیں فون پر بھی سمجھایا تھا مگر بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی چلو اچھا سیدھے سیدھے بتاؤ ہمیں صحابہ اور اہل بیت سے محبت کیوں ہے ؟؟؟؟ محبت کی اصل تمہیں معلوم ہے کہ کیا ہے ؟؟؟؟ یاد رکھو ہر صحابی چاہے اہل بیت میں سے ہو یا غیر اہل بیت میں سے ہو سب کو اگر کسی بات پر ناز و فخر ہے تو وہ ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اور پکا غلام ہونا اور اسی نسبت سے اہل بیت اور غیر اہل بیت ہر دونوں غلامی کی وجہ سے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلواتے ہیں اور اسی پر فخر کرتے ہیں یہی ان کا سب سے بڑا ناز و فخر ہے یعنی حضور کا صحابی ہونا ۔

اب مجھے بتلاؤ کہ ہمیں صحابہ اور اہل بیت دونو‌ں سے محبت کیوں ہے ؟ اس محبت کی اصل کیا ہے ؟ وہ کونسی نسبت ہے کہ جسکو ہم اصل قرار دے کر ان دونوں یعنی صحابہ اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں ؟؟؟

وہ ہے نسبت غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیکھو اور بات کو سمجھو ابو جہل نے آپکا زمانہ پایا آپکو دیکھا مگر نہ آپ سے محبت کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اس نے اختیار کی سو راندہ درگاہ ہوا یعنی صحابی نہ بن سکا اسی طرح اہل بیت میں سے ابو لہب سگا چچا تھا مگر اس کا دل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی تھا سو اس نے بھی غلامی اختیار نہ کی حالانکہ وہ گھر والوں میں سے تھا مگر جب غلامی میں آنے سے انکار کیا تو شرف صحابیت سے محروم ہوکر وہ بھی راندہ درگاہ ہوا ۔

اب بتلاتا ہوں کہ ہمیں علی رضی اللہ عنہ سے محبت کیوں ہے ؟ ہمیں علی رضی اللہ عنہ سے محبت اس وجہ سے نہیں کہ وہ علی " علی " ہیں ۔ یاد رکھو وہ علی "علی " ضرور ہیں اور انکے بہت سے اعزازات و فضائل ہیں اور انکا ہر اعزاز و فضلیت ایک سے بڑھ کر ایک اور انکے یہی اعزازات و فضائل انکو تمام صحابہ میں سے ایک گونہ فضیلت بھی عطا کرتے ہیں انکی بعض جزوی فضیلتیں ایسی ہیں جوکہ خلفائے راشدین سمیت کسی دوسرے صحابی کو حاصل نہیں مگر یاد رکھو ان سب فضائل کہ باوجود ہم علی سے محبت اس لیے نہیں کرتے کہ انکو یہ فضائل حاصل تھے بلکہ ہمارے دلوں میں علی کی محبت کی جو اصل ہے یعنی جو جڑ ہے اور جو نسبت ہے وہ ہے سچی و پکی غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ہم علی سے فقط اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ اول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ سچے اور پکے غلام ہیں پھر اسکے بعد انکے دیگر اعزارات ان کے ساتھ ہماری محبت کو اور بھی مضبوط کرتے ہیں۔

اگر وہ علی معاذاللہ ثم معاذاللہ اولا ان میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہ ہوتی یعنی غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اختیار نہ کی ہوتی تو آج ہم تو کیا کوئی بھی علی علیہ السلام کا نام لیوا نہ ہوتا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ یہ بات تم کو بات سمجھانے کے لیے لکھی اللہ مجھے معاف فرمائے آمین ۔

پھر یاد رکھو علی ہوں یا معاویہ رضی اللہ عنھما ان دونوں سے ہمیں محبت نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے ۔ سو اسی نسبت کا ادب و احترام ہے اور یہی نسبت اصل محبت ہے ان سب سے لہذا اس کا تقاضا یہ یے کہ ہم نے ان سے محبت کرتے وقت انکا کردار نہیں دیکھنا انکی آپس میں مشاجرات پر نظر نہیں کرنی کیونکہ اول وہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں دوم ہمارا یہ مقام ہی نہیں کہ ہم ان پر تنقید کرسکیں‌ سوم اور سب سے بڑھ کر وجہ یہ ہے کہ خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے نیز یہ فرمایا ہے کہ میرے صحابہ سے محبت میری وجہ سے کرو یعنی مطلب یہ ہوا کہ اگر ان میں کوئی بشری کمزوری دیکھو بھی تو اس کمزوری پر نظر کرتے ہویے میرے صحابہ پر ہرگز تنقید نہ کرنا بلکہ مجھے نظر میں رکھتے ہوئے ان سے صرف نظر کرنا اور ان سے فقط محبت کا ہی دم بھرنا ویسے بھی مقولہ مشھور ہے کہ محبوب کی مـحبت محب کو محبوب کہ عیوب سے اندھا کردیتی ہے اب تم ہی بتلاؤ کہ ہم کون ہوتے ہیں صحابہ پر تنقید کرنے والے ہماری اوقات ہی کیا ہے وہ تو وہ تھے کہ انھوں نے اپنا تن من دھن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کردیا تھا ایسے ہی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ اگر میرا کوئی صحابی ایک "جو " کا دانہ بھی صدقہ کرئے اور تم بعد میں آنے والے اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کرلو تو تب بھی میرے صحابی کو نہیں پا سکتے ۔

میرے دوست اسی طرح سے بے شمار حدیثیں ہیں جو کہ فضائل صحابہ میں ہیں اگر آدمی میں زرا سی بھی عقل ہو تو اسکی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں مگر جن کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہو اور دلوں میں بغض صحابہ کا قہر امنڈتا ہو انھے کیا دکھائی و سجھائی دے۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں انھوں نے فتح مکہ کہ بعد اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا کم وبیش 163 حدیثوں کہ راوی ہیں‌ کاتب وحی ہیں اور قرآن کی اس بشارت کہ مصداق ہیں کہ جس میں فتح مکہ اور فتح مکہ سے پہلے والے تمام صحابہ کو جنت کی بشارت دی گئی ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ امہ حبیبہ امیر معاویہ کی سگی بہن بیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انکے سگے چچا کہ بیٹے ہیں نیز حضرت عثمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی کہ بیٹے ہیں اور یہ بات تو مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے حضرت عثمان کہ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے بیاہی گئی تھیں ۔ یعنی حضرت امیر معاویہ اور حضرت عثمان دونوں بنو امیہ میں سے ہیں اسی طرح حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنھما حضرت امیر معاویہ کی سگی بھانجی کہ بیٹے ہیں یعنی وہ حضرت میمونہ بنت ابو سفیان یعنی حضرت امیر معاویہ کی سگی بہن کی بیٹی جو کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ بیٹے ہیں اور میدان کربلا میں شہید ہوئے ہیں ۔انھی کو شبیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کہا جاتا تھا ۔

اب کیا کیا بتلاؤں اور کس کس بات کا تمہاری میں جواب دوں خود سوچو میں تو تمہیں بارہا قرآن و حدیث سے سمجھا چکا کہ خدارا تاریخی روایات کی ان "گھمن گھیریوں " سے باہر نکل آو اور قرآن و حدیث پر اپنے ایمان اور نقد کی بنیاد رکھو ۔۔۔۔ والسلام
آبی ٹوکول آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے آبی ٹوکول کا شکریہ ادا کیا
کنعان (12-07-11), ننھا بچہ (17-07-11), محمدخلیل (12-07-11), احمد نذیر (13-07-11), ارشد کمبوہ (12-07-11), بلال الراعی (12-07-11), سیفی خان (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11), شمشاد احمد (12-07-11), عبداللہ حیدر (12-07-11)
پرانا 12-07-11, 04:06 AM   #74
Senior Member
مقبول
 
بلال الراعی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2009
مقام: Gujrat
عمر: 27
مراسلات: 195
کمائي: 5,881
شکریہ: 820
158 مراسلہ میں 527 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال الراعی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

محمدخلیل اور حیدر Rehan کی تسلی ابھی بھی نھیں ھوئ ھو گی۔۔۔
بلال الراعی آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے بلال الراعی کا شکریہ ادا کیا
ارشد کمبوہ (12-07-11), شھزادباجوہ (13-07-11)
پرانا 12-07-11, 10:06 AM   #75
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,979
کمائي: 48,968
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : آبی ٹوکول مراسلہ دیکھیں
تمہارے سوالوں کا کیا جواب دوں ؟؟؟؟ آخر تمہارے سوال ہیں ہی کیا سوائے بیوقوفیوں کے ؟؟؟ تمہیں فون پر بھی سمجھایا تھا مگر بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی چلو اچھا سیدھے سیدھے بتاؤ ہمیں صحابہ اور اہل بیت سے محبت کیوں ہے ؟؟؟؟ محبت کی اصل تمہیں معلوم ہے کہ کیا ہے ؟؟؟؟ یاد رکھو ہر صحابی چاہے اہل بیت میں سے ہو یا غیر اہل بیت میں سے ہو سب کو اگر کسی بات پر ناز و فخر ہے تو وہ ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سچا اور پکا غلام ہونا اور اسی نسبت سے اہل بیت اور غیر اہل بیت ہر دونوں غلامی کی وجہ سے صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہلواتے ہیں اور اسی پر فخر کرتے ہیں یہی ان کا سب سے بڑا ناز و فخر ہے یعنی حضور کا صحابی ہونا ۔

اب مجھے بتلاؤ کہ ہمیں صحابہ اور اہل بیت دونو‌ں سے محبت کیوں ہے ؟ اس محبت کی اصل کیا ہے ؟ وہ کونسی نسبت ہے کہ جسکو ہم اصل قرار دے کر ان دونوں یعنی صحابہ اور اہل بیت سے محبت کرتے ہیں ؟؟؟

وہ ہے نسبت غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم دیکھو اور بات کو سمجھو ابو جہل نے آپکا زمانہ پایا آپکو دیکھا مگر نہ آپ سے محبت کی اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اس نے اختیار کی سو راندہ درگاہ ہوا یعنی صحابی نہ بن سکا اسی طرح اہل بیت میں سے ابو لہب سگا چچا تھا مگر اس کا دل محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے خالی تھا سو اس نے بھی غلامی اختیار نہ کی حالانکہ وہ گھر والوں میں سے تھا مگر جب غلامی میں آنے سے انکار کیا تو شرف صحابیت سے محروم ہوکر وہ بھی راندہ درگاہ ہوا ۔

اب بتلاتا ہوں کہ ہمیں علی رضی اللہ عنہ سے محبت کیوں ہے ؟ ہمیں علی رضی اللہ عنہ سے محبت اس وجہ سے نہیں کہ وہ علی " علی " ہیں ۔ یاد رکھو وہ علی "علی " ضرور ہیں اور انکے بہت سے اعزازات و فضائل ہیں اور انکا ہر اعزاز و فضلیت ایک سے بڑھ کر ایک اور انکے یہی اعزازات و فضائل انکو تمام صحابہ میں سے ایک گونہ فضیلت بھی عطا کرتے ہیں انکی بعض جزوی فضیلتیں ایسی ہیں جوکہ خلفائے راشدین سمیت کسی دوسرے صحابی کو حاصل نہیں مگر یاد رکھو ان سب فضائل کہ باوجود ہم علی سے محبت اس لیے نہیں کرتے کہ انکو یہ فضائل حاصل تھے بلکہ ہمارے دلوں میں علی کی محبت کی جو اصل ہے یعنی جو جڑ ہے اور جو نسبت ہے وہ ہے سچی و پکی غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ہم علی سے فقط اس لیے محبت کرتے ہیں کہ وہ اول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہ سچے اور پکے غلام ہیں پھر اسکے بعد انکے دیگر اعزارات ان کے ساتھ ہماری محبت کو اور بھی مضبوط کرتے ہیں۔

اگر وہ علی معاذاللہ ثم معاذاللہ اولا ان میں محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہ ہوتی یعنی غلامی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اختیار نہ کی ہوتی تو آج ہم تو کیا کوئی بھی علی علیہ السلام کا نام لیوا نہ ہوتا معاذ اللہ ثم معاذ اللہ یہ بات تم کو بات سمجھانے کے لیے لکھی اللہ مجھے معاف فرمائے آمین ۔

پھر یاد رکھو علی ہوں یا معاویہ رضی اللہ عنھما ان دونوں سے ہمیں محبت نسبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے ہے ۔ سو اسی نسبت کا ادب و احترام ہے اور یہی نسبت اصل محبت ہے ان سب سے لہذا اس کا تقاضا یہ یے کہ ہم نے ان سے محبت کرتے وقت انکا کردار نہیں دیکھنا انکی آپس میں مشاجرات پر نظر نہیں کرنی کیونکہ اول وہ صحابہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں دوم ہمارا یہ مقام ہی نہیں کہ ہم ان پر تنقید کرسکیں‌ سوم اور سب سے بڑھ کر وجہ یہ ہے کہ خود جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو برا بھلا کہنے سے منع فرمایا ہے نیز یہ فرمایا ہے کہ میرے صحابہ سے محبت میری وجہ سے کرو یعنی مطلب یہ ہوا کہ اگر ان میں کوئی بشری کمزوری دیکھو بھی تو اس کمزوری پر نظر کرتے ہویے میرے صحابہ پر ہرگز تنقید نہ کرنا بلکہ مجھے نظر میں رکھتے ہوئے ان سے صرف نظر کرنا اور ان سے فقط محبت کا ہی دم بھرنا ویسے بھی مقولہ مشھور ہے کہ محبوب کی مـحبت محب کو محبوب کہ عیوب سے اندھا کردیتی ہے اب تم ہی بتلاؤ کہ ہم کون ہوتے ہیں صحابہ پر تنقید کرنے والے ہماری اوقات ہی کیا ہے وہ تو وہ تھے کہ انھوں نے اپنا تن من دھن نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کردیا تھا ایسے ہی تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا تھا کہ اگر میرا کوئی صحابی ایک "جو " کا دانہ بھی صدقہ کرئے اور تم بعد میں آنے والے اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خیرات کرلو تو تب بھی میرے صحابی کو نہیں پا سکتے ۔

میرے دوست اسی طرح سے بے شمار حدیثیں ہیں جو کہ فضائل صحابہ میں ہیں اگر آدمی میں زرا سی بھی عقل ہو تو اسکی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں مگر جن کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھی ہو اور دلوں میں بغض صحابہ کا قہر امنڈتا ہو انھے کیا دکھائی و سجھائی دے۔

امیر معاویہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں انھوں نے فتح مکہ کہ بعد اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا کم وبیش 163 حدیثوں کہ راوی ہیں‌ کاتب وحی ہیں اور قرآن کی اس بشارت کہ مصداق ہیں کہ جس میں فتح مکہ اور فتح مکہ سے پہلے والے تمام صحابہ کو جنت کی بشارت دی گئی ہے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ امہ حبیبہ امیر معاویہ کی سگی بہن بیں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انکے سگے چچا کہ بیٹے ہیں نیز حضرت عثمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی کہ بیٹے ہیں اور یہ بات تو مسلمانوں کا بچہ بچہ جانتا ہے حضرت عثمان کہ ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو بیٹیاں یکے بعد دیگرے بیاہی گئی تھیں ۔ یعنی حضرت امیر معاویہ اور حضرت عثمان دونوں بنو امیہ میں سے ہیں اسی طرح حضرت علی اکبر بن حسین رضی اللہ عنھما حضرت امیر معاویہ کی سگی بھانجی کہ بیٹے ہیں یعنی وہ حضرت میمونہ بنت ابو سفیان یعنی حضرت امیر معاویہ کی سگی بہن کی بیٹی جو کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں کہ بیٹے ہیں اور میدان کربلا میں شہید ہوئے ہیں ۔انھی کو شبیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی کہا جاتا تھا ۔

اب کیا کیا بتلاؤں اور کس کس بات کا تمہاری میں جواب دوں خود سوچو میں تو تمہیں بارہا قرآن و حدیث سے سمجھا چکا کہ خدارا تاریخی روایات کی ان "گھمن گھیریوں " سے باہر نکل آو اور قرآن و حدیث پر اپنے ایمان اور نقد کی بنیاد رکھو ۔۔۔۔ والسلام
----------------------------
بھائی جو آپ نے باتیں کی ہے یا حدیث بیان کی ہے وہ تو بالکل من گھڑت ہیں۔
اور آپ کو بھی علم نہیں‌ہے اس کے بارے اس لیے آپ سے بحث کرنا فضول ہے۔
اگر جناب کا اعلیٰ اور ارفع ترین زہن کام کرے تو مجھے بتاو کہ اگر کوئی صحابہ کو قتل کر دے تو کیسا بندہ ہوگا ہو؟
میرا سوال پھر بھی وہی ہے تم کس کا ساتھ دیتے؟؟؟؟اور مجھے پتا ہے کوئی بھی ڈر کے مارے اس کس جواب نہیں دے گا سب کے ایمان کمزور پڑ جاتے ہیں اس سوال پر۔
__________________
تم لوگوں کی اس دنیا میں ہر قدم پہ انساں غلط
میں صحیح سمجھ کہ جوبھی کروں تم کہتے ہو غلط
میں غلط ہوں تو پھر کون صحیح؟

Last edited by محمدخلیل; 12-07-11 at 10:27 AM.
محمدخلیل آف لائن ہے  
محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا گیا
آبی ٹوکول (12-07-11)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فروخت, کتابوں, نثار, نظر, مکہ, مکمل, موسیٰ علیہ السلام, مقابلہ, منافقین, ممکن, ماں, مجید, مسجد, معلوم, آبادی, آج, اکبر, امیر, اسلام, بچوں, تلاش, دعا, عبادت, صحابہ, صحابی


Currently Active Users Viewing This Thread: 2 (0 members and 2 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
لاہور بادشاہ کی جیت /ویسٹ انڈین کی ہار champion_pakistani کرکٹ 3 18-11-08 09:07 AM
یہودیت از رابرٹ وین ڈی وئیر عرفان حیدر کتاب گھر 1 11-04-08 08:20 AM
اینن آرڈین نے سال کا دسواں ٹائٹل جیت کر ریکارڈ قائم کردیا خرم شہزاد خرم کھیل اور کھلاڑی 0 13-11-07 10:00 AM
ریشل گرنہام نے ورلڈ اوپن ویمنز اسکواش چیمپئن شپ جیت لی عبدالقدوس کھیل اور کھلاڑی 0 29-10-07 11:45 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:32 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger