واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


اشاعت اسلام اور تلوار

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 12-06-11, 09:40 PM   #1
اشاعت اسلام اور تلوار
قاسم کیانی قاسم کیانی آف لائن ہے 12-06-11, 09:40 PM

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اسلام کی دو حیثیتیں ہیں۔ ایک حیثیت میں وہ دنیا کے لیے اللہ کا قانون ہے۔ دوسری حیثیت میں وہ نیکی و تقوٰی کی جانب ایک دعوت اور پکار ہے۔
پہلی حیثیت کا منشا دنیا میں امن قائم کرنا، اس کو ظالم و سرکش انسانوں کے ہاتھوں تباہ ہونے سے بچانا اور دنیا والوں کو اخلاق و انسانیت کے حدود کا پابند بنانا ہے جس کے لیے قوت و طاقت کے استعمال کی ضرورت مسلم ہے۔

لیکن دوسری حیثیت میں وہ قلوب کا تزکیہ کرنے والا، ارواح کو پاک کرنے والا، حیوانی کثافتوں کو دور کرکے بنی آدم کو اعلیٰ درجہ کا انسان بنانے والا ہے جس کے لیے تلوار کی دھار نہیں بلکہ ہدایت کا نور ،دلوں کا جھکاؤ اور جسموں کی پابندی نہیں بلکہ روحوں کی اسیری درکار ہے۔ اگر کوئی شخص سر پر چمکتی ہوئی تلوار دیکھ کر لا الہ الا اللہ کہہ دے مگر اس کا دل بدستور ما سوی اللہ کا بتکدہ بتا رہے تو دل کی تصدیق کے بغیر یہ زبان کا اقرار کسی کام کا نہیں، اسلام کے لیے اس کی حلقہ بگوشی بیکار ہے۔
دینِ حق تو خیر بڑی چیز ہے دنیا کی معمولی تحریکیں بھی جن کا منشا محض دنیوی مقاصد کا حصول ہوتا ہے اپنی کامیابی کے لیے ایسے پیرووں پر بھروسہ نہیں کرسکتیں جو صرف زبان سے ان کے موید ہوں۔ پھر وہ دن جو تمام عالم بشری کی اصلاح کا عظیم مقصد لے کر اٹھا ہو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ اپنی دعوت کا کام تلوار کی گونگی زبان کے سپرد کرتا۔ کیا وہ ایسے پیرو حاصل کر کے مطمئن ہو سکتا تھا جن کے دل اللہ کے خوف سے خالی مگر تلوار کی ہیبت سے معمور ہوں؟ کیا ایسے بزدل اور بودے آدمیوں کو وہ کوئی وزن دے سکتا تھا جو محض جان بچانے کے لیے کسی عقیدے کو جس کی صداقت کے وہ قائل نہ ہوں، قبول کر لیں؟ اور اگر ایسا ہوتا تو کیا اسے وہ کامیابی حاصل ہو سکتی تھی جو اس نے فی الحقیقت حاصل کی؟
اس بحث سے یہ حقیقت تو اچھی طرح واضح ہو گئی کہ اسلام اپنی صداقت پر ایمان لانے کے لیے کسی کو مجبور نہیں کرتا۔ بلکہ دلائل و براہین کی روشنی میں ہدایت کی راہ کو ضلالت کی راہ سے ممتاز کر کے دکھا دینے کے بعد ہر شخص کو اختیار دیتا ہے کہ چاہے غلط راستے پر چل کر نامرادی کے گڑھے میں جا گرے اور چاہے سیدھے راستے پر لگ کر حقیقی اور دائمی کامیابی سے بہرہ اندوز ہو۔ اس میں شک نہیں کہ تبلیغ میں تلوار نہیں چلتی لیکن اس تبلیغ کے ساتھ کچھ چیزیں اور بھی ہیں جن کے تعاون سے دنیا میں اسلام کی اشاعت ہوتی ہے اور وہ یقینًا تلوار کی اعانت سے بے نیاز نہیں ہیں۔
اگر اسلام صرف چند عقائد کا مجموعہ ہوتا اور اللہ کو ایک کہنے، رسالت کو برحق ماننے، یوم آخر اور ملائکہ پر ایمان لانے کے سوا انسان سے وہ کوئی اور مطالبہ نہ کرتا تو اسے کسی سے لڑنے ضرورت پیش نہ آتی۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ صرف ایک عقیدہ ہی نہیں بلکہ ایک قانون بھی ہے۔ ایسا قانون جو انسان کی عملی زندگی کو اوامرو نواہی کی بندشوں میں کسنا چاہتا ہے۔ اس لیے اس کا کام صرف پند و موعظت ہی سے نہیں چل سکتا بلکہ اسے نوکِ زبان کے ساتھ نوکِ سنان سے بھی کام لینا پڑتا ہے۔ اس کے عقائد سے سرکش انسان کو اتنا بُعد نہیں ہے جتنا اس کے قوانین کی پابندی سے ہے۔ باطل نظام اور باطل عقائد کا غلبہ انسانوں کی اکثریت کو دین کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا یا اسے قبول کرنے میں مانع بنتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیرہ سال مکے میں دعوت دی، مضبوط دلائل دیے، واضح حجتیں پیش کیں اور کوئی ذریعہ نہ چھوڑا جو حق کے اظہار و اثبات کے لیے مفید ہو سکتا تھا لیکن اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔ ہجرت کے بعد پہلے معرکے بدر میں کل مردان جنگی تین سو تیرہ تھے جن میں بچے بھی شامل تھے۔ لیکن جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تلوار ہاتھ میں لی، ملک میں ایک منظم اور منضبط حکومت قائم کر دی تو صرف دس سال کے اندر جانثاروں کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی۔ فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار کا لشکر ہمراہ تھا اور خطبہ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ سے زائد مسلمان موجود تھے۔
اس کی وجہ صرف یہی تھی کہ اسلام نے ان پردوں کو چاک کر دیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے، اس فضا کو صاف کر دیا جس کے اندر کوئی اخلاقی تعلیم پنپ نہیں سکتی تھی، ان حکومتوں کے تختے الٹ دیے جو حق کی دشمن اور باطل کی پشت پناہ تھیں، ان بدکاریوں کا استیصال کر دیا جو دلوں کو نیکی و پرہیزگاری سے دور رکھتی ہیں۔
پس جس طرح یہ کہنا غلط ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بناتا ہے، اسی طرح یہ کہنا بھی غلط ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تلوار کا کوئی حصہ نہیں ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان میں ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام کی اشاعت میں تبلیغ اور تلوار دونوں کا حصہ ہے جس طرح ہر تہذیب کے قیام میں ہوتا ہے۔ اسلام کسی کی گردن پر تلوار رکھ کر کلمہ پڑھوانے کی اجازت نہیں دیتا جیسا کہ امام ابن کثیر "لا اکراہ فی الدین" کی تفسیر میں لکھتے ہیں
کسی شخص کو دین اسلام میں داخل ہونے پر مجبور نہ کرو کیونکہ وہ اس قدر بین و واضح ہے اور اس کے دلائل و براہین اس قدر روشن ہیں کہ کسی شخص کو اس میں داخل ہونے پر مجبور کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ اللہ نے جس شخص کو ہدایت دی ہو گی اور جس کا سینہ قبول حق کے لیے کھول دیا ہو اور جس کو بصیرت کا نور عطا کیا ہو وہ دلیل واضح کی بنا پر خود اسے اختیار کرے گا، اور جس کی سماعت و بینائی پراللہ نے مہر کر دی ہو اس کا مارے باندھے دین میں داخل ہونا بیکار ہے۔
لیکن اسلام کی تلوار ان لوگوں کی گردنیں کاٹنے میں ضرور تیز ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں یا اللہ کی زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔ اور کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس تیزی میں وہ حق بجانب نہیں ہے۔

(ماخوذ از الجہاد فی الاسلام)

قاسم کیانی
Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 653
Reply With Quote
14 قاری/قارئین نے قاسم کیانی کا شکریہ ادا کیا
skjatala (12-06-11), فیصل ناصر (13-06-11), ہادی (13-06-11), فخر بٹ (14-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), سام (13-06-11), سحر بٹ (12-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11), شمشاد احمد (12-06-11), عبداللہ حیدر (12-06-11)
پرانا 13-06-11, 12:25 AM   #2
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلام علیکم
کسی صاحب حق اور صاحب دل درد مند کے قلم سے نکلی ہوئی تحریر لگتی ہے۔
راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
فخر بٹ (14-06-11), قاسم کیانی (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), عروج (19-06-11)
پرانا 13-06-11, 12:29 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,983
شکریہ: 2,337
915 مراسلہ میں 2,334 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

امریکہ مشرق میں اپنی مسلم کش پالیسی پرعمل پیراہےاوراسکےاپنےشہری بخوشی دین اسلام میں داخل ہورہےہیں۔اسلام غالب ہونےکےلیےہےچاہےامریکہ اوراسکےحواریوں کوناگوارگذرے۔

Last edited by سام; 13-06-11 at 12:33 AM.
سام آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), عروج (19-06-11)
پرانا 13-06-11, 01:03 AM   #4
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
کسی صاحب حق اور صاحب دل درد مند کے قلم سے نکلی ہوئی تحریر لگتی ہے۔
الجہاد في الاسلام كا حوالہ ديا ہے۔۔۔۔‌يہ كتاب مودودي صاحب كي ہے۔۔۔۔۔‌اور لا جواب كتاب ہے۔۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 01:25 AM   #5
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مودودی صاحب کو پڑھنے والا مودودی صاحب کے خلاف نہیں رہتا

یار لوگ اکثر مخالفت میں لکھی کتابیں تو پڑھ لیتے ہیں لیکن کبھی مولانا کی تصنیفات پڑھنے سے احتراز ہی کرتے ہیں


نوٹ: یہ کمنٹ ہے برائے مہربانی موضوع پر ہی رہا جائے
__________________
(اے پروردگار) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
skjatala (13-06-11), ہادی (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 03:56 AM   #6
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مودودي صاحب گنتي كي چند كتابوں ميں ميں گنتي كي چند باتيں نہ كرتے۔۔۔۔۔‌خصوصا خلافت و ملوكيت نہ لكھتے تو يوں طوفان نہ كھڑا ہوتا۔۔۔۔۔ ليكن ہوني كو كون ٹال سكتا ہے۔۔۔۔۔‌ويسے بھي پردہ اور الجہاد في الاسلام مودودي صاحب كي ابتدائي كتب ہيں۔۔۔ ان كي تحقيق يا كہيں‌كہ سوچ بہت بعد ميں تبديل ہوئي جو اختلاف كا باعث بنتي چلي گئي۔۔۔۔ خير مٹي پاؤ

ويسے يار شيرہ بھي لگاتے ہو اور مكھي سے‌كہتے ہو ادھر كا رخ مت كرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
7 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
skjatala (13-06-11), فیصل ناصر (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), حسن قادری (14-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 04:11 AM   #7
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بات شیرہ لگانے کی نہیں ہے
ایک طرح سے مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے اور بس



مزید کچھ کہونگا تو موضوع کہیں اور نکل پڑے گا
جبکہ حقیقتا ہمیں " اشاعت اسلام اور دفاع اسلام میں تلوار کی اہمیت " کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے اور" اس کی استعمال کے طریقہ کار کو بھی "
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
6 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 04:15 AM   #8
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جي يہ بات تو ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو كچھ بتائيں اس بارے ميں كہ تلوار كا كردار كيا ہے اور كيا نہيں ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
3 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11)
پرانا 13-06-11, 04:24 AM   #9
Senior Member

 
فیصل ناصر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مقام: کراچی
مراسلات: 17,523
کمائي: 298,190
شکریہ: 36,134
13,828 مراسلہ میں 40,302 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

میں‌تو آپ سے ہی سوال کررہا ہوں
پھر بھی عرض ہے کے افغانستان میں چلنے والی تلوار اور سلمان تاثیر پر چلنے والی تلوار میں فرق ہے
فیصل ناصر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے فیصل ناصر کا شکریہ ادا کیا
ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 04:37 AM   #10
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

نہيں ميرا خيال نہيں كہ ان دونوں تلواروں ميں فرق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔سلمان تاثير كو اس كي اپني حركتيں يہاں اس موڑ تك لے آئيں تھيں۔۔۔۔۔اس پر يہاں اسي فور پر بہت بحث ہو چكي ہے۔۔۔

يہ ايك حقيقت ہے كہ اسلام تلوار كے زور سے نہيں‌پھيلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر اسلام كي حفاظت ميں تلوار نے اہم كام كيا ہے۔۔۔۔۔ اور پيغمبر اسلام كي عزت و ناموت كے‌تحفظ كے لئے اٹھني والي تلوار اور كافروں سے برسرپيكار تلوار ميں كوئي فرق نہيں۔۔۔۔۔ بلكہ پہلي تلوار افضل ہے۔۔۔۔۔۔ چاہے وہ كسي نام نہاد مسلمان پر ہي كيوں نہ چل جائے۔۔۔۔۔۔‌جيسا كہ حضرت عمر رضي اللہ تعالي عنہ نے ايك منافق كي گردن پر چلا دي تھي ۔۔
ميں سلمان تاثر كے قتل كي حمايت تو نہيں‌كرتا۔۔۔۔۔۔۔ ليكن اس كے‌قاتل كو غلط بھي نہيں‌كہہ پاتا۔۔۔ آپ اس معاملے ميں ناموس رسالت كو نكال كر كوئي دوسرا دنياوي معاملہ ہي ڈال كر فيصلہ كر ليں۔۔۔۔ كہ
جب ايك معاملہ عدلت ميں‌چل رہا تھا۔۔۔۔ عدالت نے فيصلہ سنا ديا تھا۔۔۔۔ تو صوبے كے اہم قانوني شخص كو ٹانگ اڑكانے‌كي كيا ضرورت تھي۔۔۔۔۔ يقين كريں اگر يہ معاملہ دو كنال پلاٹ كا ہوتا۔۔۔۔ اور سلمان تاثر كا يہي كردار ہوتا۔۔۔۔۔۔ تو اس كا يہي حال ہونا چاہے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ كيونكہ جب بڑے كو قانون ہاتھ ميں لينے كا انجام معلوم نہيں تو عام شخص كو اس كي كيا پروا۔۔۔۔۔۔۔

اب اس معاملہ ميں دو كنال پلاٹ كو نكال كر ناموس رسالت كو ركھ ليں۔۔۔۔۔ جس سے‌لوگوں كے ايمان جڑے ہوئے ہيں۔۔۔۔۔۔تو كب كس كا ميٹر كھوم جائے اس كا تو كوئي كچھ‌نہيں كہہ سكتا نا۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
ہادی (13-06-11), قاسم کیانی (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), احمد بلال (13-06-11), حیدر (14-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11), عروج (19-06-11)
پرانا 13-06-11, 09:20 AM   #11
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
کمائي: 775
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : راجہ اکرام مراسلہ دیکھیں
السلام علیکم
کسی صاحب حق اور صاحب دل درد مند کے قلم سے نکلی ہوئی تحریر لگتی ہے۔
وسلم .......اکرم بھاہی آپ کی بات صہٰیح ہے یہ مولانا مودودي صاحب کی لکھی ہوہی تحریر ہے اللہ ان کی مغفرت فرماے بہت کی باکمال انسان تھے درد دل رکھنے والے تھے...........
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
امریکہ مشرق میں اپنی مسلم کش پالیسی پرعمل پیراہےاوراسکےاپنےشہری بخوشی دین اسلام میں داخل ہورہےہیں۔اسلام غالب ہونےکےلیےہےچاہےامریکہ اوراسکےحواریوں کوناگوارگذرے۔
ماشااللہ سام بھاہی کوہی تو گہری سوچ ہوا بھی ہے میرے بھایئ صرف امریکہ نہیں بلکے پوری دنیا میں اسلام کو پہیلایا جارہا ہے مصطفٰی کمال پاشا نے ترقی میں پردہ کرنے پر پابندی عاہد کردی تھی اور یوں طالبات یونیوسٹی اور کالجوں میں پردہ کرکے نہیں جاسکتی تھیں ترقی ایک اسلامی ملک ہے اوراس قسم کے حکومتی فیصلے عوام کی روایات مزہب اور امنگوں کے برعکس ہوتے ہیں لیکن آج کل توقی میں خواتین کی بڑی تعداد حجاب اور پردے میں نظر آتی ہے وجہ کیا ہے اسی طرح امریکہ یہ کہتا ہے کہ اسلام ٹیرارسٹ ہے اس پرپوگنڈے پر اس کا ملک ذیادہ بولتا ہے اور اس کے ملک کے اند اسلام ذیادہ پھیل رہا ہے اللہ جسے ہدایت دے ............
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
الجہاد في الاسلام كا حوالہ ديا ہے۔۔۔۔‌يہ كتاب مودودي صاحب كي ہے۔۔۔۔۔‌اور لا جواب كتاب ہے۔۔۔۔
بے شک یہ کتاب لاجواب ہے شہمشاد بھاہی آپ پوری کتاب صرور پڑھنا
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : فیصل ناصر مراسلہ دیکھیں
مودودی صاحب کو پڑھنے والا مودودی صاحب کے خلاف نہیں رہتا
فیصل ناصر بھاہی میں آپ کی بات سے اختلاف کرتا ہو بے پناہ افراد جن میں علماء بھی شامل ہیں مولانا مودودی کے خلاف ہیں
اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
مودودي صاحب گنتي كي چند كتابوں ميں ميں گنتي كي چند باتيں نہ كرتے۔۔۔۔۔‌خصوصا خلافت و ملوكيت نہ لكھتے تو يوں طوفان نہ كھڑا ہوتا۔۔۔۔۔ ليكن ہوني كو كون ٹال سكتا ہے۔۔۔۔۔‌ويسے بھي پردہ اور الجہاد في الاسلام مودودي صاحب كي ابتدائي كتب ہيں۔۔۔ ان كي تحقيق يا كہيں‌كہ سوچ بہت بعد ميں تبديل ہوئي جو اختلاف كا باعث بنتي چلي گئي۔۔۔۔ خير مٹي پاؤ

ويسے يار شيرہ بھي لگاتے ہو اور مكھي سے‌كہتے ہو ادھر كا رخ مت كرنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کسی کی کوہی بھی بات اچھی لگے وہ لے لو شیرہ تو لگانا لگانا ضروری مگر میرے پیارے بھاہی مکھی دیکھ کر کوہی نہیں کھاتا مکھی والا مت کھاؤ

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
جي يہ بات تو ہے۔۔۔۔۔۔۔ تو كچھ بتائيں اس بارے ميں كہ تلوار كا كردار كيا ہے اور كيا نہيں ہے۔
جہاں تلوار کی ضرورت ہو وہاں تلوار اٹھالوں جہاں قلم کی ضرورت ہو وہاں قلم .
اور تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی قلم بھی تیز ہے اور مسلمانوں کی تلوار بھی
شمشاد بھاہی میں نے کچھ عرصہ پہلے تھریڈ مرتب کیا تھا اپنے ماموں کے لیے اس میں آپ کے تمام سوالات کے جوابات ہیں اگر مجھے مل گیا تو میں ضرور share کروں گا انشااللہ پہلی صدی ہجری کے آخر میں اُندلس کے ساحل پر اُن مٹھی بھر سرفروشوں کی کشتیاں لنگر انداز ہوتی ہیں جن کے سپہ سالار کا نعرہ بقولِ اقبال یہ تھا۔
ہر ملک ملکِ ماست کہ ملکِ خداہے ماست
یعنی کرہ ِعرض کا ہر ملک ہمارے لیے ہے کیونکہ ہر ملک اللہ سبحانہ تعالٰی کا ہے
لوگوں نے روئے زمین کے کسی خطے پر شاہد ہی اتنی صدیاں کسی قوم کا اقتدار دیکھا ہو جو اُندلس کے مسلمانوں کو نصیب ہوا۔افسوس آٹھ سو سال بعد یہی قوم بے بسی کے آنسوﺅں سے اپنی تاریخ کا آخری باب لکھ رہی تھی یہ بات جس قدر درد ناک ہے۔اُس قدر سبق آموزبھی ہے کیونکہ حالات اُنیںی مستقبل کے خطرات سے آگاہ کر چکے تھے اُندلس میں قرطبہ اشبیملیہ اور دوسرے مقامات چھنِ جانے کے بعد غرناطہ مسلمانوں کا آخری حصار بن چکا تھا وہ دشمن کے عزائم سے واقف تھے وہ جانتے تھے کہ غرناطہ میں مغلوب ہو جانے کے بعد انیںِ ظلم و ستم کےاُس طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا جو اُندلس کے باقی حصوں کےمسلمان دیکھ چکے تھے۔
لیکن اِس کے باوجود وہ اجتماعی خطرات کا مقابلہ کر نے کے لیے متحدہ محاز نہ بنا سکے۔مجاہدین کے گروہ میدانِ جہاد میں آئے لیکن اُن کا عزم اُس قوم کی تقدیر نہ بدل سکاجس کا اجتماعی کردار فنا ہو چکا تھااُن مجاہدین کے لیے باہر کے دشمن کی نسبت گھر کے غدار کہیں زیادہ ناقابل ِتسخیرثابت ہوئے۔
مسلمان اپنے ہر افک پر تباہی اور بربادی کی تاریک گھٹائیں دیکھ کر بھی اپنے اجتماعی جذبہ مدافعت کو بروے کار نہ لا سکے وہ یہ ثابت نہ کر سکے کہ اگر تمام کفر ایک ہے تو تمام اسلام بھی ایک ہے ان میں عربی ،اندلسی، حنفی، مالکی، کے اختلافات اُس وقت بھی موجود تھے جب دُشمن اُن کے دروازوں پر دَستک دے رہا تھا میرے بھاہی اس وقت مسلمانوں کے لیے تلوار اٹھانا ضروری تھا جہاں تک قلم کی بات ہے تو قلم تو مسلمان نے ہر دور میں اٹھایا علامہ نے کہا تھا کافرہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ...مومن ہے تو بے تیغ لڑتا ہے سپاہی.
اُندلس کی تا ریخ کا یہی باب آج افغانستان عراق فلسطین کشمیر اور پاکستان میں دُھرایا جارہا ہےہم دشمن کے عزائم سےواقف ہیں۔گزشتہ تاریخ ہمارے سامنے ہےہم دیکھ رہے ہیں ہندواور یہود ونصارہ متحد ہو رہے ہیں لیکن اِس کےبا وجودہم خطرات کا سامنا کر نے کے لیے تیار نہیں ہم میں وہ غدار موجود ہیں جو محتلف ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر ہندو اوریہودونصارہ کی دوستی کا ڈنڈورہ پیٹتےہیں وہ شکست خوردہ لوگ موجود ہںن جو یہ تبلیغ کرتےہیں کہ اکژیت اگر آدم خُوروں کی ہو تو وہ بھی انسانوں پر حکومت کا حق رکھتی ہیں۔میرے بھاہی آج پاکستان کے مسلمانوں کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان کے متعلق یہودو نصارہ کے کیا عزائم ہیں کشمیر پر بنیے کا قبصہ کابل وقنداربصرہ وبغداد اور فلسطین پر یہودونصارہ کا قبصہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہےکہ اُن کے اسلام کے خلاف کیا عزاہم ہےہے اور خاص بات محمد بن قاسم ،محمود غزنوی اور احمد شاہ ابدالی کے جانشینوں کا خون آج بھی سرخ ہے اور وہ جوش بھی مارتا ہے وہ بہن عافیہ کے لیے ہو یا کشمیری بہنوں کے لیے وہ مسجد اقصٰی کے لیے ہو بابری مسجد کے لیے یہاں تلوار کی ضرورت ہے بھیڑیا فقط شیر کے فولادی پنجے کا اخترام کرتا ہے بھڑنوں کی منطق سے مرغوب نہیں ہوتا
کوہ میں ، دشت میں لے کر ترا پیغام پھرے
اور معلوم ہے تجھ کو ، کبھی ناکام پھرے
ہر قوم کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب زبان یا قلم کی نسبت تلوارکے فیصلے زیادہ صیح ہوتے ہیں دنیا میں عزت اور سربلندی صرف انیں کے لیےہے جو اس کی قیمت ادا کرتے ہیں آزادی کے نلستا ن صرف اسی زمیں پر لہلہاتے ہیں جو شہیدوں کے خون سے سیراب ہوتی ہے قوم کی عظمت کی داستانیں ہمیشہ اس خون سے لکھی جاتی ہیں جو بہنے کے لیے بے تاب رہتا ہے اور جب خون منجمد ہو جاتا ہے توآنسو کام نہیں آتے اب مجھے آپ جواب دیں کہاں تلوار کی ضرورت ہے اور کہاں نہیں جہاں قلم چلانا مقصود ہو وہاں قلم بھی چلایا جاتا ہے اور جہاں تلوار چلانا جاہز ہو وہاں تلوار بھی چلاہی جاتی ہے قدرت نے ہمیں اس قوم کی سیادت عطا فرمائی ہے جس نے چیھتڑے پہن کر بادشاہوں کی قباہیں نوچی ہیں جس نے پیٹ پر پھتر باندھ کر شہنشاہوں کے تاج اتارے ہیں الحمداللہ کشمیروافغالستان کی جنگ میں مجاہدین یہ ثابت کر چکے ہیں کہ مسلمان کا لوہا ہر لوہے کو کاٹ سکتا ہے علامہ نے کہا تھا

ٹل نہ سکتے تھے اگر جنگ میں اڑ جاتے تھے
پاؤں شیروں کے بھی میداں سے اکھڑ جاتے تھے
تجھ سے سرکش ہوا کوئی تو بگڑ جاتے تھے
تیغ کیا چیز ہے ، ہم توپ سے لڑ جاتے تھے
نقش توحید کا ہر دل پہ بٹھایا ہم نے
زیر خنجر بھی یہ پیغام سنایا ہم نے
تو ہی کہہ دے کہ اکھاڑا در خیبر کس نے
شہر قیصر کا جو تھا ، اس کو کیا سر کس نے

توڑے مخلوق خداوندوں کے پیکر کس نے
کاٹ کر رکھ دیے کفار کے لشکر کس نے



کس کی ہیبت سے صنم سہمے ہوئے رہتے تھے
منہ کے بل گر کے 'ھو اللہ احد' کہتے تھے

مجھے افسوس ہے تو اس بات کا کہ آج کے نوجواں کو علامہ اقبال کے ان آسان اور اردو اشعار کی بھی سمجھ نہیں آتی جسے ہم اپنا قومی شاعر کہتے ہیں کبھی اس ولی کامل کی ذندگی کا مطالعہ کیا
اللہ عمل کی توفیق عطا فرماے آمین
قاسم کیانی آف لائن ہے   Reply With Quote
9 قاری/قارئین نے قاسم کیانی کا شکریہ ادا کیا
skjatala (13-06-11), فیصل ناصر (13-06-11), فخر بٹ (14-06-11), ننھا بچہ (13-06-11), ابوسعد (13-06-11), احمد نذیر (13-06-11), راجہ اکرام (13-06-11), شھزادباجوہ (13-06-11), شمشاد احمد (13-06-11)
پرانا 13-06-11, 10:58 PM   #12
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
بے شک یہ کتاب لاجواب ہے شہمشاد بھاہی آپ پوری کتاب صرور پڑھنا
جي ميرے پاس يہ كتاب ہے اور ميں نے اس كا مطالعہ كيا ہے۔۔۔
شمشاد احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-06-11), حیدر (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 12:23 AM   #13
ذیلی ناظم

 
عبداللہ حیدر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: سیارہ زمین
مراسلات: 4,223
کمائي: 77,459
شکریہ: 9,129
3,024 مراسلہ میں 11,140 بارشکریہ ادا کیا گیا
عبداللہ حیدر کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
لوگوں نے روئے زمین کے کسی خطے پر شاہد ہی اتنی صدیاں کسی قوم کا اقتدار دیکھا ہو جو اُندلس کے مسلمانوں کو نصیب ہوا۔افسوس آٹھ سو سال بعد یہی قوم بے بسی کے آنسوﺅں سے اپنی تاریخ کا آخری باب لکھ رہی تھی یہ بات جس قدر درد ناک ہے۔اُس قدر سبق آموزبھی ہے کیونکہ حالات اُنیںی مستقبل کے خطرات سے آگاہ کر چکے تھے اُندلس میں قرطبہ اشبیملیہ اور دوسرے مقامات چھنِ جانے کے بعد غرناطہ مسلمانوں کا آخری حصار بن چکا تھا وہ دشمن کے عزائم سے واقف تھے وہ جانتے تھے کہ غرناطہ میں مغلوب ہو جانے کے بعد انیںِ ظلم و ستم کےاُس طوفان کا سامنا کرنا پڑے گا جو اُندلس کے باقی حصوں کےمسلمان دیکھ چکے تھے۔
لیکن اِس کے باوجود وہ اجتماعی خطرات کا مقابلہ کر نے کے لیے متحدہ محاز نہ بنا سکے۔مجاہدین کے گروہ میدانِ جہاد میں آئے لیکن اُن کا عزم اُس قوم کی تقدیر نہ بدل سکاجس کا اجتماعی کردار فنا ہو چکا تھااُن مجاہدین کے لیے باہر کے دشمن کی نسبت گھر کے غدار کہیں زیادہ ناقابل ِتسخیرثابت ہوئے۔
السلام علیکم،
نسیم حجازی رحمہ اللہ کے ناولوں‌کے کردار ہر دور کی طرح‌آج بھی موجود ہیں۔ بدر بن مغیرہ جیسے جانباز میدان جنگ میں‌داد شجاعت دے رہے ہیں تو ابوعبداللہ اور ابو داؤد بھی موجود ہیں بس ان کے چہرے بدل گئے ہیں
عبداللہ حیدر آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے عبداللہ حیدر کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (14-06-11), قاسم کیانی (14-06-11), حیدر (14-06-11), راجہ اکرام (14-06-11), شمشاد احمد (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 02:59 AM   #14
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,983
شکریہ: 2,337
915 مراسلہ میں 2,334 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

مجھےحسن نثارکی بہت سی باتوں سے اختلاف ہےلیکن ایک بات تو اسکی ٹھیک ہےکہ آخرغدار مسلمانوں ہی میں کیوں پیداہوتےہیں۔؟
سام آف لائن ہے   Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا
قاسم کیانی (14-06-11), حیدر (14-06-11)
پرانا 14-06-11, 02:12 PM   #15
Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: Jun 2011
مراسلات: 39
کمائي: 775
شکریہ: 39
22 مراسلہ میں 66 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : سام مراسلہ دیکھیں
مجھےحسن نثارکی بہت سی باتوں سے اختلاف ہےلیکن ایک بات تو اسکی ٹھیک ہےکہ آخرغدار مسلمانوں ہی میں کیوں پیداہوتےہیں۔؟
یہ بہت عجیب باتیں کرتا ہے
قاسم کیانی آف لائن ہے   Reply With Quote
قاسم کیانی کا شکریہ ادا کیا گیا
حیدر (14-06-11)
جواب

Tags
color, com, green, کوشش, کلمہ, پاک, مکہ, موقع, ممکن, ایمان, اللہ, اسلام, اعلیٰ, تعلیم, زندگی, شخص, ظالم, عقیدہ, عقیدے, عالم, عظیم, غلط, صاف, صداقت, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
کیا باجماعت نماز تراویح بدعت ہے؟ عبداللہ حیدر ماہ رمضان اور روزوں کی تیاریاں 15 31-08-10 12:28 AM
::::: اچھی بدعت اور بری بدعت :::::: عادل سہیل ایمان 95 03-08-09 05:51 PM
گڈ بدعت اینڈ بیڈ بدعت sahj مذہبی مسائل اور ان کا حل 40 26-07-09 09:52 AM
بدعات اور نئے نئے امور ایجاد کرنے کی ممانعت ریاض الصالحین 18 عبداللہ حیدر ریاض الصالحین 2 03-07-08 01:14 AM
جیو پر پابندی کیخلاف درخواستیں،سندھ ہائیکورٹ میں5بار سماعت کے بعد ناقابل سماعت قرار دے کر خارج خرم شہزاد خرم خبریں 0 05-12-07 08:28 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger