واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


اصحابُ الاخدود کا واقعہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 11:31 AM   #1
اصحابُ الاخدود کا واقعہ
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 11:31 AM

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِالنَّارِ o ذَاتِ الْوَقُودِoإِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌoوَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌoوَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِoالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
["](کہ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔‏ یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے جس کے لئے آسمان و زمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے سامنے ہے ہر چیز۔‏


بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا، جس نے اپنے پاس ایک جادوگررکھا ہوا تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک سمجھدار لڑکا دیجئے جسے میں اپنا تمام عمل سکھادوں، تاکہ وہ میرے بعد تیرے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکا مقرر کردیا۔ جو اس سے جادو سیکھنے لگا۔ اس لڑکے کے گھر اور جادو گر کے درمیان کے راستہ میں ایک عبادت گاہ تھی جس میں ایک راہب ﴿یہود کا عالم﴾اللہ کی عبادت کرتااور لوگوں کودین سکھایاکرتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی جاکر دین کا علم سیکھنے لگا۔ اتفاق سے ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ راہب کے پاس سے جادوگر کے پاس جانے کے لئے نکلا تو اس نے دیکھاکہ ایک بہت بڑا اژدھا لوگوں کے راستہ میں آکر کھڑا ہوگیاہے جس سے لوگوں کی آمد ورفت رک گئی ہے۔ اس نے سوچا یہ موقع اچھا ہے اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ جادو گر کا مذہب سچا ہے یا اس راہب کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ سے دعاکی کہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور مرجائے ورنہ ، نہ مرے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا تو اژدھا فوراً مرگیا۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر لڑکے کے علم کا اعتراف کرلیا۔ ایک اندھا اس کے پاس آیا اور کہا کہ اگر تو اپنے اسی علم کی بدولت میری بینائی لوٹا دے تو میں تجھے اپنی ساری دولت دے دوںگا۔ لڑکے نے کہاکہ مجھے تم سے کوئی انعام نہیں چاہئے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،ہاں اگر تمہاری بینائی لوٹ آئی تو کیا تم اللہ پر ایمان لے آؤ گے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ چنانچہ لڑکے نے دعا کی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی تو وہ ایمان لے آیا۔ جب بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے راہب، لڑکے اور سابق نابینا کو اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے۔ بادشاہ نے لڑکے کے علاوہ ان دونوں کو آرے سے چیرکر دوٹکڑے کرادیا۔ اور لڑکے کے بارے میں اپنی فوج کے ایک دستہ کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکراس سے اللہ کا دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ، ورنہ دھکا دے دینا تاکہ نیچے گرکر مر جائے۔ جب وہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے اللہ سے یہ دعا کی :۔ ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ‘‘﴿اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے﴾۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر لرزہ طاری کردیاوہ ساری فوج جو اس کومارنے گئی تھی ، خود گر کر مرگئی۔ اور لڑکا صحیح وسلامت دوبارہ بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے کہا کہ ان تمام کو میرے رب نے مارڈالا اور مجھے بچالیا۔ بادشاہ نے پھر دوسرے دستہ کو حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ اور جب درمیان میں پہنچو تو اس سے ﴿اللہ کا﴾ دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ورنہ ڈبو دینا۔ وہ اسے لے گئے جب درمیان میںپہنچے تو اس لڑکے نے پھر اللہ سے وہی دعاکی، اللہ نے تمام کو غرق کردیا اور اس لڑکے کو بچالیا۔ وہ پھر بادشاہ کے دربار میںپہنچاتو بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے پھر وہی جواب دیا اور کہا کہ اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑے میدان میں تمام رعایا کو جمع کر اور میرے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر میری کمان میں لگا کر یہ کلمات : ’’بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلاَمِ‘‘﴿اللہ کے نام کے ساتھ میں تیر چلاتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے﴾ پڑھ کر مجھ پر تیر پھینک، میں مر جاؤں گا۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا تو ساری قوم جو یہ منظر دیکھ رہی تھی فوراً اللہ پر ایمان لے آئی اور اس کی بندگی کا اقرار کرلیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کربہت پریشان ہوا اور اس نے اپنے فوجیوں کو خندقیں کھودنے اور ان میں لکڑیوں کے ذریعہ آگ جلانے کا حکم دیا اور تمام کو اس کے گرد اکھٹاکرکے ہر ایک سے اس کے دین کے بارے میںپوچھاجاتا، جو توحید کا اقرار کرتا اسے زندہ آگ میں پھینک دیا جاتا۔ اس طرح بہت سارے مومن مردوں اور عورتوں کو آگ میں زندہ جلادیاگیا۔ وہ آگ بہت ہی زیادہ بھیانک اور بڑی تیز تھی۔مومنین کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنایاگیا کہ وہ اللہ ربُّ العالمین پر ایمان لاچکے تھے۔ ﴿مسلم۔ عن صہیب رضی اللہ عنہ ﴾
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 456
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
sahj (22-03-11), ناصر نعمان (22-03-11)
پرانا 07-03-11, 07:49 AM   #2
Junior Member
اجنبی
 
تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 5
کمائي: 210
شکریہ: 0
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

bohot hi shandar waqia hay . jazakallah
abdulrehman20 آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 19-03-11, 04:32 PM   #3
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 22-03-11, 03:58 PM   #4
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ سسٹر ماشاء اللہ بہت عمدہ شئیرنگ ہے
اسی طرح ایک ایمان افروز واقعہ مسند احمد میں ہے جس کو پڑھ کر ہر صاحب دل کی آنکھ پر نم ہوجاتی ہے:
وقال البيهقي: أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أنبأنا أحمد بن عبيد الصفار، ثنا دبيس المعدل، ثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما أسري بي مرت بي رائحة طيبة، فقلت: ما هذه الرائحة؟ قالوا: ماشطة بنت فرعون وأولادها، سقط المشط من يدها فقالت: باسم الله، فقالت بنت فرعون: أبي، قالت: ربي وربك ورب أبيك، قالت: أوَلك رب غير أبي؟ قالت: نعم، ربي وربك ورب أبيك الله.,. قال: فدعاها، فقال: ألك رب غيري؟ قالت: نعم، ربي وربك الله عز وجل. قال: فأمر ببقرة من نحاس، فأحميت، ثم أمر بها أن تلقى فيها، قالت: إن لي إليك حاجة، قال: ما هي؟ قالت: تجمع عظامي وعظام ولدي في موضع، قال: ذاك لك؛ لما لك علينا من الحق، قال: فأمر بهم، فألقوا واحداً واحداً، حتى بلغ رضيعاً فيهم، فقال: يا أمه قعي ولا تقاعسي، فإنك على الحق، قال: وتكلم أربعة في المهد وهم صغار: هذا، وشاهد يوسف، وصاحب جريج، وعيسى بن مريم عليه السلام ".
قال ابن کثیر إسناد لا بأس به، ولم يخرجوه

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شب معراج میں ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ اور مست خوشبو کی مہک آنے لگی ۔
میں نے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے ؟
جواب ملا کہ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ اور اس کی اولاد کے محل کی۔فرعون کی لڑکی کو کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اتفاقاًً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا۔اس پر شہزادی نے کہااللہ تو میرے باپ ہی ہیں؟
اس نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ وہ ہے جو مجھے اور تجھے اور خود فرعون کو روزیاں دیتا ہے ۔
شہزادی نے کہا اچھا تو میرے باپ کے سوا کسی اورکواپنا رب مانتی ہے ؟
اس نے جواب دیا ہاں ہاں میرا تیرا اور تیرے باپ ،سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔
اس نے اپنے باپ سے کہلوایا ۔وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت اسے برسر دربار بلوا بھیجا اور کہا،کیا تو میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے ؟
اس نے کہا کہ میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگی والا ہے ۔
فرعون نے اسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی جو گائے بنی ہوئی ہے ،اس کو خوب تپایا جائے اور جب بالکل آگ جیسی ہوجائے تو اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا جائے ۔آخر میں خود اسے بھی اسی میں ڈال دیا جائے ۔
چناچہ وہ گرم کی گئی ۔جب آگ جیسی ہو گئی تو حکم دیا کہ اس کے بچے کو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنا شروع کرو ۔
اس نے کہا بادشاہ ایک درخواست میری منظور کر،وہ یہ کہ میری اور میرے ان بچوں کی ہڈیاں ایک ہی جگہ ڈال دینا ۔
اس نے کہا اچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں ۔اس لئے یہ منظور ہے ۔
جب سب بچے اس میں ڈال دئیے گئے اور جل کر راکھ ہو گئے تو سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا ہوا دودھ پی رہا تھا ۔
فرعون کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا تو اس نیک بندی کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا ۔اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو اسی وقت زبان دے دی اور اس نے با آواز بلند کہا اماں جان ! افسوس نہ کر ،اماں جان ذرا بھی پس و پیش نہ کرو ۔حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے ۔
چنا چہ انہیں صبر آگیا ۔اس بچے کو ڈال دیا گیا ۔
اور آخر میں ان کی ماں کو بھی ۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔
یہ خوشبو کی مہکیں اسی کے جنتی محل سے آرہی ہیں ۔
آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کے ساتھ ہی بیان فرمایا کہ چار چھوٹے بچوں نے گہوارے ہی میں بات چیت کی ۔ایک تو یہی بچہ اور ایک وہ بچہ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی شہادت دی تھی ،اور ایک وہ بچہ جس نے حضرت جریج ولی اللہ کی پاکدامنی کی شہادت دی تھی ،اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ۔مسند احمد(1/309۔310) صحیح (5/31)
ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث پاک کی سند بے عیب ہے۔

عظیم ماں جس نے اپنے تمام لخت جگر اورایک اتنا چھوٹا بچہ جو دودھ پیتا ہو،لیکن اس ماں نے اپنااتنا چھوٹالخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھنا منظور کر لیا مگر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے انکار نہیں کیا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم ماں کے درجات کو بلند فرمائے۔آمین ثمہ آمین ۔

Last edited by ناصر نعمان; 22-03-11 at 04:01 PM.
ناصر نعمان آف لائن ہے   Reply With Quote
ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا
sahj (22-03-11)
پرانا 04-04-11, 08:20 PM   #5
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
جواب

Tags
ہے۔, کلمات, گھر, گئی, لوگ, لڑکا, نام, موقع, ملک, مسلمانوں, ایمان, اللہ, انعام, بندگی, بادشاہ, توحید, جواب, خبر, راستہ, عورتوں, علم, عبادت, غالب, غرق, صحیح


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:



تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:33 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger