| دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں! |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 456
|
||||
| 2 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا | sahj (22-03-11), ناصر نعمان (22-03-11) |
|
|
#2 |
|
Junior Member
اجنبی
تاریخ شمولیت: May 2008
مراسلات: 5
کمائي: 210
شکریہ: 0
0 مراسلہ میں 0 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
bohot hi shandar waqia hay . jazakallah
|
|
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 218
کمائي: 6,892
شکریہ: 166
198 مراسلہ میں 674 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ سسٹر ماشاء اللہ بہت عمدہ شئیرنگ ہے
اسی طرح ایک ایمان افروز واقعہ مسند احمد میں ہے جس کو پڑھ کر ہر صاحب دل کی آنکھ پر نم ہوجاتی ہے: وقال البيهقي: أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان، أنبأنا أحمد بن عبيد الصفار، ثنا دبيس المعدل، ثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لما أسري بي مرت بي رائحة طيبة، فقلت: ما هذه الرائحة؟ قالوا: ماشطة بنت فرعون وأولادها، سقط المشط من يدها فقالت: باسم الله، فقالت بنت فرعون: أبي، قالت: ربي وربك ورب أبيك، قالت: أوَلك رب غير أبي؟ قالت: نعم، ربي وربك ورب أبيك الله.,. قال: فدعاها، فقال: ألك رب غيري؟ قالت: نعم، ربي وربك الله عز وجل. قال: فأمر ببقرة من نحاس، فأحميت، ثم أمر بها أن تلقى فيها، قالت: إن لي إليك حاجة، قال: ما هي؟ قالت: تجمع عظامي وعظام ولدي في موضع، قال: ذاك لك؛ لما لك علينا من الحق، قال: فأمر بهم، فألقوا واحداً واحداً، حتى بلغ رضيعاً فيهم، فقال: يا أمه قعي ولا تقاعسي، فإنك على الحق، قال: وتكلم أربعة في المهد وهم صغار: هذا، وشاهد يوسف، وصاحب جريج، وعيسى بن مريم عليه السلام ". قال ابن کثیر إسناد لا بأس به، ولم يخرجوه حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں شب معراج میں ایک مقام سے مجھے نہایت ہی اعلیٰ اور مست خوشبو کی مہک آنے لگی ۔ میں نے پوچھا کہ یہ خوشبو کیسی ہے ؟ جواب ملا کہ فرعون کی لڑکی کی مشاطہ اور اس کی اولاد کے محل کی۔فرعون کی لڑکی کو کنگھی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ سے اتفاقاًً کنگھی گر پڑی تو اس کی زبان سے بے ساختہ بسم اللہ نکل گیا۔اس پر شہزادی نے کہااللہ تو میرے باپ ہی ہیں؟ اس نے جواب دیا نہیں بلکہ اللہ وہ ہے جو مجھے اور تجھے اور خود فرعون کو روزیاں دیتا ہے ۔ شہزادی نے کہا اچھا تو میرے باپ کے سوا کسی اورکواپنا رب مانتی ہے ؟ اس نے جواب دیا ہاں ہاں میرا تیرا اور تیرے باپ ،سب کا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اس نے اپنے باپ سے کہلوایا ۔وہ سخت غضبناک ہوا اور اسی وقت اسے برسر دربار بلوا بھیجا اور کہا،کیا تو میرے سوا کسی اور کو اپنا رب مانتی ہے ؟ اس نے کہا کہ میرا اور تیرا رب اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بلندیوں اور بزرگی والا ہے ۔ فرعون نے اسی وقت حکم دیا کہ تانبے کی جو گائے بنی ہوئی ہے ،اس کو خوب تپایا جائے اور جب بالکل آگ جیسی ہوجائے تو اس کے بچوں کو ایک ایک کر کے اس میں ڈال دیا جائے ۔آخر میں خود اسے بھی اسی میں ڈال دیا جائے ۔ چناچہ وہ گرم کی گئی ۔جب آگ جیسی ہو گئی تو حکم دیا کہ اس کے بچے کو ایک ایک کر کے اس میں ڈالنا شروع کرو ۔ اس نے کہا بادشاہ ایک درخواست میری منظور کر،وہ یہ کہ میری اور میرے ان بچوں کی ہڈیاں ایک ہی جگہ ڈال دینا ۔ اس نے کہا اچھا تیرے کچھ حقوق ہمارے ذمہ ہیں ۔اس لئے یہ منظور ہے ۔ جب سب بچے اس میں ڈال دئیے گئے اور جل کر راکھ ہو گئے تو سب سے چھوٹے کی باری آئی جو ماں کی چھاتی سے لگا ہوا دودھ پی رہا تھا ۔ فرعون کے سپاہیوں نے اسے گھسیٹا تو اس نیک بندی کی آنکھوں تلے اندھیرا چھا گیا ۔اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو اسی وقت زبان دے دی اور اس نے با آواز بلند کہا اماں جان ! افسوس نہ کر ،اماں جان ذرا بھی پس و پیش نہ کرو ۔حق پر جان دینا ہی سب سے بڑی نیکی ہے ۔ چنا چہ انہیں صبر آگیا ۔اس بچے کو ڈال دیا گیا ۔ اور آخر میں ان کی ماں کو بھی ۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔ یہ خوشبو کی مہکیں اسی کے جنتی محل سے آرہی ہیں ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کے ساتھ ہی بیان فرمایا کہ چار چھوٹے بچوں نے گہوارے ہی میں بات چیت کی ۔ایک تو یہی بچہ اور ایک وہ بچہ جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کی پاکدامنی کی شہادت دی تھی ،اور ایک وہ بچہ جس نے حضرت جریج ولی اللہ کی پاکدامنی کی شہادت دی تھی ،اور حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ۔مسند احمد(1/309۔310) صحیح (5/31) ابن کثیر رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں کہ اس حدیث پاک کی سند بے عیب ہے۔ عظیم ماں جس نے اپنے تمام لخت جگر اورایک اتنا چھوٹا بچہ جو دودھ پیتا ہو،لیکن اس ماں نے اپنااتنا چھوٹالخت جگر اپنی آنکھوں کے سامنے جلتا دیکھنا منظور کر لیا مگر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سے انکار نہیں کیا۔ رضی اللہ عنہم اجمعین۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم ماں کے درجات کو بلند فرمائے۔آمین ثمہ آمین ۔ Last edited by ناصر نعمان; 22-03-11 at 04:01 PM. |
|
|
|
| ناصر نعمان کا شکریہ ادا کیا گیا | sahj (22-03-11) |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
جزاک اللہ خیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
|
|
|
|
![]() |
| Tags |
| ہے۔, کلمات, گھر, گئی, لوگ, لڑکا, نام, موقع, ملک, مسلمانوں, ایمان, اللہ, انعام, بندگی, بادشاہ, توحید, جواب, خبر, راستہ, عورتوں, علم, عبادت, غالب, غرق, صحیح |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|