خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد میں 11/158پرعیسی بن ابان کے ترجمہ میں محمد بن سماعہ کے حوالہ سے لکھاہے کہ عیسی بن ابان ہمارے ساتھ اسی مسجد میں نماز پڑھاکرتے تھے جس میں امام محمد بن حسن الشیبانی نماز پڑھتے تھے اورفقہ کی تدریس کیلئے بیٹھاکرتے تھے۔میں (محمد بن سماعہ)عیسی بن ابان کو محمد بن حسن الشیبانی کی مجلس فقہ میں شرکت کیلئے بلاتارہتاتھا لیکن وہ کہتے تھے کہ یہ وہ لوگ ہیں جواحادیث کی مخالفت کرتے ہیں۔اصل الفاظ ہیں۔
"ھولاء قوم یخالفون الحدیث"
عیسی بن ابان کو خاصی احادیث یاد تھیں۔
ایک دن ایساہوا کہ فجر کی نماز ہم نے ساتھ پڑھی۔اس کے بعد میں نے عیسی بن ابان کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ امام محمد بن حسن کی مجلس فقہ نہ لگ گئی پھر میں ان کے قریب ہوا اورکہایہ آپ کے بھانجے ہیں۔یہ ذہین ہیں اوران کو حدیث کی معرفت بھی ہے۔ میں انکو جب بھی آپ کی مجلس فقہ میں شرکت کی دعوت دیتاہوں تویہ کہتے ہیں کہ حدیث کی مخالفت کرتے ہیں۔
امام محمد ان کی جانب متوجہ ہوئے اورفرمایا اے میرے بیٹے تم نے کیادیکھاکہ ہم حدیث کی مخالف کرتے ہیں(یعنی ہمارے کونسے ایسے مسائل اورفتاوی ہیں جس میں حدیث کی مخالفت کی جاتی ہے)پھراسی کے ساتھ امام محمد نے نصیحت بھی فرمائی
لاتشھد علینا حتی تسمع منا
ہمارے بارے میں کوئی رائے قائم مت کرو جب تک ہماری بات نہ سن لو
یہ ایک اہم نصیحت ہے جو امام محمد نے عیسی بن ابان کو فرمائی تھی۔ آج ہم میں سے بیشتر لوگ وہ ہیں جو اصل ماخذ کو دیکھنے کی زحمت نہیں اٹھاتے اورخواہ مخواہ کے پروپگنڈہ کے شکار ہوجاتے ہیں۔اسی جانب قران کریم نے بھی اشارہ کیاہے کہ اگر کوئی فاسق کوئی خبر تمہارے پاس لائے تو فورااس کی تصدیق نہ کرلینا چاہئے ۔اسی سے اشارہ اس جانب بھی نکلتاہے کہ افواہیں جو بساوقات فسادات اورقتل وغارت کا پیش خیمہ ہوتی ہیں ان پر من وعن یقین نہ کرلیاجائے ۔بلکہ اس کی تحقیق کی جائے۔کیونکہ بیشتر افواہیں لوگوں کے گمان اورتخمینہ پر مبنی ہوتی ہیں اوران بعض الظن اثم قران کاارشاد ہے۔
عیسی بن ابان نےامام محمد سے حدیث کے پچیس ابواب کے متعلق سوال کیا(جن کے بارے میں ان کو شبہ تھا کہ ائمہ احناف کے مسائل اس کے خلاف ہیں)امام محمد نے ان تمام پچیس ابواب حدیث کے متعلق جواب دیا اوران احادیث میں سے جومنسوخ تھیں اس کو بتایااوراسپر دلائل اورشواہد پیش کئے۔
عیسی بن ابان نے باہر نکلنے کے بعد مجھ سے کہاکہ میرے اورروشنی کے درمیان ایک پردہ حائل تھاجو اٹھ گیا میرانہیں خیال ہے کہ اللہ کی زمین میں اس جیسا(صاحب فضل وکمال)کوئی دوسرابھی ہے۔اس کے بعد انہوں نے امام محمد کی شاگردی اختیار کی اوران سے فقہ اخذ کیااورائمہ احناف میں شمار ہوئے۔
اس واقعہ سے چند عبرت اورنصیحت کی جوباتیں سمجھ میں آتی ہیں ان کو پیش کیاجاتاہے۔
اولاً یہ کہ ائمہ کرام سے حسن ظن رکھنا چاہئے ان سے بدگمانی علم کے نور کے سلب کا یاحجاب کا سبب ہواکرتاہے۔
آج کل بعض لوگ یہ ظلم کررہے ہیں کہ ائمہ حدیث کا توخوب اکرام کرتے ہیں اورائمہ فقہ پر بے پروائی سے اس طرح طعنے کستے ہیں جیسے وہ علم وفضل میں ان کے ہمسر ہوں۔
یاد رکھناچاہئے کہ ائمہ حدیث ہوں یاائمہ فقہ دونوں ہمارے لئے قابل تعظیم وتکریم ہیں۔
بعض لوگ یہ ظلم کرتے ہین کہ یہ مان کر کہ فقہ توقرآن وحدیث سے ہی اخذ کی جاتی ہے ہرمحدث کو زبردستی فقیہ بنانے پر تلے بیٹھے رہتے ہیں۔جب کہ یہ بات کہ محدث اورفقیہہ کا وظیفہ الگ ہوتاہے اورصرف حدیث یاد کرلینا فقہ کیلئے کافی نہیں ہے۔ ایک محسوس اورمشاہد امر ہے۔ ورنہ خطیب بغدادی کو
النصیحہ لاہل الحدیث اور
الفقیہ والمتفقہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔
اس واقعہ سے یہ بھی سبق ملتاہے کہ انسان کو اپنی رائے پر بہت زیادہ اعتماد نہ ہوناچاہئے بلکہ فریق مخالف کی بات کو بھی پورے شرح صدر اورکشادہ دلی کے ساتھ سنناچاہئے۔ورنہ بسااوقات اپنی رائے پر اصرار علم سے محرومی کا سبب بن جاتاہے۔