رسول اکرم ﷺ اور خواتین۔ ایک سماجی مطالعہ
’’امت کے اجتماعی معاملات میں خواتین کی شرکت اور ان میں کارگزاری کے آداب وا حکام، ان کی فطرت اور اسلام کے آداب سے مقیّد ہیں۔ وہ بلاشبہ سیاسی، سماجی اور دوسرے مسائل و معاملات میں حصہ لینے کے مجاز ہیں، بشرطے کہ وہ اس کی اہل ہوں اور ان حدود کا خیال رکھیں جو اسلام نے مردو زن کے اختلاط اور اجتماعی معاملات میں عورتوں کے باعمل ہونے کے لیے رکھے ہیں۔ تشدّد پسند طبقات ان خواتینِ اسلام کو کسی قسم کے تعامل و تعاون کا حق نہیں دینا چاہتے اور جدّت پسند سماج کے لوگ ان کو مردوں سے بھی اگلی صفوں میں کھڑا کردینا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں افراط و تفریط کا شکار ہیں، اعتدال ان دونوں کے بیچ میں ہے اور وہی اسلامی ہے ‘‘(ص۲۰۲)
مثال کے طور پر ’جہیز‘ کے بارے میں ہیں: ’’رسول اللہ ﷺ نے کسی بھی صاحب زادی کی شادی میں جہیز نہیں دیا کہ اسلامی رسم تھی نہ عربی روایت۔ حضرت فاطمہؓ کی شادی میں جو جہیز بتایا جاتاہے وہ جہیز ہی نہ تھا، وہ سامانِ زیست /شادی تھا جو حضرت علیؓ نے اپنی کمائی سے فراہم کیا تھا۔ اس باب میں بہت سے سیرت نگاروں کو مغالطہ ہوا ہے (ص ۱۳۶) عورتوں کی مساجدمیں حاضری کے سلسلے میں علماء کے مختلف نقطۂ ہائے نظر ہیں۔ ’’عہدنبوی میں خواتین نماز کی ادائیگی کے لیے مساجد میں جاتی تھیں‘‘ ’’یہ شخصی آزادی اور دینی حق کا معاملہ ہے جسے روکا نہیں جاسکتا‘‘ ’’عورتوں کے مسجدوں میں جانے کے معاملہ کو بعض حلقوں نے ایک مسئلہ بنادیا ہے۔ وہ اجازت، وجوب اور موقعہ محل میں فرق نہیں کرتے ۔ سیدھا اورصاف مسئلہ ہے ۔ جن مسلم معاشروں اور مقامات میں عورتوں کے لیے مساجد میں انتظام ہے اور جہاں ان کے جانے کی سماجی اور دینی روایت قائم ہے وہاں ان کے جانے میں قباحت ہے اور نہ مشکل، ان کو اجازت دینی ہی چاہیے ۔ مگر جن معاشروں اور ملکوں میں عورتوں کے مسجدوں میں جانے کی روایت ہے نہ انتظام ، ان کے لیے اصرار کرنا سراسر زیادتی ہے۔ پھر مسئلہ اجازت کا ہے ، وجوب کا نہیں۔ عورتوں پر جماعت فرض نہیں، لہٰذا مسجدوں کی حاضری بھی ضروری نہیں ۔ ان کے لیے دوسری واضح احادیث و احکام بھی ہیں کہ وہ اپنے گھروں میں نماز اداکریں تو بہتر ہے۔ لہٰذا اجازت اور وجوب میں فرق کرنا چاہیے (ص۱۹۸۔۱۹۹) ایک مسئلہ عورت کی امامت کا ہے ۔ گزشتہ دنوں عالمی سطح پر اس کی گونج سنائی دی تھی۔ ’’عورت کی امامت کا مسئلہ اور وہ بھی مردوں اور عورتوں کی جماعتِ مشترکہ کی امامت کا، تو وہ سراسر سماجی اور فکری کج روی ہے۔ عورت کو مردوں کی امامت کا حق بالکل حاصل نہیں۔ اگر ایسا کوئی کرے تو حرام ہے اور اجماع اسلامی کے خلاف ، (ص۲۰۰) بعض جدید دانش وروں نے حضرت ام ورقہؓ سے مروی ایک روایت سے اس کے جواز کا حکم نکالاہے ۔ ’’بعض شدید انتشار زدہ حضرات وخواتین نے اس روایت سے بطور خاص اور بعض دوسری روایات سے عورت کے مردوں کی امامت جواز نکالا ہے ۔ یہ غلط استنبا ط ہے ۔ پورے اسلامی دور میں بڑی بڑی صحابیات کو بھی مردوں کی امامت یا مردوں اور عورتوں کی مشترکہ امامت کا حق نہیں دیاگیا ‘‘(ص۸۰)
اجنبی مردوں اور عورتوں کے درمیان معاشرتی تعلقات کے کیا حدود ہیں؟ وہ کن امور کی رعایت کے ساتھ ایک دوسرے سے ملاقات اور استفادہ کرسکتے مثال کے طور پر حضرت اسماء بنت عمیسؓ ، جو پہلے حضرت جعفر بن ابی طالبؓ کی زوجہ تھیں اور ان کی وفات کے بعد حضرت ابو بکرؓ کی زوجیت میں آگئیں تھیں ، ان کے پاس مختلف صحابۂ کرام آیا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ بعض صحابہ حضرت ابو بکرؓ کی غیر موجودگی میں ان کے پاس آئے تو حضرت ابو بکرؓ نے آں حضرت ﷺ سے اس کی شکایت کی۔ اس واقعہ کا تذکرہ مصنف نے دو مقامات پر کیا ہے ۔ ایک جگہ لکھاہے : رسولِ اکرمﷺ نے ان کے کہنے پر اصول بنادیا کہ زیارت کے لیے لوگ گھروں پر جائیں تو ایک تنہا شخص نہ جائے، بلکہ دو ایک ساتھ جائیں‘‘ (ص ۱۶۶) جب کہ دوسرے مقام پر اسی واقعہ کے حوالے سے لکھتے ہیں : ’’انہوںنے رسول اکرمﷺ سے شکایت کی اور آپؐ نے اسی وقت اصول نافذ کردیا کہ کوئی شخص یا چنداشخاص مل کر کسی شادی شدہ عورت کے گھر میں اس کے شوہر کی عدم موجودگی میں ہرگز نہ جائیں‘‘(ص۱۹۴)
’’پنج گانہ نمازوں کے لیے مردوعورت دونوں مساجد۔ مسجد حرام مکہ اور مسجد نبوی مدینہ سمیت۔ پانچ وقت جایا کرتے تھے ۔ پورے آداب واقدار کے ساتھ ان دینی اجتماعاتِ روزانہ میں صحابۂ کرام کی خواتین سے ملاقاتوں اور معاشرتی تبادلوں کا ایک سلسلہ ملتاہے ‘‘(ص۱۶۸)
عہدِ نبوی میں مساجد میں خواتین کی حاضری سے متعلق روایات جمع کرنے سے جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض خواتین عموماً صرف عشاء اور فجر کی نمازوں میں مساجد جایا کرتی تھیں۔ ان کی صفیں نہ صرف مردوں، بلکہ بچوں سے بھی پیچھے ہوتی تھیں۔ نماز سے فارغ ہوتے ہی وہ فوراً اپنے گھروں کو چلی جایا کرتی تھیں۔ رسول اللہ ﷺ اور صحابۂ کرام رکے رہتے تھے، وہ کچھ دیر کے بعد مسجد سے نکلتے تھے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے عورتوں کے داخلہ کے لیے ایک دروازہ خاص کردیا تھا، مردوں کو اس سے آنے جانے کی ممانعت تھی۔ ایسی صورت میں بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ صحابۂ کرام کی خواتین سے کیسے ملاقاتیں ہوتی ہوںگی اور ان کے درمیان معاشرتی تبادلوں کا سلسلہ کتنا دراز ہوتا ہوگا؟ !
’’دینی اجتماعات میں مخلوط آبادی ہوتی تھی۔ صحابۂ کرام اپنی صفوں میں بیٹھتے تھے اور صحابیات کی قطار یں الگ ہوتی تھیں،مگر تعلیم و تعلّم اور تربیت میں اور قومی و ملّی خدمت میں ایک دوسرے سے اختلاط ہوتا تھا‘‘ پھر اس کی دلیل یہ دی ہے کہ ’’ایک خطبۂ نبوی کے بعد خواتین نے بے قابو ہوکر صدقات میں اپنے زیورات نچھاور کرنے شروع کیے تو حضرت بلال حبشیؓ جیسے بعض صحابۂ کرام نے ہر ایک فردِ نسوانی سے جاجاکر ان کو جمع کیا تھا‘‘(ص۱۷۰) یہاں جس روایت کی جانب اشارہ کیا گیا ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ آں حضرتﷺ نے ایک مرتبہ عیدالفطر یا عیدالاضحٰی کے موقع پر مردوں سے خطاب کیا، اس کے بعد عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور ان کے درمیان وعظ ونصیحت کی باتیں کیں۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ صرف قطاروں کا معاملہ نہ تھا، بلکہ خواتین اتنے فاصلے پر تھیں کہ مردوں سے خطاب کرتے وقت آپؐ کی آواز ان تک نہ پہنچ سکی تھی، اس لیے آپ کو ان سے الگ خطاب کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تھی۔
واللہ ھو عالم