واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


تاریخی فیصلہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 11-02-11, 11:40 AM   #1
تاریخی فیصلہ
زارا زارا آف لائن ہے 11-02-11, 11:40 AM

رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے نے ہر طرف اپنے سائے پھیلائے ہوئے تھے۔ ایسے میں ایک شخص قلعے کی دیوار سے رسا لٹکائے نیچے اتر رہا تھا۔ وہ جس قدر اپنی منزل کے قریب آرہا تھا، اسی قدر طرح طرح کے اندیشے اس کے دل کی دھڑکنوں کو تیز کر رہے تھے۔
"کہیں ایسا نہ ہو کہ قلعے والے مجھے دیکھ لیں اور تیر مار کر راستے ہی میں میرا قصہ تمام کر دیں۔۔۔۔ کہیں نیچے اترتے ہی مسلمانوں کی تلواریں میرے خون سے رنگین نہ ہو جائیں۔"
یہ تھے وہ خدشات جو اس کے دل و دماغ میں شدت سے گونج رہے تھے۔ پھرجوں ہی اس نے زمین پر قدم رکھا مجاہدین نے اسے گرفتار کر لیا۔ اس کایہ خیال بالکل غلط ثابت ہوا کہ مسلمان مجاہد رات کے اندھیرے میں قلعے سے بے خبر ہوں گے۔
اترنے والے نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا کہ اسے لشکر کے سپہ سالار کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ وہ سپہ سالار کون تھے؟ وہ اللہ کی تلوار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔

خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مجاہدین کی مٹھی بھر فوج کے ساتھ ملک شام کے دارالسلطنت دمشق کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ دن پر دن گزرتے جا رہے تھے مگر قلعہ تھا کہ کسی طور فتح ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے بھی فیصلہ کر لیا تھا کہ مجاہدین کو ایک دو دن کے آرام کا وقفہ دے کر وہ یا تو قلعے کے دروازے توڑنے کی کوشش کریں گے یا اس کی مضبوط دیواروں میں سرنگ لگانے کی ترکیب آزمائیں گے۔ انھیں یہ بھی یقین تھا کہ اللہ کی غیبی مدد ضرور آئے گی۔
اب یہ غیبی مدد آ پہنچی تھی!
دمشق کے قلعے سے نیچے اترنے والے نوجوان نے مسلمان ہونے کی خواہش ظاہر کی۔ اس کی یہ خواہش فوراً پوری کر دی گئی۔ اس نے دعوی کیا کہ وہ مجاہدین کو قلعے کے اندر پہنچا سکتا ہے۔ اس کے مطابق کل رات رومیوں پر حملے کا بہترین موقع ہے۔ ان کے مذہبی رہنما "بطریق" کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے اور پورا دمشق جشن منا رہا ہے۔ اس جشن میں فوج سمیت سب شراب پئیں گے اور یہی ان پر فیصلہ کن وار کرنے کا موقع ہوگا۔
اگلی رات خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑا خطرہ مول لے رہے تھے۔ انھوں نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور دوسرے ماتحت سالاروں کو اپنے اس منصوبے سے آگاہ کیا تھااور نہ ہی وہ کوئی زیادہ فوج اپنے ہمراہ لے جا رہے تھے۔ وہ یہ کام انتہائی رازداری سے کرنا چاہتے تھے۔ صرف ایک سو مجاہد جنگجوؤں کو قلعے پر شب خون مارنے کے لیے منتخب کیا گیا۔
سب سے پہلے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، پھرمسلمان ہونے والا عیسائی نوجوان یونس بن مرقس، پھر قعقاع اور آخر میں سو مجاہد کمندوں کے ذریعے سے مشرقی دروازے کی طرف سے قلعے کے اندر داخل ہوگئے۔ انتہائی خطرے کا مرحلہ قریب آ چکا تھا۔
جوں ہی وہ دیوار سے اترے انھیں رومی فوجیوں کی باتیں سنائی دیں۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کہنے پر یونس بن مرقس نے رومی زبان میں بارعب لہجے کے ساتھ ان رومی فوجیوں کو کہا:
"آگے چلو!" رومی پہرے دار سمجھے کہ یہ حکم ان کے کسی افسر نے دیا ہے۔ وہ دروازے پر اپنی اپنی جگہ چھوڑ کر آگے بڑھتے گئے۔
اتنے میں مجاہد تیار ہو چکے تھے۔ انھوں نے پہرے داروں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ دیا اور آناً فاناً ان کا قصہ تمام کر دیا۔ راہ میں آنے والے ہر رومی پہرے دار سے یہی سلوک کیا گیا اور آخر کار بہت سی زنجیروں اور بھاری بھرکم تالوں سے بند دروازہ کھول دیا گیا۔
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا اپنا دستہ اس کے لیے پہلے سے تیار کھڑا تھا۔ وہ قلعے میں داخل ہوگیا اور رومی فوج کے دستوں کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بہادری کے بے مثال جوہر دکھاتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ رومی دستے بھی اسلامی سپاہیوں کے آگے ڈٹ گئے مگر خالد رضی اللہ عنہ کا دستہ ان پر آہستہ آہستہ غالب آتا جا رہا تھا۔ غروب آفتاب تک مسلمان اس جنگ کو تقریباً جیت چکے تھے۔ مسلمان سپاہی اب آگے بڑھے تو حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ اب ان کے سامنے کوئی رومی سپاہی نہیں آ رہا تھا۔ انھوں نے اسے دشمن کی چال سمجھا اور پھونک پھونک کر قدم بڑھانے لگے۔ جب وہ مرکزی گرجے کے پاس پہنچے تو وہاں سے اس کہانی کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوا۔
خالد رضی اللہ عنہ اپنے دستے کے ساتھ گرجے کی طرف آ نکلے تو سامنے ایک حیرت انگیز منظر تھا۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نہایت پر امن انداز میں سامنے سے آرہے تھے۔ ان سب کی تلواریں نیام میں تھیں اور رومی سپہ سالار "توما" اور اس کے خاص آدمی ان کے ساتھ تھے۔
"اے پروردگار! یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں؟" خالد رضی اللہ عنہ کے خیالات اس وقت یقینا" یہی ہوں گے۔ دونوں نامور سپہ سالار خاصی دیر تک ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھتے رہے۔ آخر ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سکوت توڑا اور بولے:
"ابوسلیمان! (خالد رضی اللہ عنہ کی کنیت) کیا تم اللہ کا شکر ادا نہیں کرو گے کہ اس کی ذات نے یہ شہر ہمیں بغیر لڑے عنایت کر دیا ہے؟"
خالد رضی اللہ عنہ نے کہا: "کس صلح کی بات کرتے ہیں، ابو عبیدہ؟ کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ میں نے لڑ کر یہ شہر حاصل کیا ہے۔ اللہ کی قسم! میں خود شہر میں داخل ہوا ہوں۔ میں نے تلوار چلائی ہے اور میرے ساتھیوں پر تلوار چلی ہے، وہ شہید ہوئے ہیں۔ میں رومیوں کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ خیر و عافیت سے شہر سے چلے جائیں۔ ان کا خزانہ اور مال ہمارا مال غنیمت ہے۔ میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ صلح کس نے اور کیوں کی ہے؟"
ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: "ابو سلیمان! میں اور میرے دستے پرامن طریقے سے قلعے میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر آپ میرے فیصلے کو رد کرنا چاہیں تو کر دیں لیکن میں دشمن سے معافی کا وعدہ کر چکا ہوں۔ اگر یہ وعدہ پورا نہ ہوا تو رومی کہیں گے کہ مسلمان اپنے وعدوں کی پاس داری نہیں کرتے۔ اس کی زد اسلام ہی پر پڑے گی۔"
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی ننگی تلوار سے ابھی بھی خون ٹپک رہا تھا۔ ان کے ساتھیوں کا بھی یہی حال تھا۔ ان میں کئی زخمی بھی تھے۔ انھوں نے پورا دن لڑ کر فتح حاصل کی تھی۔ مگر یہ صلح کیوں اور کیسے؟ اس بات کا کچھ بھی علم نہیں تھا۔
پھر خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی ساری سازش سمجھ گئے۔ وہ یہ کہ خالد رضی اللہ عنہ کے حملے کی خبر رومیوں کو بر وقت ہوگئی اور وہ یہ جان گئے کہ ان کی مدہوش اور شراب کے نشے میں دھت فوج مسلمانوں کا مقابلہ نہیں کر سکے گی۔ اسی لیے انھوں نے فوراً لشکر کے دوسرے سالار ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر لی۔ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ چونکہ خالد رضی اللہ عنہ کے شب خون سے ناواقف تھے اور قلعے کے طویل محاصرے سے پریشان بھی تھے، اس لیے انھوں نے صلح کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور رومیوں کو امان دے دی۔
یہ احساس ہوتے ہی چند مجاہد توما اور اس کے ساتھیو ں کو قتل کرنے کے لیے لپکے۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ اپنے ارادے میں کامیاب ہوتے، ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ لپک کر ان کے بیچ میں آ گئے اور فرمایا:
"خبردار! میں ان کی جان بخشی کا عہد کر چکا ہوں۔"
خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے جاں باز ساتھی غصے سے بپھر رہے تھے۔ وہ کسی طور رومیوں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے۔ انھوں نے اس قلعے کو نہایت خطرناک مراحل سے گزر کر حاصل کیا تھا۔ اب وہ اپنی کامیابی کو یوں سازش کی نظر ہوتا دیکھ کر صبر نہیں کر پا رہے تھے۔
اب ایک طرف عہد کی پاس داری کا معاملہ تھا اور دوسری طرف مجاہدوں کی قربانیاں! ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اگرچہ لشکر کے سالار اعلی نہیں تھے، ان کے عہد کی پابندی خالد رضی اللہ عنہ کے لیے ضروری نہیں تھی مگر وہ مسلمان تو تھے اور وہ بھی نہایت ممتاز!
آخر جوش ہارگیا، غصے کو ناکامی ہوئی، عہد کی پاس داری ہوئی اور شیطان کو شکست!
خالد رضی اللہ عنہ نے بطور سالار اعلی تاریخی فیصلہ کیا۔۔۔۔ یہ فیصلہ تھا عہد کی پاس داری کا! وہ نہیں چاہتے تھے کہ اسلامی تاریخ پر عہد شکنی کا داغ لگے۔
پھر جب رومی اپنا مال و دولت، اپنی جانیں، سب کچھ بچا کے لے جا رہے تھے، تو خالد رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی دل پر پتھر رکھ کر انھیں جاتا دیکھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہی رومی اسی اسلحے اور اسی مال کے ساتھ کسی دوسری جگہ ان کے ساتھ جنگ لڑیں گے۔ لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ انھوں نے اسلام کے سچے اور با اصول مجاہدین ہونے کا ان مٹ ثبوت دے دیاہے، عہد کی پاس داری کی اسلامی روایت کو برقرار رکھا ہے۔ اور یہ ان کی نہایت عظیم کامیابی تھی۔۔۔۔ کبھی نہ بھولنے والی کامیابی!
__________________

 
زارا's Avatar
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 301
Reply With Quote
8 قاری/قارئین نے زارا کا شکریہ ادا کیا
فیاض انصاری (14-03-12), یاسر عمران مرزا (11-02-11), ام احمد (27-07-11), ابو عمار (22-07-11), ابن جمال (24-02-11), احمد نذیر (17-07-11), حسن قادری (27-07-11), سیفی خان (20-07-11)
پرانا 11-02-11, 11:52 AM   #2
ذیلی ناظم
 
یاسر عمران مرزا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2009
مقام: جدہ-سعودی عرب
مراسلات: 5,641
کمائي: 86,382
شکریہ: 9,614
4,226 مراسلہ میں 12,047 بارشکریہ ادا کیا گیا
یاسر عمران مرزا کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک عمدہ فیصلہ یقینن
یاسر عمران مرزا آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 20-07-11, 09:11 AM   #3
Senior Member
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مراسلات: 1,691
کمائي: 31,907
شکریہ: 10,606
1,222 مراسلہ میں 3,228 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

یقینا بہت مشکل اور صبر آزما فیصلہ تھا۔۔کیا یہ لڑائی دو سپہ سالاروں کی زیر سرپرستی ہو رہی تھی؟؟ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ۔ورنہ فیصلے کا حق تو امیر کو ہوتا ہے۔۔
احمد بلال آف لائن ہے   Reply With Quote
احمد بلال کا شکریہ ادا کیا گیا
ام احمد (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 08:04 AM   #4
Senior Member
مقبول
 
ام احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2011
مراسلات: 195
کمائي: 3,205
شکریہ: 479
160 مراسلہ میں 430 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

حضرت ابو عبیدہ آرمی چیف تھے اور حضرت خالد کماندر
ام احمد آف لائن ہے   Reply With Quote
پرانا 27-07-11, 08:46 AM   #5
Senior Member
 
حسن قادری's Avatar
 
تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,132
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی طرح ایک قلعہ کا محاصرہ حضرت خالدنے کیا اور مہینہ محاصرے میں گزر گیا ایکدن صبح کے وقت دشمنوں نے دروازہ کھولا اور اپنی زمینوں میں کام کاج کیلے چل پڑے حضرت خالد نے ان سے کہا تم کدھر جا رھے ھو ۔۔۔ کہنے لگے رات کی صلح ھوگی ھے آپنے فر مایا کمانڈر میں صلح کیسی مجھے معلوم ھی نھیں۔۔۔ جاو صلح نامہ لیکر آو صلح نامہ ُلایا گیا تو اسپر ایک غلام کے دستخط تھے حضرت خالد نے فرمایا یہ ھم تسلیم نھیں کرتے ایک غلام کیسے صلح کر سکتا ھے کافر کہنے لگے ھمیں معلوم نھیں غلام ھے یا آذاد ھمیں یہ معلوم ھے کہ ھمسے صلح ایک مسلمان نے کی ھے حضرت خالد نے فرمایا ٹھر جاو ھم امیر المومنین کو خط لکھتے ھیں وہ جو جواب دیں ھمیں منظور ھوگا امیر المومنیں نے جواب لکھا ایک مسلمان کی امان سب پر نافذ ھوگی لھذا اس صلح کو بر قرا رکھا جاے

Last edited by حسن قادری; 27-07-11 at 08:48 AM.
حسن قادری آف لائن ہے   Reply With Quote
5 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (28-07-11), ام احمد (28-07-11), احمد نذیر (27-07-11), حیدر (27-07-11), راجہ اکرام (27-07-11)
پرانا 27-07-11, 11:12 AM   #6
ناظم اعلی
 
راجہ اکرام's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : حسن قادری مراسلہ دیکھیں
اسی طرح ایک قلعہ کا محاصرہ حضرت خالدنے کیا اور مہینہ محاصرے میں گزر گیا ایکدن صبح کے وقت دشمنوں نے دروازہ کھولا اور اپنی زمینوں میں کام کاج کیلے چل پڑے حضرت خالد نے ان سے کہا تم کدھر جا رھے ھو ۔۔۔ کہنے لگے رات کی صلح ھوگی ھے آپنے فر مایا کمانڈر میں صلح کیسی مجھے معلوم ھی نھیں۔۔۔ جاو صلح نامہ لیکر آو صلح نامہ ُلایا گیا تو اسپر ایک غلام کے دستخط تھے حضرت خالد نے فرمایا یہ ھم تسلیم نھیں کرتے ایک غلام کیسے صلح کر سکتا ھے کافر کہنے لگے ھمیں معلوم نھیں غلام ھے یا آذاد ھمیں یہ معلوم ھے کہ ھمسے صلح ایک مسلمان نے کی ھے حضرت خالد نے فرمایا ٹھر جاو ھم امیر المومنین کو خط لکھتے ھیں وہ جو جواب دیں ھمیں منظور ھوگا امیر المومنیں نے جواب لکھا ایک مسلمان کی امان سب پر نافذ ھوگی لھذا اس صلح کو بر قرا رکھا جاے
یہ مثال کوئی اور دین یا مذہب پیش کر سکتا ہے ؟
یہ ہے اصل مساوات انسانی جو اسلام کا خاصہ ہے، اگر اس کو رائج کر دیا جائے تو کسی وی آئی پی موومنٹ اور ہٹو بچو کی ضرورت ہی نہ رہے۔
لیکن ہم نے اتنی زیادہ تفریق کر دی ہے امیر اور غریب، غلام اور آقا، حکمران اور رعایا میں کہ دونوں دو الگ الگ دنیاؤں کے باسی لگتے ہیں
__________________
محتاج اصلاح و دعا

راجہ اکرام آف لائن ہے   Reply With Quote
4 قاری/قارئین نے راجہ اکرام کا شکریہ ادا کیا
نبیل خان (28-07-11), ام احمد (28-07-11), احمد نذیر (27-07-11), حسن قادری (28-07-11)
جواب

Tags
کوشش, قدم, قصہ, موقع, مقابلہ, آدمی, اللہ, اسلامی, اسلامی تاریخ, بہترین, جیت, حکم, حال, خون, خبر, دل, رات, شہر, شام, شخص, عہد, غصے, صلح, صبر, صرف


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
فیصل محمود صدیقی فیصل محمود تعارف 11 07-01-11 11:11 PM
تاریخی بابری مسجد کاہندو فیصلہ سنادیا گیا مسجد کی اراضی تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ جاویداسد خبریں 8 12-12-10 03:18 PM
تبونے گھر بسانے کا فیصلہ کرلیا جاویداسد فلمی دنیا 0 26-10-10 11:17 PM
جناب فیصل شیخ کو سالگرہ مبارک منتظمین سالگراہیں 2 08-03-08 09:59 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:39 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger