| دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں! |
![]() |
|
|
LinkBack | موضوع کے اختیارات | موضوع کی درجہ بندی | ظاہری انداز |
|
|
#1 | |||
|
||||
|
مناظر: 819
|
||||
| 16 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | dxbgraphics (31-05-11), shafresha (31-05-11), skjatala (30-05-11), ننھا بچہ (31-05-11), محمد عاصم (31-05-11), آبی ٹوکول (30-05-11), احمد نذیر (02-06-11), حسن قادری (30-05-11), روشنی (31-05-11), راجہ اکرام (01-06-11), سیپ (30-05-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (15-06-11), عبداللہ آدم (31-05-11), عبداللہ حیدر (30-05-11), عبداللہ خراسانی (31-05-11) |
|
|
#2 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلامُ علیکم
ہمیں اِنتظاررہے گا۔ جزاک اللہ خیر۔ |
|
|
|
|
#3 |
|
Senior Member
![]() |
وعلیکم السلام ۔
حوصلہ افزائی کا شکریہ زارا سسٹر تھوڑا وقت کم نکل رہا ہے ۔ میں کوشش کروں گا کہ جلد از جلد اس مضمون کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکوں ۔ ۔ بتوفیق اللہ تعالیٰ |
|
|
| 5 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-05-11), skjatala (30-05-11), آبی ٹوکول (30-05-11), احمد نذیر (02-06-11), عبداللہ آدم (31-05-11) |
|
|
#4 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Apr 2011
مقام: مسلم ہیں ہم، وطن ہے سارا جہاں ہمارا
عمر: 50
مراسلات: 1,654
کمائي: 32,944
شکریہ: 9,774
1,376 مراسلہ میں 4,253 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اسلام علیکم!
اللہ آپ کو حق بات پہنچانے کی توفیق دے- |
|
|
| 3 قاری/قارئین نے skjatala کا شکریہ ادا کیا |
|
|
#5 |
|
Senior Member
![]() |
حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کا قول
تاریخ ابن جریر الطبری ص 209 ج 3 میں طبری نے نقل کیا ہے کہ جس وقت مہاجرین اور انصار میں خلافت کے معاملہ میں گفتگو ہوئی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں معذرت چاہی تو اس وقت حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا : اللہ کی قسم اس معاملے کا آپ کو چھوڑ کر ہم ( کسی دوسرے کو) والی نہیں بنانا چاہتے کیوں کہ آپ افضل المہاجرین ہیں اور ثانی اثنین ہیں جبکہ دونوں حضرات غار میں تھے اور نماز پر بھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور قائمقام ہیں ۔ حالنکہ نماز مسلمانوں کے دین میں افضل چیز ہے ۔پس کس کے لئے مناسب ہے کہ وہ آپ سے مقدم ہو سکے ؟ یعنہ آپ سے مقدم ہونا کسی کے لائق نہیں ۔ ۔ ۔ شیعہ علماء کی طرف سے تائید شیعہ علماء میں ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ طبع قدیم میں بحث ہذا میں حضرت عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔فقال عمر و ابو عبیدہ ما ینبغی لاحد من الناس ان یکون فوقک انت صاحب الغار ثانی اثنین وامرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم با الصلوۃ۔ فانت احق النسا بھذالامر یعنی حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوے فرمایا کہ اس وقت کوئی شخص آپ پر فائق نہیں ہے ۔ آپ صاحب غار ہیں اور ثانی اثنین ہیں ۔ اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔ پس آپ خلافت کے معاملہ میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار اور مستحق ہیں حضرت عمر اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہما کا قول تاریخ ابن جریر الطبری ص 209 ج 3 میں طبری نے نقل کیا ہے کہ جس وقت مہاجرین اور انصار میں خلافت کے معاملہ میں گفتگو ہوئی تھی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس معاملہ میں معذرت چاہی تو اس وقت حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما دونوں نے فرمایا : اللہ کی قسم اس معاملے کا آپ کو چھوڑ کر ہم ( کسی دوسرے کو) والی نہیں بنانا چاہتے کیوں کہ آپ افضل المہاجرین ہیں اور ثانی اثنین ہیں جبکہ دونوں حضرات غار میں تھے اور نماز پر بھی آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور قائمقام ہیں ۔ حالنکہ نماز مسلمانوں کے دین میں افضل چیز ہے ۔پس کس کے لئے مناسب ہے کہ وہ آپ سے مقدم ہو سکے ؟ یعنہ آپ سے مقدم ہونا کسی کے لائق نہیں ۔ ۔ ۔ شیعہ علماء کی طرف سے تائید شیعہ علماء میں ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ طبع قدیم میں بحث ہذا میں حضرت عمر اور ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما کا قول نقل کیا ہے وہ لکھتے ہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔فقال عمر و ابو عبیدہ ما ینبغی لاحد من الناس ان یکون فوقک انت صاحب الغار ثانی اثنین وامرک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم با الصلوۃ۔ فانت احق النسا بھذالامر یعنی حضرت عمر اور حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہما نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے ہوے فرمایا کہ اس وقت کوئی شخص آپ پر فائق نہیں ہے ۔ آپ صاحب غار ہیں اور ثانی اثنین ہیں ۔ اور خدا کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا ۔ پس آپ خلافت کے معاملہ میں سب لوگوں سے زیادہ حقدار اور مستحق ہیں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا قول کنزالعُمال میں بحوالہ خیثمہ بن سلیمان روایت ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ عن حمران قال عثمان ابن عفان ان ابابکر الصدیق احق النا س بہا یعنی الخلافۃ انہ صدیق و ثانی اثنین وصاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یعنی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تحقیق حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلافت کے معاملہ میں زیادہ حقدار ہیں ۔ وہ صدیق ہیں ثانی اثنین ہیں اور وہ صاحب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (کنزالعمال لعلی متقی الہندی ص 140 بحوالہ خیثمہ فی فضائل الصحابہ روایت نمبر 2331 ۔ کتاب الخلافۃ۔ طبع اول دکن) حضرت علی اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما کا قول جب خلافت و نیابت کے معاملہ میں گفتگو ہوئی تو ان دونوں حضرات نے فرمایا ۔ ۔ ۔ انا نری ان ابا بکر احق الناس بہا ۔ انہ لصاحب الغار و ثانی اثنین ۔ ۔ یعنی حضرت علی اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہما مسئلہ خلافت کی بحث میں فرماتے ہیں کہ ہم تمام لوگوں میں سے خلافت کا زیادہ حقدار حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جانتے ہیں ۔ کیوں کہ وہ صاحب غار اور ثانی اثنین ہیں السنن الکبریٰ للبیہقی ص 18 ۔ الاعتقاد علی مذہب السلف للبیہقی ص 179 طبع مصر حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول مسند امام احمد میں یہ واقعہ درج ہے کہ ایک بار ربیعہ بن کعب الاسلمی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما کا ایک نخلہ ( کھجور) کے متعلق وقتی طور پر تنازع پیش آیا تھا ۔ ربیعہ کے قبیلے کے لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ شکوہ کرنے لگے تو ربیعہ نے ان کو فہمائش کرتے ہؤے کہا ۔ ۔ ۔ ۔ اتدرون ماھذا ؟ ھذا ابوبکر الصدیق ھذا ثانی اثنین ھذا ذو شیبہ المسلمین ۔ ۔ ۔الخ یعنی ربیعہ نے کہا کیا تم جانتے کہ ان کا کیا مقام ہے ؟ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں ۔ یہ ثانی اثنین ہیں ۔ یہ مسلمانوں کے شیخ اور بزرگ ہیں ۔ ۔الخ مسند امام احمد ص 58-59 ج رابع تحت مسندات ربیعہ بن کعب الاسلمی رضی اللہ عنہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اشعار روایات کی کتابوں میں مذکور ہے کہ ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت کو فرمایا : کہ تو نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی کچھ اشعار کہے ہیں تو کہو تا کہ ہم بھی سن لیں ۔ تو حسان کہنے لگے وثانی اثنین فی الغار ا لمنیف ( دیوان حسان ص 240 طبع مصر ۔ ازالہ لشاہ ولی اللہ ص 99 جلد اول تحت مسند حسان بن ثابت)وقد طاف العدو بہ اذ صعد الجبلاء وکان حب رسول اللہ قد علموا من البریہ لم یعدل بہ زجلا ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ ۔ بلند غار میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دو شخصوں میں سے دوسرے تھے اور جب یہ پہاڑ پر چڑھے تو دشمن نے اس غار کا چکر لگایا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب ہیں ۔ اور لوگوں نے یقین کر لیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو ان کے برابر نہیں قرار دیا ۔ ۔ مختصر یہ کہ صحابہ کرام اپنی گفتگو اور کلام میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ثانی اثنین کے لقب سے ذکر کرتے تھے یعنی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ثانی درجہ میں ہیں ۔ اور کلمہ ثانی میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں قاعدہ : قاعدہ ہے کہ باب تفسیر میں اقوالصحابہ کرام حجت قرار دئیے جاتے ہیں ۔ فلہذا ثانی اثنین کے مفہوم کی وضاحت صحابہ کرام کے مندرجہ بالا اقوال حجت شرعی کے درجہ میں ہیں ۔ اس لئیے یہ بات بالکل درست ہے کہ اس مقام ثانی سے مراد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہی ہیں اور یہ ان کا لقب درست ہے اور یہ اُن کی صفت صحیح ہے ۔ اور صحابہ کرام اس چیز کا اعتراف کرتے تھے اور اس میں خلافت صدیق کی طرف اشارہ پاتے تھے (جاری) Last edited by سیفی خان; 30-05-11 at 10:57 PM. |
|
|
| 12 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-05-11), skjatala (30-05-11), محمد عاصم (31-05-11), احمد نذیر (02-06-11), حسن قادری (31-05-11), روشنی (31-05-11), راجہ اکرام (31-05-11), سیپ (30-05-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (15-06-11), عبداللہ آدم (31-05-11), عبداللہ خراسانی (31-05-11) |
| کمائي نے سیفی خان کو اس مراسلے کے لئے دیئے | |||
| تاریخ | رکن | عطیہ کرنے کی وجہ | رقم |
| 31-05-11 | سیپ | Jazak ALLAh | 1 |
|
|
#6 |
|
Administrator
![]() ![]() ![]() ![]() تاریخ شمولیت: Apr 2008
مقام: دلِ ویران
مراسلات: 10,067
کمائي: 1,047,247
شکریہ: 5,802
6,279 مراسلہ میں 15,257 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
بسم الله الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ جزاک اللہ |
|
|
|
|
#7 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: Dec 2007
مراسلات: 1,217
کمائي: 17,983
شکریہ: 2,337
915 مراسلہ میں 2,334 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
سیفی صاحب خداآپکوجزائےخیردے۔میری یادداشت میں اںک واقعہ ہےلیکن بیرون ملک ہونےکی وجہ سےrechecکرناممکن نہیں آپ تصدیق کرلیں۔
حضرت عمرکاواقعہ ہےکہ جسکےمطابق وہ کہاکرتےتھےکہ انکےسارے نیک اعمال کےبدلےاگرانھین صدیق اکبرکے3 ،اعمال مل جائیں تو وہ فائدے میں رہیں گےان میں سےایک ہجرت مدینہ کے سفرمیں آنحضورصلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ہمراہی تھی۔2۔۔ارتداد کےوقت جہادکافیصلہ |
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سام کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-05-11), skjatala (31-05-11), احمد نذیر (02-06-11), سیفی خان (31-05-11), شھزادباجوہ (04-09-11), شمشاد احمد (15-06-11), عبداللہ آدم (31-05-11), عبداللہ خراسانی (31-05-11) |
|
|
#8 |
|
Senior Member
![]() |
لفظ ِ ثانی اور صدیق اکبر رضی اللہ عنہ
گزشتہ سطور میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لئے ثانی فی الغار کا مسئل ذکر کیا گیا ہے ۔ اب ہم اس چیز کی وضاحت پیش کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ثانویت(ثانی ہونے کی) کی خصوصیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت سے دیگر مقامات میں بھی حاصل ہوئی مثلاً (1) ثانی فی الاسلام ، قبول اسلام میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے بعد دوسرے شخص ہیں (2) ثانی فی الہجرہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہجرت کرنے میں آپ رض دوسرے درجہ میں ہیں (3) ثانی فی عریش ِبدر ، مقامِ بدر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تیار کیے جانے والے عریش میں آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں بیٹھنے والے دوسرے شخص ہیں( عریش ” چھاتہ “ کو کہتے ہیں ) (4) ثانی فی الامامہ باالصلوۃ ، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں نماز کی امامت کرنے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دوسرے درجہ میں ہیں (5) ثانی فی مقبرہ النبی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر میں دفن ہونے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا دوسرا درجہ ہے (6) ثانی فی دخول الجنۃ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کے مطابق جنت میں داخل ہونے والے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ دوسرے شخص ہونگے سفر ہجرت اور آیت غار کے متعلق شیعہ اکابر کے بیانات سابقہ سطور میں میں نے ثانی اثنین کے مصداق کے حوالہ سے چند چیزیں ذکر کی ہیں ۔ جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ سفر ہجرت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سا تھ حضرت ابوبکر صدیق بن ابو قحافہ رضی اللہ عنہ ہی تھے ۔اس کے بعد اسی سفر ہجرت اور آیت غار کے متعلق شیعہ اکابر کے بیانات ذکر کیے جارہے ہیں جن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مبارک سفر میں معیت اور مصاحبت پائی جاتی ہے ۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک سفر ہونا ثابت ہو تا ہے ۔ اور اسلام کا یہ مبارک سفر بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔ اس سلسلہ میں چند ایک حوالہ جات شیعہ حضرات کی کتب سے پیش کیے جاتے ہیں تا کہ اصل واقعہ کی صحت کے ثبوت میں کوئی اشتباہ نہ رہے اور فریقین کے بیانات کے ذریعہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی عظمت کا مسئلہ ازرُؤئے قرآن پختہ ہو جائے شیعہ کے مشہور قدیم مفسر شیخ ابوعلی الفضل بن حسن الطبری اپنی تفسیر مجمع البیان میں آیت غار کے تحت بیان کرتے ہیں الا تنصروہ فقد نصرہ اللہ ۔ معناہ ان لم تنصرو الی علی القتال قتال العدو فقد فعل اللہ بہ النصر اذا خرجہ الذین کفروا من مکہ فخرج یرید المدینہ ثانی اثنین یعنہ کان ھو ابوبکر اذھما فی الغار ولیس معھما ثالث ای وھو احد اثنین ومعناہ فقد نصرہ اللہ منفردا من کل شیء من ابی بکر والغار ۔ ۔ ۔ الخ اس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کے قتال پر اگر تم لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد نہ کرو گے تو اللہ نے اپنے نبی کی مدد کی ۔ جبکہ کفار نے نبی کو مکہ سے نکالا اور آپ مدینے کا ارادہ کر کے نکل پڑے ۔ ثانی اثنین یعنی پیغمبر اورحضرت ابوبکر تھے ۔ جبکہ دونوں غار میں تھے ۔ ان دونوں کے ساتھ تیسرا نہیں تھا ۔ معنیٰ یہ ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کی مدد کی درآں حالیکہ وہ سوائے ابوبکر کے سب سے منفرد تھے ۔ اور جبل میں ایک بڑا شگاف تھا ۔ اس سے مراد غار ثور ہے جو کے مکہ کے پہاڑ میں ہے ۔ جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی سے کہ رہے تھے کہ غم نہ کھا نہ خوف کر اللہ ہمارے ساتھ ہے تفسیر مجمع البیان الطبرسی ص 504 تحت آیت غار پ10 طبع قدیم ایران شیعہ کے شیخ الطائفہ ابو جعفر الطوسی اپنی تفسیر امالی میں حضرت انس بن مالک کی روایت نقل کرتے ہیں قال لما توجد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الی الغار ومعہ ابوبکر ۔ ۔ الخ یعنی انس بن مالک کہتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غار کی طرف متوجہ ہوؤئے تو ان کے ساتھ ابوبکر تھے ۔ اس پر نبی اکرم نے حضرت علی کو حکم دیا کہ ان کے بستر پر سو جائیں اور آپ کی چادر اوڑھ لیں امالی للشیخ الطوسی ص 61 ج 2 طبع نجف اشرف شیخ طوسی واقعہ ہجرت کی تفصیل بیان کرتے ہوئے آگے چل کر لکھتے ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے باہر چلے گئے تو ہند (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ربیب تھے عنی حضرت خدیجۃ الکبریٰ کے پہلے شوہر سے فرزند)اور حضرت ابوبکر کے پاس جا پہنچے ۔ اور انہیں اٹھایا اور وہ دونوں آنجناب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ یہ سہ حضرات غار تک جا پہنچے اس کے بعد ہند مکہ کی طرف واپس آگیا ۔ اس لئے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اسکو واپسی کا حکم دیا ۔ اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر غار میں داخل ہو گئے امالی للشیخ الطوسی ص 81 ج 2 طبع نجف اشرف (جاری) |
|
|
| 8 قاری/قارئین نے سیفی خان کا شکریہ ادا کیا | shafresha (31-05-11), skjatala (31-05-11), کنعان (02-06-11), احمد نذیر (02-06-11), حسن قادری (31-05-11), راجہ اکرام (31-05-11), شھزادباجوہ (14-06-11), شمشاد احمد (15-06-11) |
|
|
#9 |
|
ناظم اعلی
![]() ![]() تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: ڈیرا درویشاں دا
مراسلات: 21,576
کمائي: 315,233
شکریہ: 25,210
16,395 مراسلہ میں 41,642 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
السلام علیکم و رحمۃ اللہ
جزاک اللہ خیر برادرم سیفی خان |
|
|
|
|
#10 |
|
Senior Member
![]() |
وعلیکم السلام
شکریہ پیر صاحب |
|
|
|
|
#13 |
|
Senior Member
![]() |
شکریہ باجوہ صاحب ۔ ۔ میں پیر نہیں ہوں ۔ پاک نیٹ کے پیر راجہ اکرام ہیں ۔ ۔ بس ۔ ۔ ۔ ۔
جس طرح 1 نیام میں 2 تلواریں نہیں آ سکتیں اسی طرح پاک نیٹ پہ 2 پیر نہیں سما سکتے ۔ ۔ باقی آپ کی دعا پر ۔ ۔ ۔ اٰمین خوش رہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ |
|
|
| سیفی خان کا شکریہ ادا کیا گیا | شھزادباجوہ (14-06-11) |
|
|
#14 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,132
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
اھلتشیع کے معروف مترجم مولوی فرمان اپنے ترجمے اور تفسیر میں حضر ت ابو بکر کو ھی ھجرت وغار کاساتھی لکھا ھے ۔اوراھل تشیع کےمورخ ابو الحسن مسعودی نے اپنی تا ریخ مروج الذہب المعروف تاریخ مسعودی صفحہ210پرھجرت وغار میں صدیقی رفاقت کا ذکر کیا ہے اور مولوینجم الحسن نے چودہ ستارے نامی کتاب صفحہ 30 پر ھجرت و غار میں صدیقی رفاقت کو تسلیم کیا ہے جو دراصل ثا نی اثنین کی دبے لفظوں میں ترجمانی ھے
جاری ھے |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | سیفی خان (31-05-11), شھزادباجوہ (14-06-11) |
|
|
#15 |
|
Senior Member
![]() تاریخ شمولیت: May 2011
مراسلات: 1,635
کمائي: 32,132
شکریہ: 3,022
1,410 مراسلہ میں 4,199 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
کچھ اوربھی ثانی اثنین مصداق کےبارے
تفسیر قرطبی اھل سنت کی مشھو ر تفسیر میں لکھا ھے لان لخلیفہ لا یگون ابدا الا ثانیا خلیفہ ھمیشہ ثانی ہی ہوتا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔تفسیر جلا لین صقحہ159 ای احد اثنین ولآ خر ابو بکر دو میں سے دو سرے ابو بکر ترمذی 609حضرت ابو بکر خو د بیان کرتے ھیں مجھے آپ نے فرما یا اے ابوبکران دو کے بارے میں تیرا کیا خیال ھے جنکا تیسرا اللہ ہو |
|
|
| 2 قاری/قارئین نے حسن قادری کا شکریہ ادا کیا | سیفی خان (31-05-11), شھزادباجوہ (14-06-11) |
![]() |
| Tags |
| کوشش, کلمہ, کلام, وسلم, قارئین, چند, مجید, مراد, معلوم, اکبر, اپنے, اللہ, السلام, انشا, استعمال, بھائی, تصور, ثابت, خصوصی, سیدنا, شان, عبداللہ, صحیح, صحابہ, صدیق |
| Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests) | |
| موضوع کے اختیارات | |
| ظاہری انداز | Rate This Thread |
|
|