واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

short url
موضوع بند کر دیا گیا ہے
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 22-10-09, 09:48 AM   #1
حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ
wajee wajee آف لائن ہے 22-10-09, 09:48 AM

حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ

رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد ہے کہ ’’حسین منی و انا من الحسین‘‘ یعنی 'حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں اور مستقبل نے بتادیا کہ رسول کا مطلب یہ تھا کہ میرا نام اور کام دنیا میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بدولت قائم رہیگا۔ حضرت امام حسین علیہ السلام پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفے کے چھوٹے نواسے علی علیہ السلام و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔

ولادت
ہجرت کے چوتھے سال تیسری شعبان پنجشنبہ کے دن آپ کی ولادت ہوئی۔ اس خوشخبری کو سن کر جناب رسالت ماب تشریف لائے، بیٹے کو گود میں لیا، داہنے کان میں اذان اور بائیں میں اقامت کہی اور اپنی زبان منہ میں دے دیدی. پیغمبر کا مقدس لعاب دہن حسین علیہ السلام کی غذا بنا۔ ساتویں دن عقیقہ کیا گیا۔ آپ کی پیدائش سے تمام خاندان میں خوشی اور مسرت محسوس کی جاتی تھی مگر آنے والے حالات کاعلم پیغمبر کی آنکھوں میں آنسو برساتا تھا۔
نشوو نما
پیغمبراسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ دوسرے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے . ایک طرف پیغمبر اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی اور دوسری طرف حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام ابن ابی طالب جو اپنے عمل سے خدا کی مرضی کے خریدار بن چکے تھے تیسری طرف حضرت فاطمہ زہرا جو خواتین کے طبقہ میں پیغمبر کی رسالت کو عملی طور پر پہنچانے کے لیے ہی قدرت کی طرف سے پیدا ہوئی تھیں اس نورانی ماحول میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پرورش ہوئی۔
رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت

جیسا کہ حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات میں لکھا جاچکا ہے کہ حضرت محمد مصطفے اپنے دونوں نواسوں کے ساتھ انتہائی محبت فرماتے تھے. سینہ پر بیٹھاتے تھے . کاندھوں پر چڑھاتے تھے اور مسلمانوں کو تاکید فرماتے تھے کہ ان سے محبت رکھو . مگر چھوٹے نواسے کے ساتھ آپ کی محبت کے انداز کچھ امتیاز خاص رکھتے تھے . ایسا ہو ا ہے کہ نماز میں سجدہ کی حالت میں حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ پشت مبارک پرآگئے تو سجدہ میں طول دیا. یہاں تک کہ بچہ خود سے بخوشی پشت پر سے علیحدہ ہوگیا . اس وقت سر سجدے سے اٹھایا اور کبھی خطبہ پڑھتے ہوئے حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد کے دروازے سے داخل ہونے لگے اور زمین پر گر گئے تو رسول نے اپنا خطبہ قطع کردیا۔ منبر سے اتر کر بچے کو زمین سے اٹھایا اور پھر منبر پر تشریف لے گئے اور مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ دیکھو یہ حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ے اسے خوب پہچان لو اور اس کی فضیلت کو یاد رکھو۔
رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفات کے بعد
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے نانا کا سایہ سر سے اٹھ گیا .اب پچیس برس تک حضرت علی علیہ السلام ابن ابی طالب کی خانہ نشینی کادور ہے . اس زمانہ کے طرح طرح کے ناگوار حالات امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھتے رہے اور اپنے والد بزرگوار کی سیرت کا بھی مطالعہ فرماتے رہے. یہ وہی دور تھا جس میں آپ نے جوانی کے حدود میں قدم رکھا اور بھر پور شباب کی منزلوں کو طے کیا ۔
53ھء میں جب حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر 13برس کی تھی عام مسلمانوں نے حضرت علی علیہ السلام ا بن ابی طالب کو بحیثیت خلیفہ اسلام تسلیم کیا. یہ امیر المومنین علیہ السلام کی زندگی کے آخری پانچ سال تھے جن میں جمل صفین اور نہروان کی لڑائیں ہوئی اور امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان میں اپنے بزرگ مرتبہ باپ کی نصرت اور حمایت میں شریک ہوئے اور شجاعت کے جوہر بھی دکھلائے ۔ .04ھء میں جناب امیر علیہ السلام مسجد کوفہ میں شہید ہوئے اور اب امامت وخلافت کی ذمہ داریاں امام حسن علیہ السلام کے سپرد ہوئیں جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بڑے بھائی تھے. حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک باوفا اور اطاعت شعار بھائی کی طرح حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ساتھ دیا اور جب امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے شرائط کے ماتحت جن سے اسلامی مفاد محفوظ رہ سکے معاویہ کے ساتھ صلح کرلی تھی تو امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس مصلحت پر راضی ہوگئے اور خاموشی اور گوشہ نشینی کے ساتھ عبادت اور شریعت کی تعلیم واشاعت میں مصروف رہے مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان شرائط کو جو امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوئے تھے بالکل پورا نہ کیا خود امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سازش ہی سے زہر دیا گیا۔ حضرت علی علیہ السلام بن ابی طالب کے شیعوں کو چن چن کے قید کیا گیا۔ سر قلم کئے گئے اور سولی پر چڑھایا گیا اور سب سے آخر اس شرط کے بالکل خلاف کہ, حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد کسی کو جانشین مقرر کرنے کا حق نہ ہو گا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اپنے بعد کے لیے ولی عہد بنا دیا اور تمام مسلمانوں سے اس کی بیعت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی اور زور و زر دونوں طاقتوں کو کام میں لا کر دنیائے اسلام کے بڑے حصے کا سر جھکوا دیا گیا۔
شہادت
امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے درمیان صلح کی ایک بنیادی شرط یہ تھی کہ ان کے بعد کوئی جانشین مقرر نہیں ہوگا مگر امیر شام نے اپنے بیٹے یزید کو جانشین مقرر کیا اور اس کے لیے بیعت لینا شروع کر دی۔ کچھ اصحاب رسول رضی اللہ تعالی عنہ نے اس بیعت سے انکار کر دیا جیسے حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ عنہ ۔ امام حسین علیہ السلام نے بھی بیعت سے انکار کر دیا کیونکہ یزید کا کردار اسلامی اصولوں کے مطابق نہیں تھا۔
یزید کی تخت نشینی کے بعد اس نے امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت لینے کی تگ و دو شروع کر دی۔ یزید نے مدینہ کے گورنر اور بعد میں کوفہ کے گورنر ابن زیاد کو سخت احکامات بھیجے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیعت لی جائے۔ محمد ابن جریر طبری، ابن خلدون ، ابن کثیر غرض بہت سے مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ ابن زیاد نے یزید کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے خاندان رسالت کوکربلا میں قتل کیا اور قیدیوں کو اونٹوں پر شہیدوں کے سروں کے ساتھ دمشق بھیج دیا۔ دمشق میں بھی ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہ ہوا۔

اخلاق و اوصاف
امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سلسلہ امامت کے تیسرے فرد تھے۔ عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے- آپ کی عبادت, آپ کے زہد, آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال اخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے- پچیس حج آپ نے باپیادہ کئے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاں پایا کہ فرمایا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں میری سخاوت اور میری جرات ہے۔ چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجت مندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا- راتوں کو روٹیوں اور کھجوروں کے پشتارے اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور غریب محتاج بیوائوں اور یتیم بچوں کو پہنچاتے تھے جن کے نشان پشت مبارک پر پڑ گئے تھے- حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ جب کسی صاحبِ ضرورت نے تمہارے سامنے سوال کے لیے ہاتھ پھیلا دیا تو گویا اس نے اپنی عزت تمہارے ہاتھ بیچ ڈالی۔ اب تمہارا فرض یہ ہے کہ تم اسے خالی ہاتھ واپس نہ کرو, کم سے کم اپنی ہی عزت نفس کا خیال کرو۔ غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آپ عزیزوں کا سا برتا ئوکرتے تھے- ذرا ذرا سی بات پر آپ انہیں آزاد کر دیتے تھے- آپ کے علمی کمالات کے سامنے دنیا کا سر جھکا ہوا تھا- مذہبی مسائل اور اہم مشکلات میں آپ کی طرف رجوع کی جاتی تھی- آپ کی دعائوں کا ایک مجموعہ صحیفہ حسینیہ کے نام سے اس وقت بھی موجود ہے آپ رحمدل ایسے تھے کہ دشمنوں پر بھی وقت آنے پر رحم کھاتے تھے اور ایثار ایسا تھا کہ اپنی ضرورت کو نظر انداز کر کے دوسروں کی ضرورت کو پورا کرتے تھے- ان تمام بلند صفات کے ساتھ متواضع اور منکسر ایسے تھے کہ راستے میں چند مساکین بیٹھے ہوئے اپنے بھیک کے ٹکڑے کھا رہے تھے اور آپ کو پکار کر کھانے میں شرکت کی دعوت دی تو حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ فورا زمین پر بیٹھ گئے- اگرچہ کھانے میں شرکت نہیں فرمائی- اس بناء پر کہ صدقہ آلِ محمد پر حرام ہے مگر ان کے پاس بیٹھنے میں کوئی عذر نہیں ہوا- اس خاکساری کے باوجود آپ کی بلندی مرتبہ کا یہ اثر تھا کہ جس مجمع میں آپ تشریف فرماہوتے تھے لوگ نگاہ اٹھا کر بات نہیں کرتے تھے جو لوگ آپ کے خاندان کے مخالف تھے وہ بھی آپ کی بلندی مرتبہ کے قائل تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاکم شام معاویہ کو ایک سخت خط لکھا جس میں اس کے اعمال و افعال اور سیاسی حرکات پر نکتہ چینی کی تھی اس خط کو پڑھ کر معاویہ کو بڑی تکلیف محسوس ہوئی- پاس بیٹھنے والے خوشامدیوں نے کہا کہ آپ بھی اتنا ہی سخت خط لکھئے- معاویہ نے کہا, میں جو کچھ لکھوں گا وہ اگر غلط ہو تو اس سے کوئی نتیجہ نہیں اور اگر صحیح لکھنا چاہوں تو بخدا حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں مجھے ڈھونڈنے سے کوئی عیب نہیں ملتا-
آپ کی اخلاقی جرات , راست بازی اور راست کرداری , قوتِ اقدام, جوش عمل اور ثبات و استقلال , صبر و برداشت کی تصویریں کربلا کے مرقع میں محفوظ ہیں- ان سب کے ساتھ آپ کی امن پسندی یہ تھی کہ آخر وقت تک دشمن سے صلح کرنے کی کوشش جاری رکھی مگر عزم وہ تھا کہ جان دے دی جو صحیح راستہ پہلے دن اختیار کر لیا تھا اس سے ایک انچ نہ ہٹے- انہوں نے بحیثیت ایک سردار کے کربلا میں ایک پوری جماعت کی قیادت کی- اس طرح کہ اپنے وقت میں وہ اطاعت بھی بے مثل اور دوسرے وقت میں یہ قیادت بھی لاجواب تھی۔
__________________
Life is a gift given to us by Allah.Death is a gift returned to Allah.

Last edited by سحر; 15-07-10 at 01:24 PM..

wajee
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مراسلات: 7,536
شکریہ: 5,206
5,043 مراسلہ میں 11,469 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 1246
14 قاری/قارئین نے wajee کا شکریہ ادا کیا
فیصل ناصر (13-09-10), کنعان (23-09-10), موجو (19-09-10), محمدخلیل (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), ایس اے نقوی (23-10-09), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (14-07-10), حیدر Rehan (14-07-10), عارف اقبال (20-09-10), عبدالقدوس (17-09-10), عبداللہ آدم (17-09-10), غلام خان (20-10-10)
پرانا 14-07-10, 03:39 PM   #2
Senior Member
 
بلال اویسی's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Sep 2008
مقام: Multan, Pakistan
مراسلات: 657
کمائي: 18,049
شکریہ: 1,422
601 مراسلہ میں 1,906 بارشکریہ ادا کیا گیا
بلال اویسی کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

واہ اے امام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ، کسی شاعرنے کیا خوب کہا ہے کہ

پھرعشق کی خاطرجان فداکرے کوئی
وفا بھی جھوم اٹھے یوں وفاکرے کوئی
نمازچودہ صدیوں سے انتظار میں ہے
حسین کی طرح سجدہ اداکرے کوئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"" رضی اللہ تعالٰی عنہ""
__________________
اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں۔النساء:64
ترجمعہ:امام احمدرضابریلوی

Last edited by بلال اویسی; 23-07-10 at 12:35 AM.
بلال اویسی آف لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے بلال اویسی کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), موجو (19-09-10), محمدخلیل (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), اویسی (15-07-10), حیدر Rehan (14-07-10), عارف اقبال (20-09-10), عبدالقدوس (17-09-10), عبداللہ آدم (17-09-10)
پرانا 14-07-10, 06:01 PM   #3
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

ایک سجدہ علی (ع) کا باقی تھا
ختم کردی حسیں ع) نے وہ نماز
حیدر Rehan آف لائن ہے  
8 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), موجو (19-09-10), محمدخلیل (14-07-10), مرزا عامر (14-07-10), آبی ٹوکول (14-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (14-07-10), عارف اقبال (20-09-10)
کمائي نے حیدر Rehan کو اس مراسلے کے لئے دیئے
تاریخ رکن عطیہ کرنے کی وجہ رقم
15-07-10 اویسی دستیاب نہیں 110
پرانا 14-07-10, 06:22 PM   #4
Senior Member
 
محمدخلیل's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jun 2007
مقام: جنڈانوالہ کھاریاں پاکستان
عمر: 26
مراسلات: 10,979
کمائي: 48,968
شکریہ: 7,292
5,961 مراسلہ میں 15,133 بارشکریہ ادا کیا گیا
محمدخلیل کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں محمدخلیل کو Skype™ کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

نیزے پر جو سر ہے وہی سر بلند ہے
سلام یا امام حسین علیہ السلام

جزاک اللہ بھائی
محمدخلیل آف لائن ہے  
6 قاری/قارئین نے محمدخلیل کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), موجو (19-09-10), مرزا عامر (14-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (14-07-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 15-07-10, 11:32 AM   #5
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : محمدخلیل مراسلہ دیکھیں
نیزے پر جو سر ہے وہی سر بلند ہے
سلام یا امام حسین علیہ السلام

جزاک اللہ بھائی



بولے علی (ع) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسین ابھی ہو حواس میں
ایسی تو جنگ ہم نہ لڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھوک پیاس میں


حسین (ع) یا حسین (ع)
__________________
شمع ہر رنگ میں جلتی ہے سحر ہونے تک
حیدر Rehan آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), مرزا عامر (15-07-10), اویسی (15-07-10), بلال اویسی (18-07-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 15-07-10, 01:26 PM   #6
Administrator
 
سحر's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Nov 2008
مراسلات: 6,604
کمائي: 172,558
شکریہ: 8,807
5,786 مراسلہ میں 21,395 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

وقاص بھائی
تمام صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں کے ساتھ رضی اللہ عنہ لگانا ضروری ہوتا ہے
میں نے ایڈٹ کردیا ہے
آئندہ خیال رکھیے گا ۔
شکریہ
__________________
اے اللہ
میرے ہر فیصلے میں تیری رضا ہو شامل
جو تیرا حکم ہو وہ میرا ارادہ کردے
سحر آن لائن ہے  
10 قاری/قارئین نے سحر کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), موجو (19-09-10), محمد عاصم (15-07-10), محمدخلیل (15-07-10), مرزا عامر (15-07-10), مسٹر شیف (14-09-10), wajee (16-07-10), بلال اویسی (15-07-10), حیدر (15-07-10), عبداللہ آدم (17-09-10)
پرانا 13-09-10, 01:45 AM   #7
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

اسی طرح لفظ امام میں بھی صرف حضرات علی، حسن، اور حسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کے علاوہ باقی حضرات صحابہ اور اہل بیت بھی ہمارے پیشوا اور امام ہیں۔
تعجب ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے 17 بیٹے تھے جن میں سے صرف دو یعنی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ ہم لوگ امام کا لفظ لگاتے ہیں اور باقیوں کے نام تک سے ہم ‏آگاہ نہیں۔
__________________
بندے اور اللہ تعالی سے محبت کا فرق یہ ہے کہ۔ بندے کی محبت ہمیشہ انسان کی بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔ اور اللہ تعالی کی محبت ہمیشہ انسان کی سب سے بڑی طاقت بن جاتی ہے۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-09-10), محمد عاصم (24-09-10), مرزا عامر (13-09-10), مسٹر شیف (14-09-10), عبداللہ آدم (17-09-10)
پرانا 16-09-10, 03:56 PM   #8
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
اسی طرح لفظ امام میں بھی صرف حضرات علی، حسن، اور حسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ خاص نہیں بلکہ اس کے علاوہ باقی حضرات صحابہ اور اہل بیت بھی ہمارے پیشوا اور امام ہیں۔
تعجب ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے 17 بیٹے تھے جن میں سے صرف دو یعنی حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہم کے ساتھ ہم لوگ امام کا لفظ لگاتے ہیں اور باقیوں کے نام تک سے ہم ‏آگاہ نہیں۔

سلام ان پر جو حق کے طرفدار ہیں ۔

امام حسن علیہ سلام اور امام حیسن علیہ سلام کے نام کے ساتھ امام لگانے کی وجہ یہ ہے کہ امام حسن اور امام حیسن دونوں حضرت علی علیہ سلام کے فرزند جناب فاطمہ بنت محمد (صلی علیہ والہ وسلم) کے بطن سے تھے
یعنی امام کا لفظ صرف اور صرف اولاد رسول علیہ سلام کے ساتھ شرط ہے
یعنی خون علی علیہ سلام اور جناب فاطمہ بنت محمد صلی علیہ والہ وسلم اگر ہو تو امام کا لفظ لگے گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اگرچہ حضرت علی (ع) کے 17 یا 18 بیٹے ہی کیوں نہ ہوں
امام صرف آل رسول صلی علیہ والہ وسلم کے نام کے ساتھ ہوتا ہے
امام صرف اور صرف آل محمد صلی علیہ والہ وسلم ہیں

حضرت غازی عباس علیہ سلام کا نام تو سنا ہوگا کتنی عزت کرتے ہیں مگر امام کا لفظ ان کے نام کے ساتھ بھی کبھی نہ دیکھں گئے
کیونکہ وہ جناب فاطمہ بنت محمد صلی علیہ والہ وسلم سے اولاد نہی ۔

یہ بات بھی اندازہ کریں کہ ہر جگہ حضرت عباس علیہ سلام کا علم لگا دیکھیں گئے مگر امام کے لفظ کا نہ ہونا 1400 سو سال سے ابتک اس بات کی دلیل ہے کہ ہم مولا علی علیہ سلام کو ہی اگر سب کچھ مانتے ہوتے تو ان کی محبت و جنون و نسبت سے حضرت غازی عباس کو بھی امام کہہ دیتے یا کہیں لکھ دیتے مگر ایسا نہی ہے ۔ نہ کھبی ایسا تھا اور نہ کبھی ایسا ہوسکتا ہے ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
5 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), مرزا عامر (16-09-10), wajee (16-09-10), شمشاد احمد (16-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 16-09-10, 10:28 PM   #9
Senior Member
 
شمشاد احمد's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jul 2010
مراسلات: 4,602
کمائي: 98,694
شکریہ: 9,139
3,926 مراسلہ میں 13,141 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

لو یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی امام کا مطلب مقتدا اور پیشوا ہی ہے نا تو پھر حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کی کیا خاص بات ہوئی۔۔تمام حضرات صحابہ کرام اہل بیت اور ابکابر ہمارنے امام ہیں۔۔ پیشوا ہیں رہنما ہیں۔
شمشاد احمد آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے شمشاد احمد کا شکریہ ادا کیا
نورالدین (20-09-10), محمد عاصم (24-09-10), بلال الراعی (17-09-10), عبداللہ آدم (17-09-10)
پرانا 18-09-10, 11:26 AM   #10
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

اقتباس:
اصل مراسلہ منجانب : شمشاد احمد مراسلہ دیکھیں
لو یہ کیا بات ہوئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بھائی امام کا مطلب مقتدا اور پیشوا ہی ہے نا تو پھر حضرت علی اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہما کی اولاد کی کیا خاص بات ہوئی۔۔تمام حضرات صحابہ کرام اہل بیت اور ابکابر ہمارنے امام ہیں۔۔ پیشوا ہیں رہنما ہیں۔
پہلی بات ِِ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

امام عمر یا امام ابوبکر یا امام عثمان وغیرہ
کیا کبھی اپ نے کہیں ، کسی کتاب میں، کسی حدیث میں لکھا دیکھا ہے
کیا کسی نے کبھی لفظ امام استعمال کیا ہے ؟؟؟

ہاں لیکن اپ نے سنا ہوگا امام حسن و امام حسین وغیرہ ہر مکتب فکر میں مل جائے گا ان کے لیے احادیث بھی ہیں اور یہ لفظ ان کے استعمال بھی ہوئے ۔۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
4 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
کنعان (23-09-10), مرزا عامر (18-09-10), شمشاد احمد (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 18-09-10, 11:34 AM   #11
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دوسری بات

اپ نے صحیح کہا کہ اس کا مطلب پیشوا و رہبر ہی ہے
لیکن لفظ امام اپنے پورے مفہوم و مطلب و مقاصد اور احترام کے ساتھ صرف و صرف مولا علی و امام حسن و امام حسین سے لے کر امام آخر(12) تک یعنی بارہ امام کے لیے ہی استعمال ہوا
کیونکہ رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میرے بعد 12 خلیفہ قریش سے میری اولاد فاطمہ کی نسل سے ہونگے ۔ ۔ (مختلف احادیث ہیں یہ اور اس جیسی کئی اوربھی)

قرآن پاک میں بھی لفظ امام 12 جگہ استعمال ہوا ہے یہ بھی ایک حقیقت ہے اس لیے امام کے لفظ کی اصل مفہوم و مطلب کے ساتھ ہمیں چاہیے کہ ہم امام کا لفظ بہت صرف بارہ تک محدود رکھیں


کہنے کو مسجد میں نماز پڑھانے والے کو بھی امام کہتے ہیں مگر وہ پیش امام کہلاتا ہے
امام کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایں کہ امام مسجد کی حیثیت کتنی ہے اور امام جامعہ مسجد کی کتنی زیادہ ہے ۔ ۔ ۔
حیدر Rehan آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-09-10), شمشاد احمد (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 18-09-10, 02:32 PM   #12
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

تیسری بات۔ ۔ ۔

اللہ کے منتخب کردہ امام وہ آل رسول (صلی علیہ والہ وسلم ) ہیں جن پر صدقہ حرام ہے
حیدر Rehan آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-09-10), شمشاد احمد (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 18-09-10, 02:36 PM   #13
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

دلیل ۔ ۔ ۔

رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے اپنی ہی زندگی میں لفظ امام
امام حسن علیہ سلام اور امام حسین علیہ سلام کے ساتھ منسلک کردیا تھا اور وہ بچپن ہی سے امام کے لفظ سے مشہور ہوچکے تھے اور انہی کی اولاد جن میں (وہ بارہ افراد /خلیفہ جن کا زکر رسول اللہ صلی علیہ والہ وسلم نے کیا شامل ہیں اس لیے ان کو امام کہا جانا اور سمجھا جانا چاہیے اس لیے ہم سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں اور لکھتے ہیں‌
حیدر Rehan آف لائن ہے  
2 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 18-09-10, 02:43 PM   #14
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

چھوتھی بات/ وجہ

قرآن کے الفاظ ہیں

اور ہم نے ہر شئے کا علم ’’امام مبین‘‘ میں بھردیا ہے ۔

اس ایت سے مراد وہ آل رسول/ آل محمد صلی علیہ والہ وسلم ہیں جن کو امام کہتے ہیں اور کہنا چاہیے اور سمجھنا چاہیے جو جاہل نہ ہو ہر ایک سوال کا جواب دے سکئے اور علم و حلم میں اس کا کوئی ثانی نہ ہو ۔ ۔ ۔
ورنہ یہ ایت اس پر ثابت نہ ہوگی اور جب آیت ثابت نہ ہو تو پھر امام کیسا ۔ ۔ ۔
اسی لیے مولا علی (ع) و فاطمہ بنت محمد صلی علیہ والہ وسلم کے علم سے اندازہ لگا سکتے ہیں ۔ ۔
اور یہ علم ہی ہوتا ہے جو انسان کے اندر سے خوف کو مٹادیتا ہے تبہی اور اللہ کی ولیوں کی پہچان میں سے ایک چھوٹی سے پہچان یہ بھی ہے کہ اللہ کا ولی خوف سے بے فکر ہوتا ہے
حیدر Rehan آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-09-10), شمشاد احمد (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
پرانا 18-09-10, 02:55 PM   #15
Senior Member
 
حیدر Rehan's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Feb 2009
مقام: Pakistan , Karachi
مراسلات: 2,885
کمائي: 51,254
شکریہ: 7,968
2,143 مراسلہ میں 4,916 بارشکریہ ادا کیا گیا
حیدر Rehan کو MSN کے ذریعے پیغام ارسال کریں حیدر Rehan کو Yahoo کے ذریعے پیغام ارسال کریں
Default

قرآن پاک میں امامت سے متعلق ۔ ۔ ۔ ۔

قرآن کریم نے بہت سی آیات میں لوگوں کی امامت ،قیادت اور اس منصب کا خدا کے ذریعے معین ہونے کے سلسلے میں گفتگو کی ہے منجملہ : ” و اذ ابتلیٰ ابراہیم ربہ بکلمات فاتمھن قال انی جاعلک للناس اماما قال ومن ذریتی قال لا ینال عھدی الظالمین “(1).
ترجمہ : ” اور ( اس وقت کو یاد کرو ) جب ابراہیم ( ع ) کو ان کے پروردگار نے چند کلمات کے ذریعے آزمایا اور وہ اس امتحان میں کامیاب ہوگئے تو خدا نے ان سے فرمایا کہ میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں ابراہیم ( ع ) نے کہا کہ پروردگار کیا تو میری ذریت میں سے بھی امام ( ع ) بنائے گا ؟ خدا نے فرمایا کہ میرا یہ عہدہ ظالموں تک نہ پہونچے گا “ .
اس آیت میں خدا سمجھا رہا ہے کہ امامت ایسا الٰہی منصب ہے خدا جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ( جاعلک للناس اماما ) اسی طرح یہ آیت بتا رہی ہے کہ امامت ایسا الٰہی پیمان ہے جو خدا کے شائستہ بندوں کے علاوہ ، جن کو خدا نے اس منصب کے لئے چنا ہے ، کسی کو شامل نہیں ہوتا .
خدا مزید فرماتا ہے : ” و نرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض و نجعلھم ائمة و نجعلھم الوارثین “ ( 2)
ترجمہ : -” اور ہمار ا ارادہ ہے کہ زمین کے مستضعفین پر احسان کریں اور ان کو روئے زمین پر پیشوا اور وارث قرار دیں “ .
شاید کچھ لوگ یہ خیال کریں کہ ان آیات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے بارے میں امامت سے مراد و ہی نبوت اور امامت ہے جب کہ یہ غلط ہے کیونکہ خدا کا ہر فرستادہ اور رسول ، نبی بھی ہے اور امام بھی لیکن ہر امام نبی نہیں ہے .
اور اس طرح خدا نے اپنی کتاب میں وضاحت کی ہے کہ اس کے شائستہ بندے اس سے یہ درخواست کر سکتے ہیں کہ ان کو اس عظیم منصب پر فائز کر دے تاکہ وہ لوگوں کی ہدایت کریں اور ان کو عظیم ثواب نصیب ہو .
اللہ اس بارے میں فرماتا ہے : ” و الذین یقولون ربنا ھب لنا من ازواجنا و ذریاتنا قرة اعین و اجعلنا للمتقین اماما “ . ( 3)
ترجمہ : ” اور وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ پروردگار ہماری ازواج اور اولاد میں سے ہمارے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا پیشوا قرار دے “ .
اور قرآن میں یہی لفظ ” امامت “ ان ستمگر فرمانرواوٴں اور حکمرانوں پر بھی اطلاق ہوتا ہے، جو اپنے پیرو کاروں اورقوموں کو گمراہی کی جانب کھینچ کر تباہی اور دنیا و آخرت کے عذاب کی طرف بڑھاتے ہیں .
فرعون اور اس کے لشکر یوں کی داستان میں خدا فرماتا ہے : ” اور ہم نے ان ( فرعونیوں ) کو ایسے پیشوا قرار دیا جوآتش ( دوزخ ) کی طرف دعوت دیتے تھے “ (4).

بس ثابت کرنے کے لیے کہ امام بارہ ہیں یہ تمام ایتیں قرآن میں بارہ جگہ ائیں اور اسی لفظ بارہ کو ثابت کرنے کے لیے حضرت موسی علیہ سلام نے جب دریائے نیل میں اپنا عصہ پھینکا تو دریائے نیل میں بارہ راستے بن گئے یعنی فلاح پانے کے لیے صرف بارہ امام ہیں ہر امت میں اور اس امت کے پاس بھی صرف اور صرف بارہ نجات کے راستے اللہ نے بنائے ہیں اور آج کے دن سے لے کر قیامت تک کے لیے امام آخر یعنی بارویں امام ،، ، ، ، امام المہدی علیہ سلام ہیں ۔ ۔ ۔ اور ہمیں ان کے بارے میں سوچنا اور سمجھنا چاہیے ۔ ۔ تاکہ فلاح پاسکیں ۔ ۔
1. بقره آیت 124.
2. قصص / ۵ .
3 . فرقان / ۷۴ .
4. قصص / ۴۱ . ہمراہ باراستگویان ، ص ۷۳.
حیدر Rehan آف لائن ہے  
3 قاری/قارئین نے حیدر Rehan کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (18-09-10), شمشاد احمد (18-09-10), عارف اقبال (20-09-10)
موضوع بند کر دیا گیا ہے

Tags
فرض, کمال, پہچان, قید, قدم, لوگ, نماز, نظر, مسائل, مسجد, اللہ, امیر, اسلامی, بھائی, بچپن, بچوں, تعلیم, خواتین, خدا, دیکھو, دوست, راستہ, شعبان, عبادت, صدقہ


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
خواجہ الطاف حسین حالی مختصر تعارف میاں شاہد الطاف حسین حالی 2 17-10-10 12:22 PM
شہادت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ حیدر اپکے کالم 22 30-12-09 11:46 PM
میکسیکو : طیارہ گر کر تباہ، متعدد افراد کی ہلاکت کا خدشہ ابن جلال خبریں 0 18-10-08 03:09 PM
فلپائن:سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ، ہلاکتوں کی تعداد20ہوگئی عبدالقدوس خبریں 0 22-02-08 02:51 AM
سیاسی جماعتیں مستقبل پر توجہ دیں اور ملکی مفاد میں تعاون کریں،صدر پرویز،آزادانہ اور شفاف انتخابات قابل تعریف ہیں،امریکی سینیٹرز عبدالقدوس خبریں 0 20-02-08 02:34 AM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:43 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger