واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


حضرت موسی علیہ السلام۔۔۔قارون

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-05-11, 12:35 PM   #1
حضرت موسی علیہ السلام۔۔۔قارون
عصمت عصمت آف لائن ہے 31-05-11, 12:35 PM


خوش بختی اور سعادت
ایک دن قارون نے بہت عمدہ لباس پہنا اور بہت عمدہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے محل سے باہر نکلا بہت زیادہ نوکر چاکر بھی اس کے ساتھ باہر آئے لوگ قارون کے عظمت و شکوہ کو دیکھنے کے لئے راستے میں کھڑے تھے اور اس قدر سونے اور جواہرات کے دیکھنے پر حسرت کررہے تھے بعض نادان اس کے سامنے جھکتے اور زمین پرگر پڑتے اور کہتے کتناخوش نصیب ہے قارون ! کتنی ثروت کا مالک اور کتنی سعادت رکھتا ہے ! خوش حال قارون ! کتنی اچھی زندگی گزارتا ہے کتنا سعادت مند اور خوش بخت ہے کاش !! ہم بھی قارون کی طرح ہوتے ؟

لیکن سمجھدار مومنین کا دل ان لوگوں کی حالت پر جلتا وہ انہیں سمجھاتے اور کہتے کہ سعادت اور خوش بختی زیادہ دولت میں نہیں ہوا کرتی کیوں اس کے سامنے زمین پر گرپڑتے ہو ؟ ایک ظالم انسان کا اتنا احترام کیوں کرتے ہو وہ احترام کے لائق نہيں : اس نے یہ ساری دولت گراں فروشی اور بے انصافی سے کمائی ہے وہ سعاد ت مندی نہيں سعادت مند وہ انسان ہے جو خدا پر واقعی ایمان رکھتا ہواور اللہ کی مخلوق کی مدد کرتا ہو اور وہ لوگوں کے حقوق سے تجاوز نہ کرتا ہو ایک دن اللہ تعالی کی طرف سے حضرت موسی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ دولت مندوں سے کہو کہ وہ زکاۃدیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے اللہ کا حکم دولت مندوں کو سنایا اور قارون کو بھی اطلاع دی کہ دوسروں کی طرح اپنے مال کی زکاۃ دے اس سے قارون بہت ناراض ہوا اور سخت لہجے میں حضرت موسی علیہ السلام سے کہا زکاۃ کیا ہے کس دلیل سے اپنی دولت دوسروں کو دوں وہ بھی جائیں اور کام کریں اور محنت کریں تاکہ دولت کمالیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا زکوۃ یعنی اتنی بڑی دولت کا ایک حصہ غریبوں اورناداروں کو دے تاکہ وہ بھی زندگی گذارسکیں چونکہ تم شہر میں رہتے ہو اور معاشرے کے فرد ہو اور ان کی مدد سے اتنی کثیر دولت اکٹھی کی ہے اگر وہ تیری مددنہ کرتے تو تو ہرگز اتنی دولت نہیں کما سکتا تھا مثلا اگر تو بیابان کے وسط میں تنہا زندگی بسر کرتا تو ہرگز اتنا بڑا محل نہ بنا سکتا اور باغ آباد نہ کرسکتا یہ دولت جوتونے حاصل کی ہے ان لوگوں کی مدد سے حاصل کی ہے پس تیر ی دولت کا کچھ حصہ بھی انہیں نہیں دے رہا بلکہ ان کے اپنے حق اور مال کو زکات کے نام سے انہیں واپس کررہاہے ۔

لیکن قانون نے حضرت موسی علیہ السلام کی دلیل کی طرف توجہ نہ دی اور کہا اے موسی (علیہ السلام) یہ کیسی بات ہے کہ تم کہہ رہے ہو ! زکوۃ کیا ہے ہم نے برا کام کیا کہ تم پرا یمان لے آ‏ئے ہیں کیا ہم نے گناہ کیا ہے کہ نماز پڑھتے ہیں اور اب آپ کو خراج بھی دیں ۔

حضرت موسی علیہ السلام نے قارون کی تند روی کو برداشت کیا اور نرمی سے اسے کہا کہ اے قارون زکوۃ کوئی میں اپنے لئے تو لے نہیں رہا ہوں بلکہ اجتماعی خدمات اور غریبوں کی مدد کے لئے چاہتا ہوں یہ اللہ کا حکم ہے کہ مالدار غریبوں اور ناداروں کا حق اداکریں یعنی زکوۃ دیں تاکہ وہ بھی محتاج اور فقیر نہ رہیں اگر تو واقعی خدا پر ایمان رکھتا اور مجھے خدا کا پیغمبر مانتا ہے تو پھر اللہ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کردے اگر نماز پڑھتا ہے تو زکات بھی دے کیونکہ نماز بغیر زکات کے فائدہ مند نہیں ہے تورات کا پڑھنا سمجھنے اور عمل کرنے کے لئے ہے لیکن قارون حضرت موسی علیہ السلام اور مومنین کی نصیحت اور موعظہ کی کوئی پرواہ نہ کی بلکہ اس کے علاوہ مومنین کو اذیت بھی پہنچانے لگا اور حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ دشمنی کرنے لگا یہاں تک تہمت لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا حضرت موسی علیہ السلام قارون کی گستاخی اور سخت دلی سے بہت ناراض ہوئے اور آپکا دل ٹوٹا اور خدا وند عالم سے درخواست کی کہ اس حریص اور ظالم انسان کو اس کے اعمال کی سزا دے



حضرت موسی (ع) کی دعا قبول ہوئی

اللہ کے حکم سےزمین لرزي اورایک شدید زلزلہ آیا اور ایک لحظہ میں قارون کا محل ویران اور زمین بوس ہوگیا اور قارون کو قصر(محل) سمیت زمین نگل گئی اور اس حریص کے ظلم کا خاتمہ کردیا قارون خالی ہاتھ آخرت کی طرف روانہ ہواتاکہ وہ اپنے برے کاموں کی سزا کو دیکھے اوراسے عذاب دیا جائے کہ آخرت کا عذاب سخت اور دائمی ہے اس وقت وہ لوگ جو قارون کو سعادتمند سمجھتے تھے اور اس کی دولت کی آرزو کرتے تھے اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوئے اور توبہ کی اور کہاکتنی بری عاقبت اور برا انجام ہے یہ قارون نے اپنے مال کواپنے ہاتھ سے نہ دیا اور خالی ہاتھ اور گناہ گار آخرت کی طرف روانہ ہوا تاکہ اپنے کئے کا عذاب چکھے اب ہم نے سمجھا کہ تنہا مال اور دولت کسی کو خوش بخت نہیں ہوتی بلکہ خوش بختی خدا پر ایمان اور اللہ کے احکام پر عمل کرنے میں ہے
--------------------------

Attached Images
   

__________________
ہماری جنگ تو خود سے تھی،ڈھال کیا رکھتے
فقیر لوگ تھے ،مال و منال کیا رکھتے
-

 
عصمت's Avatar
عصمت
Senior Member
تاریخ شمولیت: Dec 2010
مقام: ڈیرہ غایخان۔مانہ احمدانی
عمر: 34
مراسلات: 438
شکریہ: 223
302 مراسلہ میں 783 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 190
Reply With Quote
عصمت کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (01-06-11)
پرانا 31-05-11, 01:14 PM   #2
Senior Member
 
زارا's Avatar
 
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
کمائي: 278,164
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
Default

السلامُ علیکم !!

معلوماتی شیئرنگ کا شُکریہ۔ جزاک اللہ۔
زارا آف لائن ہے   Reply With Quote
زارا کا شکریہ ادا کیا گیا
اویسی (01-06-11)
جواب

Tags
کس, لوگ, نماز, ایمان, اللہ, انسان, بے, جلتا, حکم, حال, خوش, خدا, دل, درخواست, دعا, زلزلہ, زندگی, شہر, ظالم, عمدہ, عالم, عذاب, عظمت, غلطی, غریبوں


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
پڑوسی گلاب خان اسلام اور معاشرہ 0 25-11-10 03:06 AM
پڑوسی sahj مطالعہ حدیث 1 13-08-09 04:30 PM
قدم بوسی میاں شاہد عبدالمجید سالک 2 07-04-08 06:16 AM
’روسی صدر کی نجی زندگی پر فلم instafotos کمپیوٹر کی باتیں 0 07-02-08 09:37 AM
طوسی کا طوطا چاچا کمال مزاحیہ ادب 1 02-12-07 07:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:46 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger