|
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالٰی

11-02-11, 11:37 AM
سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ تعالٰی جنہوں نے اسلامی تاریخ پر اپنی عظمت وشوکت کے نقوش ثبت کئے ہیں۔ ابھی نو عمر ہی ہیں، عیسائی فوجیں، " رہا " پر قبصہ کر کے مال واسباب لوٹ کر عورتوں کو پکڑ کر لے جاتی ہیں۔ یہ ظلم دیکھ کر نو عمر صلاح الدیں ایک ترکی بوڑھے کو لے کر سلطان عمادالدین زنگی رحمہ اللہ تعالٰی کے پاس پہنچتے ہیں ۔ عیسائیوں کے مظالم سے بادشاہ کو آگاہ کرتے ہیں۔ اس کی اسلامی حمیت وغیرت کو بیدار کرتے ہیں اور رو روکر ( مدد کے لئے) فریاد کرتے ہیں۔
نیک دل بادشاہ نورالدین زنگی کو ان حالات کا علم ہوتا ہے تو تمام فوجیوں کو جمع کرتا ہے ۔ انہیں " رہا " کے حالات سناتا ہے اور جہاد پر ابھارتا ہے اور اعلان کرتا ہےکہ:
" کل صبح میری تلوار " رہا " کے قلعے پر لہرائے گی، تم میں سے کون میرا ساتھ دے گا ؟ " یہ اعلان سن کر تمام فوجی حیران رہ جاتے ہیں کہ یہاں سے " رہا " 90 میل کی دوری پر ہے، راتوں رات وہاں کیسے پہچا جاسکتا ہے ؟ یہ تو کسی طرح ممکن نہیں۔ تمام فوجی ابھی غور ہی کررہے تھے کہ ایک نو عمر لڑکے کی آواز گونجتی ہے: " ہم بادشاہ کا ساتھ دیں گے ۔ " لوگوں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ایک نو عمر لڑکا کھڑا تھا، بعضوں نے فقرے کسے کہ : " جاؤ میاں کھیلو کودو! یہ جنگ ہے بچوں کا کھیل نہیں۔ " سلطان نے یہ فقرے سنے تو غصّے سے چہرہ سرخ ہوگیا، بولا: " یہ بچہ سچ کہتا ہے اس کی صورت بتاتی ہے کہ یہ کل میرا ساتھ دے گا ۔ یہی وہ بچہ جو " رہا " سے میرے پاس فریاد لے کر آیا ہے ِ اس کا نام صلاح الدین ہے ۔ " یہ سن کر فوجیوں کو غیرت آتی ہے، سب تیار ہوجاتے ہیں اور اگلے روز دوپہر تک " رہا " پہنچ کر حملہ کر دیتے ہیں۔ گمسان کی جنگ ہوئی ، عیسائی سپہ سالار بڑی آن وبان کے ساتھ مقابلے کے لئے نکلا۔ سلطان زنگی رحمہ اللہ تعا لٰی نے اس پر کا ری ضرب لگائی، مگر لوۃے کی زرہ نے وار کو بے اثر بنادیا۔ عیسائی سپہ سالار نے پلٹ کر سلطان زنگی رحمہ اللہ تعالٰی پر حملہ کیا اور نیزہ تان کر سلطان کی طرف پھینکنا ہی چاہتا تھا کہ نوعمر لڑکے صلاح الدین کی تلوار فضا میں بجلی کی طرح چمک اٹھی اور زرہکے کٹے ہوئے حصّے پر گر کر عسائی سپہ سالار کے دوٹکڑے کرکے رکھ دئیے۔ عیسائی سپہ سالار کے موت کے گھاٹ اترتے ہی عیسائی فوج بھاگ کھڑی ہوئی اور " رہا " پر مسلمانوں کا قبضہ ہوگیا۔
آج ہر شخص کی زبان پر نو عمر صلاح الدین کی شجاعت کے چرچے ہیں اور یہ واقعہ تاریخ اسلام میں سنہرے الفاظ سے لکھا جاتا ہے۔
|
زارا
Senior Member
تاریخ شمولیت: Jan 2009
مقام: اللہ کی زمین
عمر: 24
مراسلات: 9,855
شکریہ: 1,155
6,270 مراسلہ میں 14,161 بارشکریہ ادا کیا گیا
|
|