واپس چلیں   پاکستان کی آواز > مذاہب اور انسانی زندگی > دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات



دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات دلچسپ اسلامی تاریخی واقعات اس حصے میں کسی بھی قسم کی منافرت پھیلانے والے کو بلاتفریق بین کر دیا جائے گا۔ اس لیے احتیاط برتیں!


شیطان کی کہانی۔۔۔شیطان کی زبانی (دوسرا حصہ

short url
جواب
 
LinkBack موضوع کے اختیارات موضوع کی درجہ بندی ظاہری انداز
پرانا 31-07-11, 01:02 AM   #1
شیطان کی کہانی۔۔۔شیطان کی زبانی (دوسرا حصہ
M A Ansari M A Ansari آف لائن ہے 31-07-11, 01:02 AM

شیطان کی کہانی۔۔ شیطان کی زبانی ( پہلا حصہ

دنیا کی ابتداء

چونکہ مجھے دنیا کی مکمل تاریخ نہیں لکھنی بلکہ صرف اپنی زندگی کے حالات شائع کرنا ہیں اس واسطے میں تمام واقعات چھوڑ کر صرف اپنی قوم کا ذکر کروں گا اور اس سے میرے حسب و نسب کے متعلق بھی معلومات ہوسکے گی سب سے پہلے یہ معلوم کیجئے کہ میں فرشتہ نہیں ہوں بلکہ قوم اجنا میں سے ہوں میرے جد امجد دنیا کے سب سے پہلے جن ہیں جنکو تخلیق کائنات کی ابتدا میں پیدا کیا گیا تھا اور مجھ سے کم و بیش ایک لاکھ چوالیس ہزار سال قبل پیدا ہوئے تھے ان کا نام طارانوس تھا اور لقب جان تھا مگر عام طور سے ابوالجن کہلاتے تھے بعض دنیاوی مور خوں نے میر ے جد امجد طارہ نوس کا نام سوما لکھا ہے لیکن جہاں تک میری معلومات کام کرتی ہے انکا نام طارہ نوس تھا ممکن ہے کہ کسی مناسبت سے وہ کچھ عرصہ کے لئے سوما کے نام سے بھی مشہور ہوئے ہیوں لیکن ہمارے خاندانی معاملات میں انکا نام طارہ نوس ہی لیا جاتا تھا سنا ہے کہ تاریخی کتابوں میں انسان ضعیف البیان نے طارہ نوس کا نام مارج بھی لکھا ہے بہر حال ان سب اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر ان کا نام طارہ نوس ماننا چاہئے ۔
جس طرح آ ج حضرت انسان اپنی نسل حضرت ابو البشر آدم علیہ السلام سے ملاتے ہیں بالکل یہی کیفیت قوم اجنہ کی بھی ہے ان کا سلسلہ تو الد تناسل ابو الجن طارہ نوس (جان ) سے ملتا ہے اور جس طرح عورت اور مرد انسانوں میں پیدا ہوئے ہیں اسی طرح قوم اجنہ میں بھی رواج تھا اور اب بھی ہے ۔
میرے جد امجد طارہ نوس کو پیدا ہوئے کافی عرصہ گزر گیا تھا وہ اپنی قولم اور اپنی جنسیت کے لحاظ سے تنہا زندگی بسر کر تے تھے کہ یکایک غیر محسوس طور پر انہیںقوم اجنہ میں سے ایک عورت نظر آئی ۔ اول تو انہیںبہت تعجب ہوا لیکن بعد میں وہ اس عورت سے مانوس ہوگئے رفتہ رفتہ اس ایک جانی نے انکو شوہر اور بیوی کے رشتہ میں منسلک کر دیا اس زمانہ میں رواجی موت کا دستور نہ تھا ۔یعنی کوئی مخلوق بلا وجہ نہیں مرتی تھی چنانچہ اسکا یہ اثر ہوا کہ تھوڑے ہی زمانہ میں طارہ نوس کی اولاد تمام روئے زمین پر پھیل گئی مرتا کوئی نہ تھا پیدا ہزاروں ہوتے تھے اس سود در سود کے قصے نے اچھا خاصا عالم آباد کر دیا آج کل کی زبان میں جس چیز کو مردم شماری کہا جاتا ہے وہ طارہ نوس کے زمانہ میں رائج نہ تھی اگر ہوتی تو شاید آج کی دنیا سے پچاس ہزار گنا زیادہ نفوس اس دنیا میںنظر آتے ۔ مگر اس وقت کوئی شمار کرنے والا نہ تھا اور نہ شمار کرنے کی کوئی ضرورت تھی تمام روئے زمین پر میرے جد امجد طارہ نوس جان کی حکومت تھی ۔ساری دنیا عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی تھی کہ ناگاہ پر ور دگار عالم نے ابو الجن پر ایک شریعت نازل فرمائی جسے ابو الجن اور انکی تمام اولاد نے اپنے لئے قابل عمل ٹہرا یا ۔
اس آسمانی شریعت پر عمل ہوئے طارہ نوس اور اس کی تمام اولاد نے آج کل کے حساب سے تقریبا چھتیس ہزار سال گزار دئیے اور سوائے چند مفسد جنوں کے کسی طرف سے کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہوئی جو شریعت آسمانی کی خلاف ہوتی یا اس قوم کی تباہی کا سبب بنتی لیکن اس کا کیا علاج کہ سرشت میں ،،نار ،، تھی یہ کب چین سے بیٹھنے دیتی آخر کار یہ نا ر رنگ لائی اور مخلوق شریعت حقہ سے پھر نے لگی بڑی تیز رفتاری کے ساتھ تباہی کی طرف دوڑنے لگی آخر تا بکے ایک وقت وہ آگیا کہ عالم میں ہر طرف گناہ ہی گناہ تھا سیاہ کاریاں پورے طور پر غالب آگئیں مخلوق اپنی زبان سے تباہی اور بربادی کو پکار نے لگی ۔حالات نے پلٹا کھایا اور آخر وہی ہوا جس کا خطرہ تھا قہر خداوندی نازل ہوا اور تمام سیاہ کاروں کو ہمیشہ کی نیند سلادیا گیا ۔کیا لکھوں شرم آتی ہے لکھتے ہوئے کہ خود طارہ نوس بھی اس تباہی سے نہ بچ سکا ان پر پوری طرح عصیاں اپنا قبضہ جما چکا تھا چنانچہ اس تباہی میں وہ بھی اپنے سب ساتھیوں کے ساتھا عالم فنا میں پہنچا دئے گئے ۔
اب تمام عالم میں سناٹا تھا وہ چلہ پہل نہ تھی وہ گنجان آبادی نہ تھی کہیں کہیں چند نیک عمل ہستیاں سربسجود تھیں انکی ہدایت و رہنمائی کے لئے پر ور دگار عالم نے پھر کسی رہبر کی ضرورت محسوس کی اور آخر کار اسی قوم میں سے ایک فرد کو جن کا نام چلپانیس تھا بحکم خداوندی بجائے طارہ نوس کے سر برائے سلطنت کر دیا گیا اور سابقہ شریعت کو تر میم و تنسیخ کے ساتھ ان کے حوالے کر دیا گیا یہ بھی آخر اپنے باپ کے بیٹے تھے ۔ باپ سے دو ر کیسے جا سکتے تھے ہر چند کہ اپنی قوم میں سب سے زیادہ نیک اور سب سے زیادہ عبادت گزا ر تھے شرما حضوری میں کچھ روز کے لئے عبادت بڑھادی پہلے سے زیادہ عابد و زاہد مشہور ہوگئے لیکن صرف اسی وقت تک جب تک کہ اپنی فطرت سے مقابلہ کر سکنے کی ان میں طاقت تھی آخر کار خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم کر بیٹھے عبادت اور ریاضت نے اپنی توہین گوارہ نہ کی ۔ آہستہ آہستہ اس نے کنارہ کشی شروع کر دی تھوڑا ہی زمانہ گزرنے کے بعد دیکھنے والوں نے دیکھا کہ طارہ نوس کے جانشین ہز ہولی نس چلپانیس وہی بزرگ ہیں جو حصول پیغمبری سے پہلے تھے اور اپنی قوم میں کسی قدر عبادت و ریاضت کے باعث ممتاز نظر آتے تھے اب نہ وہ انہماک ِعبادت تھانہ وہ مشغلہ ہدایت ۔ سب اپنے اپنے راستے پر تھے بظاہر کوئی کسی کا راہبر نہ تھا اور سب سب کے راہبر تھے ۔ایک دوسرے کے عمل سے کوئی متاثر نہ ہوتا تھا چلپانیس کی پیغمبری برائے نام رہ گئی تھی خود انہیں یاد نہیں رہا تھا کہ وہ پیغمبر ہیں یا قوم کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں دی گئی ہے ۔
زمانہ نے ایک اور پلٹا کھایا اور حالات کہیں سے کہیں پہنچ گئے رہی سہی عبادتیں اور نیکیاں بھی یہ حال دیکھ کر اپنی عزت و آبرو کی حفاظت میں مصروف ہوگئیں اور مخلوق سے کنارہ کشی اختیار کر لی ۔مقدس چلپانیس یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے مگر اس طرح کہ گویا نہیں دیکھ رہے تھے گناہ کا دیوتا ان کے سامنے رقص کر رہا تھا اور وہ دیکھ دیکھ کر مسکرا رہے تھے ساری قوم ظلمت کی چادر میںسما گئی تھی مگر ان کی سیاہ کا ر آنکھیں قومی وجود کا اب بھی احساس کر سکتی تھیں ۔
ستاری کی شان آگے بڑہی اور اس نے چلپانیس کو مخاطب کر کے کہا چلپانیس ! تم دامن شریعت کو تار تار کر چکے ہو آؤ پھر تمہیں ویسا ہی کر دیں تم راستہ بھول گئے ہو پھر تمہیں راہ پر لگادیں ۔
چلپانیس پھر جھک گئے قدرت نے انہیںپھر ویسا ہی کر دیا ساری قوم پھر اعتدال پر آئی لیکن ناری فطرت مسلسل اپنا کام کر رہی تھی ۔ قدرت نے بار بار فرمائش کی متعدد بار ہدائتیں کیں مگر نار بہر حال نار تھی آخر کار اس نے قومی عقل و ہوش کا گھر پھونک ڈالا تمام قوم کو خانما ں برباد کر کے چھوڑا اور ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہوا جو ان سے پہلے سر کشوں کے ساتھ ہوا تھا ۔ ابھی چلپانیس کی حکومت اور پیغمبری کو پورے چھتیس ہزار سال بھی میسر نہ آئے تھے کہ وہ انما کو پہنچا دئے گئے اور اپنے ہمراہ تمام ایسے ہم عصروں کو جو انکے ساتھ بد کاری میں مصرو ف ہوگئے تھے گم نامی اور بربادی کی دنیا میں لے گئے اور اس طرح دنیا کا یہ دوسرا دور ہز لیٹ ہائینس چلپانیس کے ہاتھوں تاریخ کی گم نامیوںمیںکھو گیا اور بعد کی آنے والی نسلیں ڈھونڈتی رہ گئیں کہ ان کے دادا چلپانیس نے ان کے لئے کیا چھوڑا ۔
اب دنیا پھر خالی تھی چند رہے سہے عبادت گزار کہیں کہیں نظر آرہے تھے مگر قہر خدا وندی سے لرزاں او ر اپنے نا معلوم انجام کے منتظر ۔ قدرت نے پھرایک ضرورت محسوس کی ہر طرف دیکھا ۔ ایک مقدس صورت بزرگ اپنی قوم کی کھوئی ہوئی عظمت ڈھونڈ تے پھر رہے تھے کہ قدرت کی نگاہ انتخاب میں آگئے کیا ڈھونڈ رہے تھے اور کیا مل گیا ۔
) ان بزرگ کا نام بلیقا تھا ان کی اولاد کے متعلق بعض روائتوں سے پتہ چلتا ہے کہ بہت بد افعال تھی اور یہ اسی غم میں دن رات رویا کر تے تھے ۔ ضرورت سے زیادہ عبادتیں کر تے تھے ان کا خیال تھا کہ میری عبادت دے خوش ہو کر پر وردگار میری اولاد کے گناہ معاف کر دے گا ان کے بیٹے اور بیٹیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ خود انہیں انکی صحیح تعداد کا حال معلو م نہ تھا نہ سب کے نام یاد رکھ سکتے تھے سنا ہے کہ ایک بار انہوں نے اپنی اولاد کو ایک جگہ جمع کر کے شمار کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن شمار کے بعد معلوم ہواکہ ان کے کئی بیٹے تعداد میں نہ آسکے کیونکہ وہ اس وقت موجود نہ تھے اور ماں باپ کو خیال تک نہ تھا کہ حاضرین کے علاوہ ان کی کوئی اور بھی اولاد ہے لیکن جب سامنے آئے تو ماں باپ کو یاد آگیا کہ وہ بھی ان ہی کے بچے ہیں جس وقت قدرت کی انتخابی نگاہیں بلیقا پر پڑیں ان کی عمر دو ہزار سال سے کچھ زیادہ تھی اور خدمت قوم کا جذبہ ان کے دل میں شباب کی منزلیں طے کر رہا تھا اس نئی تققیر سے ان کا دل باغ باغ ہو گیا قدرت نے انہیں انکی قوم کا پیغمبر بھی بنا دیا اور بادشاہ بھی ۔ اس اعزاز کے بعد انکی ریاضت میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بلیقا نے بڑی جانفشانی اور ایمانداری سے اپنے عہدہ کے فرائض انجام دئیے اور ایسی عابدانہ زندگی کا نمونہ پیش کیا کہ انکی قوم سر تاپا عبادت بن گئی ۔
تقریبا چھتیس ہزار سال تک یہی کیفیت رہی دنیا کے ذرہ ذرہ پر بلیقا کی حکومت تھی ہر طرف شریعت آسمانی کا ڈنکہ بج رہا تھا لیکن وائے بد نصیبی کہ ناری ذہنیت پھر بیدار ہوگئی اور حالات دیکھ کر بھڑک اٹھی اسے کب گوارہ تھا کہ خار دار دنیا میںنیکیوں کی حکومت ہو ۔ اس کے خیال میں شاید نیک اعمال کا وجود اس فانی دنیا کے لئے موزوں نہیں تھا چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا کا رخ پھر گیا ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کے نرم نرم جھونکے آندھیاں بن کر سنسنانے لگے حالات بے قابو ہوئے اور ظلمات کی طرف کا پر چم لہرانے لگا ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوگیا یا دوسرے لفظوں میںیوں کہوں کہ سیاہ کاروں کی قوت باصرہ منہ موڑ بیٹھی اور انہیں ہر طرف تاریکی ہی تاریکی کا احساس ہونے لگا۔
اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھتی ہے ساری قوم سیاہ کاروں کی موجد بن گئی اور وہ گناہ گاریاں تراشی گئیں کہ زمین و آسمان لرز گئے ،انجام کار قدرت نے نار کو نار میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا اور سر کشانِ شریعت کو اتمام حجت کے بعد فنا کی گود میں پہنچا دیا ۔
=دنیا اب پھر خالی تھی سالار کارواں کی ضرورت نے قدرت کو پھر متوجہ کیا اور باقی ماندہ افراد میںسے ہاموس جنی کے نام پر وانہ پیغمبری جاری ہوا ۔ یہ بزرگ اپنی قوم میں مقابلۃ نیک طینت اور ممتاز تھے حکومت اور پیغمبری کے بعد ان کے مراتب میںاور بھی اضافہ ہو گیا ۔ ساتھ ہی قدرت کی طرف سے مختلف ہدائتوں کے علاوہ یہ نوٹس بھی ملا کہ اگر تم نے پچھلے جیسوں کی بغاوت کی اور شریعت آسمانی کی توہین کے مر تکب ہوئے تو تمہیں ان سب سے زیادہ سخت سزا دی جائے گی اور وہ ایسی سز ا ہوگی کہ اگر تم آج اسے معلوم کر لو تو خوف و دہشت کے مارے تمہارے کلیجے کے ٹکڑے اڑ جائیں ۔
ہاموس نے خلوص قلب سے وعدہ کیاکہ میں شریعت کی پوری طرح حفاظت کروں گا اور کوشش کروں گا کہ میں اور میری قوم پوری طرح قواعد آسمانی کی پابند ہو کر رہے ۔وعدہ کرنے والا ناری تھا اور وعدہ بھی ناری تھا کب تک رہتا رفتہ رفتہ ناری فطرت رنگ جمانے لگی اور اپنے اسلاف کی طرح پورے چھتیس ہزار سال گزرنے کے بعد آخر کار اسی مر کز پر آگئی جہاں سے عالم فنا کا راستہ بالکل سیدھا اور تباہی کا زینہ قریب تر ہے اور جہاں پہنچ کر پچھلی قومیں شریعت کی قید و بند سے اپنی ذات کو آزاد سمجھنے لگی تھیں شروع شروع میں تو ہاموس جنی نے اپنی قوم کو بہت سمجھا یا لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی ، یہاں تک کہ رفتہ رفتہ سیاہ کاریوں کے دیوتا کے سامنے ایک دن ہاموس بھی سر بسجود نظر آیا پھر کیا تھا سیاں بھئے کوتوال اب ڈر کاہے کا ۔ جب پیغمبر اور راہبر ہی گناہوں کا پجاری بن جائے تو اسکی قوم کیسے بچ سکتی ہے ،وہ جو ایک روک تھی ہاموس کی غداری سے جاتی رہی ۔ کچھ افراد ایسے بھی تھے جو عرصہ تک گناہوں کی دنیا سے اپنا دامن بچاتے رہے لیکن راہبر کو مصروف گناہ دیکھ کر ان کا جی بھی للچایا اور انہوں نے بھی اپنا تقدس کا لبادہ سیاہ کاری کی بھٹی میںپھونک دیا۔
9ان سے پہلے جو تین دو ر گزرے ان میں بھی یہ ہولناک سیاہ کاریاں نہ تھیں کہیں کہیں زاہد و تقوی کے دم توڑتے نظر آہی جاتے تھے لیکن اس چوتھے دور میں تو ذرہ ذرہ انجام سے بے خبر ہوکرشریعت کی دھجیاں اڑا رہا تھا ۔قدرت نے پہلے ہی دن فیصلہ سنا دیا تھا کہ اگر تم نے اپنے اسلاف کی طرح غداری کی تو تمہیں ان سے زیادہ لرزہ خیز سزادی جائے گی چنانچہ باری تعالی نے فرشتوں کی ایک فوج کو حکم دیا کہ وہ زمین پر جائے اور ہاموس جنی کی قوم کو انتہائی سختیوں کے ساتھ تباہ کر دے اور ایسا قتل عام ہو کہ شریعت سے غداری کرنے والوں کے لئے ہمیشہ کے واسطے ایک مثال بن جائے ۔
ملائکہ کی فوج مقابلہ کے لئے زمین پر آئی اور ادائے فرض میں مصروف ہوگئی قوم جنات نے بھی بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن فرشتے بہر حال فرشتے تھے آخر کار غالب آگئے قتل عام سے جو چند افراد بچ سکے و ہ ادھر ادھر جزیروں میںبھاگ گئے اوربے شمار چھوٹی عمر کے بچے فرشتوں کی حراست میں آگئے ان ہی کم سن قیدیوں میں اپنی کم عمری کے سبب میں بھی تھا ہر چند کہ میں نے بھاگنے کی کوشش کی لیکن گرفتار کرنے والے زیادہ طاقت ور تھے اور میں ان کے چنگل سے بچ نہ سکا ۔
میں بچپن میں بے حد حسین تھا میری ذہانت اور قابلیت سے میرے والدین کو بہت کچھ امیدیں وابستہ تھیں میرے خاندان کے بہت سے لوگ میرے ماں باپ سے محض اسی وجہ سے عداوت رکھتے تھے کہ اتنا حسین و جمیل اور ذہین بیٹا ان کو کیوں نہ ملا۔ بہر حال اس قید کے بعد بھی میری ذہانت اور حسن بے کار نہیں گئے مجھے دیکھ کر فرشتوں کو رحم آگیا اور انہوں نے آپس میں مشورہ کر کے پر ور دگار عالم سے التجا کی کہ اگر اجازت ہو تو اس کم سن بچے کو ہم آسمان پر لے آئیں یہ بہت ذہین ہے اور ہمارا خیال ہے کہ اسکی اصلاح ہوسکتی ہے فرشتوں کے کہا ،
پر ور دگار ! تو عالم الغیب ہے آئندہ کے بھید تو ہی جان سکتا ہے لیکن بظاہر یہ لڑکا اگر اچھی تعلیم ملے تو ہمارے خیال میں ٹھیک ہوجائے گا۔
قدرت کو تو منظو ر ہی کچھ اور تھا حکم ہوا اچھا اس بچے کو آسمان پر لے آؤ اور باقی بچوں کو وہیںدنیا میں چھوڑ دو چنانچہ حکم باری تعالی کے ما تحت فرشتے مجھے آسمان پر لے گئے ،۔

آسمانی دنیا کا دھوکا
جاری ہے

M A Ansari
Senior Member
تاریخ شمولیت: Sep 2010
مراسلات: 432
شکریہ: 89
321 مراسلہ میں 799 بارشکریہ ادا کیا گیا
مناظر: 241
Reply With Quote
2 قاری/قارئین نے M A Ansari کا شکریہ ادا کیا
مرزا عامر (31-07-11), سحر بٹ (31-07-11)
جواب

Tags
فرض, کتابوں, واقعات, قید, قواعد, لوگ, چین, نیند, نظر, مکمل, موت, مقابلہ, ممکن, ماں, آبادی, آج, انسان, بچپن, بچوں, تعلیم, حسن, راستہ, عورت, عقل, عبادت


Currently Active Users Viewing This Thread: 1 (0 members and 1 guests)
 
موضوع کے اختیارات
ظاہری انداز Rate This Thread
Rate This Thread:


Similar Threads
موضوع موضوع شروع کیا فورم جوابات آخری مراسلہ
دوسری سوچ اور دوسرا سوال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبداللہ آدم گپ شپ 23 01-03-11 11:14 PM
دوسری شادی سحر عائلی زندگی 53 04-05-10 02:38 PM
لنک امیج دوسری کلاس wajee HTML 9 13-06-09 02:53 PM
نوسر باز خرم شہزاد خرم نئے تخلیق کار 9 04-06-09 01:19 PM


تمام اوقات پاکستانی معیاری وقت ( +5 GMT) کے لحاظ سے ہیں۔ ابھی وقت ہے 08:50 AM

Powered by vBulletin® Copyright ©2000 - 2012, Jelsoft Enterprises Ltd.
Content Relevant URLs by vBSEO
جملہ حقوق نشرو اشاعت ©2000 - 2012,پاکستان کی آواز - پاکستان کے فورمزکی انتظامیہ کے پاس مخفوظ ہیں۔ ہم اردو ترجمے کے لیے جناب زبیرکے مشکور ہیں-
اپنا بلاگ مفت حاصل کریں wordpress.pk
ہم pak.net ڈومین نیم کے لیے جناب فاروق سرور خان کے مشکور ہیں

Template-Modifications by TMS
vBCredits v1.4 Copyright ©2007 - 2008, PixelFX Studios
Ad Management plugin by RedTyger